تیسرا مجسمہ
عوض سعید
والدہ مرحومہ کے نام
فهرست
١: توليه_________________________ ٥
٢: موذي________________________ ٤١
٣: نامراد________________________ ٠٢
٤: زمين كا عذاب____________________ ٨٢
٥: هيں خواب ميں هنوز_____________ _____ ٣٣
٦: ايك سينگ والا آدمي __________________ ٧٣
٧: دُشمن_______________________ ٣٤
٨: وه لڑكي________________________ ٩٤
٩: پُل صراط________________________ ٥٥
٠١: جنازه___________________________ ٠٦
١١: تيسرا مجسّمه_________________________ ٤٦
٢١: بھِيتر بھِيتر آگ______________________ ١٧
توليه
رات كے آخري
سُلگتے هوئے لمحوں ميں كوئي اسے دونوں شانوں سے جھنجھوڑ رها تھا۔ اس كي
آنكھيں بند تھيں ليكن اسے احساس هورها تھا
جيسے كوئي اُسے جگارها هے۔ اس پر كچھ جاگنے اور سونے كي سي كيفيت
طاري تھي۔وه آج ايك طويل سفر سے لَوٹ كر گھر آيا تھا۔ نيند كا وه
پنگوڑا جس ميں وه كسي معصوم بچّے كي مانند ميٹھي نيند كے مزے لے رها تھا اچانك شاهده كي چيخ سے نيچے آرها۔ وه هڑ بڑا كر اُٹھ
بيٹھا۔ بيڈ ليمپ كي مدّھم روشني ميں شاهده كا جِسم بُري طرح كانپ رها
تھا۔ وه سهمي هوئي تھي اور اس كے چهرے پر هَوائياں اُڑ رهي تھيں۔ وه
كچھ كهنا چاهتي تھي ليكن ڈر اور خوف نے اس كي زبان پر تالے ڈال ركھے تھے۔ وه
كچھ دير اسے ٹُكر ٹُكر كے گھورتي رهي اور پھر اچانك اس سے ايسے لِپٹ گئي جيسے كوئي
اسے هميشه كے ليے خالد سے جُدا كرنا چاهتا
هو۔ اس كادل اب بھي بليوں اُچھل رها تھا۔ وه خود بھي ايك عجيب كيفيت
سے دوچار تھا۔ اس كي سمجھ ميں نهيں آرها تھا كه كيا كِيا جائے۔
٫٫ شاهده تم ڈر گئي هو ديكھو يهاں كوئي بھي تو نهيں هے۔ كچھ
كهو ميري جان تمهيں آخر هو كيا گيا
هے۔ ٬٬ مگر اس كي زبان ساكت تھي۔ پته نهيں اس كے ذهن ميں
كيا بات آئي كه اس نے زور سے شاهده كے منه
پر ايك طمانچه رسيد كيا اور شاهده نے به
دِقّت تمام اِتنا كها :
٫٫ حمام ميں كوئي نهارها هے
٬٬
وه جو اپنے آپ كو كافي نڈر سمجھتا تھا
اِس جملے كو سُن كر كانپ گيا۔ تھوڑي دير پهلے اسے گھر كي فضا ساكت و
سامت دكھائي دے رهي تھي۔ اب اسے يُوں لگ رها تھا جيسے كسي نے واقعي نل كي
ٹُونٹي كھول دي هو۔اب اسے واضح طور پر احساس هورها تھا جيسے كوئي شخص حمام ميں گُھسا نهارها هے اور
باضابطه جِسم پر جھاگ اُڑا تا پاني سے لُطف اندوز هورهاهے۔ لمحه به لمحه
سردي كے باعث اس كے مُنه سے شُو شُو كي آواز نِكل رهي هے۔ اس نے خود پر قابو
پانے كي شعوري كوشِش كي۔ اس نے آگے بڑھ كر ديكھا حمام كي ديوار سے لگے هوئے
تار پرسے ايك هاتھ آگے بڑھا اور اچانك شرٹ تار سے غائب هوگيا۔ وه بُت
بناكھڑا رها۔
٫٫ ارے بھئي خالد كھڑے كھڑے كيا
تماشه ديكھ رهے هو ۔ ميں سَردي سے مَرا جارها هوں ذرا توليه تو دے دو۔٬٬
اس كے قدم جيسے زمين ميں دھنس كر ره گئے۔
يه اُس كے بڑے بھائي سے مِلتي جُلتي آواز تھي۔ اس كي آنكھوں كے آگے
اندھيرا چھاگيا۔ صبح جب وه بستر سے بيدار هوا تو شاهده اس سے كهه رهي تھي رات كو نيند ميں آپ كافي بڑبڑا رهے تھے۔
ميں تو مارے خوف كے آپ سے لِپٹ گئي تھي۔وه بڑي دير تك اپني آنكھوں كو مَلتا
رها۔ اُس نے اپنے اطراف و اكناف كي ايك ايك چيز كا جائزه ليا اور اُٹھ كر
بيڈ رُوم سے باهر آيا۔ شاهده اُسے پھَٹي پھَٹي آنكھوں سے ديكھتي رهي۔
سفيد شرٹ حمام كي ديوار سے لگے هوئے تار پر لَٹكا هوا تھا اور نَل كي ٹُونٹي
بدستور كُھلي هوئي تھي۔
٫٫ كيا رات تم نے حمام ميں كچھ كپڑے دھوئے تھے؟ ا ُس نے شاهده
سے پوچھا۔
٫٫ مجھے ياد هے نل كي ٹُونٹي ميں نے بند كردي تھي۔ شايد كسي خرابي كے
باعث وه كُھل گئي هو۔٬٬
٫٫ بات يه هے شاهده رات كو ميں ڈر
گيا تھا۔ يه خوف بھي عجيب شئے هے۔ يه خوف پته نهيں انسان كا تعاقب كب
تك كرتا رهے گا۔ كبھي كبھي جي چاهتا هے كه گھُپ اندھيري راتوں ميں تنها كسي آواره كي
مانندگھومتا پھر رها هوں۔ ليكن مجھ جيسے نِڈر آدمي كو بھي كل رات خوف كے
سائے نے ڈراديا۔٬٬
٫٫ هوسكتا هے آپ كے لاشعوري ميں موت كے خوف نے كسي طرح جگه پالي هو و رنه آپ جيسا آدمي يُوں نه گھبرا تا۔٬٬
٫٫ موت سے تو سبھي ڈرتے هيں كيا
تمهيں موت سے خوف نهيں آتا؟٬٬
٫٫ نهيں ذرّه برابر بھي نهيں۔ ميں انسانوں سے گھبراتي هوں اور خاص طور
پر آپ كے بڑے بھائي سے جن كي بڑي بڑي
سُرخ آنكھوں كو ديكھ كر پهلي بار مجھے وحشت كا سا احساس هوا
تھا۔٬٬
٫٫ تمهيں بھائي جان سے خواه مخواه كَدسي هوگئي هے۔ ان بے چاروں كامُدّت
سے كوئي خط بھي نهيں آيا۔ بهت دن پهلے سارنگ پُور سے آنے والے ايك كنٹراكٹر
نے مجھے اِطلاع دي تھي كه وه آج كل بيمار سے رهنے لگے هيں اور ان كي صحت دن به دن
خراب هوتي جارهي هے۔ ليكن ملازمت كي مصروفيت ايسي هے كه مجھے بھائي جان كو
جاكر ديكھنے كي بھي توفيق نهيں هوئي۔ ليكن يه احساس هي كيا كچھ كم هے كه ميں
آج نهيں تو كل ان سے مِلنے سارنگ پُور ضرور جاو ںگا۔ ليكن ميں ڈر رها هوں كه
كهيںاس بھاگتي دَوڑتي زندگي كي مصروفيت اِس احساس كا بھي گلا نه گھونٹ
دے۔٬٬
٫٫ چلئيے ناشته تيار هے۔٬٬ شاهده نے كمرے ميں داخل هوتے هوئے كها۔
كرسي پر بيٹھتے هي اس نے پليٹوں پر نظر دوڑائي۔ سب سے پهلے اس نے
آمليٹ كے قَتلے اُٹھائے۔ پھر تھوڑے سے توقف كے بعد وه سلائِس پر جيلي لگا كر
كھانے لگا۔
شاهده نے ابھي كچھ كھايا هي نه
تھا كه وه اچانك اُٹھ كھڑا هوا۔
٫٫ بڑي تيزي سے آپ نے ناشته ختم كرديا۔ ميرا ساتھ تو ديا
هوتا۔٬٬
٫٫ تمهارا ساتھ تو جنم جنم كاهے۔ پھر يُوں بھي مجھے ذرا جلدي جانا
هے چيف انجينئر نے بُلوايا
هے۔٬٬
٫٫ چيف انجينئرسے آپ اِتنا ڈرتے كيوں هيں ؟٬٬ شاهده
نے چوٹ كي۔
٫٫ وه ميرا باس هے اس ليئے ڈرتا
هوں۔ ٬٬ وه چاهتا تو يه بھي كهه سكتا تھا كه يه اس كي ڈيوٹي
هے۔٬٬
اُس نے تيزي سے اسكوٹر نكالي اور شاهده
كے كانوں نے اسكوٹر كي گڑگڑاهٹ سُني۔ پھر يه آواز آهسته آهسته فضا
ميں گُونجتي هوئي اچانك غائب هوگئي۔
پھر وه كمرے سے اُٹھ كر ڈريسنگ ٹيبل كے پاس آئي۔ بڑي دير تك مختلف
زاويوں سے اپنے چهره كا جائزه ليا۔ شيشے ميں آنے والے عكس نے جيسے چُغلي
كھائي ٫٫پگلي تُو تو خاصي
خوبصورت هے٬٬۔شام كو جب وه گھر لَوٹا تو شاهده نے بڑي بے چيني سے كها "How Free was my valley" كا
آخري دن هے چليئے هاتھ مُنه دھو
ليجئے چل كر پكچر ديكھيںگے٬٬
۔
٫٫ شاهده ميں بهت تھكا هوا
هوں اور ميرا مُوڈ بھي كچھ ٹھيك نهيں
هے٬٬۔
٫٫ سُنا هے بڑي خوبصورت پكچر هے
، ديكھ لو گے تو مُوڈ بھي ٹھيك هوجائے گا چلئے نا پليز ٬٬ يه كهه كر اُس نے اپنے دونوں هاتھ اس كے شانوں
ميں حمائل كرديئے۔پھر چارو نا چار خالد
كو سپر ڈالني پڑي۔
جس وقت وه سينما هال ميں داخل هوئے توپردے پر كاسٹ دكھائي جارهي
تھي۔ شاهده خوش هوگئي كه اسے شروع
سے پكچر ديكھنے كو مِل رهي هے۔ ليكن خالد
كا عالم كچھ اور هي تھا۔وه صرف شاهده كي خوشنودي كے لئے يهاں بادلِ ناخواسته آيا
تھا۔
شاهده پكچر ديكھنے ميں كچھ ايسي
مَحو تھي كه اسے بغل ميں بيٹھے هوئے خاوند كي طرف ديكھنے كي فرصت نه مِلي۔
تھوڑي دير بعد جب شاهده نے ديكھا تو خالد اُونگھ رها تھا۔
٫٫ اجي جناب آپ مكچر ديكھنے آئے هيں
يا محض آرام كرنے۔ اور اگر آرام هي كرنا تھا تو گھر كيا بُرا
تھا۔٬٬
اس نے قدرے جھينپ كر اپني آنكھيں مَليں۔ پھر شاهده سے مخاطب هوكر كها ٫٫ پته نهيں آج سارے بدن پر تھكن كيوں طاري هے؟٬٬
جب پكچر ختم هوئي تو وه شاهده كا
هاتھ تھامے باهر آيا۔
٫٫ بڑي خوبصورت فلم هے كيوں كيا
خيال هے آپ كا ؟٬٬
٫٫ واقعي اچھي پكچر هے۔٬٬
يه كهه كر اس نے اسكوٹر پر هاتھ ركھے
اور شاهده بڑے والهانه انداز ميں
سِيٹ پر آكر بيٹھ گئي۔ سردي كافي بڑھ گئي تھي۔ اس نے كانوں پر رومال
باندھا اور اپنے دونوں هاتھ خالد كي كمر
ميں حمائل كرديئے۔ اِس بار اُسے خالد
كي كمر ميں ٹھنڈك كا احساس هُوا۔ شايد خود اس كا جِسم ٹھنڈا
تھا۔ جب اسكوٹر كي رفتار تيز هوگئي تو اُس كے هاتھوں كي گِرفت اور مضبوط
هوگئي۔ اب راسته چلنے والوں كو يُوں لگ رها تھا جيسے هيرو
هيروئن پر كوئي خوبصورت سِين فلمايا جارها هو۔
گھر پهنچنے تك رات كے دس بج چكے تھے۔ خالد نے ايك طويل جماهي لي۔ اُسے نيند آرهي
تھي۔ اسے كپڑے تبديل كرنا بھي بار معلوم هورها تھا۔ اُس نے ليٹے هي
ليٹے وارڈ روب سے كپڑے نكالنے كي كوشِش كي۔
شاهده كي نگاه جب اس پر پڑي تو اس
نے پيار بھرے الفاظ ميں كها:
٫٫ بڑے كاهل هيں آپ چليئے ايسے هي
ليٹے رهئيے ميں كپڑے نكالے ديتي
هوں٬٬۔
پھر شاهده نے سليپنگ سُوٹ اُس كے
هاتھ ميں تھما ديا تو وه اُ سے پهن كر بستر پر دراز هوگيا۔
صُبح جب اس كي آنكھي كھُلي توا س كا سارا بدن پھوڑے كي مانند دُكھ رها
تھا۔ دِل پر ايك عجيب سا بوجھ طاري تھا۔ كافي سوجانے كے باوجود اسے
احساس هورها تھا جيسے كسي نے اُسے كچّي
نيند سے اُٹھا ديا هو۔ دھوپ كافي نِكل آئي تھي ۔ اس نے جب گھڑي ميں
وقت ديكھا تو اُسے حيرت هوئي كه آج اتني جلد دس كس طرح بج گئے۔ جب وه كندھے
پر توليه ڈالے غسل خانے كي جانب بڑھا تو شاهده
نے طنزاً اُس سے كها :
٫٫ بھئي اتني سحر خيزي بھي ٹھيك نهيں
ذرا اور سوليتے۔٬٬
٫٫ طَنز كے تِير هي چلاتي رهوگي يا ناشته بھي دوگي۔٬٬
٫٫ پهلے نها تو ليجئے۔ آپ يه تو ديكھ هي رهے هيں كه پَراٹھے پكارهي
هوں۔٬٬
جب وه نها كر كمرے ميں داخل هوا تو دفعتاً اُس كے كانوں نے ڈاكيه كي آواز
سُني۔ دروازے كي چوكھٹ كے پاس خط پڑا هوا تھا اور پوسٹ مين سامنے والے مكان
پر كھڑا كوئي اور خط ڈليور كر رها تھا۔
اس نے تيزي سے لفافه چاك كيا۔
برا در عزيز خالد مياں طُولِ عمره
بهت عرصے سے تم سے نه ملاقات هوئي
نه تم نے مجھے ياد كيا اور نه هي ميں نے قصور نه تمهارا هے اور نه ميرا
وقت اور زمانه هي كچھ ايسا تيز رفتار هے كه سمت كا پته هي نهيں
چلتا۔ منزل كو پانا تو دُور كي بات هے۔ اب يهي ديكھو نا
كه مَيں سخت عليل هوں اس كي
تمهيں اطلاع هي نهيں ۔ ايك مقامي ڈاكٹر كے زيرِ علاج هوں۔ اس نے
گُردوں كا
مرض بتلايا هے۔ بهر حال كچھ چل چلاو كا معامله هے۔ اگر تم مناسب سمجھو اور
تمهيں وقت مِل جائے تو فوري اس
طرف كا رُخ كرو۔ كيا محبت
٠٤ ميل كا فاصله بھي
طَے نهيں كرسكتي ؟
كبھي تمهارا
جميل
اُس كي نگاهوں كے سامنے خط كے حروف تيزي سے گھُوم رهے تھے وه بڑي تيزي سے
باهر نِكل آيا۔ شاهده نے دروازے كي
چوكھٹ تك آكر كها
پِليز ناشته تو كرتے جايئے آخر ايسي كيا آفت آگئي هے ٬٬ مگر
اُس نے كوئي جواب نهيں ديا۔
سارنگ پُور كافي دُور تھا۔ ٹرين كے لئے بھي اسے دو گھنٹے انتظار
كرنا تھا۔ ليكن معاملے كي نزاكت كو بھانپتے هوئے اُس نے نُكّڑ سے ٹيكسي
لي۔ ٹيكسي مختلف راستوں كو پھلانگتي هوئي سارنگ پُور پهنچي۔ اس نے اطمينان
كا سانس ليا
گھر كے عَين سامنے ببلو گھروندا
بنائے مِٹي ميں هاتھوں كو گُھمارها تھا نير
بازو كھڑي اُسے چمكار رهي تھي۔
٫٫ چاچا آگئے ۔٬٬
نيّر خالد كو ديكھ كر خوشي سے
ناچنے لگي۔
جب وه گھر ميں داخل هوا تو اس كے كانوں سے ايك آواز ٹكرائي۔
٫٫ ديكھو يه كيسا آدمي هے اِسے اب
بھائي ياد آيا هے۔٬٬
اسے يُوں لگا جيسے سرِ بازار كسي
نے اُس كا مُنه نوچ ليا هو۔
جميل بھائي بستر پر نيم بيهوشي كے
عالم ميں پڑے هوئے تھے۔ وه هڈيوں كا ايك پنجر هو كر ره گئے تھے۔ اسے
اپنے بھائي كو اِس عالم ميں ديكھ كر بڑا دُكھ هوا۔ آج اس كے ذهن كے دريچوں
سے بهت سي باتيں بهت سي ياديں سر اُونچا
كيئے جھانك رهي تھيں۔
جب اسے شروع شروع ملازمت ملي تھي۔ اُس وقت جميل بھائي كي مالي حالت بڑي خسته تھي۔ بھابي
مرچكي تھيں۔ وه نير اور ببلو كو لے كر چند دنوں كے لئے اس كے هاں آگئے
تھے۔
جب چاهت حَد سے سِوا هوجاتي هے تو جاو بے جا اُميديں سر نكالا كرتي
هيں يهي حال كچھ جميل بھائي كا تھا
اور وه خود كوجيسے ننگا
كرنا نهيں چاهتا تھا۔
٫٫ اچھا هُوا تم آگئے۔ ورنه يه خلش بھي ميرے لئے دوسري موت هوتي كه تم
مجھے ديكھنے نهيں آئے۔ مجھے اپني فِكر نهيں۔ فِكر هے تو بس اتني كه
ميرے اُٹھ جانے كے بعد نير اور ببلو كا كيا حال هوگا۔ مَيں تم سے كيا توقع
ركھ سكتا هوں تم تو ايك ايسے آدمي هو جس
نے مجھے نهانے كے لئے كسي وقت توليه تك نهيں ديا تھا۔٬٬
ايسا لگتا تھا جيسے وه يه كهے بغير زنده نهيں ره سكتے تھے۔ پھر وه
ٹيكسي ميں ايسے آگرا جيسے مُدت سے سويا نه هو۔ ٹيكسي ڈرائيور جو اسٹيرنگ پر
هاتھ ركھے اُونگھ رها تھا هڑ بڑا كر اُٹھ
بيٹھا۔ ٫٫ ڈرائيور كار تيز چلاو اور
تيز ٬٬
كار كي سُوئي ساٹھ اور ستّر ميل كے درميان بھاگ رهي تھي۔ ليكن وه
اِس رفتار سے مطمئن نه تھا اسے محسوس
هورها تھا جيسے موت اس كا تعاقب كر رهي هے
اگر وه هَوا كے دوش پر اُڑتا هوا فوري گھر نه پهنچے گا تومرجائے گا۔
****
مُوذي
جب وه مَرا تو هم سب ساتھيوں نے
مِل كر قبرستان ميں اس كے لئے جگه تلاش كي۔ كيونكه اس كي خواهش تھي كه
قبرستان كے اُس حصّه ميں اُسے دفنايا جائے جهاں اُس كي محبُوبه زرينه دفن تھي۔
اپني محبُوبه كي خودكشي كے بعد وه بڑا مغموم
سا رهنے لگا تھا۔ اُداس كھويا كھويا
ليكن اس كي محبوبه كي خود كشي آج تك ايك راز بني هوئي هے۔ ليكن
ظفر خود اس بات پر حيران تھا كه زرينه نے
كيوں خود كشي كي جبكه وه اس كے لئے اُن
كئي خوبصورت لڑكيوں كو ٹھُكرا چكا تھا جو اُسے پانے كے لئے همه وقت بے چين رهتي
تھيں۔
محمود
نے كها: ٫٫ ظفر كو
پهچاننا بهت مشكل هے وه بڑا پيچيده انسان
هے اپنے چهرے پر نقاب ڈالے پھرتا هے ،
ضرور اُس نے اُس كے ساتھ بے وفائي كي هوگي۔٬٬
خاور
نے كها : ٫٫ مگر اس كے پهلو ميں دفن هونے كي شديد خواهش اس
بات كي دليل هے كه زرينه هي اُس كے لئے سب
كچھ تھي۔
مُجيب
چُپ تھا۔ اُس كے چهرے پر اُداسي منڈلارهي تھي۔
٫٫ يار ، يه تو كچھ بھي نهيں كهتا۔ كيا
سارا غم اسي كمبخت نے پي ليا هے اور تَلچھٹ همارے لئے چھوڑدي هے۔ اس نے
ظفر سے ايسي محبت بھي تو نه كي۔ وه
تو سَدا اُس كے لئے دردِ سَر بنا رها۔ وه محض پوز كر رها
هے۔٬٬
٫٫ ظفر
گھر ميں پڑا ميٹھي نيند سورها هے ، كيا اُسے كندھا نهيں
دوگے؟٬٬
وه اب بھي چُپ تھا ، جيسے اس نے كوئي بات
سُني هي نه هو۔
٫٫ تم نے اس طرح چُپ كيوں سادھ لي۔ اُٹھو
دير هورهي هے، كيا تم ظفر كو كندھا نهيں
دوگے٬٬؟
وه اب بھي چُپ تھا۔
٫٫ مُجيب
هوش ميں آو ، دير هورهي
هے۔ديكھو مزدوروں نے قبر تيار كردي هے
مجھے تو اب اس قبرستان ميں وحشت هونے لگي هے۔ يُوں لگتا هے جيسے زمين
توسيع هوكر پھيل رهي هے اور قبرستان كے سِينے ميں سَڑنے والي نعشيں جنگلوں اور
بيابانوں ميں بھاگ كھڑي هوںگي۔ يه لوگ مر كر بھي بے قرار هيں۔ اور هم
زنده ره كر خانه بدوش وه بوڑھے درخت پر
بيٹھي هوئي چمگاڈر جو تلوار كي طرح ميرے سر پر لٹك رهي هے وه مجھ پر كب گِرے گي ، ميں كهه نهيںسكتا۔
صبح كے بعد جب ميں شام گھر لَوٹاهوں تو يقين
هي نهيں آتا كه ميں نے واقعي زندگي كے ايك دن كو محفوظ كرليا هے۔
٫٫ تمهيں زندگي اتني عزيز
هے٬٬؟ خاور نے كها
٫٫ هاں مجھے زندگي سے پيار
هے٬٬۔ محمود نے آهسته
سے كها۔
٫٫ تو تمهاري محبوبه بھي مَنوں مَٹي كے ڈھير كے نيچے چلي جائے
گي۔٬٬
مُجيب ابھي تك بُت بنا چُپ چاپ بيٹھا
تھا۔
اچانك وه هانپتا هوا آيا ؛
٫٫ ميرے دوستو ظفر كي قبر كے
قريب٬٬۔۔۔۔۔ وه يه كهه كر كانپ
اُٹھا۔
٫٫ كيا هے اُس كي قبر كے
قريب۔٬٬ سب نے بيك آواز
استعجاب سے پوچھا۔
اُس كے چهرے كا رنگ فَق هوتا جارها
تھا۔ ايسا لگ رها تھا جيسے اُسے سانپ سُونگھ گيا هو۔
٫٫ تمهيں هو كيا گيا هے كچھ تو بولو ، تم نے وهاں كيا
ديكھا؟٬٬ محمود نے بے چيني سے پُوچھا۔
٫٫ ميں نے وهاں
٬٬۔۔۔۔
الفاظ جيسے اُس كے حلق ميں اَٹك رهے تھے۔
٫٫ هاں هاں تم نے وهاں كيا ديكھا ، بولو ۔٬٬
٫٫ وهاںميں نے ۔۔۔ ميں نے
وهاں٬٬ ۔۔۔
پھر ايك بار اُس كي زبان گُنگ هوگئي۔
٫٫ عجيب مشكل ميں جان پھنس گئي هے۔ گھر
ميں ظفر كي نعش پڑي هے اور اِس مردُود نے
الگ تماشه بناركھا هے٬٬۔
٫٫ بكواس بند كرو ، اِسے
دواخانه لے چلو ، كهيں اس پر فالج نه گِرا هو٬٬۔
٫٫ وه صرف موت سے ڈر گيا هے۔ ابھي ٹھيك
هوجائے گا۔٬٬
٫٫ مگر يه تمهاري آنكھيں سُرخ كيوں هوتي جارهي
هيں٬٬؟
٫٫ ميري آنكھيں پهلے هي سے سُرخ تھيں۔ ميں
نے قبرستان آنے سے پهلے تھوڑي سي پي لي تھي۔ شراب هي كي همّت پر ميں قبرستان
ميں داخل هوسكا۔ آدمي كو كچھ تو سهارا چاهيئے۔ شيلٹر كے لئے هم سب
بھاگ رهے هيں۔ ايك جگه سے دوسري جگه
دوسري جگه سے تيسري جگه اُس
سائبان كي تلاش ميں جهاں كوئي ايسا آدمي نه هو جو همارے قهقهوںكا گلا نه گھونٹ
دے٬٬۔
٫٫ يه تو پھر اسي نقطه پر آگيا هے ، جهاں سے سوچ
كي سرحديں شروع هوجاتي هيں٬٬
٫٫ ميں نے يه سرحد كبھي كے پار كرلي هے۔
اب ميں نه سوچتا هوں او رنه غور كرتا هوں كه اب زندگي كو كِس كُنويں ميں پھينك آنا
هے٬٬۔
٫٫ ديكھو
خاور كي طبيعت بِگڑ رهي
هے٬٬۔
٫٫ گھبراو
نهيں وه نهيں مرے گا ، وه زنده
رهے گا اور هميں بور كرتا رهے گا٬٬۔
قبرستان پر ويراني برس رهي تھي۔
مِٹيالي رنگ كي پُراني خسته اور اَدھ كچّي قبريں مُنه پھاڑے ٹُكرٹُكر نِيلگوں
آسمان كي طرف ديكھ رهي تھيں درختوں پر رنگ برنگي چڑياں بيٹھي چهك رهي تھيں اور
كالے كلوٹے كوو ں كا قافله قبروں كے اطراف منڈلارها تھا۔
٫٫ وه ديكھو كالا ناگ اُس جُھنڈ كي طرف ، زرينه كي قبر كے قريب آرها هے اسے ماردو ماردو اسے٬٬ خاور
نے گھبراهٹ كے لهجے ميں كها۔
٫٫ وه هميں ڈس لے گا ، كالا ناگ بڑا خطرناك هوتا
هے۔ اب وه زرينه كي قبر سے هوتا هوا
ظفر كي قبر كے قريب پهنچ چكا هے۔ وه
اگر قبر ميں گھُس جائے تو هم اسے كيسے دفنائيںگے۔ وه نعش كو بھي ڈس لے
گا۔ كچھ تو كهو يار ، ديكھو وه قبر ميں گِرچكاهے۔ اب اگر سانپ قبر سے
نه نِكلے تو ظفر يُوں هي پڑا گھر ميں سوتا
رهے گا۔ اس كي لاش سڑتي رهے گي ، همارے انتظار ميں انتظار جهنم كي آگ كا دوسرا رُوپ
هے٬٬۔
٫٫ يه مزدور كمبخت كهاں بھاگ گئے اب كيا هوگا۔ انھيں زياده پيسے
نهيں دينا چاهيئے تھا۔ وه تاڑي پي كر نشه ميں جُھومتے آئيںگے اور اس وقت تك
شائد وه كالاناگ هميں ڈس لے گا۔٬٬
٫٫ ظفر
كے گھر ميں ابھي تك كُهرام مچا هوگا۔ اس كي ماں دھاڑيں مار مار كر
رورهي هوگي اور اس كا بڑا بھائي ديوار سے سَر ٹكرا رها هوگا۔٬٬
وه سوچ رها هوگا۔ خاور ، مجيب
، محمود آج كهاں مرگئے جن كي دوستي اور رفاقت پر وه هميشه نازاں رها۔
٫٫ چلو بھاگ
چليں موت ناگ بن كر همارا پيچھا كر رهي
هے٬٬۔
٫٫ مگر تم زندگي كا زهر پچا سكو
گے٬٬؟
٫٫ بھاگو گے تو يونهي مرجاو گے٬٬
٫٫ مرجانا هي اصل زندگي هے٬٬۔
محمود نے گھمبير لهجے ميں كها۔
٫٫ تو پھر تم هي آگے بڑھو اور موت سے هاتھ
مِلالو٬٬۔
٫٫ اس نے اپنے ساتھيوں كے چهرے كو عجيب نگاهوں
سے ديكھا۔ اور بڑبڑانے كے انداز ميں كها:
٫٫ كيا تم لوگ يونهي كھڑے رهوگے ميرے ساتھ نهيں آو گے٬٬؟ كسي نے اس كے سوال كا جواب نهيں ديا۔
مجيب
جو گھنٹوں چُپ تھا اچانك اُٹھ
كھڑا هوا۔ اس كي آنكھيں انگارے كي مانند دَهك رهي تھيں۔ پھر سب نے
ديكھا ،
وه آهسته آهسته چلتا هواظفر كي قبر
كے قريب آيا۔ اُس نے دُزديده نگاهوں سے قبر كي گهرائيوں ميں جھانكا اور آپ
هي آپ مُسكرايا۔ سامنے گِيلي مِٹّي كا ڈھير تھا اور دو پُرانے پھاو ڑے بے
ترتيب پڑے تھے۔
اس نے نهايت پُھرتي اور تيزي سے پھاو ڑے كے
زريعه قبر ميں مِٹي پھينكني شروع كردي۔ وه بے تحاشه پھاو ڑا چلا رها
تھا۔ مِٹي گِر رهي تھي گِرتي
جارهي تھي۔ پھر اُس نے بڑے بڑے پتھر پھينكنے شروع كئے۔ وه مسلسل مِٹي
اور پتھر پھينكے جارها تھا۔ اس كي پيشاني سے پسينے كي بُونديں بارش كے بوجھل
قطروں كي طرح ٹپك هي تھيں اور سينه كے زير و بم سے اندازه هو رها تھا جيسے وه كافي
تھك چكا هو۔
اب ٹيڑھي ميڑھي قبر تيار تھي۔
٫٫ يه تم نے كيا كِيا۔ يه قبر تو ظفر كے لئے كھودي گئي تھي۔ اور اس كي
زرينه كے پهلو ميں دفن هونے كي آخري خواهش
٬٬
اس نے بات كاٹ كر بڑے اعتماد سے كها۔
٫٫ ظفر
كو ميں نے مَنوں مِٹي كے ڈھير كے نيچے پھينك ديا هے۔ اب تم لوگ
جاسكتے هو ٬٬
نامُراد
وه
درگاه خليق صاحب كے قريب پهنچ كر ايك لمحه كے كئے رُك گيا۔ اُسے كسي
نے بتايا تھا كه زندگي كا هر پيچيده سے پيچيده مسئله بھي مِنٹوں ميں حَل هوجاتا هے
اور مانگي هوئي هر مُراد اور دعا قبول هوجاتي هے۔
مجھے پته نهيں اس كے ذهن ميں يه بات كس طرح جَڑ پكڑ گئي اور
كب اس نے عقيدت مندوں كے هجوم ميں خود كو شامِل كرليا ، ليكن جب وه اچانك غير
متوقع طور پر درگاه كے قريب خاموش كھڑا هوگيا تو ميں نے اس سے كچھ نه كها۔
اس نے اپني بڑي بڑي خُمار آلُود آنكھوں كو گھُماتے هوئے كچھ اِس انداز سے مجھے
ديكھا كه ميں تڑپ كر ره گيا۔
ميں جانتا هوں تم اندر نهيں آو گے۔ تم
نے خدا سے راست رشته جو باندھ ركھا هے۔ ميں نے بھي كسي وقت ايسا هي سوچا
تھا۔ مگر۔۔۔ اس كے آگے وه كچھ كهه نه سكا۔
آج خليق صاحب كي درگاه ميں خلافِ معمول لوگ
بهت كم آئے تھے۔ درگاه كے صحن ميں چند نوجوان فقير بيٹھے سگريٹ ميں چَرس بھر
بھر كر ٫٫ يا خليق مدد٬٬
كا نعره بلند كرتے هوئے گو آپس ميں باتيں كر رهے تھے ۔ ليكن ان كا
سارا دھيان ان عقيدتمندوںكي طرف لگا هوا تھا
جن پر وه گِدھ كي مانِند جھَپٹنے كے لئے پر تول رهے تھے۔ صحن سے ذرا
آگے شاه آباد كے پتھروں سے بنا هُوا ايك لانبا سا چبوتره تھا جس كے سامنے نلوں كي ايك قطار لگي هوئي
تھي۔
وه بڑي آهستگي سے چلتا هوا درگاه ميں داخل
هوا۔ اس نے سينڈل كا تسمه كھولا اور اپنے هاتھ ميں سينڈل كو مضبوطي سے دبائے
اُسے ايك كونے ميں ركھا اور وضو كرنے كے لئے اُس چبوترے پر آبيٹھا جهاں تھوڑي دير پهلے هي ايك عقيدت مندنے وضو
كرنے كے بعد نل كي ٹونٹي كُھلي چھوڑدي تھي۔ اُس نے كھُلے هوئے نل كي ٹُونٹي
پهلے بند كي شايد اس خيال سے كه اندر داخل
هونے سے پهلے اس نے ايك اچھي حركت تو كي۔پھر اس نے قدرے توقف كے بعد جونهي
نَل كھولا تو نَل كے مُنه سے پاني مختلف زاويوںكي شكل ميں اس تيزي سے باهر آيا كه
اس كي ٹري لين كي نيلي بُش شرٹ پاني سے بھيگ گئي۔ اس نے كپڑوں كي پروا كئے
بغير وضو كے سارے مراحل طَے كئے۔ سر پر اچھي طرح سے رومال باندھا اور اُس
بوڑھے پُھول والے كي دُوكان پر آيا جس نے اُسے ديكھ كر پهلے هي سے پانچ آنے كے
پُھول هَرے پتّے ميں باندھ كر علٰحده ركھ ديئے تھے۔ پھر وه دُودھيا
رنگ كے اُس سفيد گُنبد ميں داخل هوا جهاں
خليق صاحب كا مزار تھا۔
اس وقت ميں درگاه كے باهر كھڑا هوں۔
تاكه وه باهر آئے تو ميں اس كے ساتھ كهيںدُور تفريح كي غرض سے نِكل پڑوں۔
شام كي سياهي پھيل چكي هے۔ درگاه ميں لٹكے هوئے بڑے بڑے فانوس جَل اُٹھے
هيں۔ ابھي ابھي كار سے اُتر كر سفيد بُراق سے بزرگ درگاه ميں داخل هوئے
هيں۔ ان كے ساتھ درگاه كا بوڑھا مجاور سُرخ رنگ كا عمامه پهنے آگے آگے چل
رها هے۔صحن ميں بيٹے هوئے فقير فرطِ احترام سے كھڑے هوگئے هيں۔ ليكن
ان كے سامنے پڑے هوئے بُجھي هوئي سگريٹوںكے ٹكڑے صاف اس بات كي چُغلي كھارهے هيں
كه ابھي ابھي اُنھوں نے گانجے سے شُغل كيا هے۔
اُسے درگاه ميں داخل هوئے پون گھنٹه هوچكا هے
ليكن وه ابھي تك لَوٹا نهيں هے۔ لوگوں كي آمد بڑھ رهي هے۔ ميرے ذهن
ميں اس كے ساتھ گُذرے هوئے دنوںكي تصوير گھُوم رهي هے۔ يه ايك طويل كهاني كي
ايك بهت لمبي سي فِلم هے جسے ميں وقتاً فوقتاً قِسط وار ديكھ ليا كرتا هوں۔
اُس سے مِل كر هميشه مجھے يهي احساس هوا كه
وه حد درجه غير ذمه دار خود غرض اور بے وفا آدمي هے۔ ليكن اس كے باوجود وه ميرا قريبي دوست تھا۔يه الگ بات تھي
كه وه هر ايك سے اُلٹے سيدھے مطالبات كرنے كا عادي تھا اور اُسے ايسا كرتے هوئے
احساس هوتا جيسے وه اپنا حق جتارها هو۔ وه اس فن ميں كچھ اتنا طاق هوگيا تھا
كه اس كانشانه كبھي خالي نه جاتا۔ ايسے ميں اگر كهيں سے اُسے ٹكا سا جواب
مِل جاتا تو وه وقت وقت كي بات كهه كر گھنٹوں اُداس هوجاتا۔
اس كے خد و خال بھي بس واجبي واجبي سے تھے
ليكن وه خود كو تنها خوبرو آدمي سمجھتا تھا۔ اس كا خيال تھا كه اگر وه ايك
بار كسي لڑكي سے بات كرے تو ممكن هے كه وه اس كي مقناطيسي شخصيت سے متاثر نه
هو۔يه بات كهاں تك سچ تھي اس كا
مجھے تو كچھ زياده عِلم نهيں هے۔ ليكن ايك آدھ لڑكي چند مهينوں تك هي سهي
ضرور اُس سے محبت كي پِينگيں بڑھاتي اور وه بڑے سليقے سے اس كا هوكر ره
جاتا۔ دراصل وه عشق كے بے محابا جذبے سے قطعي نا آشنا تھا۔ خدا جھُوٹ
نه بُلوائے يه اُس كا كوئي ساتواں عشق
تھا اور اتنا شديد كه اُسے اپني محبوبه كو مانگنے كے لئے دامن پھيلائے خليق صاحب
كے دربار ميں آنا پڑا تھا۔
پِچھلے دنوں جب ٫تھِري ايسس٬ ميں
اس سے ملاقات هوئي تھي تو وه بڑا مغموم تھا۔
٫٫ ميں بے حد پريشان اور دُكھي هوں يار ، اب
تو فرحت سے مِلنا بھي ايك پرابلم هوگيا
هے۔ فرحت كي ماں نے اس كي شادي ايك
ايسے آدمي سے طئے كردي هے جو اس كے كسي طرح بھي لائق نهيں۔ كل رات هم دونوں
گھنٹوں ايك دوسرے كو لِپٹے هوئے روتے رهے ليكن فرحت كي شادي اس گھامڑ سے كبھي نه هوگي ، يه ميرا هي
نهيں اُس كا بھي اٹل فيصله هے٬٬۔
٫٫ مگر تم تو ٬٬
٫٫ ميں جانتا هوں تم آگے كيا كهنے والے
هو۔ تم اپني زبان بند هي ركھو تو بهتر هے ميں جنم جنم كا دُكھيارا اور پياسا
هوں۔ كسي نے آج تك ميرے كشكول ميں محّبت كے دو موتي نهيں پھينكے۔ ميں
سب هي كو چاهتا رها ،سب هي كي پُوجا كي۔ ليكن كسي نے بھي ميرے پيار كي قدر
نهيں كي۔ مگر فرحت اُن لڑكيوں ميں
سے نهيں هے۔ وه تو اب عشق كي آگ ميں تپ كر كُندن بن چكي هے۔ كبھي كبھي
تو مجھے احساس هوتا هے اگر وه مجھے اَپنا نه سكي تو خود كشي كرلے
گي۔٬٬
٫تھري ايسس٬ كي فضا بڑي پُر سكون
تھي۔ يهاں هر شخص اپنا غم بانٹنے سے زياده نِت نئے غم پالينے كے لئے يهاں
آيا تھا۔
٫٫ مگر يه بات تو تم نے دو سال پهلے بھي كهي
تھي جب تم ثمينه كي زُلفوں كے اسير تھے اور شائد اسي جگه آئنده
دو سال بعد كسي نئي محبوبه كے تعلق سے ايسي هي بات كرو گے۔٬٬
ميري اس Non Serious مگر حقائق سے لبريز گفتگو سے جھِلّا
اٹھا۔
٫٫ تم كمينے هو
، تم كيا جانو ميرے جذبات و
احساسات٬٬ ؟
اس كے بعد بهت دِنوںتك اس نے مجھ سے سيدھے
مُنه بات نهيں كي تھي۔
ابھي ميں نے اس كي زندگي كي طولاني فلم كي
ايك ريل هي ديكھي تھي كه وه آگيا۔ اس كا چهره سُرخ تھا اور اس كي دراز پلكوں
پر آنسُو ڈبڈبارهے تھے۔
٫٫ چلو تھِري ايسس اس كے بعد پھر ميں تمهيں كبھي
مجبور نه كروںگا۔٬٬
اس نے اس انداز سے كها جيسے وه آج اپني زندگي كو داو پر لگا نا چاهتا هو۔مگر ميں اس كے ساتھ
جانه سكا۔ ميري معذرت پرخلافِ توقع اس نے كچھ نه كها۔
پھر اس نے ايك دِن مجھے اطلاع دي كه
فرحت كي شادي هونے والي هے، دعوت نامے چھپ چكے هيں۔ دعوت نامے كي
پيشاني پر ميري بجائے اُس اُلّو كے پٹھّے كا نام هے ، مگر اس سے كيا هوتا
هے۔ ميرے ساتھ فرحت هے ، اُس كا
سچّا پيار هے اور ساتھ ميں خليق صاحب كے مزار پر بهائے هوئے اَن گِنت آنسو اور
آهوں ميں ڈُوبي هوئي دُعائيںهيں۔٬٬
مگر آنے والے كل كے هاتھ ميں جو كتاب تھي اس
ميں كهيں بھي ميرے دوست كا نام درج نهيں تھا۔ وه محبت كي كتاب كا پيش لفظ بن
كر ره گيا تھا۔ فرحت كسي اور كي
هوچكي تھي۔
وه اس صدمے كو برداشت نه كر سكا اور چُپكے سے
كهيں دُور چلا گيا۔ اس نے صرف مكان تبديل كيا تھا ليكن اس كا دھڑكتا هُوا دل
شائد آج بھي فرحت كے بدل كي تلاش ميں
سرگرداں هو۔
دو سال كے طويل عرصے كے بعد اچانك وه ٫٫ اورينٹ٬٬ كے قريب مجھ سے مِلا تو مجھے ايك انجاني سي
مسرّت كا احساس هو رها تھا۔ اور وه خود بھي بڑا مسرُور دكھائي دے رها
تھا۔ اس كے هونٹوں كے كناروں پر جيسے مسرّت جھُوم رهي تھي۔ وه آج
ضرورت سے زياده لهك لهك كر باتيں كر رها تھا۔
٫٫ يار اچھا هوا تم مِل گئے۔ ميں سوچ هي
رها تھا كه تم سے كس طرح مِلوں۔ دو برس بعد حيدر آباد لَوٹا هوں تو كچھ عجيب
سا لگ رها هے۔ رهي لمنٹ كي لمبوتري سڑكيں
وهي هوٹليں وهي تھري ايسس ، وهي جانسن ۔ وهي اورينٹ ، حد تو يه هے
كه بَيرے بھي وهي هيں۔ مگر ايك چيز بدلي هوئي هے وه هے فرحت
كا گھر ۔ اس نے مكان ميں ايك نئے كمرے كا اضافه كر ليا
هے۔٬٬
٫٫ كيا تم فرحت
كے گھر گئے تھے٬٬؟ ميں
نے حيرت سے پوچھا۔
اُس نے كچھ رُك كر كها :
٫٫ هاں
، اُس نے مجھے خط لكھا تھا كه بچّے كي سالگره ميں ميري كي شركت بے حد ضروري
هے ، ميں كسي قيمت پر گھر آو ں۔
عجيب لڑكي هے فرحت بھي۔ ظالم نے
ٹُوٹ كر مجھے چاها اور شادي ايك اجنبي سے كرلي۔ هاں رضوان بڑا پيار ابچّه هے۔ ميں نے جب اُسے پيار
سے گود ميںاُٹھا ياتواُس نے اپني ننھي مُني بانهيں پھيلاديں اور تُتلاتے هوئے مجھے
پپّا كها۔بخدا ميں تڑپ كر ره گيا۔ مجھے ايك لمحه كے لئے احساس
هُوا جيسے ميں سچ مُچ رضوان كا باپ
هوں۔ فرحت ميري بيوي هے اور اس كا
شوهر ميرا ملازم۔ اس وقت فرحت ميرے
قريب كھڑي تھي۔ اس كي آنكھوں ميں آنسو اُمڈ آئے تھے۔ ميں آج صبح سے هي
عجيب افسردگي كا شكار تھا۔ شائد آنے والے اسي اذيت ناك لمحے كے لئے وقت نے
مجھے جگا ديا تھا۔ وه اپنے شوهر كي پروا كئے بغير ميري خاطر تواضع ميںلگي
رهي۔ آج ميں نے اُسے تحفه كا جو پيكٹ ديا هے وه اُسے ميرے جانے كے بعد جب
كھولے گي تو باو لي هو كر ديواروں سے سَر ٹكرائے گي۔٬٬
ميرا جي بے اختيار چاها كه اس سے پوچھوں كه
آخر اس نے كيا تحفه ديا هے۔ مگر همّت نه هوئي۔ اس نے اپني گفتگو جاري
ركھتے هوئے كها : تمهيں حيرت هوگي كه رضوان
كا چهره هُو بهُو مجھ سے مِلتا جُلتا هے۔ رضوان كو خدا نے ميرا چهره دے كر مجھ پر اور
فرحت پر بڑا ظلم كيا هے۔ ميں قسم
كھاكر كهه سكتا هوں كه ميں نے اس كے جسم كو چھُوا تك نهيں۔ گو وه ميري اپني
ملكيت تھي۔ خير چھوڑو اس قصّے كو ، اب تم سُناو كيسے هو٬٬؟
٫٫ آج مجھے اس بات كا اعتراف كرلينے دو كه تم نے
مجھ پر بڑے احسانات كئے هيں۔ كبھي سوچتا هوں تو تمهارے خلوص كے آگے سراپا
سپاس هوجانے كو جي چاهتا هے۔ ميں نے تمهں اپني دل كي گهرائيوں ميںجگه دے
ركھي هے۔ وهيں كهيں تم سے لي هوئي قرض كي رقم محفوظ هے۔ وقت آنے پر
ايك ايك پيسه چُكا دوںگا۔ ميرے بعض ساتھي مجھے بَد نيّت اور نا دهنده كهتے
هيں۔ ذرا تم هي سو چو يه لوگ جب
مجھ پر بھروسه نهيں كرسكتے تو مجھے پيسے كيوں قرض ديتے هيں۔ يه دراصل سب كے
سب ميري شخصيت سے مرعُوب هيں٬٬
ميں چُپ چاپ اس كي باتيں سُنتا رها۔ اس
نے سامنے سگريٹ كي دوكان سے گولڈ فليك كي ايك پيكٹ خريدي ، خود سگريٹ سلگايا اور
مجھے سگريٹ آفر كرتے هوئے كها
٫٫ پته نهيں تم كب گولڈفليك پينا شروع كرو گے؟ بگلا سگريٹ پيتے
پيتے تم گھٹيا آدمي بنتے جارهے هو٬٬
٫٫ اور تم گولڈفليك پي كر بھي ميرے مقروض
هو٬٬
ميرے جملے كي اس تُرشي سے وه ناراض هونے كي بجائے بے ساخته
هنس پڑا اور محبت سے ميرے گال پر ايك چَپت لگائي۔
ايك ثانيه كے لئے مجھے احساس هوا كه مجھے
ايسا نهيں كهنا چاهيئے تھا۔ مگر وه ميرے اس اُوچھے مذاق كے باوجود ابھي تك
مسكرا رها تھا اور پَے در پَے سگريٹ پِيئے جارها تھا۔ هم دونوں باتيں كرتے
هوئے بهت دُور نِكل آئے تھے۔مالگزاري سے لگا هوا سُوپر بازار بند هوچكا
تھا۔ رائل كيفے كے قريب پهنچ كر ميں رُك گيا۔ سامنے نامپلي چمن كے
ٹيكسي اسٹينڈ پر لوگوں كا كافي هجوم تھا۔ آج ٹيكسي ڈرائيوروں نے اپني موٹروں
پر بڑے بڑے پھُولوں كے هار ڈال ركھے تھے۔ سامنے دو آدمي پھُولوں سے بھري
هوئي ٹوكري ليئے آهسته آهسته چل رهے تھے اور ساتھ ساتھ كسي پُرانے شاعر كا نعتيه
كلام بھي پڑھتے جارهے تھے۔
وه سڑك جو درگاه سے راست مِلتي تھي اس پر
لوگوں كا اژدھام تھا۔ آج خليق صاحب كا عرس تھا۔ چراغاں تھے۔
وه يونهي بَل كھاتي هوئي سڑك پر چُپ چاپ چلتا
رها۔
٫٫ كيا آج خليق صاحب كي درگاه ميں عزيز وارثي كي منقبت نهيں سُنوگے٬٬؟
اُس نے ميرے سوال كا كوئي جواب نهيں ديا اور
دھيرے دھيرے قدم ناپتا هُوا ٫٫ كهكشاں ٬٬ ميں داخل هُوا جهاں بالكني پر ايك رنگ كي
صحتمند لڑكي اس كا بے چيني سے انتظار كر رهي تھي
زمين كا عذاب
٫٫ كيا يه ممكن نهيں كه تم وهاں ميرے لئے كوئي
جگه تلاش كر سكو٬٬۔
٫٫ جگه٬٬؟ اس نے كچھ اس انداز سے كها كه اُس كي اُجلي
آنكھوں ميں سَائے منڈلانے لگے۔
٫٫ بھائي وهاں تم ايسے پيارے لوگوں كے لئے جگه
كهاں هے۔ ميں وهاں پاو ں سُكيڑ كر سو بھي جاتاهوں تو احساس هوتا هے كه جگه
پھر بھي تنگ هے۔ اگر تم اسے مبالغه نه سمجھو تو ميں اكثر جاگتا هي رهتا
هوں۔ ميں نهيں چاهتا كه تم بھي اس سُلگتي هوئي بھٹّي ميں جاگرو۔ پھر
ميں نے بھي وه جگه خاموشي سے تلاش نهيں كي تھي
مجھے تو وهاں جيسے كسي نے زبردستي ڈھكيل ديا تھا۔٬٬
٫٫ پھر ميں كهاں جاو ں ؟ ميرے لئے كهيں كوئي جگه
نهيں هے۔٬٬
٫٫ جگه تو هے
، سكڑي سكڑي ، مِٹيالي تنگ اور
تاريك۔٬٬
٫٫ كيا وهاں بھي ايسا هي هوتا
هے۔٬٬
٫٫ شائد
هوتا هو۔٬٬
ليكن ميں تند وتيز هواو ں اور طوفانوں سے
ڈرتاهوں۔ ميري مُراد اُن دهماكوں سے هے ، جن ميں ميں گھِرا هوا هوں۔٬٬
٫٫ تمهيں جِينے كي اس قدر هَوس كيوں
هے٬٬؟
٫٫ اگر يهي بيهوده سوال ميں تم سے كروں
٬٬؟
٫٫ ميں ايك بے حِس آدمي هوں ، اس لئے جي رها
هوں تم تو شروع هي سے اچھي زندگي كے خواب
ديكھتے رهے هو٬٬۔
٫٫ ليكن اب
وه خواب كرچي كرچي بن چكے هيں٬٬۔
٫٫ كوئي اور خواب ديكھنے كي تمنّا نهيں
هے٬٬۔
٫٫ نهيں اب زندگي كے لَق و دَق صحرا ميں وه
عَصائے پيري بھي چھن چكا هے٬٬
٫٫ پھر اب مزيد كچھ نه سوچو زندگي جيسي ، جس طرح
جهاں كهيں گذر رهي هے ، اُسے اس كے حال پر چھوڑ دو٬٬۔
ديكھو كالج كي عمارت سے لڑكوں اور لڑكيوں كا سيلاب پھُوٹ پڑا هے۔ ان كے
چُست لباس ديكھ رهے هو۔ ان كے هونٹوں پر جو مسكراهٹ هے وه دراصل ايك سمجھوته
هے جو انھوں نے هر لمحه بدلتي زندگي سے كر ركھا هے۔ مگر لڑكوں كے چهرے پر
بڑھے هوئے يه لمبے لمبے بد نُما خط۔ ان لڑكوں نے خواه مخواه اپنا چهره كيوں
بگاڑ ركھا هے۔ اس حُليه ميں تو وه جنگل سے بھاگے هوئے بندر معلوم هوتے
هيں۔ يه كِس قِسم كي مراجعت هے۔ ديكھو ميں موضوع سے هَٹ گيا۔
ميں جگه كي تلاش ميں هوں۔ ايك ايسي جگه جهاں ليٹ كر ميں اطمينان سے لكھ سكوں
، پڑھ سكوں ، مسكرا سكوں۔٬٬
٫٫ ليكن جس چيز كو تم اطمينان سے تعبير كر رهے
هو وه جگه يهاں نهيں هے۔ تم لكھ
سكتے هو ، مسكراسكتے هو ، هنس سكتے هو اور كبھي جي گھبراجائے تو پتّھر سے سر كو
ٹكرا بھي سكتے هو۔ اتني ڈھير ساري نعمتيں جب زندگي ميں مُيسّر هوں تو آدمي كو
اور كيا چاهيئے۔٬٬
٫٫ اس كا
مطلب يه هے كه تم بھي مسخ شده زندگي كا تابُوت اپنے كندھے پر اُٹھائے هوئے
هو٬٬۔
٫٫ مگر ميرے كندھے پر ايسي كوئي نعش نهيں
هے جسے ميں كسي كھڈ ميں پھينك آو ں
كيونكه كھائي ميں پهلے هي سے اتني سڑي بسي نعشيں پڑي هيں كه ميں اس كے تصوّر هي سے
كانپ اُٹھتاهوں۔ ليكن ميں پاو ں كي زنجير بن كر ره گيا هوں۔ كتنے
قدموں كے نشانات ثبت هيں يهاں اس چوكھٹے
ميں جب كبھي ميں نے قدم ركھنے كي كوشِش كي مجھے ايسا لگا جيسے كسي ديوزاد نے ميرا گلا گھونٹ ديا
هو۔
ميرے شلف ميںركھي هوئي ساري خوبصورت كتابيں
جل چكي هيں۔ ميري ميز كا سينه كسي نے چِير ديا هے۔ كرسيوں كي
ٹانگيں برتنوں كے چهرے كپڑے اور يه بدن كهيں ايسا تو نهيں ميں تمهيں بور كر رها هوں۔
مجھے تم سے جُدا هونے ميں ابھي چند گھنٹے اور
باقي هيں۔ تم مزيد چند گھنٹے ميرے ساتھ گذار سكتے هو۔ ليكن ان چند
گھنٹوں ميں ، ميں نے صرف ايك گھنٹه اپنے لئے مختص كر ركھا هے۔ بظاهر اس ايك
گھنٹه پر ميرا قبضه هے ، ليكن ٬٬؟
٫٫ مجھے تمهاري بات سمجھ ميں نه
آئي۔٬٬
يه ضروري نهيںكه هر بات سمجھ ميں آئے۔
جب بات سمجھ ميں آجاتي هے تو مجھے احساس هوتا هے كه مجھ ميں كوئي كمي واقع هوگئي
هے۔ سوچ كي اتھاه گهرائيوں سے كبھي ميرا واسطه نهيں رها هے۔ تم ميرے
ساتھ چلو تو تنهيں اندازه هوجائے گا كه ميں كهاں جارهاهوں۔٬٬
وه مجھے مختلف راستوں سے گھُما پھرا كر ايك
چاڑي چكلي سڑك پر لے آيا۔ اُوپر آسمان سے باتيں كرتي هوئي عمارت پر رنگ
برنگي برقي قمقمے جگمگا رهے تھے۔
٫٫ يهي وه جگه هے جهاں مجھے جانا هے۔ چند
لوگ مجھ سے مِلنا چاهتے هيں٬٬۔
٫٫ يه گھر بُقعه نُور كيوں بنا هوا هے٬٬؟
٫٫ يه
اهتمام ميرے لئے نهيں هے۔ يهاں لائٹ هميشه هي جلتي رهتي هے تاكه اندھيرے كا
احساس هي مرجائے۔٬٬
وه مجھے بھي ساتھ چلنے پر اصرار كرتا
رها۔ ليكن ميں باهر هي ٹھيرا رها۔
وه لِفٹ كے ذريعه ديكھتے هي ديكھتے اُوپر چلا
گيا۔
پھر جب وه وهاں سے لَوٹا تو وه بيحد اُداس
اوري گمبھير دكھائي دے رها تھا۔
وه چُپ چاپ گُم سُم تار كول كي لمبي سڑك پر
يُونهي چلتا رها۔پھر ميں نے ديكھا وه بڑي درد بھري آواز ميں گُنگُنا رها
تھا۔
لهُو كي بُونديں
گورے كالے
نِيلے پِيلے
چهروں كي تفسيريں
عقاب كے نُكيلے پنجے
سڑي بُسي نعشوں پر
بُھوكے گِدھوں كا اژدهام
كيا يهي وه عذاب هے
جس كے لئے هميں زميں مِلي تھي
اپنا عقيده ٹُوٹنے سے پهلے
آو
اِك بار پھر
اپني قبروں كے دروازے
مقفّل كرليں
ميں اُس كے چهرے پر آئي هوئي لكيروں كو پڑھتا
رها۔ وه بغير مجھ سے كچھه كهے بڑے بڑے ڈگ بھرتا هوا تاريكي ميں ڈُوبے هوئے
قبرستان كي طرف چلاگيا۔
*****
هيں خواب ميں هنوز
اس نے كھڑ كي سے جھانك كر ديكھا۔ وه
آدمي ابھي تك نيچے چپ چاپ كھڑا تھا۔ابھي ابھي جب اس نے اُس سے كها تھا كه وه
اس شهر ميں اجنبي هے اور شب بسري كے ليے ايك رات اس كے گھر ميں گزارنا چاهتا هے
ليكن اس كے انكار كے باوجود وه ابھي تك نيچے كھڑا تھا۔ يه اس كے ليے ايك
پريشان كن مسئله تھا۔ اس كي نئي نئي شادي هوي تھي۔ اور وه خود اس محلے
كے ليے زياده شناسا نه تھا۔ كچھ دن پهلے هي اس نے يهاں سكونت اختيار كي
تھي۔ ايسے ميں شب بسري كے ليے كسي بھي اجنبي كو جگه دينا خطره مول لينے كے
مترادف تھا۔
رات كے گياره بج رهے تھے۔ سردي هولے
هولے بڑھ رهي تھي۔ اور ساتھ ساتھ تيز هوائيں چلنے لگي تھيں۔ بند
كھڑكياں تيز هوا كے دباو سے خودبخودكھل
رهي تھيں۔ اُسے ايسا لگ رها تھا جيسے دبے پاو ں كوئي طوفان آنے والا
هو۔ قريب كے كمرے ميں اس كي بيوي نيند ميں غرق تھي۔كمرے كي لائٹ آف تھي اس ليے كمرے ميں اندھيرا چھايا هوا
تھا۔ اس نے اندر جاكر لائٹ آن كرنا مناسب نهيںسمجھا۔ شايد اس كي نيند
خراب هوجائے مگر اس آدمي نے اسي كے گھر كا انتخاب كيوں
كيا؟٠٠٠ليكن وه اب تك تو چلا گياهوگا۔ كسي آشرم كے كمرے
نے اس كے ليے اپني آغوش وَاكردي هوگي وه يه سوچ كر اطمينان سے اس دريچے كي طرف
بڑھا۔ جهاں سے وه نيچے ديكھ سكتا تھا۔
اسے كھڑكي كي طرف جاتے هوئے ڈرسا لگ رها
تھا۔ وه كب كا چلا گيا هوگا۔ يه بات اس نے ذهن ميں بٹھانے كي كوشش
كي۔ اور كھڑكي تك نه جانے كا جواز اس نے اپنے طور پر ڈھونڈليا تھا۔
پھريوں بھي هوائيں تيز چل رهي تھيں۔ اسے كھڑكي كے مقابل ايك سايه سا دكھائي
ديا۔۔جيسے كهه رها هو۔
بس ايك رات كي بات هے كسي كونے ميں پڑا
رهوںگا اور گجردم چلاجاو ںگا۔ كتني راتيں هيںجن كي كبھي صبح نهيں
هوتي۔ مگر يه عجيب رات هے جو كچھوے كي طرح رينگ رهي هے۔ وه جي كڑاكركے
كھڑكي كے قريب آيا۔ اُسے يه ديكھ كر سخت حيراني هوي كه وه ابھي تك نيچے چپ
چاپ كھڑا تھا۔ سڑك پر اكّادكّا موٹر كاريں دوڑ رهي تھيں۔ چند لوگ سمنٹ
كي سڑك پر آهسته آهسته چل رهے تھے۔
بازار كي بيش تر دوكانيں بند هوچكي تھيں اور
سڑك پر كهيں روشني تھي اور كهيں اندھيرا اس نے سوچا پوليس كو فون كيا جائے كه اس
كے گھر كے نيچے ايك مشتبه آدمي كئي گھنٹوں سے كھڑا هے۔ اُسے اپني جان و مال
كا خوف هے ٠٠٠٠٠٠ليكن پوليس اتني سي بات پر
تھوڑاهي ايكشن ليتي هے٠٠٠٠٠ مگر وه اپنے خط و خال
سے بھي بھلا مانس لگتا هے كپڑے بھي صاف ستھرے پهن ركھے هيں۔گفتگو ميں مٹھاس
اور نرمي بھي هے
٠٠٠٠آدمي تو كئي پردوں ميں چھپارهتا هے۔ جگه
نه دينے هي ميں عقلمندي هے۔ جگه كے ليے تو ساري دنيا پريشان هے۔ شيلٹر
كب كهاں اور كسے ملا هے۔
اب وه كھڑكي سے هٹ كر اپني بيوي كے كمرے كي
طرف آيا۔ اس كي بيوي ابھي تك سورهي تھي۔ رات سونے كے ليے هوتي
هے۔ شايد گهري نيند سو كر وه اسے يهي بات سمجھانا چاهتي هو۔ شايد جلد
سوكر وه يه بات بھي اس كے ذهن نشين كروانا چاهتي هو كه نيند كے ساتھ ساتھ وه اور
بهت سي باتوں ميں خودمختار هے۔ مگر وه بھي تو چپكے سے اس كے قريب جاكر سو
سكتا هے۔ جاگنے كے ليے اگر وه آزاد هے تو سونے كے ليے
بھي اس كي آزادي برقرار رهے گي۔ وه يوں
هي ٹهلتا رها۔ اس كے ليے مشكل يه تھي كه وه اب نه خود سوسكتا تھا اور نه
اپني بيوي كو جگا سكتا تھا۔
اس كا ذهن منتشر تھا۔ ذهن ميں طرح طرح
كے گمان سر اونچا كيے جھانك رهے تھے۔ وه اپنے كمرے ميں اسي طرح ٹهلتا
رها۔ كبھي كبھار كھڑكي كي طرف اس كي نگاهيں اٹھ جاتيں تو اسے بے اختيار اس
اجنبي كا خيال آتا۔ اجنبي كے خيال كے ساتھ هي اس كي طبيعت دگرگوں
هوجاتي۔
آج اسے دو باتوں كي بڑي كوفت تھي۔
اجنبي كا خواه مخواه مكان كے نيچے ٹهرارهنا۔بيوي كا وقت سے پهلے
سوجانا۔ ان دونوں نے جيسے اس كا سكھ چين چھين ليا تھا۔ اس نے دل ميں
سوچا اگر اجنبي اب بھي اس كے مكان كے نيچے كھڑا نظر آئے تو وه اسے لڑائي كے ليے للكارے
گا۔ اسے اوپر سے ايك موٹي سي گالي دے گا اور كهے گا بدمعاش يهاں سے فوري دفع
هوجا۔
وه تيز تيز قدم ڈالتا هوا كھڑكي كے پاس
آيا۔ اس نے ديكھا وه نوجوان اب الكٹرك پول سے ٹيك لگائے سورها تھا۔ اس
نے سوچا۔ سونے والے كو كيا گالي دي جائے۔ رات تو آدھي ڈھل چكي
هے۔ گجردم وه يهاں سے چلا جائے گا۔ اس نے كھڑكي سے جھانك كر پھر ايك
بار بغور اُسے ديكھا۔ اس كي آنكھيں بند تھيں۔ اور هاتھ پاو ں بالكل
ساكت تھے۔ شايد وه گهري نيند كے مزے لے رها تھا۔ پھر وه كچھ سوچ كر
كھڑكي كے پاس هي ٹهرا رها۔ شايد وه جاگے تو اسے للكار سكے۔ ليكن وه
بدستور سورها تھا۔
وه كھڑكي كے پاس سے آهسته آهسته اپني بيوي كے
كمرے كي طرف آيا۔ اس كي بيوي كے كمرے ميں اندھيرا چھايا هوا تھا۔وه
نيند ميں غرق تھي۔ وه سوچتا رها۔ سوچتا رها۔
اس كا ذهن اب كچھ كام كرنے كے قابل نه
تھا۔ وه اپنے بستر پر آكر دراز هوگيا۔
اس نے آنكھيں بند كرنے كي كوشش كي ليكن نيند
اس سے كوسوں دور تھي۔
پھر يوں هوا كه آهسته آهسته اس پر نيند نے
غلبه پانا شروع كرديا۔ اس كي مندي مندي آنكھوں ميں نيند ننھے منّے قطروں كي
طرح جمنے لگي اور ايك حد ايسي آگئي كه وه سو گيا۔
سويرے جب اس كي آنكھ كھلي تواس كا دل بے طرح
دھڑك رهاتھا۔
صبح كي سفيدي در و ديوار پر پھيل رهي
تھي۔ اٹھتے هي سب سے پهلے اُسے اس اجنبي كا خيال آيا جو رات گئے الكٹرك پول
سے ٹيك لگائے سوگياتھا۔
يك بارگي وه بستر سے اُٹھا اور كھڑكي كے پاس
آپهنچا۔ اس نے ديكھا پول كے نيچے ايك مريل سا كتّا پيشاب كر رها تھا۔
وه جا چكا۔ چلو ايك الجھن سے نجات تو
ملي۔ وه يه سوچ كر بڑے اطمينان سے اپني بيوي كے كمرے ميں داخل هوا۔ وه
بڑے اطمينان سے سورهي تھي۔ جانے كيوں اس كاسر چكراگيا۔ وه اپني
پريشاني اور اُداسي كا جواز بھي نه ڈھونڈھ سكا۔ چور نظروں سے اس نے پھراپني بيوي
كو ديكھا۔ اس كے بال بكھرے هوئے تھے۔ غازه چهرے كو كچھ عجيب طرح سے
چھوڑ رها تھا۔ كاجل آنكھوں ميں پھيل كر ره گيا تھا۔
اس نے كچھ سوچ كر سگريٹ جلايا اور اس كھڑكي
كي طرف ديكھنے لگا۔ جس سے وه ابھي ابھي لوٹا تھا۔ لمبا كش لے كر دھويں
ميں
جھانكتے هوئے وه سوچتا رها۔ كيا ميں
واقعي رات سوتا رها تھا ياپھر۔۔۔۔
ليكن اس كي بيوي اطمينان سے سورهي تھي
****
ايك سينگ والا آدمي
اچانك ايك رات اُس نے محسوس كيا كه اس كے سَر كے چھدرے بالوں
ميں كوئي سخت چيز اُبھر آئي هے۔ اُس نے وقفے وقفے سے ٹٹول ٹٹول كر سِر پر آهستگي
سے هاتھ پھيرا اُس كا هاتھ بار بار كسي سخت چيز سے ٹكر ارها تھا۔
وه اُس رات ايك شديد كرب
ميں مُبتلا رها۔ وه كل تك ايك اچھا بھلا انسان تھا اور آج كهيں بے خيالي ميں اس نے سر ديوار سے ٹكرايا
تو نه تھا۔ ديوار سے سر ٹكرانے كي عمر كو وه بهت پيچھے چھوڑ آيا تھا۔ اب
وه عمر كي اس منزل ميں تھا جهاں موت كسي وقت بھي اس كا گلا گھونٹ سكتي تھي۔
اس كے دو بيٹے تھے جن
كي عمريں پچيس تيس برس سے اُوپر هي تھيں يه تھي اس كے گھر كي كُل كائنات۔
بيو پار بڑا هو تو آدمي
سُرخُرو هوسكتا هے۔ ليكن يهاں معامله بالكل بر عكس تھا۔ پيشه چھوٹا تھا
اور آدمي بڑا ۔
باپ نے بڑے بيٹے سے ڈھير
ساري اُميديں باندھ ركھي تھيں ليكن وه صرف خواب هي ديكھنے كا عادي تھا۔
تاريكي چھٹے گي اور ايك
دن آسماني اُفق سے نيا سُورج طلوع هوگا۔
اِدھر پندره برس ميں نه
تاريكي هي چھٹي تھي اور نه كسي سورج كے طُلوع هونے كا انتظار تھا اور نه كسي دستك كا۔
و ه زندگي كے تعاقب ميں تھا اور زندگي اس كے تعاقب ميں۔
صبح بستر پر پڑے ايك بار
پھر اس نے اپنے سر پر هاتھ پھيرا۔ وه سخت اُبھري هوي چيز كچھ اور نُماياں هوگئي
تھي۔
وه بڑي اُلجھن ميں تھا۔
زندگي كے ان لنگڑاتے هوے لمحوں ميں وه اپني ذات ميں كسي بھي قِسم كي تبديلي نهيں چاهتا
تھا۔
پھر لمحے مِنٹوں ميںاور
دن مهينوں ميں تبديل هونے لگے اور اس كے سر پر ايك كافي بڑا سِينگ اُبھر آيا۔
اب وه آدمي سے آهسته آهسته
چَوپائے ميں تبديل هورها تھا اور اس كا سينگ دن بدن لمبا هي هوتا جارها تھا۔
بڑے بوڑھے لوگوں نے كها۔
يه تو خوش بختي كي علامت هے۔ برس ها برس ميں ايك آدھ ايسا كيس سامنے آتا هے اور
سِينگ والے آدمي كے گھر لكشمي دبے پاو ں دَرآتي هے۔
وه بڑي مُدت تك لكشمي
كا انتظار كرتا رها۔ ليكن لكشمي نے اس كے گھر كے سونے آنگن ميں كبھي قدم نهيں
ركھا۔ اور وه گھر كي دهليز سے باهر قدم ركھتے هوے بھي جھجك محسوس كرنے لگا۔
اس طرح جب اس نے گوشه نشيني اختيار كرلي تو اس كا كاروبار چوپٹ هونے لگا۔ اور
وه گھر ميں بيٹھا بيٹھا اُكتا سا گيا۔ پھر وه جي كڑا كركے دوكان پر بيٹھنے لگا۔
ليكن پهلے هي دِن اُسے ديكھ كر لوگوں كا ايك ميله سالگ گيا۔ اور وه ايك تماشه
بن كر ره گيا۔
بعض لوگ جب اس سے عجيب
و غريب سوالات كرتے تو وه بڑے تحمّل سے ان كے جواب ديتا اور پھر ايك دن جب اخبار ميں
ايك سِينگ والے آدمي كي سُرخي لگي تو لوگوں نے اُسے تعجب سے پڑھا۔
پھر وه لوگوں كے قبضه
سے نِكل كر ڈاكٹروں كے هاتھ ميں كھلونا بنتارها۔
اُس كے سينگ پر كئي تجربوں
كي بُنياد پڑي۔ ڈاكٹر حيران تھے كه آخر يه سينگ كِس طرح اس كے سَر سے نِكل آيا
هے۔ كئي ڈاكٹروں نے مل كر سوچا، ليكن
وه كسي خاص نتيجه پر پهنچ نه سكے۔ سب نے يهي سوچا كه يه سينگ اس كي زندگي كے
لئے نقصان رساں نهيں هے اگر سرجري كي جائے تو شائد اُسے جان سے هاتھ دھونا پڑے۔
سرجري كے لئے وه تيار نه تھا اور نه ڈاكٹر سردست يه خطره مول لينے كے لئے تيار تھے۔
دن هونهي گذرتے گئے۔
ابتدا ميں اس كي دُكان كے آگے بھانت بھانت كے آدميوں كي جو بھِيڑ لگي رهتي تھي۔
وه اب دھيرے دھيرے كم هونے لگي۔ كچھ تو اس كي وجه يه تھي كه كم و بيش شهر كے
هر آدمي نے كسي نه كسي بهانے اس كا ديدار كرليا تھا۔ بچے كُچھے وه لوگ جو شهر
كے مختلف محلّوں ميں آباد تھے۔ اُنھوں نے بھي دُكان كا طواف كرنے هي ميں اپنے
لئے ايك تفريح كي راه ڈھونڈلي تھي۔
رفته رفته ديهات اور قصبات
سے بھي لوگ آنا شروع هوے اور اس عجوبه كو ديكھ كر خدا كي قدرت كے گيت گانے لگے يا پھر
سينگ كو موضوعِ بحث بنا كر قيامت كے جلد آنے كي پيشين گوئي كرنے لگے۔
وه دُكان پر بيٹھے بيٹھے
سوچنے لگا۔ جب وه ايك عام آدمي تھا لوگ اس كي طرف نگاه اُٹھا كر بھي ديكھتے نه
تھے ليكن آج جب كه اس كے سر پر سينگ اُگ آيا هے تو لوگوں نے اس كے گرد ايك هاله سا
بناليا هے۔ وه اس هجوم سے گھبرانے لگا۔
ليكن دھيرے دھيرے سينگ
اس كي شخصيت كا ايك جُز بن گيا۔ اب اُسے يه پته بھي نهيں تھا كه اس كے سر پر
سِينگ نِكل آيا هے۔
مختلف طنزيه جملوں جملوں
كو سهنے اور كنايوں كو برداشت كرنے كا وه عادي هوچكا تھا۔ اس لئے اب اس نے سر
پر جا و بے جا هاتھ پھيرنا بھي بند كرديا تھا۔
وه ايك وضع دار اور ثقه
خاندان ميں جنم لينے والا ايك بڑا هي خود دار آدمي تھا۔ اس كي جواني كا ايك بهت
بڑا حِصّه خوش حالي ميں گُزرا تھا۔ اس لئے افلاس اب اُسے سانپ كي طرح ڈس رها
تھا۔ بيو پار كم هورها تھا اور تماشه زياده۔
اُس كي نگاهوں كے سامنے
پچيس برس پهلے كے واقعات سينما سكوپ كي طرح ايك ايك كركے سامنے آنے لگے۔ وه ايك
بهت بڑي اور خوبصورت فروٹ كي دُكان پر بيٹھا هے۔ سيب، انار، كيلے، موسمي، ناشپاتي،
سنگترے، آم، اننّاس اور مالٹا كے ڈھير سے دُكان سجي هوئي هے۔ رات ميں ٹيوب لائٹ
كي روشني ميں پھلوں كے تازه به تازه چهروں كے ساتھ اس كي دُكان كے سامنے كھڑي هوي هيں
جنھيں وه ايك شانِ بے نيازي سے ميوه فروخت كر رها هے اور پھر رات كے دس بجنے پر وه
اپني دُكان كے كواڑ خود بند كر رها هے۔ اُس كے هاتھ ميں نوٹوں كا ايك بنڈل هے
جنھيں احتياط سے گِن كر وه پاكٹ ميں ركھ رها هے۔
٫٫ يه آدمي واقعي تماشه بن
گيا هے۔ جب دُكان چل هي نهيں رهي هے تو يه گھر كيوں نهيں بيٹھ جاتا٬٬؟
ايك دن وه واقعي گھر بيٹھ
گيا۔ اس لئے نهيں كه كسي نے اُسے گھر بيٹھ جانے كا مشوره ديا تھا۔ اس لئے
كه وه آهسته آهسته صحت كي نعمت سے محروم هوتا جارها تھا۔ اور صحت كے ساتھ ساتھ
اس كي آنكھوں كي جوت بھي دھيرے دھيرے بُجھتي جارهي تھي۔
اب اس كي آنكھوں پر چڑھے
هوے موٹے شيشوں والے چشمے سے اس كي خالي خالي آنكھيں ايك خواب نُما دھند لكے كا طواف
كرتي تھيں۔
اور پھر يه خالي خالي
بے رَس آنكھيں اس وقت زياده بے چين دكھائي ديتيں
جب اس كا كوئي قريبي عزيز اس كي دُكان پر بغير رُكے چُپكے سے آگے بڑھ جاتا
اور وه كرب انگيز آواز
ميں مُنه هي مُنه ميں بڑبڑا تا۔
٫٫ يه لوگ دبے پاو ں كهاں
جارهے هيں ، يه مجھ سے گھبراتے كيوں هيں ميں نے ان كا كيا بگاڑا هے۔ ميں نے كبھي
كسي كے آگے دستِ سوال دراز نهيںكيا۔ مگر يه خوف اور يه بے مُروّتي كا بهيمانه
مظاهره آخر يه سب كيا هے٬٬؟
اب تم سو بھي جاو
۔ وه صبح شائد اب نه آئے گي جس كي آس
ميں تم نے راتوں كي نيند حرام كر ركھي هے۔ صبح كے بعد شام ، شام كے بعد صبح اور
كڑي دُھوپ كے سخت كُھردرے هاتھوں ميں جكڑا هُوا مصلُوب انسان٬٬
٫٫ تم كون هو ؟ كيا بك رهے
هو؟٬٬
٫٫ ميں سچّائي كے چهرے سے
نقاب اُلٹ رها هوں۔ گھبراو نهيں ميں
تمهارا دوست هوں٬٬۔
٫٫ ميرا كوئي دوست نهيں هے،
ميرا كوئي رفيق نهيں هے۔٬٬
نمائش كے تفريحي اسٹال
كا مينجر دليپ رائے تم سے مِلنے آئے گا كيونكه شهر ميں نمائِش ختم هونے والي هے۔
اور ميں نے يه سودا تم سے پُوچھے بغير طَئے كرليا هے٬٬
٫٫ سودا طَے كرليا هے٬٬؟
٫٫ هاں زندگي خود ايك سودا هے۔ جب تك اُس كے دام
لگتے هيں ، اُس كي قدر باقي رهتي هے۔
تمهيں اس عذاب سے نجات دلانے كے لئے هي ميں نے يه سودا طئے كيا هے۔
مينجر تمهيں ايك دن نمائش
ميں ركھنا چاهتا هے اور يه داخله ٹكٹ كے ذريعه هوگا۔ دوهزار اتني معمولي رقم
نهيں كه تم اُسے ٹھكرادو۔ اب تيار هوجاو
، شائد وه آتا هي هوگا۔٬٬
اس كي آنكھوں ميں گرد
اندھيرا چھاگيا۔ اُسے يوں لگا جيسے وه اچانك انسانوں كي بستي سے كٹ كر بھيڑوں
كي ريوڑ ميں جاپھنسا هو اور اپنے نُكيلے سينگ سے اپنے هي ساتھيوں كو بے طرح مار رها
هو۔
٫٫ بس ايك هي شو كي بات هے،
وه تمهيں كار ميں لے جائے گا اور كار هي ميں گھر لاكر چھوڑدے گا۔٬٬
پھر اس كے كانوں ميں مينجر
كي آواز گُونجي۔
وه يكبارگي چيخ اُٹھا :
نهيں نهيں يه سودا مجھے منظور نهيں ، يه سينگ لاقيمت هے يه سينگ ميري زندگي هے٬٬
٫٫ چلے جاو يهاں سے ٬٬
يه كهه كر وه غصّے ميں
پيچ وتاب كھاتا هوا اپنے گھر ميں داخل هوا۔ بغلي كمرے كے سامنے پُراني خسته الماري
كا شيشيه چمك رها تھا۔ اس نے شيشے ميں اپنے چهرے كو ديكھا تو اُس كا مُنه لٹك
كر ره گيا۔ اُسے يُوں لگا جيسے سر
پر نمودار هونے والا وه سينگ آج اچانك كهيں غائب هو گيا۔۔۔۔
دُشمن
٫٫ ميں بڑي دير تك تمهارا انتظار كرتا رها۔٬٬
٫٫ ميرا انتظار٬٬؟
٫٫ هاں تمهارا انتظار٬٬۔
٫٫ كيا ميں اتنا خوش نصيب
هوں كه كوئي ميرا انتظار بھي كر سكتا هے۔٬٬
٫٫ هاں ميں تمهارا انتظار
كيا تھا۔ مگر٬٬۔۔۔
٫٫ مگر كيا
٬٬؟
٫٫ يهي كه تم نهيں آئے٬٬۔
٫٫ ميں نے تم سے كها تھا
شام ڈھلے ميں تمهار اانتظار كروںگا اور تم نے حامي بھري تھي٬٬
٫٫ مجھے تو كچھ ياد نهيں
هے٬٬۔
٫٫ حيرت هے كل شام كي بات تم بھُول جاتے هو ، اور ميں نے
برسوں سے تمهيں اپنے ذهن ميں چِمٹائے ركھا هے٬٬۔
٫٫ يه ميرا فعل نهيں هے٬٬۔
٫٫ كيا تم اس كے ذمه دار
نهيں هو٬٬۔
ميں نے آج تك كسي كي ذمه
داري قبول نهيں كي هے اور نه كسي نے مجھ پر ذمه دارياں عائد كي هيں
٬٬۔
٫٫ تم جھُوٹ بكتے هو۔
ميں كوئي لگ بھگ بيس برس سے دوستي كے اس پودے كي آبياري كر رها هوں۔ تمهيںياد
هے نا جب تم چھٹي كلاس ميں ميرے هم جماعت تھے تو ميں نے تمهيں كتابيں دي تھيں۔
اس وقت تم ميں اتني سكت بھي نه تھي كه تم كتابوں كي خريدي كا بار اُٹھا سكو۔
جمشيد جي كا وه خوبصورت
باغ كيا تمهيں ياد نهيں جهاں تم ميرے ساتھ روز كھيلا كرتے تھے۔ ميرے هاں سے پيسے
لے كر تم ريشماں كو چوكليٹ كِھلا يا كرتے تھے اور كهتے تھے كه يه مارٹن كے چوكليٹ ميں
نے عابڈس سے خريدے هيں۔٬٬
٫٫ يه سب بكواس هے۔
ميرا كوئي دوست نهيں هے ، تم شائد اُچكّے هو جو ميرا پيچھا كر رهے هو٬٬۔
٫٫ ميں نے بچپن كو بهت پيچھے
چھوڑ ديا هے۔ جواني كي كئي خوبصُورت راتيں ان ٹيڑھي ميڑھي راهوں پر چلتے چلتے
چُپ چاپ مرگيئں۔ نه كسي نے ميرا انتظار كيا اور نه آواز هي دي۔ ميں مُدت
سے مسلسل چل رها هوں ، تنها تنها نه كوئي يار اور نه رفيق٬٬۔
٫٫ ميں جو قدم قدم پر تمهارے
ساتھ هوں۔٬٬
تم جھوٹ اور اندھيرے كے
بطن سے پيدا هونے والے ايك خبيث آدمي هو۔٬٬
٫٫ كيا تم يه بات بھول رهے
هو كو چُھوٹ هي كے بطن سے سچ نے جنم ليا هے٬٬۔
٫٫ مجھے بحث سے نفرت هے ميں خاموشي چاهتا هوں۔٬٬
٫٫ مجھے بھي خاموشي پسند
هے ليكن يه ايك حقيقت هے كه تم بالكل هي بدل چكے هو ميں نے تمهارا وه راز ابھي تك سينه ميں دفن كر
ركھا هے ۔ وه افشا هوجائے تو شائد تم جيل كي آهني سلاخوں كے پيچھے چلے جاو گے٬٬۔
٫٫ راز كونسا راز؟ميري
زندگي ميں تو كوئي راز نهيںكوئي بھيد بھاو
نهيں كيا تم پاگل هوگئے هو؟٬٬
٫٫ هاں بيس برس كي رفاقت
ايك آدمي كو پاگل بنادينے كے لئے كافي هے،
عمر كے بيسيوں برس كا زهر ميں نے پي ليا هے٬٬۔
٫٫ ميري عمر خود بيس برس
هے كيا تم پيدائش هي سے ميرا تعاقب كر رهے هو٬٬؟
٫٫ تعجب نه كرو يه ايك حقيقت
هے٬٬۔
٫٫ حقيقت ايك بے معني لفظ
هے۔ ميرا هر قدم حال كے چوكھٹے پر پڑتا هے اور ضرب اتفاقاً مجھے هي لگتي هے۔٬٬
٫٫ هاں ميں اَدھ مواسا هوگيا
هوں۔٬٬
٫٫ تو پھر تم ميرا پيچھا
كيوں نهيں چھوڑ تے٬٬؟
٫٫ يهي تو مشكل هے۔٬٬
٫٫ تم بڑے بور اور جھكّي
آدمي هو، خواه مخواه مجھے دِق كر رهے هو۔ ميرے راستے سے هٹ جاو
۔٬٬
٫٫ راسته ، منزل ۔
كِس قدر سُهانے لفظ هيں يه۔ ليكن اندر سے كتنے تلخ اور كھوكھلے٬٬
٫٫ كيا شاعري كر رهے هو ،
مجھے شاعري سے نفرت هے٬٬۔
٫٫ تمهيں كِس چيز سے نفرت
نهيں هے۔ تمهيں اپنے باپ سے بھي نفرت تھي۔٬٬
٫٫ مجھے باپ سے نفرت تھي؟
كيا بك رهے هو٬٬؟
٫٫ ٹھيك هي تو كهه رها هوں
، مگر وه تھا هي اس قابل ٬٬
٫٫ تمهارا مطلب هے ميرا باپ
ايك بيهوده ، آواره ، ناكاره اور بد چلن آدمي تھا۔٬٬
٫٫ هاں ، اسي لئے تم نے ايك
رات اس كا گلا گھونٹ ديا تھا۔٬٬
٫٫ ميں نے ان كا گلا گھونٹا
تھا۔٬٬
٫٫ هاں تم نے۔۔۔۔٬٬
٫٫ مگر كيوں؟٬٬
٫٫ كيونكه وه بد چلن تھا۔
اس نے تمهارے دوست كي بهن كي عزّت لُوٹ لي تھي۔ جب لڑكي رو رو كر اپني داستان
سُنا چكي تو تم نے چپكے سے سوتے ميں اپنے باپ كا گلا گھونٹ ديا۔ اور تم گھر سے
نكل بھاگے۔٬٬
٫٫ تم اوّل درجے كے جھُوٹے
هو۔ مَن گھڑت قصّے سُنا كر تم يه چاهتے هو كه ميں زير هوجاو ں ، ايسا كبھي نه
هوگا۔٬٬
٫٫ هاں يه بات بھي سُن لو
، تم آج خود كشي كے ارادے سے باهر نكلے هو ، ميں اگر چاهوں تو تمهيں موت كے مُنه سے
بچا بھي سكتا هوں ليكن ميں ايسا نهيں كروںگا
كيوں كه تم بهت پهلے مرچكے هو٬٬۔
ميں سڑك كے كنارے چُپ
چاپ كھڑا هوں۔ ميرا خود ساخته دوست بھي ميرے پاس هي كھڑا هے جيسے پُوچھ رها هو ، اب گھِگھي كيوں بندھ گئي هے
، زبان پر تالے كيوں پڑگئے هيں ، جھُوٹے تم هو يا ميں ٬٬۔
شام هوچكي هے۔سڑك
پر موٹروں كا ياك جال سا بچھ گيا هے ، دُكانوں كي پيشانيوں پر برقي قمقمے جگمگارهے
هيں، ليكن فضا ميں بڑي بے كيفي هے اور گھُٹن هے ، لگتا هے جيسے هَوا چلتے چلتے اچانك
رُك گئي هو ۔۔۔ اچانك ميري آنكھوں كے سامنے اندھيرا چھا گيا هے۔
ميرا خود ساخته دوست دبے پاو ں ميرے ساتھ ساتھ چل رها هے۔ وه ميري طرح گھبرا
يا گھبرايا سا لگ رها هے ، جيسے اندھيرے نے اُسے بھي نِگل ليا هو۔
اب ميں تيزي سے شاهراه
پار كر كے ايك تنگ و تاريك گلي ميں داخل هو چكا هوں۔ گھبراهٹ مجھ پر طاري هے۔
مجھے اپنے قدموں كي چاپ سے زياده اس كے قدموں كي چاپ سے خوف لگ رها هے۔ ميں چيخنا
چاهتا هوں ليكن آواز حلق هي ميں پھنس كر ره جاتي هے۔
ميں بھاگے جارها هوں۔
محض اس اُميد پر كه اپنے خود ساخته دوست كو شكست دوں۔ ليكن وه تو كهتا هے كه
ميرا ازلي دوست هے۔ ميں اُسے اپنے باپ كي طرح قتل كردوںگا۔ تو كيا واقعي
ميں نے اپنے باپ كا خون كيا هے۔ يه بات ميرے ذهن ميں كيوں كر بيٹھ گئي۔
ميں قاتل نهيں هوں ميں قاتل نهيں هوں ميں چيخ رها هوں۔ ليكن وه ميرے چيخوں
سے بے نياز اب بھي ميرا پيچھا كر رها هے۔ مجھے اس كے قدموں كي چاپ صاف سُنائي
دے رهي هے۔
اس وقت ميرے سامنے ايك
اُونچي ديوار هے ، جس پر نه جانے كس طاقت كے زيرِ اثر ميں چڑھ گيا هوں۔ نيچے
پتھريلي سڑك دُور تك پھيلتي چلي گئي هے۔ مجھے نه اب چھلانگ لگانے كي همّت هے
اور نه نيچے اُترنے كي
اچانك مجھے احساس هوتا
هے ،
جيسے اس نے مجھے دھكّا
دے كر نيچے دھكيل ديا هے۔ ميں خُون ميں ، لت پت سڑك پر نيم بيهوشي كے عالم ميں
پڑا هوں۔
ميں مندي مندي آنكھوں
سے اپنے خُون آلود جسم كو ٹٹول رها هوں۔ ميرے قريب ميرا خود ساخته دوست مُسكرا
تا كھڑا هے۔ اس كے جسم سے بھي خُون رِس رها هے۔
وه كهه رها هے:
٫٫ ميں نے تمهيں مرنے سے بچاليا
هے ، اس لئے كه تم زندگي جيسے عذاب كا مزا چكھ سكو٬٬۔
ميں چيخنا چاهتا هوں
ليكن
!آواز حلق ميں گھُٹ كر
ره جاتي هے
***
وه لڑكي
٫٫ كل يهاں جو لڑكي آئي تھي ، اس كي شادي اپنے گھر هي هوگي۔٬٬
ميرا ذهن كهيں اور تھا
، ميں نے بے خيالي ميں كها: ٫٫
يقينا سمجھدار لڑكي هے جو اس گھر ميں شادي كرنا چاهتي هے٬٬۔
٫٫ كيا كها آپ نے؟٬٬
جب ميري بيوي نے تِيكھے لهجے ميں سوال كيا تو ميں چونك پڑا۔ ٫٫ ميرا مطلب يه كه وه لڑكي حَد درجه تيز هے حد هوگئي وه اپني شادي كي تياري خود كر رهي هے٬٬
٫٫ اجي يهي نهيں آپ سُن كر حيرت كريںگے ، اُسے دُلهن كے بيٹھنے
كيلئے بڑي چوكي چاهيئے، وه اس كے هاں نهيں هے۔٬٬
٫٫ تو پھر كيا كها تم نے؟٬٬
٫٫ ميں نے كها شوق سے لے
جائيے۔٬٬
٫٫ پھر وه چوكي لينے نهيں
آئي ۔٬٬
٫٫ آئي تو تھي مگر اُس نے
ايك اور مطالبه كيا هے۔٬٬
٫٫ وه كيا ؟٬٬
٫٫ وه عارضي طور پر همارا
ڈرائنگ رُوم بھي چاهتي هے۔٬٬
٫٫ عاضي طور سے كيا مُراد
؟٬٬
٫٫ يهي چوبيس گھنٹوں كے لئے۔٬٬
٫٫ مانو اگر وه مستقلاً يهاں
ٹھهر جائے تو كيا هوگا؟٬٬
٫٫ ايسا نهيں هوسكتا۔٬٬
٫٫ اگر ايسا هو تو تم كيا
كرو گي؟٬٬
٫٫ ميں يا آپ؟٬٬
٫٫ تم ٬٬
٫٫ ميں اُس كي چُٹيا پكڑ
كر باهر ڈھكيل دوںگي۔٬٬
٫٫ يه تو بڑي نا زيبا حركت
هوگي۔٬٬
٫٫ تو كيا ميں اُسے اپنے
سَر پر بٹھالوں؟٬٬
٫٫ يه تو ميں نهيں كهتا،
مگر لڑكي كو يه احساس نه هونے پائے كه هم اُس كي مسرّتوں ميں شامل نهيں هيں۔٬٬
٫٫ اس كي خوشي ميں بھلا شامل
هونے والے هم كون؟٬٬
٫٫ مگر تم نے چوكي دينے كي
سفارش جو كي هے ، كيا اس كي تَه ميں خلوص نهيں هے ، مجھے ايسي لڑكياں اچھي لگتي هيں
جو اپنے شوهر كا انتخاب خود كرتي هيں۔٬٬
٫٫ چُپ هوجايئے وه سامنے
سے آتي هوئي نظر آرهي هے۔٬٬
٫٫ مين نے كھڑكي ميں سے جھانك
كر ديكھا۔ وه دُور سے فراق كي رباعي
كي طرح خوبصورت لگ رهي تھي۔ مگر يه كيا ميں نے اُسے پوري طرح ديكھا بھي نهيں
، وه اچانك پلٹ گئي۔
كهيں ايسا تو نهيں وه
مجھے جانتي هو ، ليكن ان باتوں سے شادي كا كيا تعلق؟
وه لڑكي اچانك كيوں واپس
چلي گئي ، كيا كھڑكي ميں سے اُس نے مجھے ديكھ ليا تھا اگر ديكھ بھي ليا هو تو كيا فرق پڑ سكتا هے ايك ايسي لڑكي جو اپنے شوهر كا انتخاب خود
كرتي هو اور شادي كي تياري بھي ، بھلا ايسي لڑكي
،كيا زنگ خورده خيالات هيں ميرے بھي۔ نهيں نهيں ايسا نهيں سوچنا چاهيئے۔ هوسكتا هے اُسے
كوئي اهم كام ياد آگيا هو ، شادي تو اس كي پرسوں هوگي ، دو دن
٨٤ گھنٹے بعد
كيا وه اس بھري بھري دُنيا
ميں اكيلي اور تنها هے؟ ماں باپ ، بھائي بهن
دوست احباب كوئي نهيں ايسا بھي هوتا هے تاكه آدمي بھري محفل ميں
بھي كبھي كبھي خود كو تنها محسوس كرتا هے اور شائد وه لڑكي بھي
آخر وه چلي گئي، ميں نے اپني بيوي سے كها ، جو نه جانے كب سے ميرے
پاس هي كھڑي تھي۔
اُس نے ميري بات كا اطمينان
نه كرتے هوے كھڑكي ميں سے جھانك كر ديكھا۔ واقعي سڑك خالي تھي۔ دو ننھے
مُنّے بچّے هاتھ ميں گيس كا غُباره تھامے خوش خوش سڑك پار كر رهے تھے۔ مگر شائد
اُسے نه آنا تھا۔
دوسرے دن صبح ميں باهر
نِكلا تو موسم خراب تھا۔ تھوڑي دير خاموشي
طاري رهي۔ پھر آهسته آهسته زبانوں پر پڑے تالے كھُلنے لگے۔
ايك نو جوان جو ٹيري وول
كي نِيلي پتلون اور بُش شرٹ پَهنے هوے تھا، بڑي معصوميت سے بولا:
٫٫ ذرا مجھے گھر پهنچادو
بھائي۔٬٬
قريب كھڑے هوئے ايك آدمي
نے كها: ٫٫ يار هم تو صرف لڑكيوں
هي كو پهنچاتے هيں٬٬
٫٫ كوئي مجھے گھر پهنچا دو
بھائي ميں راسته بھٹك گيا هوں۔٬٬
٫٫ راسته تو هم بھي بھٹك
گئے هيں يار ، راسته بھٹكنا هوش مندي كي علامت هے۔٬٬
٫٫ كوئي اجنبي معلوم هوتا
هے بے چاره۔٬٬
٫٫ اجنبي تو هم بھي هيں۔٬٬
پھر اچانك بارش ختم هوگئي
اور ديكھتے ديكھتے چھجے كي ويراني ميں گرد اُڑنے لگي۔
جب ميں گھر پهنچا تو ميري
بيوي نے تحيّر آميز لهجے ميں كها:
٫٫ وه لڑكي آئي تھي اور
كهه گئي هے كه عقد ميں دو گواهوں كي ضرورت پڑے گي۔ آپ كا بھي اس سلسله ميں اس
نے نام ليا٬٬۔
٫٫ ميرا نام كيا وه مجھے جانتي هے٬٬؟
٫٫ هاں اچھي طرح۔٬٬
٫٫ كيا كهه رهي هو؟٬٬
٫٫ ٹھيك هي تو كهه رهي هوں۔٬٬
٫٫ كهيں وه كڑكي هاجره تو
نهيں؟٬٬
٫٫ يه كون هے؟٬٬