خاكے






عوض سعيد



اُردو اكيڈمي جده

﴿سعودي عرب﴾

جمله حقوق بحق ناشر محفوظ


دوسرا ايڈيشن

جون

 ÷٢٠٠٦٦÷ £ئ£


 سرِورق: مغني تبسم

 اشاعت: اُردو اكيڈمي جده

 كتابت: سيدعبد الشكور قادري عمر

 مصحح: سيد جمال الله قادري

 ناشر: ڈاكٹر اوصاف سعيد












 قوي مرحوم كے نا ŸمŸ


 عوض سعيد خليل الرحمن اعظمي Õ٥Õ

 مخدوم محي الدين Ø٨Ø

 ابراهيم جليس Ò٠٠Ò

 خورشيد احمد جامي Ò٣٣Ò

 عالَم خوندميري Ò٩٩Ò

 سليمان اريب Ó٩٩Ó

 قاضي سليم Õ٠٠Õ

 اقبال متين Õ٧٧Õ

 مغني تبسّم Ö٥٥Ö

 جيلاني بانو ×٦٦×

 عزيز قيسي Ø١١Ø

 وحيد اختر Ø٤٤Ø

 شهر يار Ù٤٤Ù

 راشد آذر Ñ٠٢٢Ñ

 نعيم زبيري Ñ١٠٠Ñ

 مصحف اقبال توصيفي Ñ١٧٧Ñ

 حبيب حيدرآبادي Ñ٢٣٣Ñ

 انور رشيد Ñ٣٣٣Ñ

 نرمل جي Ñ٤٠٠Ñ

پيشِ لفظ

 ميرے والدگرامي عوض سعيد ايك منفرد افسانه نگار شاعر اور خاكه نويس تھے ۔ وه ان چند افسانه نگاروں ميں سے تھے جنهوں نے اردو ميں مختصر كهاني كي سطح كو بلند كيا ۔

 عوض سعيد كا فن جس بات سے سروكار ركھتا هے وه هے انسان كي دنياوي پوزيشن اور اس كے عمل اور ردّعمل كو اپنے زاويه سے ديكھنا ۔ يهي ان كے تحريري اسلوب اور هيئت كا جديد انداز هے تجربه هے ۔

 والد ماجد مرحوم كي مختلف تصنيفات ميں سے ٫٫ خاكے٬٬ ايك منفرد نوعيت كي كتاب هے جس ميں اردو شعر و ادب كي چند عظيم شخصيات كے بارے ميں بڑے هي دلچسپ انداز كي تحرير ملتي هے ۔

 مجھے نهايت مسرّت هو رهي هے كه اپنے والد مرحوم كي تصانيف كي دوباره اشاعت عمل ميں آرهي هے ۔ اس كي اشاعت كا سهرا ميرے ماموں جناب مغني تبسّم كے سر جاتا هے جن كا شمار اس وقت اردو كے قديم اور عظيم ناقدين اور شعرائ ميں كيا جاتا هے ۔ جناب مغني تبسّم ميرے والد كے برادر نسبتي سے زياده ان كے سچّے دوست او ر ديرينه همدم ورفيق كار رهے هيں ۔ پيشِِ نظر كتاب ميں خود جناب مغني تبسّم پر لكھا هوا والد صاحب كا خاكه ان دونوں كے درميان گهرے دوستانه مراسم كا غمّّازهے ۔

 ميں اردو اكيڈمي جده كا ممنون و مشكور هوں كه اس كتاب كي تزئين وترتيب اور كمپيوٹر كے ذريعه كتابت و طباعت ميں معاونت كي ۔ اس كتاب كي دوباره اشاعت كا مقصد صرف والد مرحوم كي تصنيفات كو زنده ركھنا اور انهيں خراج عقيدت پيش كرنا هے ۔ لهذا اس كتاب كے ذريعه هونے والي آمدني كو ميں اردو اكيڈمي جده كي جانب سے سركاري مدارس كے غريب و نادار طلبه ميں

٫٫ تقسيمِ يونيفارم ٬٬ كي اسكيم كے لئے وقف كرتا هوں ۔

 مجھے اميد هے كه قارئين كے لئے يه كتاب نهايت دلچسپ ثابت هوگي ۔ اوصاف سعيد


خليل الرحمن اعظمي



عوض سعيد


 عوض سعيد نه تو ميرا بچپن كا لنگوٹيا يار هے اور نه آغاز شباب كي سرمستيوں كا ساتھي ليكن آج سے كئي سال پهلے جب ميں نے ٫٫ادب لطيف ميں٬٬ اس كا افسانه ٫٫بيدل صاحب٬٬ پڑھا تو ايسا معلوم هوا كه يه شخص اپنے هي قبيله كا هے۔ مجھے اپني اس كمزوري كا هميشه سے اعتراف رها هے كه ميں اچھے سے اچھا افسانه پڑھ كر عام طور پر بھول جاتا هوں۔ پھر اگر كوئي اس كا پلاٹ بتانے لگے اس كے واقعات كو دوهرائے اور اسكے آغاز اور نقطه عروج پر روشني ڈالے تو مجھے ايسا محسوس هوتا كه ميں يه كهاني پهلي بار سن رها هوں۔ ليكن ميري اس كمزوري پر بعض ايسي كهانياں قابو حاصل كرليتي هيں۔ جن ميں لكھنے والے نے كسي ايسے كردار كي تخليق كي هو جس سے بے اختيار ملنے كو جي چاهنے لگے۔ نه جانے كيوں مجھے ايسا محسوس هونے لگتا هے جيسے يه كردار ميرے آس پاس هي كهيں موجود هے اور كسي نه كسي دن اس سے اچانك ملاقات هوجائے گي اور يه ملاقات دوستي ميں تبديل هوجائے گي۔ نئي پود كے افسانه نگاروں ميں عوض كي اس خصوصيت نے مجھے اس كي طرف كھينچا اور ميں اس كے تخليق كئے هوئے كرداروں كے ساتھ خود اس كي شخصيت كے تصوّر ميں مگن رهنے لگا۔ ايك دن اچانك مجھے معلوم هوا كه وه حيدرآباد چھوڑ كر دهلي آگيا هے اور اب مستقل يهيں قيام كرے گاليكن اس عجيب و غريب شخص نے مجھ سے ملنے كا موقع نكالا بھي تو كب يعني جب وه دهلي ميں كچھ عرصه گزار كر اور وهاں كي زندگي سے اكتا كر هميشه كے ليے دكن كي طرف لوٹ رها تھا۔ پهلي نظر ميں اسے ديكھ كر مجھے كچھ دھچكا سا لگا۔ يوں تو اس كے خدوخال كافي تيكھے اور جاذب نظر هيں اور اسے ديكھ كر تھوڑي دير كے ليے عظمت الله خان كي دلاديز نظم ٫٫آندھرا ديش كي سندرپتري٬٬ كے بعض مصرعے ياد آنے لگتے هيں ليكن وه كچھ ايسا گم سم اور خاموش سا آدمي هے كه بالكل مٹي كا مادھو معلوم هوتا هے يا ايك ايسے سيّاح كي مانند جو كسي اجنبي ديس ميں پهنچ گيا هو جهاں قدم قدم پر زبانِ يار من تركي كا احساس اسے ستا تا هو۔ بهر حال اس سوئے هوے آدمي كو جگانے ميں مجھے خاصي دير لگي۔ ليكن جب چوبيس گھنٹے گزرجانے كے بعد وه كچھ مانوس سا هوگيا تو اب اس كي خاموشي بھي خوبصورت معلوم هونے لگي۔

 عوض كو قريب سے ديكھنے كے بعد ميرا كچھ ايسا اندازه هے كه اس كے افسانے عام افسانه نگاروں كي طرح اس كے تجربات و مشاهدات كا عكس هي نهيں هيں بلكه اس كي شخصيت كي تكميل بھي كرتے هيں۔ عوض سعيد نام كا جو آدمي هے وه ايك ٫٫ادھوري شخصيت٬٬ هے۔ اس سے پورے طور پر ملنے كے ليے اس كے تخليق كئے هوئے كرداروں كے ساتھ بسر كرنا هوگا۔ چنانچه اس كے افسانه ٫٫خون صدهزار انجم٬٬ كا بهاري ٫٫پهلي تنخواه كا عبدالصمد كمپونڈر٫٫نيكي كا بھوت٬٬ كا وه كردار جس كانام اس نے حرامي ركھا هے ٫٫ريت كے محل٬٬ كا بدصورت كارٹونسٹ، ٫٫كوئله جلبھٹي و راكھ٬٬ كا ٹيوٹر اور ٫٫كفاره٬٬ كاٹرومين يه سب خود اپني جگه پر ايك مستقل كردار اور كسي نه كسي سماجي قدر كے نمائنده هيں۔ ليكن اس كے باوجود عوض سعيد نام كے افسانه نگار كي شخصيت كا پس منظر بھي هيں۔

 اُردو كے پرانے اور نئي نسل كے بهت سے افسانه نگاروں كي كهانياں ميرے زيرِ مطالعه رهي هيں۔ مجھے كچھ ايسا لگتا هے كهه همارے بعض فنكار افسانه نگار سے زياده ٫٫منشي٬٬ اور مضمون نگار٬٬ هيں۔ كهانيوں سے كاٹ كر كهاني بنانا، واقعات كي كھتولي تيار كرنا، اهم سياسي اور سماجي مسائل پر واعظانه قسم كے مكالمے يا تقريريں اپنے افسانوي اشخاص كي زبان سے ادا كرنا، جنسي زندگي كے بارے ميں ممنوعه لٹريچر سے حاصل كي هوئي معلومات پيش كر كے اس پر كچے ذهن كے نوجوانوں كي طرح للچانا يه سب ايسي باتيں هيں جن كي وجه سے رسالوں ميں چھپنے والے افسانوں كا مطالعه ميرے ليے هميشه ايك آزمائش كا مرحله رها هے۔ كم هي ايسي كهانياں ملتي هيں جنھيں شروع كردينے كے بعد ختم كرنے كو جي چاهے اور جب ختم هوجائيں تو اس افسانه نگار كي دوسري كهاني كا انتظار شروع هوجائے۔ ايسے افسانه نگاروں كي ٫٫ذات٬٬ ممكن هے قريب سے ديكھنے پر دل چسپ نظر آئے ليكن ان كي تحريريں پڑھ كر هميں كسي بھي ٫٫شخصيت٬٬ كا سراغ نهيں ملتا اور نه هي انھيں ڈھونڈنے كو جي چاهتا هے۔ عوض ايك ايسا افسانه نگار هے جس كي كهانياں پڑھنے والوں كو اسے ڈھونڈنے پر اكساتي هيں اور جب ملنے پر بھي اس سے ملاقات نا مكمل ره جاتي هے تو پھر اس كي تحريروں ميں اسے دوباره تلاش كرنے كو جي چاهتاهے۔
















مخدوم محي الدّين


 يه غالباً ٥٢٢ ئ يا ٥٣٣ ئ كے آس پاس كي بات هوگي ميں اور شاذ روز كي طرح گپيں هانكتے هوئے رائل هوٹل سے اپنے گھر لوٹ رهے تھے كه اچانك هماري نگاهيں ايك دُبلے پتلے لمبے لمبے بالوں والے آدمي كے چهرے پر آكر جم سي گئيں ó۔ó

 اس كے اردگردو چار آدمي اور بھي تھے۔ پته نهيں هميں يه احساس كيوں هوا كه ان چار آدميوں ميں سے كوئي ايك مخدوم ضرور هے۔ اس وقت تك هم نے مخدوم كي تصوير ضرور ديكھي تھي ليكن ان كي ذات همارے ليے بهر حال ايك ناياب سي تھي پھر ايك بار ذهن كي سليٹ پر يهي ااحساس اُجاگر هوا كه اس ٹولي ميں سب سے اچھا ناك نقشه ركھنے والا آدمي هي ضرور مخدوم هے۔

 شاذ نے كها چهره ديكھ كر خوش هونے سے زياده بهتر يهي هے كه آگے بڑھ كر اُن سے هاتھ ملاليں اور كهيں كه آپ كے هزاروں مداحوں ميں هم بھي ايك هيں۔ هم نے آگے بڑھ كر فرط احترام سے جس آدمي سے هاتھ ملايا وه هاتھ مخدوم كے نه تھے سردار سليم كے تھے جسے غلط فهمي ميں هم دونوں نے مخدوم سمجھ ليا تھا پھر راسته بھر شاذ مجھ پر كڑھتا هي رها كه تم نے كس آدمي سے مجھے ملواديايه علحده بات هے كه آگے چل كر يهي سردار سليم همارا قريبي يار بن گيا ليكن مخدوم سے ملنے كا كوئي موقع هاتھ نه آيا۔ جب اريب اور سري نواس لاهوٹي سے جان پهچان بڑھي تو ميں نے لاهوٹي سے كها كبھي همارا مخدوم سے تعارف كروادو۔ ايك دن يه تمنا بھي لاهوٹي نے پوري كردي۔

 ٫٫اِن سے ملو نوجوان افسانه نگار عوض سعيد، ايك نرم اور ملائم هاتھ آگے بڑھا۔ مجھے لگا جيسے تازه هوا كا ايك خوشگوار جھونكا ميرے اردگرد كهيں لهرارها هو۔

 ميں پهلي هي ملاقات ميں ان كي شخصيت كے طلسم كا اسير هوكر ره گيا۔ پھر ميں گھر آنے كي بجائے اريب كي تلاش ميں نكل پڑا تا كه ان كو يه خوشخبري سناسكوں كه ميں نے بھي مخدوم كے درشن كيئے هيں۔

 پھر جب اريب ملے تو ميں نے كچھ ڈرامائي رنگ ديتے هوئے مخدوم سے ملنے كي ساري روداد سنادي۔ اور چلتے چلتے يه بھي كها كه جو كام آپ سے نه هوسكا وه لاهوٹي نے كر دكھايا۔ ٫٫بھئي تم چاهو تو هم تمهيں بنّے بھائي سے بھي ملواديں۔ لوئي آرگاں پبلو نروداتو اپنے يار هي هيں۔ اسي طرح ملتے رهو تو شايد ان سے بھي ملاديں۔٬٬ ميں نے اريب كي شرارت كو بھانپتے هوے بڑي سادگي سے كها۔ ذرا ديكھ ليجيے، كهيں يه لوگ آس پاس هي نه هوں۔٬٬

 اريب هنس پڑے اور آگے نكل گئے۔ ميں نے گھر پهنچ كر مخدوم سے ملاقات كا ايك اور خاكه ذهن ميں بناليا ليكن مدتوں يه بات سلام دعا سے آگے نه بڑھي اور ميں دلي چلاگيا۔

 يه غالباً ÷١٩٥٧٧÷ئ كي بات هوگي۔ دلي ميں فيض كے ساتھ مخدوم كي آمد كے بھي بڑے چرچے تھے۔ ان دنوں دهلي ميں ايشين كانفرنس كي تيارياں بڑے زوروں پر تھيں۔ ڈسمبر كا مهينه پھر دلي كي بے پناه سردي ليكن اس كے باوجود هر باذوق كے قدم وگيان بھون هي كي طرف بڑھ رهے تھے ó۔ó

 ميرے ساتھ جامعه ملّيه كے چند طالب علم تھے جن كي خواهش تھي كه وه اپنے محبوب شاعر كي بارگاه ميں حاضري ديں اور موقع ملے تو اپنے گھرلے اڑيں۔ اِن دنوں مخدوم سے خود ميري واجبي واجبي سي ملاقات تھي چنانچه وهي هوا جس كا مجھے خدشه تھا۔ مشاعرے كي ريل پيل ميں اس رات ميري ملاقات اُن سے كچھ اتني سرسري رهي كه ميں ان كے مدّاحوں كے ليے صرف آٹو گراف هي لے سكا۔ فيض جب ڈائس پر آئے تو اپنے وقت كے ايك مشهور ترقي پسند شاعر نياز حيدر نے عقيدت مندي كے جذبے سے سرشار آگے بڑھ كر ان كے پير چُھوليئے۔ فيض كے شگفته چهرے پر اچانك سنجيدگي هويداهوگئي اور سامعين نے پر جوش انداز ميں تالياں بجانا شروع كرديں اور فيض صاحب كي بيگم ايليس نے چھوٹے بچے كي طرح هنسنا شروع كرديا۔

 جب مشاعره شروع هوا تو سامعين كي زبان پر دو هي نام تھے۔ فيض اور مخدوم فرمائش كے طومار ميں كهيں سے آوازا بھري۔ ٫٫وه٬٬

 اور وه كے ساتھ هي بعض منچلوں نے به اشتياق كھڑكيوں اور دروازے كي طرف ديكھا مگر دور دور تك وهاں كوئي نه تھا۔ پھر جب مخدوم نے اپنے سحر آگيں ترنم ميں اپني نظم ٫وه٬٬ سنائي تو كھڑكيوں كي طرف اٹھنے والي للچائي هوي نگاهيں شرم و جھينپ كے بوجھ تلے جُھك كر ره گئيں۔

 پھر مختلف گوشوں سے بيك وقت كئي آوازيں اُٹھيں۔ چاره گر، چاندتاروں كابن، انتظار، اور جب وه فرمائشوں كا احترام كرتے كرتے تھك سے گئے اور رات بھيگنے لگي تو انهوں نے معذرت چاهي مگر دور سے كسي باذوق منچلے نے پھر هانك لگائي۔

 ٫٫آج كي رات نه جا۔٬٬

 بعض لوگ سوسوجتن سے شهرت كے پيچھے بھاگتے هيں اور شهرت اتني هي ان سے پناه مانگتي هے ليكن يه شهرت سے جتنا جي چراتے رهے شهرت كي اپسرا اتني هي ان سے هم آغوش هوتي رهي۔ چنانچه اپني زندگي هي ميں انھوں نے كچھ اتني شهرت بٹورلي كه اگر وه چپ بھي هوجاتے تو كوئي فرق نه پڑتا۔

 وه بورژدا طبقے ميں جتنے مقبول اور هردل عزيز تھے اتنے هي نچلے اور متوسط طبقے ميں چاهے اور پوجے جاتے تھے۔ طبعاً بڑے ساده مزاج آدمي تھے۔ چنانچه جب كبھي ان كي چيزيں رسائل كي زينت بنتي تھيں تو وه بغير پرچے كا انتظار كيئے بلا جھجك بك اسٹال جاكر سارے پرچے خريدليتے۔ ايسے وقت وه بڑے معصوم لگتے۔ يه معصوميت هي در اصل ان كي شخصيت كي سب سے بڑي پهچان تھي۔

 جب تك كوئي خاص واقعه انھيں Haunt نه كرتا اس وقت تك وه اپنے قلم كو جنبش نه ديتے۔ ايسے وقت كوئي اُن سے نئي نظم كي فرمائش كر بھي لے تو وه مسكراتے هوے كهتے۔ ٫٫ميرا حال اس كسان كا سا هے جس كي فصل بارانِ رحمت پر آس لگائے بيٹھي رهتي هے مگر كچھ لوگ هيں جن كے دماغوں ميں نل لگے هوئے هيں ٹوٹي كھولي اور شعر نكلنے لگے۔

 جب تك ميں دهلي ميں رها حيدرآباد كي ادبي فضا سے كٹاكٹاسارها۔ اور جب دِلّي كي تيز رفتار زندگي سے اكتا كردوباره ميں حيدرآباد آيا تو مخدوم كو زياده قريب سے ديكھنے كا موقع ملا۔ ان كے مزاج ميں زنده دلي كوٹ كوٹ كر بھري تھي۔ جب كبھي وه كسي محفل ميں كوئي دلچسپ بات يا لطيفه سناتے تو محفل زعفران زاربن جاتي تھي۔ ميں نے انهيں كبھي اداس نهيں ديكھا۔ هر وقت هونٹوں پر ايك دل فريب مسكراهٹ رقصاں، لگتا تھا جيسے زندگي كے سارے زهر كو انھوں نے چاٹ ليا هو۔

 ايك دن عابد روڈ پر اچانك ملے تو كهنے لگے، ٫٫تم تو چھپے رستم نكلے۔ ميں نے تمهاري دو ايك چيزيں خاصے اچھے پرچوں ميں ديكھي هيں۔٬٬

 ٫٫كون سے پرچے؟٬٬

 انھوں نے دو ايك ادبي پرچوں كے نام ضرور ليئے ليكن اُن پرچوں ميں ميري كهانياں نهيں تھيں۔ شايد حافظه نے انھيں چكمه دے دياهو۔

 پھر كسي نے مجھے بتايا كه مخدوم افسانے نهيں پڑھتے۔ كبھي٫٫ نيا ادب٬٬ ميں ايك افسانه پڑھا تھا اُسي كو آج تك سناتے رهتے هيں۔

 ايك دن ميں اورينٹ ميں شاذ كے ساتھ بيٹھا تھا كه اچانك مخدوم داخل هوے، اور الٹے پاو ں جانے بھي لگے، تو شاذ نے آگے بڑھ كر كها۔ ٫٫كم از كم چائے هي نوش فرمائيے۔٬٬

 يهاں نهيں كهيں اور نوش فرمائيں گے۔ در اصل ميں يهاں شاهد كو ديكھنے آيا تھا كهه كر وه تيزي سے آگے بڑھ گئے۔ شاذ نے ميرے قريب آكر سرگوشي كے انداز ميں كها ٫٫معامله اپني اپني صليبيں اٹھانے كا هے٬٬۔

 مخدوم صاحب كے ساتھ بيٹھنے كا جو مزه هے وه يهاں كهاں۔ هم سيدھے جانسن ò١١ò پهنچے اور محبت كے اس خوب صورت پيكر كے ساتھ بيٹھنے كا يه ميرا پهلا موقع تھا۔ وه آج سُنانے سے زياده سُننے كے موڈ ميں تھے۔ وه بڑي دير تك شاذ كي نظميں سنتے رهے۔ همارے اصرار كے باوجود انھوں نے كچھ نهيں سنايا۔ رخصت هونے سے قبل ميں نے لبرٹي ليتے هوئے اُن سے پوچھا۔ ٫٫يهاں يه بات عام هے كه آپ افسانوي ادب نهيں پڑھتے۔٬ ý٬ý

 ٫٫يه تم سے كس نے كها۔ بھئي هم افسانے بھي پڑھتے هيں۔ ٫٫نياادب٬٬ ميں، ميں نے ايك كهاني پڑھي تھي جو ابھي تك ميرے ذهن ميں محفوظ هے۔٬٬

 ياروں نے جو كها تھاوه كچھ غلط نه تھا وه آخر وقت تك اس انداز ميں مسكراتے رهے جيسے كهه رهے هوں تم نے جو كچھ سناهے وه سب كچھ سچ هے۔

 ان كي روپوشي اور جيل سے رهائي كے بعد لاهوٹي نے جو مجھے ان سے متعارف كروايا تھا شاذنے اس سلسله كو اور آگے بڑھايا۔ يوں بھي مخدوم كي محبتيں كچھ اس طرح بٹي هوئي تھيں كه كچھ پته هي نه چلتا تھا كه وه كسے زياده عزيز ركھتے هيں ليكن يه ايك حقيقت تھي كه وه حيدرآباد كے نوجوان شاعروں ميں شاذهي كو زياده پسند كرتے تھے۔ ويسے ميں نے كسي شاعر يا اديب كي برائي كرتے انھيں كبھي نهيں ديكھا۔هنسنے هنسانے كے موڈ ميں هوں تو وه علٰحده بات هے۔

 ايك دن اُردو هال ميں تقرير كرتے هوے شاذ كا نام ليئے بغير ايك شعر پڑھا اور كها ذرا شاعر موصوف كي حالت ديكھيئے اپني قبر كے آپ هي مجاور بھي هيں اور روز صبح اُٹھ كر پابندي سے اسے جھاڑو بھي ديتے هيں۔٬٬ جھاڑو دينے كے منظر كو انھوں نے هاتھ نچاكر اس طرح بيان كيا كه هال ميں بيٹھنے والے سب هي لوگ بے ساخته هنس پڑے۔ شايد اس محفل ميں شاذ بھي هوتا تو اپني بے بسي پر هنس پڑتا۔


 ò١١ò حيدرآباد كا ايك بار اور رستوران ó۔ó


 دراصل مخدوم كي شخصيت كے بانكپن كے سب هي اسير تھے۔ يه نا ممكن تھا كه كوئي ايك بار ان سے ملے اور دوسري بار ملنے كي تمنا نه كرے۔

 ايسي پركشش شخصيت ميں نے صرف مخدوم اور اخترالايمان هي كي ديكھي هے ويسے شخصيتوں كا موازنه كوئي ايسي ڈھنگ كي بات بھي نهيں هے مگر مخدوم سے مل كر ايسا لگتا تھا جيسے هم آسمان سے اتري هوئي محبّت كي انجيل سے بغل گير هورهے هوں۔ محبت كي يه طهارت ان كي شخصيت هي ميں نهيں ان كي بے شمار نظموں ميں بھي جابجا ملتي هے۔

 مخدوم محض انقلاب كے داعي هي نه تھے، محبت كاسرچشمه بھي تھے انھيں سمجھنے كے ليے ان كي نظم ٫٫چاره گر٬٬ هي كافي هے۔

 مخدوم عرب نژاد تھے۔ان كا خانداني نام ٫٫ابو سعيد محمد مخدوم محي الدين حذري٬٬ تھا۔ عربوں كي بے پناه خوبيوں كے ساتھ ان كي ذات ميں چند كمزورياں بھي درآئي تھيں۔ ذهانت، خودداري، حلم، بردباري، ايثار اور قرباني كے جذبے كے ساتھ وه قدرے غصيلے اور جذباتي بھي تھے۔ ان كے جذباتي هونے كا عكس جابجا ان كي پُر جوش تقريروں ميں كهيںنه كهيں عياں هوجاتا تھا۔ تنقيد سننے يا سهنے كا حوصله ان كي ذات ميں ذرا كم كم هي پايا جاتا تھا۔

 وه پارٹي سے كچھ اتنے جڑے هوے تھے كه ذرا بھي كسي نے ايك چبھتا هوا جمله كسا وه آپے سے باهر هوگئے۔ پھر انھيں لاكھ سمجھائيں وه اكھڑ سے جاتے تھے۔

 مجھے اورينٹ كي وه سلگتي شام آج بھي ياد هے جب انھوں نے غصّه كے عالم ميں اپنے هي ايك ساتھي كے گال پرطمانچه جڑديا تھا۔

 اس واقعه سے محفل ميں جو بدمزگي پيدا هوي تھي اس كي تفصيل يهاں غير ضروري هے ليكن مخدوم بهر حال مخدوم تھے۔ انهيں سر آنكھوں پر بٹھانا جيسے سب كا مقدّر بن چكا تھا۔

 مخدوم كي شخصيت كے كئي گوشے هيں۔ كچھ روشن اور كچھ نيم تاريك۔ ان گوشوں كي تهه تك پهنچنے كاميں اگر بيڑه بھي اٹھاو ں تو شايد ميرے هاتھ كچھ نه لگے۔ بزم سے لے كر رزم تك كي منزلوں ميں اگر كسي نے ان كا ساتھ ديا هو تو ان ميں سب سے نماياں نام راج بهادر گوڑهي كا هے۔ مخدوم پر لكھنے كا صحيح حق تو كچھ وهي اداكرسكتے هيں۔ اس حق كا استعمال زينت ساجده نے ٫٫من تراحاجي بگوئم٬٬ ميں بڑي خوبصورتي سے كيا هے۔ ويسے مخدوم كے قريبي ياروںميں كبھي ظفرالحسن بھي تھے مگر پته نهيں مخدوم پر لكھے هوے ان كے خاكه نے مجھے متاثر كيوں نهيں كيا۔

 شايد آپ كو يقين نه هو مخدوم نے كبھي كوئي غير مطبوعه چيز نهيں لكھي، خواه وه نظم هو يا غزل۔ وه كب اور كس طرح لوگوں كے دلوں كو چھوتي هوئي هند و پاك كي سرحدوں كو پار كرجاتي تھي يه كوئي نهيں بتا سكتا۔

 مخدوم نے پهلے سامع كي قدر كي اور بعد ميں قاري كي۔ خواه وه سنٹرل جيل كا چوكيدار عمرخاں هو يا عزيزيه هوٹل كا كراري آواز والا يعقوب۔ اورينٹ كا متّو سوامي هو يا جانسن كا كوئي بيره۔ گو مخدوم نے اپني ان كمزوريوں كو خوب صورت لطيفوں كا روپ دے ديا تھا۔ ليكن لطيفوں كي اس تهه ميں چھپے هوئے مخدوم يهي نهيں كچھ اور بھي تھے۔ ميں نے انهيں لطيفے سناتے هوے بھي كبھي كبھي سوچ كي گهري واديوں ميں گم هوتے ديكھا هے۔ مجھے ياد هے جب ان كا لاڈلا بيٹا نصرت ان سے اجازت ليئے بغير كچھ مدت كے ليے كهيں غائب هوگيا تھا، تو وه بڑے آزرده خاطر تھے۔ اُسے ڈانٹا ڈپٹا نهيں بلكه پيار سے لپٹا ليا۔ ميں سمجھتا هوںكمزور لمحوں ميں كبھي مخدوم نے كسي كو ڈانٹا بھي هو تو اسي طرح گلے بھي لگايا هوگا۔ مگر كون جانے

 مخدوم كي پهلودار شخصيت كا عكس ان كي ذات سے قطع نظر ان كي شاعري ميں بھي ملتا هے۔ ميں سرور صاحب كے اس جُملے سے پوري طرح متفق هوں كه ٫٫ايك سرگرم سياسي كاركن هونے اور ايك خاص سياسي فلسفے ميں ايمان ركھنے كے ساتھ ساتھ مخدوم نے شاعري اور سياست كے علٰحده علٰحده رول كو ملحوظ ركھاهے يهي وجه هے كه ان كي شاعري ميں حسن بھي هے اور اثر بھي۔٬٬

 يه بات تو رهي سرور صاحب كي مگر يهاں تو مجھے ان يادوں كوسميٹنا هے جو مخدوم كے گزرجانے كے بعد ميرے ليے هي نهيں ان كے هزاروں چاهنے والوں كے ليے ايك قيمتي اثاثه بن چكي هيں۔

 مخدوم كے بارے ميں، ميں نے يه بات سُن ركھي تھي كه وه كسي كي سفارش نهيں كرتے۔ اور كبھي مجبوراً كرتے بھي هيں تو اس طرح كه سفارش كروانے والا اپنا سرپيٹ كر ره جائے۔ يا پھر زندگي بھر سفارش كا نام نه لے۔

 اريب سنايا كرتے تھے كه ايك صاحب سفارش كے سلسله ميں جب ان سے رجوع هوے تو انھوں نے ٹالنے كي مقدوربھر كوشش كي جب بات بنتي نظر نه آئي تو ان كے ساتھ اچانك هوليئے اور كها۔ ٫٫چلو آج تمهاري سفارش هي سے نمٹ ليں۔٬٬ ايك آفس ميں داخل هوے تو آفيسر نے معذرت كے لهجے ميں كها۔ ٫٫مخدوم صاحب آپ تو جانتے هي هيں يهاں كوئي پوسٹ خالي نهيں هے۔٬٬

 مخدوم نے جواباً كها۔ ٫٫ميں نے بھي ان سے يهي كها تھا كه يهاں كوئي پوسٹ خالي نهيں هے۔ مگر يه مانتے هي نهيں ٬٬

 اس دل چسپ واقعه كو سننے كے بعد ميرے دل ميں مخدوم سے جو سفارش كروانے كي خواهش تھي وه دب كر ره گئي۔ دراصل مجھے ذاتي مكان كي ضرورت تھي۔ ميں نے اريب جيسے لاابالي آدمي كو مخدوم كے ذريعه وجئے نگر كالوني ميں مكان حاصل كرتے ديكھا تو يه خواهش پھر سے ابھرنے لگي۔ پھر جيلاني صاحب نے ايك دن سرگوشي ميں كها ٫٫ميرا يه مكان بھي مخدوم صاحب هي نے دلوايا تھا۔٬٬

 ان دنوں مكانوں كي قيمتيں گري هوئي تھيں تھوڑا بهت اثاثه ركھنے والا آدمي بھي اقساط پر كالوني ميں مكان خريد سكتا تھا۔

 مخدوم سے ملنے سے پهلے ميں نے اُن سے وقت لے ركھا تھا۔ مجھے ياد هے انھوں نے كها تھا ميں بڑا سحر خيز هوں۔ زياده سے زياده تمهيں ñ٢٢ñ ٧١١ تك ايم ايلز كوارٹرس آنا هوگا۔٬٬ ليكن ميں نے آنے كي غايت نهيں بتائي كچھ اس ڈر سے بھي كه كهيں يه سڑك هي پر ميرا كام چلتا نه كرديں ó۔ó

 پروگرام كے مطابق صبح هي صبح مين نے اور فاطمه نے جب ان كے گھر دستك دي تو وه اخبار بيني ميں غرق تھے۔ جوں هي هميں آتے ديكھا۔ مُسكراتے هوے كها۔

 ٫٫آو آو مجھ سے كوئي خاص كام معلوم هوتا هے، تب هي تو مياں بيوي ايك ساتھ آئے هيں۔٬٬ قبل اس كے كه ميں اپني بات چھيڑتا درميان ميں چائے آگئي۔

 چائے پيتے پيتے انھوں نے فاطمه سے مخاطب هوكر كها۔ ٫٫اِن دنوں تمهاري صحت كيسي هے؟

 ٫٫ٹھيك هے۔٬٬

 ٫٫كيا ٹھيك هے تم مجھے اينيمك سي لگ رهي هو۔كسي اچھے ڈاكٹر كو فوري بتاو ۔ يه مولانا آخر كيا كرتے هيں۔٬٬

 ٫٫موجوده ڈاكٹر نے تو يه بات نهيں كهي۔٬٬ ميں نے دبے لهجے ميں كها۔

 ٫٫پھر تو وه سرے سے ڈاكٹر هي نه هوگا۔٬٬ مخدوم نے بڑے اعتماد سے كها۔

 اصل موضوع درميان هي ميں كهيں پھنس كر ره گيا تو ميں نے مكان كي بات چھيڑ دي۔ فاطمه نے بھي درميان ميں ايك لقمه ديا، ٫٫سنا هے كه آپ نے اريب صاحب كو بھي مكان دلوايا تھا۔٬٬

 ٫٫مگر تم لوگوں نے بهت دير كردي، اريب هي كيا ميں نے بهت سے قريبي لوگوں سے كها تھا كه قسطوں هي پر سهي كسي نه كسي طرح مكان خريدلو مگر ان لوگوں كے كان پر جوں تك نه رينگي۔ اب تو كچھ هونے سے رها۔ بهر حال ان حضرت نے بڑي دير كردي۔ تم گھر جاكر ان كي گوش مالي ضرور كرنا۔٬٬

 ع اس سے ملنے اس كے گھر بے كار گئے

كا احساس ليے ميں گھرلوٹ آيا۔

 ان هي دنوں كسي مشاعرے كے سلسله ميں اپنا يار زبير بھي آيا هوا تھا۔ ميں نے اُسے رات كے كھانے پر بلوايا تھا كه اسي بهانے كچھ گپ شپ هوسكے۔ زبير كو اپنے ساتھ لانے كي ذمه داري ميں نے شاذ كو سونپ ركھي تھي۔ آٹھ بجے يه لوگ ميرے مكان پر آنے والے تھے، جب ١٢٢ بج گئے تو ميں نے دل هي دل ميں زبير اور شاذ كو گالياں ديں۔ ٹيبل پر ركھي هوئي چيزيں ٹھنڈي هوچكي تھيں۔ پھر اچانك هي كسي نے دروازه كھٹكٹايا۔ ميں سمجھ گيا كه يه شاذ هوگا يا پھر زبير۔ ميرا خيال ٹھيك هي نكلا۔ ليكن اچانك مخدوم، شاهد صديقي، اريب، لاهوٹي اور راهي معصوم رضا كو ايك ساتھ ديكھ كر وه ساري كوفت جاتي رهي ó۔ó

 وه سب كھاپي كر آئے تھے۔ تكلفاً انھوں نے دو ايك چيزيں چكھيں پھر گھرهي پر شعري محفل اس طرح سجي كه اس كي مهك آج تك ميرے ذهن ميں محفوظ هے۔

 مخدوم كي شخصيت هي كچھ ايسي تھي كه حيدرآباد كے سارے شاعران كے آگے پيچھے رها كرتے تھے۔ يهاں تك كه مشاعرے كے منتظمين بھي انهيں بلوانے سے پهلے پڑھنے والوں كي فهرست ان كے سامنے ركھ ديا كرتے تھے۔ كانٹ چھانٹ كا حق صرف مخدوم هي كوتھا۔ ايسے ميں كوئي نوجوان شاعر آدھمكتا تو وه بڑي شوخي سے اسے چھيڑتے هوے كهتے۔ ٫٫ديكھوں اس لمبي فهرست ميں تمهارا نام بھي كهيں هے كه نهيں۔٬٬ تلاش بسيار كے بعد جب وه مايوسي سے اپنا سر هلاتا تو وه كهتے۔ كوئي بات نهيں آئنده ضرور رهے گا۔٬٬

 جب لمبي فهرست كا قدبونوں جيسا هوكر ره جاتا تو وه مسكراتے هوے كهتے۔

 ٫٫مختصر مفيد٬٬

 دوسري طرف مختصر فهرست كو اس طرح لمبي كرديتے كه سننے والوں كوايك طويل مسافت طئے كرنے كا احساس هوتا۔ اس لمبي فهرست كي تياري كے اسباب كا پته اس وقت چلتا جب وه اريب سے كهتے۔ ٫٫پته نهيں تم نے كن كن شاعروں كي سفارش كردي تھي كه بے چارے سب هي هُوٹ هو كر ره گئے۔٬٬ شاهد صديقي كهيں قريب هي سے جواب ديتے۔ ٫٫كسي شاعر كے ليے خواه مخواه هُوٹ هوجانا بھي بڑے ظرف كي بات هے۔ پته نهيں اس ظرف كے مظاهرے ميں آج سارے نوجوان كيوں پيش پيش رهے۔٬٬ ليكن شاذ تو كامياب رها۔

 مخدوم كا شروع هي سے يه وطيره رها هے كه وه اپنے آنے جانے كا حساب ذهن كي ڈائري ميں محفوظ كرليا كرتے تھے۔ كب كهاں اور كتني دير انھيں ٹھهرنا هوگا وه وهاں اتني هي دير ٹھهرتے، پته نهيں اس ميں ان كے مزاج كي سيما بيت كا دخل تھا يا كچھ اور۔ كبھي كبھي ايسا لگتا جيسے وه هوا كے دوش پر اُڑے جارهے هوں اور مزے كي بات تو يه تھي كه وه هر روپ ميں بڑے تيكھے اور انوكھے سے آدمي لگتے تھے۔

 بهت پراني بات هے۔ مخدوم باهر كے ايك طويل سفر سے تازه تازه لوٹے تھے۔ اُردو هال ميں ايك شان دار مشاعره تھا۔ ان هي دنوں مغني كي بهن صديقه شبنم بھي لندن سے يهاں آئي هوي تھيں۔ وه اس سنهري موقع كو گنوانا نهيں چاهتي تھيں جس ميں مخدوم بھي شامل هوں۔

 مغني نے صديقه كے اشتياق كو بھانپتے هوے جب اُن سے تعارف كروايا تو ساتھ ساتھ يه بھي كها كه يه شعر بھي كهتي هيں بس اتنا كهنا تھا كه مخدوم نے شاعروں كي فهرسٹ ميں صديقه كا نام بھي جڑواديا۔

 تعارف كے بعد جب صديقه نے ڈرتے ڈرتے اپني نئي غزل سُنائي تو كئي باذوق حضرات نے اسے سراها اور بھرپورداددي۔

 مخدوم اس بات پر خوش تھے كه صديقه نے اچھي غزل سنا كر ان كے انتخاب كي لاج ركھ لي۔

 پھر وه جب بھي ملتے تو كهتے۔ ٫٫صديقه سے كهو وه اسي طرح شعر كهتي رهے۔ وه شعري رموز سے بھي واقف هے اور خوش لحن بھي۔٬٬

 مخدوم كي برسوں پهلے كهي هوي وه بات كچھ غلط بھي ثابت نهيں هوي۔ صديقه شبنم كا شعري مجموعه اب نكلنے هي كو هے۔

 مخدوم زياده تر اريب هي كے گھر آيا جايا كرتے تھے۔ بشرطيكه انهيں فرصت هي فرصت هو۔ ويسے وه بڑے مصروف آدمي تھے۔ ايك دن ميں اريب كے گھر گيا تو ميں نے انهيں گھر سے بهت دُور ايك بڑے پتھر پر بيٹھا ديكھا، مجھے گمان گزرا كه يه اريب نهيں كوئي اور هوگا ليكن صفيه نے مجھے بتايا كه وه اريب هي هے جس سے ملنے تم آئے هو۔ ميرے چهرے كي حيراني كو صفيه نے بھانپتے هوے كها۔ ٫٫كوئي خاص بات نهيں يه بھي موصوف كي ايك ادا هے۔ تم جاكر انهيں يهاں لے آو ٬٬۔

 ميں نے قريب پهنچ كر انھيں اپنے گھر نهيں خود ان كے گھر آنے كي دعوت دي تو وه شُش شش كهه كر چپ هوگئے۔ لگتا تھا جيسے دن هي سے چڑھا ركھي هو۔

 ليكن جب مخدوم صفيه كے گھر پهنچے تو صفيه نے هنستے هنستے ساري روداد سنادي۔

 ٫٫عوض بے چاره تو مُنه لٹكائے ابھي ابھي واپس آيا هے۔٬٬۔ ذرا آپ هي جاكر اريب كو منالائيے۔

 ٫٫اچھا تو پھر هم هي ان كي گوشمالي كرتے هيں۔٬٬ يه كهه كر وه تيزي سے اريب كے قريب پهنچے۔ چند لمحوں بعد ميں نے ديكھا مخدوم آگے آگے چل رهے تھے۔ اور پيچھے پيچھے اريب۔

 اور جب انھوں نے آخري بار اپني دھرتي كو خدا حافظ كها تو اب بھي آگے آگے وهي تھے اور ان كے پيچھے هزاروں سوگواروں كاايك لمبا قافله۔

ll














ابراهيم جليس


 بعض شخصيتيں ايسي هوتي هيں جن كے پيچھے ايك تاريخ هوتي هے۔ ابراهيم جليس ان هي ميں سے ايك تھے۔ اس تاريخ ساز شخصيت كے هر بُنِ مو كا احاطه دهي لوگ كر سكتے هيں جنهيں ان كے قرب كي دولت ميسر هوئي هو۔ ميرے ليے تو ابراهيم جليس كي صرف دو ملاقاتيں هي سرمايه هيں۔ مجھے سنه اور تاريخ ٹھيك طرح ياد نهيں۔ غالباً ٤٨٨ ئ اور ٥٠٠ ئ كے درميان شاذ كے ساتھ پهلي بار جليس سے ملنے كا اتفاق هوا تھا۔ يه اس وقت كي بات هے جب هم هائي اسكول كے طالب علم تھے۔ فصيح الدين اكثر ان كے سر پر سوار رهتے اور كسي نا كسي طرح ٫٫پرچم٬٬ كے ليے جليس سے مضمون لكھواليتے ó۔ó

 دوسري طرف نقوش، ساقي، همايوں، ادبي دنيا، نيا دور اور ادب لطيف ميں ابراهيم جليس چھائے هوے رهتے۔ دراصل جليس ٫٫زرد چهرے٬٬ كي اشاعت هي سے شهرت پاچكے تھے۔ اور مقبوليت ميں كسي طرح كرشن چندر سے كم نه تھے۔ پھر چوربازار، تكونه ديس دو ملك ايك كهاني نے انهيں لازوال شهرت بخشي، جليس كے هزاروں مداحوں ميں هم بھي تھے۔ اس ليے هماري عين خواهش تھي كه كسي نه كسي طرح اس قد آور اديب سے ملاجائے۔

 اس زمانے ميں همارے ايك ساتھي فضل الله هوا كرتے تھے۔ وه بھي جليس كے بڑے مداحوں ميں سے تھے۔ هم نے جب ان سے رجوع كيا تو انهوں نے هم سے وه كاپياں طلب كين جن ميں همارے چند مزاحيه مضامين بكھرے پڑے تھے تاكه وه جليس كو دكھا سكيں كه هم لوگوں كو آگے لكھنا بھي چاهيے يا

 شاذ اس وقت اپنے احباب كے ليے مزاح نگار مصلح الدين تھے۔ شاعر نهيں تھے۔ ميرا كل اثاثه ايك كهاني دو مزاحيه مضامين تھے جس كے بل بوتے پر ميں پكي روشنائي سے اپنا نام لكھوانا چاهتا تھا۔ فضل صاحب نے ايك دن يه كهه كر هم سے كاپياں لے ليں كه ملاقات تو بعد ميں بھي هوسكتي هے ليكن جليس كي رائے هم نوداردانِ بساطِ ادب كے ليے ضروري هے۔ كاپياں ان كے حوالے كردي گئيں۔ ليكن عرصه دراز تك همارے كانوںميں ذرا سے ردّو بدل كے ساتھ يهي بات سنائي ديتي رهي كه امروز فرداميں كاپياں رائے كے ساتھ واپس كردي جائيں گي۔ اور آخر ايك دن كاپياں واپس آگئيں۔ اس ميں جليس كي رائے درج نه تھي۔ جو چيزيں انھيں پسند آئي تھيں اس پر انھوں نے رائٹ كا نشان لگاديا تھا۔ زياده نشانات شاذ كے حصّے ميں آئے تھے۔ ميرے حصّے ميں ايك نشان آيا تھا جو ميري كهاني كے سرپر منڈلارها تھا۔

 هميں يه بھي شك تھا كه كهيں فضل صاحب نے يه حركت نه كي هو۔ اس ليے هم نے جليس سے ملنے كي ٹھان لي۔ ايك دن ٫٫نظاميه رستوران٬٬ پهنچے تو جليس اپنے مداحوں ميں گھرے هوے چهك رهے تھے۔ مجھے ياد هے شاذ نے بيرے كے هاتھ ميں ايك چٹّھي تھمادي اور اشاره سے بيرے كو سمجھاديا تھا كه جليس تك يه چٹّھي پهنچادے۔

 تاجدار قلم ابراهيم جليس۔

 ٫٫هم لوگ آپ سے ملنے كے مشتاق هيں۔ پانچ منٹ كے ليے زحمت كيجيے۔٬٬

 شاذ نے غالباً كچھ اس طرح كي عبارت لكھي تھي۔ چٹّھي ملتے هي وه فوري هماري طرف آئے۔ اور مسكراتے هوكها۔ ٫٫بھئي آپ لوگوں نے يه تاجدار قلم كيا لكھ ديا۔٬٬

 جب هم لوگوں نے كاپيوں پر لگائے هوے نشانات كي تشريح چاهي تو انھوں نے قدرے ركتے هوے مجھ سے كها كه ٫٫آپ افسانے لكھيئے اور شاذ سے كها كه وه مزاح ميں اپنا زور آزمائيں۔

 شاذ مزاح نگار بنتے بنتے ره گئے اور آگے چل كر شاعر بن گئے۔ اور ميں نے افسانه نگاري شروع كردي جو اب تك جاري هے۔ جليس كي نظاميه والي وه ملاقات آج تك ميرے ذهن ميں محفوظ هے۔

 غالباً ÷١٩٦٢٢÷ئ ميں وه پاكستان سے حيدرآباد آئے تھے۔ معين فاروقي نے ان كے اعزاز ميں ايك دعوت كي تھي۔ فاروقي نے ميرا تعارف كراتے هوے كها ó۔ó

 ٫٫يه ميرے دوست عوض سعيد هيں____٬٬

 ٫٫افسانه نگار عوض سعيد٬٬ جليس نے اس طرح كها جيسے ميرا نام اب ان كے ليے نيا نهيں رها۔

 ميں خوش هوگيا كه جليس كو كم از كم ميرا نام ياد هے۔

 آج ابراهيم جليس هم ميں نهيں رهے ليكن مجھے احساس هورها هے كه ميرے هاتھ ميں ايك كاپي آج بھي هے جس پر خلوص سے نشان لگانے والا كوئي نهيں۔


l

l













خورشيد احمد جامي


 كچھ برس ادھر كي بات هے۔ هوٹل كے ايك گوشه ميں بھانت بھانت كے لوگوں كے درميان چھريرے بدن كا ايك سانولا سا آدمي هاتھوں كو نچاتا هوا كسي ادبي شخصيت كو مذاق كا هدف بنارها تھا۔ اس كے چهرے پر زمانے كے نشيب و فراز كي ايك كهنه تاريخ درج تھي۔

 وه عجيب و غريب انداز ميں هنس رها تھا اور اس كے تتّبع ميں سامنے بيٹھے هوے اس كے شاگرد بھي بے پناه انداز ميں قهقهے لگا رهے تھے۔ جب كھنكتے هوے قهقهے آهسته آهسته كھوكھلے هونے لگے تو اس نے شيرواني كي نچلي جيب ميں بڑے هي پُر اسرار انداز ميں هاتھ ڈالا۔ پھر فاتحانه انداز ميں ادھر ادھر نظريں دوڑائيں اور ديكھتے هي ديكھتے ٹيبل پر كاغذوں كا ايك پلنده آگيا۔ پهلے تو ميں سمجھا كه يه شخص كچھ كرتب دكھائے گا۔ يا پھر غزليں سنائے گا مگر اس نے نه كوئي كرتب هي دكھا يا اور نه غزليں هي سنائيں۔ اس نے پلنده ميں سے ايك پرچي بڑي هي احتياط سے نكالي اور سامنے بيٹھے هوے ٫٫چهيتوں٬٬ كے هاتھ ميں تھمادي۔

 جب يه تماشه ختم هوا تو ميں نے آگے بڑھ كر اسے اپنے وجود كا احساس دلايا۔

 ٫٫ميں اگر بھول نهيں رها هوں تو آپ هي كو ٬٬

 ميرے ادھورے جملے كو اس نے ايك Adjective لگا كر اس انداز سے پورا كيا كه ميں اُس كي زنده دلي كا قائل هو كر ره گيا۔

 پھر اس نے بيرے كو اشارے سے دو چائے كا آرڈر ديا۔ بيرے نے خلافِ توقع كمزور آواز ميں هانك لگائي اور اپني ميلي بوسيده دائري ميں ٢٥٥ كا بڑا هندسه نوٹ كر كے نيچے ايك لمبي لكير كھينچ دي ó۔ó

 اس نے اپنے احباب سميت صبح سے دو پهر تك كچھ اتني چائے پي لي تھي كه بيرے نے اپنے حافظه پر بھروسه نه كرتے هوے احتياطاً چائے كي پياليوں كي تعداد اور قيمت غالباً درج كرلي تھي۔

 وه چائے كي چسكياں ليتا هوا باتوںميں مشغول هوگيا۔ ميں نے ايك غزل گو شاعر كي تعريف كرتے هوے اس كي رائے بھي دريافت كي۔

 اب اس كا go سر چڑھ كر بول رها تھا۔ ٫٫كيا كهه رهے هيں آپ، غزل ان كے باپ نے بھي نه كهي هوگي۔ وه كيا كهيں گے ó۔ó

 غزل ________ هيں هيں ﴿منھ سے نكلتي هوي سرسراهٹ﴾ غزل تو اب دربدر كي ٹھوكريں كھاكر ايك ايسي هتھني بن گئي هے جو بغير آنكس كے دو قدم چل بھي نهيں سكتي۔٬٬ يه كهه كر اس نے غصّے كے عالم ميں مجھے اپني چند غزليں سنائيں جو اتني خوب صورت اور بھر پور تھيں كه جي چاهتا تھا كه اس سے غزليں هي سنتے رهيں۔ ليكن وه داد و تحسين سے بے نياز ابھي تك اس شاعر كے پيچھے پڑا هوا تھا جس كا ذكر تھوڑي دير پهلے ميں نے اس سے كيا تھا۔

 ميں نے جب اپنے سر پر ڈولتے هوے Fan كو اچانك بند هوتے هوے ديكھا تو ميں نے بيرے كو آواز دينے كي كوشش كي ليكن اس نے هاتھ كے اشارے سے مجھے روك ديا۔

 ٫٫يه سالے سب بدتميز هيں۔ يه شاعر كا احترام كيا جانيں۔ چلو كسي دوسرے رستوران ميں جگه ديكھيں۔٬٬

 مختلف هوٹلوں كا چكّر كاٹتے كاٹتے جب ميں گھر پهنچا تو آدھي رات گزرچكي تھي اس پهلي ٫٫هوش ربا٬٬ ملاقات كے بعد پته نهيں ميں كيوں اُن سے مُنه چھپاتا رها۔ جب تك ميري رهائش پرانے شهر ميں رهي كهيں نه كهيں ان سے مڈبھيڑ هوجايا كرتي تھي۔ آفس آتے جاتے كهيں ان پر نظر پڑجاتي اور ميرا هاتھ اچانك سلام كے ليے اُٹھ جاتا۔ وه بڑے خاص انداز ميں سلام كا جواب ديتے۔ جيسے پوچھ رهے هوں۔ ٫٫شام كو تو ملاقات هوگي نا۔٬٬

 پھر ايك دن راستے ميں انھيں آتا ديكھ كر ميں كني كاٹ هي رها تھا كه هجوم ميں سے كسي نے هاتھ لهرايا۔ ميں نے دل ميں سوچا۔ اپني هي انا كي بھٹّي ميں جلے بھنے رهنے كے باوجود اس آدمي كي ذات مين ابھي اگلي شرافتيں باقي هيں۔

 جامي صاحب كو چائے سے كهيں زياده چائے خانه كي عادت تھي۔ مالكانِ هوٹل انھيں كس نگاه سے ديكھتے تھے وه تو وهي جانيں۔ ليكن بيرے ان كي بڑھياٹِپ كو پاكر بڑے خوش دكھائي ديتے تھے۔ پرانے شهر كي هوٹلوں ميں بيروں كو ٹپ دينے كي ابتدائ شايد جامي صاحب هي نے كي هو۔

 وه بڑے كُھلے هاتھ والے آدمي تھے۔ ان كي شاه خرچي كي ذمه داري كس نے لے ركھي تھي۔ اس پر ابھي تك راز كے پردے پڑے هوے هيں۔ يه ناممكن تھا كه كوئي ان كي موجودگي ميں بلِ pay كرے۔ ايك دفعه ميں نے بل ادا كرنے كي كوشش كي تو بيرے نے پيسے لينے سے اس طرح انكار كيا جيسے كهه رها هو۔ ٫٫كيا آپ مجھے شاعر صاحب سے پٹوائيں گے۔٬٬

 ايك دن ميں نے مدينه هوٹل ميں انھيں پهلي بار تنها ديكھا تو مجھے خوشي بھي هوئي اور حيراني بھي۔ ميں نے موقع كو غنيمت جان كر پوچھا۔ ٫٫جامي صاحب حيرت هے كه آج آپ تنها دكھائي دے رهے هيں۔٬٬

 ٫٫تنها كون نهيں هے عوض صاحب۔ آپ بھي هيں اور ميں بھي ۔ بلكه سب هي۔٬٬ پھر مير كي تنهائي سے لے كر آج كي تنهائي تك كا فاصله انھوں نے منٹوں ميں اس طرح طے كيا كه مجھے اُنھيں خدا حافظ كهنے ميں دير نهيں لگي۔

 جامي صاحب سے ملنا ميرے معمولات ميں كبھي نهيں رها۔ ليكن جب بھي ان سے ملاقات هوتي تو ان كي تني هوي گردن تني سي رهتي۔ جيسے گردن كو كسي نے رسّي سے باندھ ديا هو۔

 ميں نے كبھي ان كي شيرواني كے بٹن كُھلے نهيں ديكھے كالر كے بند هُكوں ميں ان كے چهرے سے زياده نماياں مجھے ان كي گردن دكھائي ديتي۔ يه اَكڑي سي گردن اسي وقت جھكتي جب كسي شاعر كي كوئي خوب صورت غزل انھيں قائل كردے۔ مگر ايسا بهت كم ديكھنے ميں آتا۔

 غزل ان كي ميراث هو يا نه هو مگر وه غزل هي كو اپني ميراث سمجھتے تھے۔ غزل كے ميدان ميں وه جتنے قدآور دكھائي ديتے ان كي نظميں انھيں اتناهي جھكاديتيں۔

 شاعر كي حيثيت سے انھوں نے اپني زندگي كا بڑاحصه جس گم نامي اور گوشه نشيني ميں گزارا اس كا انهيں شديد احساس تھا، مشاعروں سے انهيں بڑي نفرت تھي۔ شهرت كے اس سستے زينے كو انھوں نے اپني زندگي هي ميں ٹھكرا ديا تھا۔ ليكن دوسري طرف معياري رسائل كي طرف بھي ايك لمبي مدّت تك انھوں نے پلٹ كر نهيں ديكھا۔ نتيجه نقصان كي صورت ميں يه هوا كه ايك خوب صورت شاعر حيدرآباد كي چهار ديواري هي ميں بند هوكر ره گيا۔ پته نهيں گھاٹے كے اس سودے كو انھوں نے كس دل سے قبول كيا هو۔

 شاذ نے باتوں باتوں ميں ايك دن اچانك مجھ سے كها۔ ٫٫يار عوض يه هماري كتني ٹريجڈي هے كه جامي جيسے شاعر كو بھي باهر كي دنيا قطعي نهيں جانتي ماننے كي بات تو الگ رهي۔٬٬

 ٫٫دراصل انهيں كسي جوهري كا انتظار هے، جو گھور ميں پڑے هوے هيرے كو اپنے گلے لگالے۔

 وه انهيں تلاش بسيار كے باوجود مل نهيں رها هے۔ جب مل جائے گا تو يه ساري گم نامي آناًفاناً جاتي رهے گي۔

 ٫٫يار بدمعاشي كي باتيں مت كرو۔ ميں نے ايك راسته ڈھونڈا هے۔ ميں ان كي چند منتخب غزليں ٫فنون٬ كو بھجوارها هوں۔ احمد نديم قاسمي بهت اچھے شاعر هي نهيں شعر كے بڑے پاركھ بھي هيں۔ تمهارا كيا خيال هے۔ قاسمي صاحب چھاپيں گے نا۔٬٬

 ٫٫يقينا چھاپيں گے بشرطيكه تم لفافے پر صحيح ٹكٹ لگا سكو۔٬٬

 مُدّتوں بعد احمد نديم قاسمي كا جو خط شاذ كو ملا، وه كچھ يوں تھا۔

 ٫٫آپ نے حيدرآباد كے جن بزرگ شاعر كا كلام بھجوايا تھا وه غزلوں كے انبار ميں كهيں دب ساگيا هے۔ ميں اسے تلاش كررها هوں، مطمئن رهيے۔٬٬

 جب فنون كا شاندار غزل نمبر چھپ كر آگيا تو شاعروں كے هجوم ميں بھي خورشيد احمد جامي الگ سے پهچانے جارهے تھے۔

 اس طرح سے احمد نديم قاسمي هي وه پهلے جوهري تھے جنھوں نے جامي صاحب كو فنون كے ذريعه اهلِ ذوق سے متعارف كروايا۔

 جامي صاحب اپني ساري قلندري كے باوجود شهرت كے هميشه متمنّي رهے ٫٫رخسارِ سحر٬٬ كي اشاعت كے بعد هي دراصل ادبي دنيا نے انھيں صحيح طور پر پهچانا۔ اور وه ديكھتے هي ديكھتے نئي غزل كے ايك نمائنده شاعر تسليم كرلئے گئے۔ بعد كو مغني تبسّم، گوپي چند نارنگ، كمارپاشي، اخترحسن، وحيداختر، خليل الرحمن اعظمي، شمس الرحمن فاروقي اور عالم خوندميري جيسے معتبر لكھنے والوں نے ان كے فن كو سراها۔

 وه خوش تھے كه عمر كے آخري حصّے هي ميں سهي، لوگوں نے انھيں تسليم تو كيا۔ ليكن اندر سے انھيں يه يقين هي نه آتا تھا كه كبھي اونٹ اس كروٹ بھي بيٹھ سكتا هے۔

 جب بھي ملاقات هوتي تو يه ضرور پوچھ ليا كرتے كه فلاں پرچے ميں ميري غزل آرهي هے۔ وه كيسا پرچه هے۔

 ميرے ٫٫يوں هي ساهے٬٬ كهنے پر وه بُرا سا مُنه بناليتے، مگر فرمائش پر اپنا كلام ضرور بھجواتے، دراصل مدّتوں گمنامي كے خول ميں بند رهنے كے بعد ان كے هاں اتنا وقت هي نه تھا كه وه مزيد اپني صلاحيتوں كو ضائع كريں۔ وه ايك خاص موڑ پر پهنچ كر دوسرے احمد فراز بن گئے۔

 يوں كهنے كو تو اورينٹ هي ان كا اڈّه تھا ليكن شاميں ان كي كهيں اور گزرتي تھيں۔ مين نے عالمِ سرمستي ميں بھي انهيں كوئي ايسي نازيبا حركت كرتے نهيں ديكھا جو ملنے والے پر گراں گزرے۔ وه زندگي بھر مجرّد هي رهے، پته نهيں اس ميں محبت كي ناكامي كا دخل تھا يا ان كي حد سے بڑھي هوي انانيت كا۔

 گرانڈ هوٹل كے پيچھے اُردو گلي ميں انھوں نے اپنے ليے جو ايك كمره لے ركھا تھا اس كي دو چابياں تھيں، ايك چابي هميشه محمود كاردار كے يهاں رهتي جو ان كا ايك عزيز شاگرد تھا۔ دوسري چابي ان كي جيب هي ميں پڑي رهتي۔

 دراصل ان كے پاو ں ميں ايك چكر سا تھا وه گھر پر شاذ هي رهتے تھے اس ليے اپنے ملنے والوں كو كبھي انھوں نے گھر آنے كي دعوت نهيں دي، ان كے اس وصف كے باجود ان كے چاهنے والے كسي نه كسي طرح ان سے مل هي ليتے۔ ويسے وه بڑے وضع دار آدمي تھے۔ احباب كي خاطر تواضع ميں اس طرح آگے رهتے تھے جيسے قدرت نے انھيں اسي كام كے لئے پيدا كيا هو۔ بعض زنده دل اورينٹ آتے هي اس غرض سے تھے كه انھيں وهاں كسي طرح مفت كي چائے مل جائے۔ ان ٫٫مفت خوروں٬٬ كے ليے جامي صاحب هي ايك موزوں شخص تھے۔

 پھر ايك دن اورينٹ ميں كسي نے بيهودگي كي تو ان كي خلقي شرافت آڑے آگئي وه اورينٹ سے چپ چاپ اُٹھ كر اپنے كمرے ميں آگئے۔ پھر زندگي بھر انھوں نے اورينٹ كي دهليز پر قدم نه ركھا۔

 جامي صاحب كي شخصيت اس كتاب كي مانند تھي جس كے اوراق كسي نے درميان هي سے اڑالئے هوں۔ اب لوگوں كو كيا پڑي تھي كه وه بظاهر اس بند كتاب كا مطالعه اپني كھلي آنكھوں سے كرتے، شائد اسي ليے بعض مخصوص حلقوں ميں وه معتوب بھي رهے۔

 انھوں نے مانگي هوي ادھار زندگي كا كوئي حساب چكايا هو يا نه هو ليكن قيمت عروجِ هُنر كا سارا حساب وه اپني زندگي هي ميں شايد چُكا چكے تھے

رات چپ چاپ هے راتوں كے مسافر هيں اداس

كوئي دل چسپ كهاني بھي نهيں وقت كے پاس


ll




عالَم صاحب


 عالم صاحب كي شخصيت كے هر بُنِ مُو كا احاطه وهي شخص زياده بهتر طور پر كرسكتاهے جو اُن كا هم پياله اور هم نواله رهاهو۔ يوں كهنے كو تو هم پياله هم بھي رهے هيں اور هم نواله هونے كے باب ميں كوئي بات قطعيت كے ساتھ اس ليے نهيں كهي جاسكتي كه عالم صاحب نے ايسا موقع كبھي آنے هي نه ديا۔

 ان كي شخصيت كچھ اتني دل چسپ اور Controversial رهي هے كه پته نهيں چلتا كه وه كهاں سے شروع هوتے اور كهاں جاكر ختم هوتے هيں۔

 ان كي شخصيت كا آغاز كبھي انجام سے شروع هوتا هے اور كبھي انجام هي آغاز بن جاتا هے۔ دراصل شخصيت كے اسي خالي خانے ميں بيٹھ كر وه زندگي اور كائنات كا مطالعه كرتے هيں۔

 عالم صاحب دوستي كے باب ميں بڑے فراخ دل واقع هوے هيں۔ ايك چار ساله بچه بھي ان كا دوست هے اور ايك اسي ساله بوڑھا بھي۔

 بوڑھے پر مجھے ايك بات ياد آئي۔ ايك دن عالم صاحب سے مجھے ملنا ضروري تھا۔ اپائنٹمنٹ كے ليے جب ميں نے فون كيا تو اُن كا فون خراب تھا۔ مايوسي كے عالم ميں جب ميں ان كے گھر كے قريب پهنچا تو ميں نے ديكھا كه ايك بوڑھا آدمي ان كے گھر كے سامنے ايك چبوترے پر بيٹھا رورها هے۔

 ٫٫ميں نے سوچا۔ كوئي خاص بات ضرور هے۔٬٬

 ٫٫كيا بات هے حضرت آپ رو كيوں رهے هيں۔٬٬

 ٫٫عالم صاحب مجھ سے ملنا نهيں چاهتے۔٬٬

 ٫٫نه ملنے كي كوئي وجه۔؟٬٬

 ٫٫ميں نے اقبال كي نظم ٫٫مسجد قرطبه٬٬ نهيں پڑھي هے۔ ان كا خيال هے كه جس آدمي نے ٫٫مسجد قرطبه٬٬ نه پڑھي هو اس سے ملنا نهيں چاهيے۔٬٬

 ٫٫تو پھر پڑھ ليجئے٬٬

 ٫٫وه تو پڑھ ليتا ليكن اس كے ساتھ اُنھوں نے ايك شرط بھي ركھي هے كه ميں سار تر ٫كامو٬ ايليٹ٬ كافكا اور جان دين كو بھي پڑھوں۔

 يه كهه كر وه آدمي زاروقطار رونے لگا۔ ميں نے همّت بندھائي اور مشوره ديا كه عالم صاحب سے ملنے كا خيال اب چھوڑ ديجيے اور مغني تبسّم سے ملئے۔

 مغني كے نام كے ساتھ هي انهوں نے جھرجھري لے كر كها۔ ٫٫مغني هي وه پهلے آدمي هيں جنهوں نے مجھے عالم صاحب كے پاس بھجواديا تھا۔٬٬ يه كهه كر وه آدمي پھر ايك بار زاروقطار رونے لگا اور ميں عالم سے ملے بغير گھر چلا آيا۔

 ٹيلي فون پر عالم صاحب كي گفتگو كچھ اتني مختصر هوتي هے كه ان كي كفايتِ لفظي كا قائل هونا پڑتا هے۔

 ٫٫عالم صاحب مجھے آپ سے كچھ كام هے۔٬٬

 ٫٫بولو بولو٬٬

 ٫٫بات يه هے عالم صاحب كه ٬٬

 ٫٫هاں هاں ميں سمجھ گيا۔٬٬

 عالم صاحب كچھ سمجھے هوں يا نه سمجھے هوں ليكن ان كا مخاطب يه ضرور سمجھ جاتا هے كه عالم صاحب فلسفه كي گتّھيوں كو سلجھانے اور الجھانے ميں مصروف هيں۔ ايسے وقت ان كو چھيڑنا كچھ مناسب نهيں هے پھر يوں بھي خاموش ٹيلي فون پر كس نے كس سے بات كي هے۔

 ان تمام باتوں كے باوصف بعض ايسے زنده دل بھي هيں جو عالمِ سرگوشي ميں عالم صاحب كے ڈيڈ فون پر بھي ان سے تبادله خيال كرتے هيں۔

 عالم صاحب كے ادبي مقام اور مرتبه كو ديكھتے هوے بهت سے اديب اور شاعر دُور دراز سے اپني كتابيں رائے اور تبصرے كے ليے ان كے هاں بھجواتے هيں اور رائے اور تبصره ديكھنے هي كي خواهش هي ميں دوچار برس هي كے بعد الله كو پيارے هوجاتے هيں۔ ايسے موقعوں پر جب بھي ميں عالم صاحب كو كھويا كھويا سا پاتا هوں تو احساس هوتا هے كه شايد مرنے والا عالم گزيده هي هو۔

 ليكن آج كل عالم صاحب نے ايسے لوگوں كے ليے اپنے دل ميں ايك نرم گوشه بناليا هے۔ چناں چه جب بھي كوئي كتاب انهيں بھيجي جاتي هے تو وه اس پر رائے دينے كے ساتھ ساتھ پيش لفظ بھي لكھ كر كسي دوسري كتاب كا انتظار كرنے لگتے هيں۔ اور يه چكّر چلتا رهتا هے۔ ليكن دوسري طرف ان سے مضمون لكھوانا بھي جوئے شير لانے سے كم نهيں۔ اس بات كي گواهي مغني سے لي جاسكتي هے كه انھيں

 عميق حنفي كي ايك طويل نظم ٫٫سلسلۃالجرس٬٬ پر مضمون لكھوانے كے ليے كتنے نه پاپڑبيلنے پڑے۔

 مغني كي مسلسل ياد دهاني كے باوجود جب وه ٫٫شعر و حكمت٬٬ كے ليے عميق والا مضمون لكھ نه سكے تو مغني نے كسي بهانے سے ان ك گھر پر بلواليا۔ غالباً وه چُھٹّي كا دن تھا۔ عالم صاحب نے صاف محسوس كرليا كه اب وه بري طرح پھنس گئے هيں۔

 جب مغني نے ميز پر كچھ كاغذات بكھيرديئے تو عالم نے مايوسي سے كها۔ ٫٫مغني يه كيا كررهے هو۔ ميں لكھوں گا ضرور۔ عميق مجھے پسند بھي هے۔ ليكن ميں رواروي ميں اس پر كچھ لكھنا نهيں چاهتا۔٬٬ ليكن مغني كے اصرار كے آگے وه بالكل هي بے بس هوكرره گئے۔ اور مضمون لكھ ڈالا۔ ابھي شاذ اور مغني كا قرض ان پر باقي هے۔

 عالم صاحب كي شخصيت كا ايك دل چسپ پهلو ان كے وه وعدے هيں جو كبھي پورے نهيں هوتے۔

 كوئي ايرا غيرا اديب يا شاعر بھي جب ان كے گھر پهنچ كر يه كهے۔ عالم صاحب مجھے آپ سے اپني كتاب كا ديباچه لكھوانا هے تو وه بڑي خنده پيشاني كے ساتھ كهيں گے۔ ٫ضرور٬٬

 دراصل وه كچھ اتنے بامروّت هيں كه انكار نهيں كرپاتے۔ اور ايك منزل ايسي بھي آجاتي هے كه لوگ تھك هار كر ان كا پيچھا چھوڑديتے هيں اور بعض اتنے باهمت هوتے هيں كه ان سے پيش لفظ لكھوانے ميں كامياب هوجاتے هيں۔ جس كي شاعري كو وه پسند نهيں كرتے اس پر بھي ايسا پيش لفظ لكھتے هيں كه وه اپني جگه مطمئين هوجائے۔ اور ايسے هي موقعوں پر اكثر سنجيده ادبي ذوق ركھنے والوں كو يه شكايت هوجاتي هے كه عالم صاحب هر ايرے غيرے كي كيوں تعريف كرتے هيں۔ ليكن تاڑنے والوں كي نظر يں عالم صاحب كے توصيفي جملوں كے پيچھے چُھپے هوے ذم اور طنز تك پهنچ هي جاتي هيں۔

 مجھے وه لوگ زياده پسند آتے هيں جن كي كمزورياں خوبيوں سے زياده دل كش هوں۔ عالم بھي ان هي ميںسے ايك هيں۔ جن لوگوں كو صرف ان كي خوبيوں سے سابقه رها هے وه ان كے زياده قريب نهيں هونے پائے۔

 يه بڑي عجيب بات هے كه ملنے والے پر جوں جوں ان كي كمزوريوں كا انكشاف هوتا هے وه ان سے زياده قريب هونے لگتا هے۔ يهاں تك كه اس كي كمزورياں اس كے ليے زلفِ گره گير بن جاتي هيں اور وه اس كے دام سے كبھي نكلنے نهيں پاتا۔ جو لوگ ان كي خوبيوں كے زياده معترف هيں وه ان كے دوست نهيں اور ان كے چاهنے والے جو دوست هيں وه ان كي خوبيوں كو كچھ زياده اهميت نهيں ديتے۔

 ٹي۔ايس۔ايليٹ كے بارے ميں مشهور هے كه وه ادب اور فن كے بارے ميں كوئي نيا نظريه پيش كرتا تو ساري ادبي دنيا ميں هل چل مچ جاتي۔ اور نئے اديب اور نقاد اس كے خيال كولے اڑتے۔ ليكن كچھ هي دن بعد وه خود اپنے نظريه كي تنسيخ كرديتا۔ اور اپنے مقلدين كو عجيب و غريب شش و پنج ميں مبتلا كرديتا۔ يهي حال ايك زمانه تك عالم صاحب كا بھي رها هے۔

 وه مخالفين سے بھي اپني علميت كا لوها منواليتے هيں۔ كميونسٹ پارٹي كي بعض پاليسيوں پر انھوں نے سخت تنقيديں كيں اور اب بھي كرتے رهتے هيں۔ اس كے باوجود بهت سے كميونسٹ رهنما آج بھي ان كے دوست هيں۔ يهي نهيں جب بھي ماركسزم پر كوئي سمينار يا سمپوزيم هو تو اس ميں عالم صاحب كو تقرير كرنے كے ليے اصرار سے بلواتے بھي هيں اور يهي حال اسلامي اداروں اور تنظيموں كا هے كه عالم صاحب كے مذهبي خيالات سے شديد اختلاف كے باوجود عالم صاحب سے ان كو مفر ممكن نهيں۔

 عام طور پر احباب ميں يه بات مشهور هے كه عالم صاحب روپے پيسے كے معاملے ميں محتاط واقع هوے هيں۔ ليكن حقيقتِ حال يه هے كه اگر عالم صاحب كے هاتھ ميں پيسه دے دياجاے اور حساب پوچھنے والا كوئي نه هوتو وه اسے نهايت بے دردي كے ساتھ خرچ كرديتے هيں ان كے محتاط هونے كا اصل راز شايد يه هے كه پهلي تاريخ كو پوري تنخواه مسز عالم كے قبضے ميں چلي جاتي هے اور هر روز وه انھيں اتنا جيب خرچ ديتي هيں كه وه بس كا ٹكٹ اور سگريٹ خريد سكيں۔

 سُنا هے كه اب مسز عالم نے انهيں كچھ چُھوٹ دے دي هے جس كے نتيجے ميں اب عالم صاحب كے بينك اكاو نٹ ميں ڈپازٹ كے علاوه بھي كچھ رقم رهنے لگي هے۔

 ثبوت كے ليے اگر آپ اُن كے پاس چنده مانگنے جائيں تو وه فوري دس بيس روپے كا چيك لكھ كر آپ كے حواله كرديں گے اور بينك ميں پيش كرنے پر وه چيك واپس نهيں هوگا۔

 عالم صاحب كو ان كي قابليت اور علميت كے اعتبار سے كسي يونيورسٹي كا وائس چانسلر هوناچاهيے تھا ليكن وه آئے دن اپني ترقي كي راه ميں خود هي حائل هوتے رهے۔

 جب جب بھي انهيں پروفيسر شپ كے يا هيڈ بننے كے مواقع آئے انھوں نے بڑي خوب صورتي كے ساتھ اپنے آپ كو بچاليا۔ آخر مجبور هو كر يونيورسٹي كو روٹيشن سسٹم لانا پڑا اور اس سسٹم كے تحت ان كو جب مجبور هوكر شعبه فلسفه كا صدر بننا پڑا تو انھوں نے راه فرار يه نكالي كه كشمير ميں وزيٹنگ پرفيسر بن كر چلے گئے۔

 عالم صاحب هميشه دوسروں كو بڑے صائب مشورے ديا كرتے هيں۔ ليكن جب خود كا معامله آتا هے تو ان كي حكمتِ عملي كچھ ايسي رهتي هے كه بنا بنايا كام منٹوں ميں خراب هوكر ره جاتا هے۔ اور تواور وه اپنے خاندان، بيوي بچوں كو بھي غلط مشورے ديتے رهے هيں۔ چنانچه خديجه عالم اگر عالم صاحب كے مشوروں پر كاربند نه هوتيں تو يقينا آج مركزي حكومت يا رياستي حكومت ميں وزير هوتيں يا كهيں كي گورنر هوتيں۔ نتيجه يه هوا كه انهيں سياست سے كناره كش هونا پڑا۔ ليكن ان كے بچوں نے بهت جلد جان ليا كه عالم صاحب كے مشوروں پر عمل كرنے كا كيا انجام هوتا هے۔ چنانچه جاويد عالم كسي يونيورسٹي ميں اب ريڈر هيں۔ معلوم هوا هے كه بهت جلد پروفيسر بننے والے هيں۔

 عالم صاحب ايك عمده استاد هي نهيں ايك اچھے مقرر بھي هيں۔ عام رائے سے انحراف كا جذبه عالم صاحب كي ذات ميں شروع هي سے رها هے جو آج بھي قائم هے۔ مخالف اينگل پر بات كرنا ان كا ايك خاص وصف هے۔ مثلاً موضوع اگر يه هو كه اُردو كو ذريعه تعليم بنانا چاهيے تو ظاهر هے عام مقرّرين كي تقريريں موضوع كي حمايت هي ميں هوں گي ليكن عالم صاحب اس انداز ميں تقرير كريں گے جيسے اُردو كو ذريعه تعليم بنانا نهايت مهلك هے۔

 هر پڑھا لكھا آدمي يه جانتا هے كه عالم صاحب ايك سلجھا هوا تجزياتي ذهن ركھتے هيں۔ بات اگر غالب كي چل رهي هو تو وه مومن كا ذكر چھيڑديں گے اور مير كو درميان ميں اس طرح لاتے رهيں گے كه آپ كے پلے يه بات مشكل هي سے پڑے گي كه عالم صاحب نے مومن كو غالب پر فوقيت دي هے يا غالب كو مير پر۔ يا وه تينوں هي كو ايك هي رُتبے اور مرتبے كا شاعر سمجھتے هيں۔

 عالم صاحب ايك خالص علمي آدمي هيں انھيں نه موسيقي سے كوئي لگاو هے اور نه وه ان ڈورآوٹ ڈورگيمس ميں كوئي دل چسپي ركھتے هيں۔ رمي سے تو انهيں ايك چڑسي هے اگر كوئي زبردستي ان كے هاتھ ميں پتّے تھمابھي دے تو بازي ختم هونے تك وه كوئي چال هي نهيںچليں گے تاوقتيكه ان كا كوئي ساتھي ان كے هاتھ سے نه چھين لے۔

 عالم صاحب سگريٹ بھي زياده پيتے هيں خاص طور پر اس وقت جب موضوع ترسيل كي ناكامي كا الميه هو۔

 كبھي كبھي كسي ادبي محفل ميں ايسي تقرير بھي كرجاتے هيں كه لوگ عالم صاحب كے چهرے كو تكتے هي ره جاتے هيں۔ ايك جانے پهچانے شاعر كے شعري مجموعه پر عالم صاحب كو ايك مضمون پڑھنا تھا اور حسب عادت وه بغير مضمون هي كے جلسه گاه پهنچ گئے اور تقرير كچھ اس طرح شروع كردي۔

 اقبال كے بعد جديد عهد كا سب سے بڑا شاعر يهي هے۔ عالم صاحب كي اس توصيف سے شاعر صاحب بهت خوش هوے۔ اور كئي دنوں تك عالم صاحب سے اصرار كرتے رهے كه وه اپنے ظاهر كرده خيالات كو ضبط تحرير ميں لے آئيں ليكن عالم صاحب وعدوں پر هي ٹالتے رهے يهاں تك كه بات آئي گئي هوگئي۔

 پچھلے دنوں مجھے ايك صاحب سے ملنے كا اتفاق هوا جو بمبئي سے آئے هوے تھے۔ اور بطورِخاص عالم سے ملنا چاهتے تھے۔

 انھوں نے عالم كا پته پوچھا تو ميں نے كها۔ وه تو كافي دُور رهتے هيں۔ شايد آپ ان كے گھر صحيح خطوط پر پهنچ نه پائيں۔ يه گمان مجھے اس ليے بھي گزرا كه وه بار بار عالم كو عالمِ هي كهه رهے تھے يه علحده بات هے كه وه عالمِ بھي هيں اور عالم بھي۔

 اُردو ادب كے ساتھ ساتھ سارے عالمي ادب كے اتار چڑھاو اور اس كي منفي اور مثبت قدروں كي شناسائي جتني عالم صاحب كو هے وه بهت كم لوگوں كے حصّے ميں آئي هے۔ عالم جب بات كرتے هيں تو ايسا لگتا هے جيسے كسي گهرے سمندر كي تهه سے كئي صدف به يك وقت باهر نكل كر ساحل پر آگئے هوں۔

 اور يه اپني اپني توفيق كي بات هے كه كوئي ان قيمتي موتيوں كو هاتھ بڑھا كر اٹھالے يا ايك نظر ڈالے بغير آگے بڑھ جائے۔

 عالم صاحب اپنے پرانے ياروں كا بھي بڑا خيال ركھتے هيں۔ ان كے ايك ايسے هي يارنے اپنے قرض كے ايك كاغذ پر بطورِ ضامن ان سے دستخط لے ليئے اور هميشه كي طرح اپنے كاموں ميں مصروف هوگئے۔

 دو ايك برس بعد هي عالم صاحب نے اپنے گھر كے سامنے ايك مشكوك آدمي كو ديكھا جو صورت شكل سے ٫٫بيلف٬٬ سالگ رها تھا۔ اس كے ساتھ دوتين اور بھي آدمي تھے جو عالم صاحب كے چهرے كي بجاے ان كے مكان كا جائزه لے رهے تھے۔ عالم صاحب نے معاملے كي نزاكت كو بھانپ ليا اور ايك لمحه ضائع كيے بغير ايك خطير رقم اس آدمي كے هاتھ ميں تھمادي اور اپنے پرانے يار سے ملاقات هونے پر كبھي يه نه پوچھا كه بھلے آدمي تم نے ايسا كيوں كيا۔

 سليمان اريب سے عالم كے بڑے گهرے مراسم تھے يهاں تك كه صفيه اور اريب كي شادي ميں بھي ان كا زبردست هاتھ رها هے۔ اس ضمن ميں ايك واقعه بھي سن ليجے۔

 جب صفيه اور اريب كي شادي كا معامله كھٹائي ميں پڑ گيا تو اريب نے عالم كو سمجھا بجھا كر اپنے هونے والے خسر كے پاس بھجواديا كه وه انھيں اپنا داماد قبول كرليں جبكه لڑكي شادي كے ليے هر طرح راضي هے۔ يوں بھي صفيه كے والد عالم صاحب سے اچھي طرح واقف تھے۔ صفيه بھي پر اميد تھيں كه يه معامله عالم صاحب هي كے هاتھوں طے پاسكے گا۔

 عالم صاحب گئے تو تھے اريب كي سفارش كرنے ليكن هر دو كے درميان مكالمے كچھ اتنے دل چسپ اور طولاني هوگئے كه كهاني كهيں درميان هي ميں دب كر ره گئي۔

 وه مكالمے كچھ يوں تھے۔

 ٫٫كيا اريب واقعي بهت شراب پيتا هے۔؟٬٬

 ٫٫جي هاں صحيح سنا هے، آپ نے۔٬٬

 ٫٫كيا وه شراب چھوڑ نهيں سكتا۔؟٬٬

 ٫٫بهت پراني عادت هے بے چارے كي۔٬٬

 ٫٫كيا يه سچ هے كه وه بے روزگار بھي هے۔٬٬

 جي هاں بے روزگار تو هے هي اس پر طرفه يه كه ايك ادبي پرچه بھي نكالتا هے جس كا نام ٫٫صبا٬٬ هے۔٬٬

 ٫٫اچھا يه بھي كرتا هے۔٬٬

 ٫٫جي هاں۔ جي هاں۔٬٬

 غرض كه جب عالم صاحب باهر آئے تو صفيه نے سر پيٹتے هوے كها۔ عالم صاحب آپ نے تو سارا معامله چوپٹ كرديا۔ اب تو بات بالكل بگڑگئي هے۔ جواباً عالم نے صفيه سے كها ذرا سوچو ميں يه كس طرح جھوٹ كهه سكتا تھا كه اريب بے روزگار نهيں هے اريب شرابي نهيں هے اريب ايك ادبي پرچے كا ايڈيٹر بھي نهيں هے۔

 عالم كے بارے ميں بعض لوگوں كا خيال هے كه وه اُردو ميں لكھنے كي بجائے صرف انگريزي هي ميں لكھتے هوتے تو آج هندوستان ميں ان كے كيلي بر كے دو ايك هي دانشور هوتے ۔

 جهاں بات علمي سطح كي هو وهاں هم عالم صاحب كا ذكر كيئے بغير دو قدم بھي آگے نهيں چل سكتے۔

 ايك صاحب جو عالم كے سخت مخالف تھے ايك تقريب ميں اچانك اُن سے ميري ملاقات هوگئي۔ اِدھر اُدھر كي دو ايك باتوں كے بعد انھوں نے عالم كے بارے ميں كچھ اتنا زهر اُگلا كه طبيعت مُكدّر هوكر ره گئي۔ وه غصّے ميں ڈوبے هوے تو تھے هي دولها سے گلے ملے بغير جاتے جاتے مجھ سے كها۔ ٫٫آدمي كچھ نه هو عالم ضرور هو۔٬٬

 اس وقت وه آدمي مجھے منٹو كي كسي كهاني كے كردار كي طرح لگا۔ ميں نے سوچا يه آدمي تھوڑي دير اور ٹهر گيا هوتا تو شايد ايك آدھ اچھي كهاني هاتھ آهي جاتي۔

 عرصے پهلے كي بات هے۔ عالم صاحب كے ايك مداح نے مجھے ايك خط لكھا تھا۔

 ٫٫كيا يه ممكن نهيں كه حيدرآباد كے لوگ هميں عالم كو ديديں اور معاوضے ميں يهاں كے سارے اديبوں اور شاعروں كو لے ليں۔٬٬

 چونكه يه سراسر گھاٹے هي كا سودا تھا۔ اس ليے ازراهِ مذاق ميں نے بھي ٫٫ايك جنّاتي نام يهاں سے لكھ بھيجا۔ اس كے بعد يوں هوا كه انھوں نے خط و كتابت هي بند كردي۔

 آج عالم صاحب جب بھي مجھ سے ملتے هيں تو وه خط مجھے ياد آتا هے اور ميں ايك گهري سوچ ميں ڈوب جاتا هوں كه عالم صاحب نے تو تنقيد كي ايك بھي كتاب نهيں لكھي۔


l

l
















سليمان اريب


 اَريب سے ميري پهلي ملاقات ÷١٩٥٣٣÷ئ ميں هوي۔ وه هندي پر چار سبھا كے آفس كے قريب لاهوٹي سے باتيں كرتا هوا پته نهيں كهاں جارها تھا۔ جب اسے اس بات كا علم هوا كه ميں بھي افسانه نگار هوں تو اس نے بڑي محبت سے عوامي مصنفين ميں مجھے كهاني سنانے كي دعوت دي اور ساتھ ساتھ يه بھي كها كه اگر كهاني زياده پسند كي گئي تو وه اسے ٫٫شاهراه٬٬ كو بھجوا دے گا ó۔ó

 اس زمانے ميں، حيدرآباد ميں عوامي مصنفين كا بڑا زدر تھا جو ترقي پسند مصنّفين كا بدلا هوا نام تھا جس كا سكريٹري بھي غالباً وهي تھا۔ ماهناموں ميں ٫٫شاهراه٬٬ كي بڑي دھوم تھي اور دوماهي رسالوںميں پركاش پنڈت كے پرچے ٫٫فنكار٬٬ نے اپنے ليے ايك خاص جگه بنالي تھي۔

 اس نے رخصت هونے سے قبل پھر ايك بار ٫٫شاهراه٬٬ كے ناتے سے كهاني كي فرمائش كي تو مجھے اس كا يه سرپرستانه انداز يك لخت پسند نه آيا۔ ميں نے قدرے ناگواري سے كها اب اس قصّے كو رهنے ديجئے، كوئي اور بات كيجئے اريب صاحب۔ بهر حال بات آئي گئي هوگئي، نه اس نے ميري صاف گوئي كا برا مانا نه ميں نے اس كي محبت بھري سفارش كا سهارا ليا ليكن جب بھي وه مجھ سے ملتا اس سلسله ميں مجھے ضرور چھيڑتا۔

 پھر ايك دن ميں ٫٫صبا٬٬ كے آفس ميں بيٹھا تھا كه ڈاكيه نے كئي ايك پرچوں اور كئي خطوں كے ساتھ ايك لمبا لفافه بھي اس كے هاتھ ميں تھماديا۔ ان خطوں ميں كسي نے اس كي تازه غزل كي تعريف كي تھي تو كسي نے اسے مشاعرے كي قبل از قبل اطلاع دي تھي۔ جب اس نے بڑي دير تك اس لمبے لفافے كو هاتھ نهيں لگايا تو مجھے تشويش هوي پھر اچانك شائد اسے ياد آگيا كه وه لفافه چاك كرنا بھول گيا هے۔ اس لفافے ميں اقبال متين كا افسانه تھا جسے پركاش پنڈت نے معذرت كے ساتھ واپس كرديا تھا۔ جب ميں نے اس كي طرف معني خيز نظروں سے ديكھا تو اس نے قدرے مسكراتے هوے كها۔ ٫٫ميں لكھ چكا هوں۔٬٬ اس نے اس سلسله ميں ايك خط لكھا اور وه كهاني بالآخر چھپ گئي۔ يهاں يه سب كچھ لكھنے كا يه مطلب نهيں كه اقبال متين جيسے افسانه نگار كو كسي سهارے كي ضرورت تھي۔ يه تو اريب كي محبت تھي خلوص تھا جو اسے چپ بيٹھنے نه ديتا تھا۔ وه تو ياروں كا يار تھا۔

 اقبال متين كے علاوه سردار سليم بھي اس كا قريبي يار تھا جو خير سے ميرا بھي دوست تھا۔ ان دنوں كمره نمبر ٫٫ ý١٧٧ý٬ پر روزانه حاضري دينا اس كا معمول تھا۔ سردار ايك ذهين مگر نرا جذباتي آدمي تھا۔ ميں اسے اكثر چھيڑا كرتا تھا كه تم اريب كي شخصيت سے مرعوب هو بلكه اس سے ڈرتے بھي هو۔ دبلا پتلا سردار جو پينے كے بعد اكثر پهلوان بن جايا كرتا تھا كافي بھڑك اُٹھتا۔ پھر اس كا كھردرا هاتھ ميري ٹھوڑي پر هوتا۔ ٫٫جي كيا فرمايا عوض سعيد صاحب آپ نے۔ سردار اريب سے ڈرتا هے سردار كسي كے باپ سے نهيں ڈرتا۔٬ ý٬ý

 پھر اس كي زبان قينچي كي طرح چلنے لگتي۔ جب تك وه اريب كي شان ميں كچھ نه كهتا همارا جي نه بھرتا۔

 قدرے بدلي هوي صورت ميں يهي حال اقبال متين كا بھي تھا ليكن يه آدمي كچھ اتنا هوشيار تھا كه اريب سے لے كر محله كا بيكري والاتك اس كا دوست تھا۔ يه گنجا صليب بر دوش آدمي نه ناراض هي هوتا اور نه كبھي برهم۔ مگر ميں نے يه ٹھان ركھي تھي كه كسي بهانے اُسے غصّه دلاياجائے۔ آسان صورت يهي تھي كه اريب كي شخصيت كو درميان ميں لايا جائے۔

 پھر ايك دن وه سردار كے ساتھ سڑك سے جاتا هوا دكھائي ديا تو ميں نے اِدھر اُدھر كي باتوں كے بعد اپنے تركش سے ايك تير نكالا اور چلاديا۔ ٫٫ميرا خيال هے تمهارا مجموعه اريب كي رائے كے بغير بھي مجموعه هي رهتا۔ ليكن پھر بھي ديباچه كے ليے تمهيں اريب كے گھر كے كئي چكر كاٹنے پڑے۔٬٬

 اس بار وه خلافِ توقع غصّه سے بھڑك اُٹھا اور بات نے تلخي اختيار كرلي۔ اس كے بعد ميں نے اسے كبھي نه چھيڑا۔

 ميں نے ايك دن اس سے پوچھا۔ ٫٫اريب ميں آخر كيا كشش هے جو لوگ اس سے ملنے كے ليے مچلتے هيں۔٬٬

 جواباً اس نے سرگوشي كے انداز ميں كها۔ ٫٫پيارے وه بڑا نفيس آدمي هے۔ ايك دم نفيس۔٬٬ مگر مجھے اس كي شرافت قائل كرتي هي نه تھي۔ شائد اس كي وجه يه هو كه ميں نے اپني كوتاه بيني كے سبب اسے سمجھنے كي كوشش نه كي هو۔ مگر ان ساري باتوں كے بعد جب اريب مسكراتا هوا هم سے ملتا تو لگتا جيسے واقعي وه ايك اونچا آدمي هے۔ قدآور۔

 اسے اپنے احباب كے ساتھ چنده كر كے چائے اور شراب پينے ميں زياده مسرت هوتي تھي۔ ليكن اس كے مزاج كا اُكھڑپن اور حد سے بڑھي هوي انا كے سبب اكثر پينے پلانے كي محفلوں ميں بدمزگي پيدا هوجاتي تھي۔ چوتھے اور پانچويں پيگ كے بعد وه عموماً بهك جاتا تھا۔ اور مينڈك كي طرح ٹرانے لگتا تھا۔ ايسے وقت ميں اس كي زد سے بچ نكلنا مشكل هوتا۔ وه حالت نشه ميں كچھ ايسا پاگل هوجاتا تھا كه اسے يه خبر تك نه هوتي تھي كه مخالف اس كے مسلسل تھوك اڑانے پر احتجاج كررها هے۔ اتفاقاً كبھي بار ميں اس كا كوئي عزيز ساتھي ﴿ايسے ساتھيوں ميں سردار سليم، اقبال متين اور عزيز قيسي كے نام ليے جاسكتے هيں﴾۔ اس كي كسي دُكھتي رگ پر هاتھ ركھ ديتا تو وه بپھرجاتا تھا۔ ليكن كهي هوي بات اگر اس كے ذهن ميں جونك كي طرح چمٹ جاتي تو وه اسے فوراً جھٹك كر بچوں كي طرح رونے لگتا۔ اور بار سے يك لخت اُٹھ كر كهيں اور چلا جاتا۔ اس كے سارے احباب چيخ اُٹھتے۔٫٫ اريب ٹھيرو۔ رك جاو٬٬ ميري جان اريب۔ آخر چلاگيا مردود۔٬٬

 وه بڑا نفاست پسند اور خوش پوشاك واقع هوا تھا۔ لباس خواه وه كسي قسم كا كيوں نه هو اس كے جسم پر خوب سجتا تھا ليكن وجے نگر كالوني ميں منتقل هونے سے پهلے اس كے هاتھ ميں ايك زنگ خورده سي چيز چمٹي رهتي تھي جسے وه سيكل كهتا۔ اور اس احتياط سے اس پر سوار هوتا تھا جيسے هندوستان كا كوئي باشنده صحرائے عرب كے كسي ناقے پر پهلي مرتبه بيٹھ رها هو۔

 وه به يك وقت ٫٫صبا٬٬ كا ايڈيٹر بھي تھا۔ مينجر بھي تھا اور منشي بھي ليكن خطوط نويسي كے معاملے ميں بڑا هي غير ذمه دار اور كاهل واقع هوا تھا۔ اس كي كوتاه قلمي كا يه عالم تھا كه وه شاعروں ، اديبوں اور ساتھيوں كو جواب ديتا بھي تھا تو صرف چند سطور ميں۔ چهرے پر بال بكھرائے اور منه ميں چار مينار سگريٹ دبائے دو تين گھنٹوں كي غوطه زني كے بعد بھي وه مشكل سے چند خطوط كے جوابات دے سكتا تھا۔ ايسے وقت كمره نمبر ١٧٧ پر دوست احباب اچانك هلّه بول ديتے تو وه ان خطوط كو پوسٹ بھي نه كر پاتا تھا۔ اس كے اس فن كا رانه لا ابالي پن نے بهت سے لكھنے والوں كو اس سے دور كرديا تھا۔ مگر مزے كي بات يه تھي كه كسي خاتون كي كوئي چيز٫٫ صبا٬٬ ميں چھپنے كے ليے آجاتي تو اس كي كوتاه قلمي زود نويسي ميں بدل جاتي اور اس كا سست روقلم بجلي كي طرح چلنے لگتا ó۔ó

 دراصل عورت اور شراب اس كي دو ايسي كمزورياں تھيں جس كے هالے ميں اس كا چهره صاف دكھائي ديتا تھا۔اگر كسي نے اسے ٫٫بزمِ خيام٬٬ ميں مدعو كيا هو تو وه صبا كو پريس ميں پھينك آنے كا خيال كيئے بغير اچانك غائب هوجايا كرتا تھا۔

 مجھے ياد هے اس نے مجھے اور شاذ كو ايك بنگلے كے نيچے كھڑا كر كے كسي كو تاه قامت خاتون سے ايك طولاني گفتگو شروع كردي تھي۔ ٫٫صبا٬٬ كي وه مهم جس كا هلكا سا خاكه لئے هم چل پڑے تھے وه اسے شايد بھلاچكا تھا۔ جب كافي دير هوگئي تو شاذ نے كاغذ كے ايك پُرزے پر مخدوم كا يه مصرعه لكھ بھيجا۔

 ٫٫مورِ بے جان سے سليمان بهت كھيل چكا۔٬٬ اور وه مارے خفّت كے نيچے اُترآيا تھا۔ دوسرے دن بھي صبا كي خريداري اوراشتهارات كي مهم كسي وجه سے سرد پڑجاتي تو وه خود پرهنس پڑتا اور پھر جب سر پر كام كا بھوت سوار هوجاتا تو وه صبا كے ليے اپني زنگ خورده سيكل پر مارا مارا حيدرآباد كي سڑكوں پر گھوما كرتا اورجب كافي تھك جاتا تو كهه اٹھتا۔

سيكل سوار بن كے گنهگار هم هوئے

 اريب كو كمره نمبر ١٧٧ سے بڑي محبت تھي۔ ٫٫ ý١٧٧ý٬ جهاں اديب، شاعر موسيقار كاتب سب هي يك جا هوتے تھے اور ايك طويل عرصے تك كرايه ادا نه كرسكنے كے سبب اسے قرقي كا نوٹس ملتا تھا، تو ٫٫ ý١٧٧ý٬ سے چند دنوں كے ليے اديب، شاعر، صحافي سب هي ايك ايك كر كے غائب هوجايا كرتے تھے اور تنها اريب ره جاتا تھا ó۔ó

 اريب پر كبھي كبھار خوش فهمي كا بھوت بھي سوار هوجايا كرتا تھا۔ ايك واقعه جو ايك لطيفه سے كم نهيں هے يه هے كه اس نے يه سوچے بغير كه سياست ميں اس كا كيا مقام هے بلديه كا الكشن لڑنے كي ٹھان لي۔ يه غالباً í٥٣٣í ٥٤٤ ئ كي بات هے وه بنجاره هلز كے حلقے سے كونسلر كي سيٹ كے ليئے ايك اميدوار كي حيثيت سے كھڑا هوگيا۔ وحيد اختر، شاذ اور دوسرے احباب اس كي كينوسينگ (Canvassing) كے ليے مقرر كيے گئے تھے جو يا تو اپني تازه نظميں ايك دوسرے كو سناتے تھے يا اريب كے بھولپن پر هنستے تھے۔ لطف كي بات يه تھي كه خود اريب بھي اس مسخره پن ميں شامل رهتاتھا۔ اپني ضمانت ضبط كروانے كے بعد بجاے شرمنده هونے كے اس طرح خوش هوا جيسے اس نے ايك بهت بڑاتير مارليا هو ó۔ó

 اريب كي حسِ ظرافت بھي كافي تيز تھي۔ وه اپني ذات كو مذاق كا هدف بناكر خود بھي هنستا تھا اور دوسروں كو بھي هنساتا تھا۔

 جن دنوں وه اے۔ سي گارڈز كے چھوٹے سے خسته مكان ميں رهتا تھا اكثر ميں اور شاذ كمره نمبر ١٧٧ سے بازار گھاٹ كے چوراهے تك اس كے ساتھ پيدل چل كر آتے اور باتوںميں منهمك هوجاتے ó۔ó

 باتوں باتوں ميں فلمي اداكاروں اور شاعروں كے معاوضے كي بات چل نكلي تو شاذ نے كها۔ ٫٫كيوں نه هم تينوں فلمي دنيا ميں چلے جائيں تاكه اس كرب سے نجات ملے۔ ٫٫اريب صاحب آپ فلمي شاعر نه سهي اپنے لمبے قد كے سبب هيرو توبن سكتے هيں ليكن هماري ٹريجڈي تو يه هے كه همارا قد چھوٹا هے۔٬٬ اريب نے بے ساخته كها۔ ٫٫تو پھر كير كٹر ايكٹر٬٬ يه كهه كر وه قهقهے لگانے لگا اور هم بھي اس كے قهقهوں ميں شامل هوگئے۔

 اريب كے گھر چوري كي خبر جب اخباروں ميں چھپي تو بيشتر احباب بجائے افسوس كرنے كے هنستے هي رهے كيوں كه انھيں اس بات كا پورا اطمينان تھا كه اريب كے هاں چور كے منصب اور مقام كي كوئي چيز هي نهيں هے۔

وضع داري، شرافت محبت اور خلوص كے باب ميں وه ان لوگوں سے كهيں بهتر تھا جو محض دوستي اور محبت كا ڈھونگ رچاتے هيں۔ وه جتنا اونچا پورا تھا اتنا هي كم خوراك بھي تھا۔ دعوتوں ميں جهاں اكثر اديب شاعر حضرات اچھے كھانے پر ٹوٹ پڑتے تھے وهاں وه بڑے سليقے اور تهذيب كا مظاهره كرتا تھا۔ ليكن بنتِ عنب سے هم آغوش هونے كے بعد اس كي يه ساري خوبياں دھر ي كي دھري ره جاتي تھيں۔ ايسے وقت كسي كي زبان سے ايك كلمه بھي اس كے مزاج كے ناموافق نكل جاے تو وه بپھرجاتا تھا۔ كبھي كبھار جب اس كے غصّے كا پاره چڑھ جاتا تو وه اپنے مخالف كے سر پر گلاس پھينك مارنے ميں بھي دريغ نه كرتا۔ مگر صبح جب اس سے ملاقات هوتي تو سب سے پهلا آدمي وهي هوتا جو اپنے رُوٹھے هوے ساتھي كو پيار سے گلے لگاتا چاهے اس كا ادبي قد صفر كے برابر كيوں نه هوتا۔ اس ليے اگر هم رات كے سليمان اريب اور دن كے اريب كا محاسبه كريں تو اس كي تهه در تهه شخصيت كے ساتھ بهت دور تك جانا هوگا۔ جذباتي اور يك طرفه نگاه ركھنے والوں كو بھلا كيا پڑي تھي كه وه يه درد سرمول ليتے۔ اس ليے وه اسے به آساني نامعقول آدمي كهنے سے بھي جھجكتے نه تھے۔

اريب نے شاعري سے پهلے مجاز اور اختر شيراني كي طرح بڑي بوهميين زندگي گزاري تھي ايسے وقت اس نے اخلاق كے سارے سكه بند پيمانے توڑ بھي ديئے هوں تو كوئي تعجب كي بات نهيں۔

 وه اپني بے شمار خاميوں اور خوبيوں سميت اپني ذات ميں بڑي كشش ركھتا تھا۔ كوئي بڑا شاعر يا اديب ايسا نه تھا جو حيدرآباد آئے اور اس سے نه ملے۔ كوئي شعري محفل ايسي نه هوتي جس ميں اس كي شركت ناگزير نه سمجھي گئي هو۔

 وه اعلي سوسائيٹي سے لے كر ادني سوسائيٹي تك كا منظورِ نظر تھا۔ شادي سے پهلے لڑكياں اس كي كمزوري تھي اور شادي كے بعد صفيه اس كي كمزوري بن گئي تھي۔ وه صفيه كے بغير شائد سانس بھي نه لے سكتا تھا۔ محبت كي شادي كي اس سے اچھي مثال شايد هي ملے۔

 وه سماج كے مروّجه اخلاقي پيمانے پر كبھي پورا نه اُترا اور اسے اس بات كا غم بھي نه تھا كه وه ايك شاعر بدمست كي حيثيت سے شهرت حاصل كررها هے۔ همارے ليے مقدم اس كي وه خوب صورت شاعري تھي جس كے بل بوتے پر وه سر اُونچا كيے پھرا كرتا تھا۔ ارد گرد پھيلي هوي خود غرضي، منافقت اور جھوٹ سے اسے الله واسطے كابير تھا۔ كيوں كه وه اپني ذات سے ايك سچا، خوددار اور كھرا آدمي تھا۔ اس بگڑے هوے معاشرے ميں جهاں سانس ليتے هوے بھي احتياط برتني پڑتي هے وه اسے پے درپے ٹھوكر لگاتارها۔ اگر وه مجلسي آدمي هوتا تو كسي بگڑے نواب زادے كا شريكِ بزم بن جاتا مگر وه خود اپني انا كے بل بوتے پر اپنا هي لهو زندگي بھر پيتا رها۔ اريب مرنے سے چند دن پهلے دلّي ريڈيو كے مشاعرے سے جب حيدرآباد لوٹا تو گمان نهيں گزرتا تھا كه يه آدمي چند ماه بعد هميں دھوكه دے جائے گا۔

 انور معظم كے گھر اريب سے ملاقات هوي تو اس نے باتوں ميں كها۔ ٫٫تمهيں ايك بات سناتا هوں تم يقين نهيں كرو گے اور ميرا بھي يقين كرنے كو جي نهيں چاهتا۔ مگر دلّي ميں بهت سے لوگوں نے مجھے بتايا كه شاذ نے ميري شركت كے خلاف ريڈيو والوں كو ايك شكايتي خط لكا تھا۔٬٬ ميں اور انور معظم نے اسے سمجھايا كه وه تو باهر كے مشاعروں ميں آئے دن جاتا رهتا هے وه بھلا ايسي گھٹيا حركت كيوں كرنے چلا۔

 دوسرے دن ميں نے شاذ سے اس باب ميں پوچھا۔ تو اس نے كها۔ ٫٫يهه سراسر بهتان هے۔ هوسكتا هے يه چند مسخروں كي شرارت هو اگر ميري كوئي تحرير ريڈيو والے بتاديں تو ميں مان لوں كيوں كه شكايتي تحرير پر نام اور پته لكھا نه هو تو اسے فائل كرديا جاتا هے۔٬٬

 اسي شام عابد روڈ كي ايك دكان سے شاذ نے فون ملا كر ريسيور ميرے هاتھ ميں تھماديا كه تم اريب سے بات كرو اور كهه دو كه يه سب بكواس هے وه اپنے ذهن كو صاف كرليں۔ ميں نے شاذ كے حوالے سے صرف اتنا كها كه شاذ كے نام سے كسي نے آپ سے شرارت كي هے وه كهه رها هے آپ اپنے دل سے اس بدگماني كو نكال ديں يا اس كا ٹھوس ثبوت فراهم كريں۔

 اريب نے اپني بيٹھي هوئي آواز ميں كها۔ مجھے كسي ثبوت كے فراهم كرنے كي ضرورت نهيں۔ شاذ جب كهه رها هے توميرے ليے يهي كافي هے اس سے كهه دو ميرا دل صاف هے۔٬٬

 اس بات سے اريب كے مزاج كا اندازه هوتا تھا كه دوستوں كے ليے اس كے دل ميں كتني جگه تھي حالانكه شاذ سے اس كے تعلقات ايك مدّت سے استوار نه تھے۔ اريب كي بيماري كے زمانے ميں مغني تبسّم اور انور بالا لتزام كينسر هاسپٹل جايا كرتے تھے۔ كبھي كبھار ميں بھي چلاجاتا تھا كيوںكه اريب كو جاكر ديكھنے كے ليے بڑے دل گُردے كي ضرورت تھي۔ اسے ديكھ كر دم گھٹ جاتا تھا اور هر لمحه يه خيال ذهن كو كچو كے لگاتا تھا كه يه آدمي اب هم ميں نهيں رهے گا اور اس الميه سے دوچار هونے كو كسي طرح جي نه چاهتا تھا۔ اريب جوكھانا كھانے كے بعد كم از كم دوگلاس پاني پينے كا عادي تھا آخري زمانے ميں پاني كے ليے ترس گيا۔ كيوں كه وه نه پاني پي سكتا تھا اور نه اسے پچاسكتا تھا۔ اس كرب اور بے چارگي كے عالم ميں بھي كسي ساتھي كے آنے پر اس كا هاتھ مصافحه كے ليے ضرور آگے بڑھتا اور وه هر دواخانه آنے والے ساتھي كا مسكراهٹ كے ساتھ استقبال كرتا۔

 ايك دن ميں اور مغني اس كے پاس بهت دير تك بيٹھے رهے۔ وه كسي سوچ ميں گم تھا پھر ڈريسنگ كے ليے ايك نوجوان نرس بوڑھے وار ڈبوائے كے ساتھ اريب كے كمرے ميں داخل هوي تو هم لوگ اُٹھ كر باهر آگئے۔ بهت دير تك هم دونوں كمرے كے باهر هي ٹهلتے رهے۔ نرس اور وارڈ بوائے كے جانے كے بعد هم اس كے بيڈ كے قريب كرسي كھِسكا كر بيٹھ گئے۔ اس نے به مشكل اپنے زخم آلود حلق سے آواز نكالي۔ ٫٫تم لوگ خواه مخواه ميرے ليے اتني تكليف اٹھارهے هو۔ مجھے بڑا دُكھ هوتا هے كه ميرے دوستوں كو تكليف اٹھاني پڑ رهي هے۔٬٬ يه كهه كر وه كچھ آبديده سا هوگيا۔

 ٫٫ايسا نه سوچيے۔ اس ميں تكليف كي كيا بات هے۔٬٬ هم لوگ كهتے رهے۔

 ه تھوڑي دير يوں هيك كھڑكي كي طرف ديكھتا رها پھر اس پر اچانك غنودگي طاري هوگئي۔ اس وقت جھماجھم بارش هورهي تھي بادل گرج گرج كر برس رهے تھے۔ هوائيں جيسے نوحه كناں تھيں۔ مغني نے دھيرے سے كها۔ آو سامنے هوٹل ميں چائے پيئيں۔ مغني كے چهرے سے كبيدگي ٹپك رهے تھي۔ هوٹل ميں داخل هونے تك هم بھيگ چكے تھے۔ چاے پيتے پيتے مغني نے كها۔ ايك نظم سينے۔

 پھر انهوں نے وه نظم سُنائي جو اريب كي بيماري كے آخري دنوں كي ياد گار تھي۔


يه بادل برستے رهيں

يه بادل برستے رهيں

ميں نے سوچا تھا ايسا

كه بادل برستے رهيں

مجھے خوف تھا آنه جائے كهيں

وه ٫٫موعود٬٬ جوراستے ميں كسي پيڑ كے نيچے شايد كھڑا هے

تبھي ميں نے سوچا تھا

بادل برستے رهيں

نه جانے وه كس سوچ ميں گم تھے۔

يكلخت رونے لگے

بجلياں چيخنے اور تڑپنے لگيں

ميں بهت خوش هوا

كه بادل برسنے لگے


ميں اُٹھا

اپنے بستر پر پهنچا

لحاف اوڑھ كر سورها

يك بيك فون۔

سمجھا وهي هوگا۔

﴿جواب نه جانے كهاں هے﴾

مگر اآج تك ميرے كانوں ميں بجتي هيں وه گھنٹياں

جو بهت دير تك مجھے سے فرياد كرتي رهيں

موت كي


 يكبارگي مجھے لگا جيسے موت كا عقاب كينسر هاسپٹل كي عمارت كے اردگرد كهيں منڈلا رهاهے۔ هوا كے هر زخمي جھونكے اور بارش كے هر اداس قطرے پر اريب كي آخري سانس كا گمان هورها تھا۔ وه خوف كے بطن سے جنم لينے والے وسوسوں كي آخري گمبھير رات تھي جس ميں ڈوبا هوا ميں گھر لوٹا تھا۔

 پھر،۔ سپٹمبر كي وه صبح بھي آئي جب عالم خوند ميري اور مغني نے ميرے گھردستك دي۔ ميں سمجھ گيا كه آج حيدرآباد كا اميج كرچي كوچي هو كر هوا ميں تحليل هوچكا هے۔


ديكھنا

درد كے نواح ميں

اُفق كي سمت

لاش جارهي هے

كون لوگ جارهے هيں شام كي طرف؟




















قاضي سليم


 قاضي سليم كے ساتھ سب سے بڑي مشكل يهي هے كه وه جتنے بھلے آدمي هيں اتنے هي بھلے شاعر بھي هيں سادگي، شرافت، وضع داري، دوست نوازي، نيك نفسي هير پھير كر ان هي كي شخصيت پر آكر ختم هوجاتي هے بلكه دم توڑديتي هے اور پھر ان كي ذات كے كشكول ميں كچھ باقي نهيں رهتا۔ نه قاضي نه سليم۔ بس ايك قلندر۔ ميں نے قاضي سليم كو هميشه لٹتے هوے ديكھا هے۔ كسي كو لُوٹتے هوے نهيں۔ اس كا اندازه آپ به آساني ان كي صحت سے بھي لگا سكتے هيں۔ اُن كے قريبي دوست انور معظم انھيں صرف قاضي كهتے هيں۔ پته نهيں لفظ سليم ان كے حلق كے نيچے كيوں نهيں اترتا۔ ايك دفعه انھوں نے بڑي مسرّت كے ساتھ كها۔ سنو۔ قاضي آرهے هيں۔ ميں نے هڑبڑاكر كها تو ميں پھر چلتا هوں۔

 ٫٫عجيب آدمي هو بلكه بد ذوق بھي هو۔ قاضي يهاں نهيں رائل هوٹل ميں هم سے مليں گے۔٬٬ ميں نے جواباً كها۔٬٬ ميں قاضي سے صرف ايك بار مل چكا هوں۔ اب دوسري بار ملنے كي حسرت نهيں هے۔

 انھوں نے ميري شرارت كو بھانپتے هوے كها۔٫٫ براتيوں مين همارے علاوه صرف مغني هي رهيں گے٬٬

 عقد كي محفل ميں قاضي كي آمد كے ساتھ هي جس طرح براتيوں كي آنكھوںميں اچانك چمك پيدا هوجاتي هے اسي طرح جب قاضي سليم كسي ادبي محفل ميں براجمان هوتے هيں تو ان كے مداح فرطِ احترام سے اٹھ كھڑے هوتے هيں ايسے ميں اچانك اُن كا كوئي لنگوٹيا يار مل جائے تو وه اسے اس طرح ٹكر ٹكر ديكھتے هيں جيسے كهه رهے هوں اس ميں بھلا ميرا كيا قصور هے۔

 ميں نے جديد شاعروں ميں صرف قاضي سليم هي كو ايك ايسا شخص پايا هے جس نے نام و نمود، سستي شهرت اور تشهير سے اپنے آپ كو بچائے ركھا بلكه وه مدّتوں اپني هي ذات كو مذاق كا هدف بناتے رهے۔

 ٫٫شاعري جتني نكھر رهي هے گمنامي اتني هي بڑھتي جارهي هے٬٬ بے تكلّف محفلوں ميں ان كاكها هوا يه دل چسپ جمله آج بھي گونجتا هے۔

 قاضي سليم نے جب بھي بنت عنب كو چھوا تو اس طرح كه اس كے احترام ميں اضافه هي هوا۔ ايسے لوگوں ميں ايك نام راشد آذر كا بھي هوسكتا هے۔ مجھے تو يهاں اس قاضي سليم كے بارے ميں كچھ كهنا هے جس نے نجات سے پهلے بھي شعر كي پوجا كي هے اور نجات كے بعد بھي۔ تاهم يه موضوع ميرا نهيں مغني تبسم اور انور معظم كا هے۔ جو بيك وقت ان كے دوست بھي هيں اور ان كے نقّاد بھي۔

 ميرے نزديك خاكه نگاري سے بڑا جھوٹ اور كوئي نهيں هے اندر كے آدمي كو بھلا كب اور كس نے جانا هے۔ يه الگ بات هے كه قاضي سليم كي شخصيت مختلف نقابوں ميں لپٹي هوئي نهيں هے كه ايك چهرے پر سو چهروں كا گمان هو يا ڈھونڈنے پر ايك پرزه كهيں مل جاے تو دوسرا كهيں اور هو۔ اور شخصيت كي ڈور بظاهر هم تھامے هوے هوں اور سرا كسي اور كا هاتھ ميں هو۔

 ويسے نرے شريف اور سيدھے آدمي پرٹيڑھا خاكه لكھنا ايسا هي هے جيسے جھوٹ اور سچ كي كڑياں جوڑے هوے آدمي اچانك ٫٫بولورام٬٬ هوجائے۔

 ميري سمجھ ميں نهيں آرها هے كه ميں قاضي سليم پر كيا لكھوں ويسے ميں ان سے اتني بار مل چكا هوں كه ذرا سي محنت پر ايك خيالي ليكن سچي موودي تيار هوسكتي هے۔ اورنگ آباد كي كچھ هموار اور كچھ نا هموار سڑكوں پر ايك تيكھے نقوش والا اهم آدمي دوسروں كي سكوٹر پر بيٹھا كهيں جارها هے۔ راستے ميں وه كسي بھي آدمي كا ذرا سا اشاره پاتے هي جگه جگه ركتا هے، ان كي خيريت پوچھتا هے اور آگے بڑھ جاتا هے۔ مزيد آگے جانے پر ايك اور گروه بھي ملتا هے جو سكوٹر كے پيچھے بيٹھنے والے اسي اهم آدمي كو يه مژده سناتا هے كه ان كے سارے كاموں كي تكميل هوچكي هے، اور اس بھلے مانس كو يه تك ياد نهيں رهتا كه اس نے كب اور كس كي مدد كي هے۔

 قاضي سليم نے هميشه آدھے سر كے درد كي اذيتيں جھيلي هيں گو اب وه اس هولناك درد سے چھٹكارا پاچكے هيں ليكن بام كي شيشي آج بھي ان كي جيب ميں ضرور رهتي هے كه كل كهاں كهيں اچانك كسي ساتھي كو يه درد لاحق هوجائے تو وه اس كي پيشاني پر بام مل سكيں۔

 يه ناممكن هے كه قاضي سليم نے اپنے ليے كسي كو آواز دي هو يا كسي كا دروازه كھٹكھٹايا هو۔ وه هميشه دوسروں كے كام آتے رهے هيں۔ ايك ايسا آدمي جس نے اوروں كے ليے اپنے دل كے سارے دروازے داكر ديئے هوں۔ ايسے آدمي كو آپ قلمندر نهيں تو اور كيا كهيں گے۔ وه اپني سيدھي سادي محبت ميں ڈوبي هوي شخصيت كے لحاظ سے مزاجاً مجھے كهيں كهيں اخترالايمان كي طرح لگتے هيں۔

 كنكرياں تلاش كرنے بيٹھيں تو موتي هاتھ لگے۔ يه بھي كوئي بات هوي۔ خاكه نگار كے ليے تو بات اُس وقت بنتي هے، جب موتي تلاش كرنے نكل پڑيں تو ڈھير ساري كنكرياں هاتھ لگے۔ بھلا هو قاضي سليم كي شخصيت كا جن كي بنياد ميں جيسے كوئي ٹيڑھي اينٹ ركھي هي نه گئي هو ويسے اچھي بھلي خوب صورت عمارت كو بھي سرنگ لگا كر ڈھايا بھي جاسكتا هے مگر يه كام تو تانترك نقّادوں كا هے ميرا نهيں۔

 قاضي سليم كے بارے ميں، ميں اتنا هي جانتا هوں جتنا ايك دوست اور مدّاح جان سكتا هے۔ مجھے سنه يادنهيں شايد ٥٠٠ يا ٥٢٢ كے آس پاس كي بات هو، بھوپال سے كوثر چاند پوري كي ادارت ميں ٫٫جاده٬٬ نامي ايك پرچه نكلا كرتا تھا جسميں قاضي سليم به التزام چھپا كرتے تھے۔ اس وقت ان كي چند نظميں ميرے علاوه شاذكو بھي بڑي اچھي لگي تھيں۔هم ايسے نوواردانِ بساطِ ادب كے ليے يه وه دور تھا جب كوئي هميں گھاس بھي نه ڈالتا تھا۔ ايسے ميں اچانك ايك دن ملّے پلّي روڈ پر قاضي سليم سے ملاقات هوگئي، بلكه زبردستي هم لوگوں نے اپنا نام انھيں ذهن نشينںكروانے كي كوشش شروع كردي جب انھيں يه معلوم هوا كه دسويں جماعت كے طالب علم بھي ان كے مداح هيں تو وه خوش هوگئے۔ اور چلتے چلتے مطالعه كے سلسله ميں كچھ نصيحتيں داغ ديں آج بھي قاضي سليم سے ملاقات هوتي هے تو مجھے ان كي وه عجيب و غريب نصيحتيں بے اختيار ياد آجاتي هيں ó۔ó

 قاضي سليم بڑے مخلص آدمي هيں۔ ميرا خيال هے اگر انھيں چڑھتے هوے دريا ميں بھي پھينك دياجائے تو خشكي پر كھڑے هوئے اپنے ياروں سے يه ضرور پوچھيں گے كه تم لوگ كيسے هو؟

 ايك ايسا آمي جس نے ايك خوش حال گھرانے ميں جنم ليا هو جسے آسودگي كي ساري نعمتيں ميسر هوں۔ ايسے آدمي كے برتاو ميں تفاخر كي جھلكياں ضرور مليں گي ليكن قاضي سليم اس كے بالكل برعكس هيں اور بڑے آدمي هونے كي صحيح پهچان بھي شايد يهي هے۔

 زندگي نے هميشه ان سے ايسے كام ليے جو ان كے شاعرانه مزاج سے ميل نهيں كھاتے تھے مثلاً بيڑي كے پتّوں كا كاروبار اور وكالت۔

 جس زمانے ميں وه اورنگ آباد ميں وكالت كيا كرتے تھے ان هي دنوں اتفاقاً انور سے ان كي مڈبھيڑ هوگئي۔ اِدھر اُدھر كي باتوں كے بعد جب انور نے ان سے پوچھا كه وكالت كيسي چل رهي هے۔ تو انھوں نے مُسكراتے هوے كها خوب چل رهي هے۔ آج هي ايك آدمي كو ٤٤ سال كي سزا كروادي هے پھر انور نے پوچھا وكيل كون تھا تو انھوں نے كها ميں تھا تو پھر انور نے حيرت سے پوچھا كه ٤٤ سال كي سزا كيسے هوگئي اس پر انھوں نے جواب ديا كه ٤٤ سال سے زياده هو هي نهيں سكتي تھي ó۔ó

 وكالت سے انھوں نے كچھ كمايا بھي هے يا نهيں يه اب بھي ايك راز هے ليكن كهاجاتا هے كه بيڑي كے پتوں كے كاروبار نے ان كي معاشيات پر اچھا اثر ڈالا تھا۔

 دروغ برگردنِ رادي كسي زمانے ميں وه گھنے جنگل ميں كھڑے بيڑي كے پتّے تڑوايا كرتے تھے۔ ايك دن اچانك كهيں سے ايك ناگ اپنا پھن پھيلائے ان كے قريب آكر جھومنے لگا مزدوروں نے اپنے مالك كو بچانے كے ليے جب اپني لاٹھياں سنبھال ليں تو قاضي سليم نے انھيں يه كهتے هوے منع كرديا كه ڈرو نهيں يه مجھے نهيں ڈسے گا اس كا نسخه بھي ميرے پاس هے۔ سارے مزدور حيران تھے كه مالك كے پاس آخر كيا دوائي هے كه وه ناگ سے بھي نهيں ڈر رهے هيں۔ان كي حيراني اور بڑھ گئي جب قاضي سليم نے بڑي شتابي كے ساتھ اپني جيب سے كاغذ نكالا اور سانپ كو مخاطب كر كے اپني تازه نظم سناني شروع كردي سانپ تھوڑي دير يونهي جھومتا رها پھر ترسيل كي ناكامي كا الميه بن كر اچانك كهيں جنگلوں ميں غائب هوگيا۔

 پته نهيں مجھے اس واقعه پر كيوں شك هے ليكن يه ايك حقيقت هے كه قاضي سليم نے كلام سنانے كے سلسله ميں كبھي بخل سے كام نهيں ليا۔ جب بھي موقع هاتھ آيا اسے ضائع هونے نهيں ديا۔ ان كي اس فياضي سے بهره ور هونے والوں كي فهرست بڑي طويل هے، قاضي سليم كے كلام سنانے كا انداز بے حد تيكھا اور نرالا هے۔ كبھي كبھي ايسا لگتا هے جيسے وه دھيرے دھيرے اپنے سننے والوں كو Hypnotizeكر رهے هوں۔

 ادب ميں جب بھي جمود كا نعره بلند هوا، قاضي سليم نے اپني دل موه لينے والي نظموں كے ذريعه اس كي ترديد كردي۔

 جس زمانے ميں وه ممبئي اسمبلي كے ممبر تھے كهتے هيں وه دور ان كي شاعري كے ليے بڑا پُر بهار تھا۔ ام ال ايز هاسٹل ميں كبھي كبھي شرارتوں كا ماحول بھي بن جاتا تھا ان كے روز ملنے والے ياروں ميں باقر مهدي بھي تھے۔ پهلے يه بيڑي كا پتّه كٹواتے تھے يارلوگوں نے ان كا پتّه كاٹنے سے بھي دريغ نه كيا، اس كا قصّه كچھ يوں هے كه باقر مهدي كوظ انصاري كے تهنيتي جلسه ميں مضمون سنانا تھا تو ايك رات پهلے يه مضمون اجتماعي طور پر لكھا گيا جن ميں قاضي سليم نه صرف شامل تھے بلكه اس مضمون كو وهي اپنے قلم سے لكھ رهے تھے اور اس مشتركه مضمون نے اپنے مزے دار فقروں سے كافي غير سنجيده صورت اختيار كرلي تھي دوسرے دن جب باقر مهدي نے يهي مضمون جلسه ميں سنايا تو ظ انصاري كي ناراضگي كا كوئي ٹھكانه نه تھا۔

 جب جلسه ختم هوا تو باقر مهدي نے ظ انصاري كے گھر پهنچ كر اپني صفائي ميں قاضي سليم كے هاتھ كا تحرير كرده مضمون ان كے سامنے ركھ ديا۔ ٫٫دراصل يه مضمون قاضي سليم نے كها تھا۔ ميں صرف سنانے كا گنهگار هوں٬٬۔ يه كام ختم كركے باقر مهدي قاضي سليم كے هاںپهنچے اور ان كو اطلاع دي كه تمهارا پتّه كٹوادياهے۔ قاضي سليم نے پوچھا، كهاں سے تو باقر مهدي نے كها۔ ظ انصاري كے هاں سے چندهي دنوں بعد انهي باقر مهدي نے ان كا پتّه ايك اور جگه كٹواديا۔

 قاضي سليم كي ايك عجيب و غريب عادت هے كه ان كے هاں آئے هوے شعري مجموعوں كو وه بغور پڑھتے هيں نه صرف پڑھتے هيں بلكه اس پر اصلاح بھي ديتے هيں۔ پته نهيں اس ميں مير و غالب شامل هيں يا نهيں ليكن ان كے معاصر شعرا كے ساتھ يه سلوك اكثر و بيشتر هوتا رهتا هے۔

 ايك دفعه باقر مهدي كو بلراج كومل كے مجموعه كي ضرورت آن پڑي تو قاضي سليم سے انهوں نے مجموعه مانگا۔ قاضي سليم نے وه مجموعه انهيں دے ديا۔ باقر مهدي دلي جارهے تھے وه يه مجموعه اپنے ساتھ لے گئے اور كومل كو مجموعه دكھايا اور كها۔ ٫٫آپ قاضي سليم كے بڑے معترف هيں۔ وه آپ كي شاعري كے ساتھ جو سلوك كرتے هيں وه ملاحظه كيجيئے۔ ممبئي واپس آكر باقر نے پھر قاضي سليم كو اطلاع دي كه تمهارا پتّه كٹواديا هے۔

 قاضي سليم نے پوچھا اس بار كهاں سے باقر مهدي نے كها بلراج كومل كے يهاں سے۔ اس ايكٹي ديٹي سے قاضي سليم كي جو حالت هوئي هوگي وه محتاج بيان نهيں ۔ ليكن اب بھي باقر مهدي كے ليے قاضي سليم كے دل ميں وهي جگه هے جو پهلے كبھي تھي اور باقر مهدي كا بھي كچھ يهي حال هے۔

 جيسا كه ميں نے آگے كهيں كها هے كه قاضي سليم كلام سنانے كے باب ميں بڑے فراخ دل واقع هوئے هيں ان كي اس فراخدلي كي داستان بھي ذراسُن ليجيئے۔

 ايك دن ميں مغني كے گھر بيٹھا گپيں هانك رها تھا كه اچانك قاضي سليم گھر ميں داخل هوئے۔ وه بخار ميں پُھنك رهے تھے اور طبيعت كچھ اتني نڈھال تھي كه آتے هي مغني كے بستر پر ليٹ گئے۔ دھيمے لهجے ميں ميري خيريت دريافت كي۔ پھر مغني نے بلانكٹ لاكر انهيں اُوڑھادي۔ وه سردي سے كپكپارهے تھے جو دوائيں انهوں نے اپنے ساتھ لائي تھيں اسے وه وقفه رقفه سے استعمال كر رهے تھے۔ مغني نے انور كا فون نمبر ميرے هاتھ ميں تھماتے هوئے كها كه انھيں ذرا يهاں بلاليں۔ ميں نے انور كو ساري تفصيل سنادي تو وه كچھ پريشان سے هوگئے اور فوري مغني كے گھر پهنچ گئے۔ادھر قاضي سليم نے دھيرے دھيرے بلانكٹ سے اپنا سر نكالا اور گمبھير آواز ميں اپني تازه نظم سناني شروع كردي۔

 ٫٫يه كيا هے قاضي، عوض تو كهه رها تھا كه تم بيمار هو۔ عجيب آدمي هے خواه مخواه مجھے پريشان كرديا۔٬٬

 ميں نے قاضي سليم كي طرف جب رحم طلب نگاهوں سے ديكھا تو انھوں نے قدرے جھينپتے هوے انداز ميں كها يار طبيعت تو اب بھي خراب هے ليكن اپنے ياروں كے سامنے نظم سنانے كا جو لطف هے وه اوروں كے هاں كهاں۔

 ميرا بے اختيار جي چاها كه اس معصوم پيكر كو اپنے گلے سے لگا لوں اور كهوں كه قاضي صاحب شايد ايسي خوب صورت رات هميں پھر نصيب نه هو۔

 واقعي وه رات قاضي سليم كي خوب صورت نظموں سے مهك رهي تھي۔

 پھر رات ڈھلے رخصت هونے سے قبل ميں نے قاضي سليم سے پوچھا كهيں اس xertionسے آپ كا بخار نه بڑھ گيا هو ó۔ó

 انھوں نے مسكراتے هوے كها۔ ٫٫نهيں ايسي كوئي بات نهيں۔ مجھے تو ايسا لگ رها هے جيسے ميرا بخار اب نارمل هوگيا هو۔٬٬

ll







اقبال متين


 اقبال متين كے كردار كي نقاب كشائي كرتے هوے پته نهيں مجھے كافكا كے ناول دي كيسل (The castle) كي بے معنويت كيوں ياد آرهي هے۔

 اقبال متين كي شخصيت تو ترقّي پسندي كے الاو ميں جل كر كندن بن چكي هے اگر ايسا نه هوتا تو وه هر راسته چلنے والے رهرو كو ٫٫پيارے٬٬ كهه كر مخاطب نه كرتا۔ گھر كے بھنگي سے لے كر دفتر ميں كام كرنے والے چپراسي تك ، اپنے لاڈلے بيٹے نويد سے لے كر اس بد صورت مهاجن تك جس سے اس نے قرض لے ركھا هے۔ سب هي كو ٫٫پيارے٬٬ كهه كريوں پكارے گا كه آپ اس كي شرافت اور بے بسي كے قائل هوجائيں گے۔

 اقبال متين جس كے سر كے كناروں پر صرف چھدرے چھدرے بال ره گئے هيں اس شخصيت كا نام هے، جسے روايتوں اور محبتوں نے جنم ديا هے جسے قرض خواهوں نے پالاهے جو خود كبھي ساهوكار تھا۔ آج ايك ملنگ فقير هے جو بچه كهاں جائيگا كهنے كي بجائے يه كهے گا كه پيارے تو آج اداس كيوں هے۔ جبكه وه خود آج ديوداس كا آخري روپ هے۔

 اقبال متين كے ليے ميرے دل ميں كوئي محبت نهيں هے۔ بھلا ايسے بے وقوف آدمي سے كون محبت كرے گا جو سب هي كو برا بر چاهتا هو۔ ليكن جب كبھي ميں اداسيوں كے هاله ميں بند هوجاتا هوں تو اقبال متين هي كي طرف بھاگتا هوں۔

 اقبال متين محبت اور خلوص كے اس كنوئيںكا نام هے جو خود چل كر پياسے كے پاس آتا هے، مگر جب پياسا خود چلتا هوا اس كے پاس آتا هے تو اس كي حالت ديدني هوجاتي هے۔

 ميں نے اقبال متين كو بڑے بڑے ستم سهتے هوے ديكھا هے۔ بڑے سے بڑے عذاب كو جھيلتے هوے ديكھا هے۔ دكھ اور غموں كي آخري سرحد پر اس سے ملاقات كي هے۔ اس كي لاڈلي بيوي منير اس سے جُدا هوي۔ باره ساله فريد نے اس سے منه موڑا۔ پپن نے پلك جھپكتے هي آنكھيں پھيرليں۔ گومتين لڑكھڑاتارها ليكن نيچے گرنے سے پهلے اس نے كسي كا آسرا نه ليا۔ رويا اس ليے نهيں كه وه دوسروں كو روتا هوا ديكھ نهيں سكتا تھا۔ هنستا اس ليے هے كه وه سب كو هنستا هوا ديكھنا چاهتا هے۔ مگر اس گنجے اقبال متين كو روتے هوے ميں نے صرف ايك بار ديكھا تھا۔ پپّن كي موت كے بهت دنوں بعد۔

 ميں نے اس كے هاتھ ميں ماچس كي ايك نئي ڈبيه ديكھي تھي۔ وه نئي ماچس كي ڈبيه ڈھوندڈھانڈ كر اس ليے ماچس خريد تا تھا كه پپن كو ماچس كے ليبل جمع كرنے كا شوق تھا۔

 اب پّپن آسمان كي پهنائيوں ميں چلاگيا تو اس كے هاتھ ميں ماچس كي ڈبيه صرف انگلياں جلانے كے ليے هي باقي ره گئي اس كا دل تو كب كا جل كر خاكستر هوچكا تھا۔

 ليكن اقبال متين بظاهر آج بھي هنستا هے۔ جب اس كے ابّا تعلقدار تھے تو غالباً وه اس وقت بھي بابو هي تھا اور آج بھي وه كلرك هي هے۔ جاگير ايڈمنسٹريشن آفس كي ايك معمولي كرسي پر يٹھا فائيلوں پر جاگيرات كے مرثيے پڑھتا هے اور فائل مكمل اس طرح كرتا هے جيسے جاگيرات كے كتبه پر آخري پھول چڑھا رها هو۔

 وه جتنا چھوٹا هے كهاني اتني هي بلند لكھتا هے۔ اقبال متين كي كيوئي محبوبه نهيں هے، كهاني هي اس كي محبوبه هے جس كے چونچلوں سے وه اتنا واقف هے كه آپ اسے به آساني ادب كا فرها د كهه سكتے هيں۔ جس كے هاتھ ميں تيشه كي جگه قلم هے۔ ايك ايسا قلم جس پر جان چھڑكنے كو جي چاهتا هے۔ مگر بسااوقات جي يه كهنے كو بھي چاهتا هے كه بس كرو پيارے كب تك دھوكه دوگے۔ آج الفاظ تو اپنے معني كھوچكے هيں۔ كرداروں كي دھوپ چھاو ں ميں كب تك پڑے رهوگے۔ ليكن اقبال متين چكمه باز نهيں هے۔ كم از كم كهانيوں ميں چكمے نهيں دے گا۔ عام زندگي ميں موقع پڑنے پر آپ كو چكمه بھي دے گا۔ آپ كو پريشان بھي كرے گا۔ اور ساتھ ساتھ خود بھي پريشان هوگا۔ كبھي كبھي دوسروں كو پريشاني ميں مبتلا كر كے خود هي ميٹھي نيند سوجائے گا يه سمجھ كر كه پريشاني اوردُكھ تو آدمي كا مقدّر هے۔

 اقبال متين جيسا نراشريف اور بدھو آدمي ميں نے بهت كم ديكھا هے۔ آپ اگر اس كي آنكھوں ميں دُھول جھونك كر جيب كاٹ ليں تو سرِبازار وه آپ كو چور نهيں كهے گا۔ اپني جيب كٹواكر بھي وه خود هي كو چور سمجھے گا۔ يهاں تك كه وه اپني پراني سيكل كو آفس كے كمپاونڈ سے اٹھاتے هوے بھي ايسا محسوس كرے گاجيسے وه چوري كررهاهو۔

 اقبال متين شرافتوں، محبتوں اور خلوص كا اسير هے۔ يه وه زنداني هے جو زندگي كے نگار خانے ميں اپني آخري سزا كاٹ رها هے۔ عجيب آدمي هے اقبال متين بھي۔ مزاج كرشن چندر كا پايا هے ليكن كهانياں بيدي كي طرح لكھتا هے۔ ليكن به يك وقت دونوں افسانه نگاروں پر جان چھڑكتا هے۔ جان تو وه مهندرناتھ پر بھي چھڑكتا هے۔ اقبال متين كيسا افسانه نگار هے مجھے اس كي وكالت كرني نهيں هے۔ جس شخص نے اس كي كهاني كاديا هوا نام يا٫٫ گريويارڈ٬٬پڑھي هے وه اقبال متين كے فن سے متاثر هوے بغير نهيں ره سكتا۔ اقبال متين كا قاري خود آج افسانه نگار بن گيا هے۔ آپ خود اندازه لگائيے كه وه كب سے ادب كي اس كھيتي ميں اپنا هل چلارها هوگا ليكن وه اپنے سے چھوٹے افسانه نگاروں سے ملتے هوے خود كو بونا سمجھتا هے۔ ايسے موقعوں پر اس كا ادبي قد دھندلاهٹوں ميں كهيں چھپ جاتا هے ليكن شايد يهيں وه آپ كو دھوكه دے جاتا هے۔ وه يقينا سمجھتا هے كه وه ادب كے ايك بونے سے مل رها هے جس كے كاسے ميں ايك بھي ايسا سكّه نهيں هے جس سے وه متاثر هوسكے۔ ليكن وه اس كي تعريف كرنے سے نهيں جھجكے گا۔ اس منزل پر پهنچ كر مجھے اقبال متين سے ايك كدسي هوجاتي هے۔

 ميرے ليے يه ايك سانحه هے كه اقبال متين سے ميري گهري دوستي هوگئي اور متين كے ليے شايد ميري شخصيت ايك عذاب هے جسے وه خوشي سے سهه جاتا هے۔

 اقبال متين كو لوگ احترام سے متين بھائي كهتے هيں اور ميں صرف اقبال متين كهتا هوں، عمر ميں، ميں اس سے كم هوں۔ اصولاً مجھے متين بھائي كهنا چاهيے۔ ليكن بھلا هو اقبال متين كي زنگ خورده شرافت كا جو هم ايسے مُنه پھٹ لوگوں كو بھي انگيز كرجاتاهے۔

 وه مجھے بے حد چاهتا بھي هے اور دُكھ بھي ديتا هے۔ اپنے چاهنے والوں كو دُكھ دينا بھي شايد چاهت كي ايك علامت هے۔ وه كبھي ٹھرّا پيتا تھا آج كل ٹھرّے كي جگه بيٹي نے لے لي هے۔ پته نهيں وه كب رفيق بيٹي پھينك كر وهسكي كي آغوش ميں پناه لے لے۔

 اقبال متين كچھ بھي كرسكتا هے بشرطيكه وه لمحه اس كے هاتھ آجائے جو هر وقت اس كي گرفت ميں آتے آتے ره جاتا هے۔ عرصه پهلے اقبال متين نے اپني جاگير كو لات ماركر ايك پان كي دكان كھول لي تھي اور خود پان كي دكان پر آلتي پالتي ماركر اس طرح بيٹھ گيا تھا جيسے وه بڑے باپ كا بيٹا نهيں چوكِ اسپاں ميں جنم لينے والا ايك معمولي آدمي هو۔

 جن لوگوں نے اس كے هاتھ كے بنے هوے پان كھائے هوں گے چُونے كي تلخي انھيں ابھي تك ياد هوگي۔ پان پر چونا پھيرتے هوے تو لوگوں نے اسے ديكھا هوگا۔ ليكن مكھن لگاتے هوے آج تك كسي نے نهيں ديكھا۔ وه آج بھي اپني شخصيت پر چونا هي پھيرتا رهتا هے۔

 لوگ كهتے هيں وه بچپن ميں خوب صورت تھا۔ جواني ميں بھي بھلا سا لگتا تھا۔اب تو وه اندھوں ميں كاناراجه بن كر ره گيا هے۔ دوسرے الفاظ ميں آپ يوں كهه سكتے هيں كه گنجے لوگوں كي قطار ميں سب سے صحت مند اور شاداب گنجا اقبال متين هي هے مگر ابھي تك اس كا دل جوان هے۔ كسي بھي خوب صورت چهرے كو ديكھ كر ٹھنڈي سانس بھرتا هے۔

 جوان جسم بھي شايد اقبال متين كي ايك كمزوري هے ايك بار ميں عابدروڈ كي ايك گلي سے اس كے ساتھ جارها تھا۔ ميري سوچ كي منزل كهيں اور تھي اور اقبال متين كي نظريں اس مزدورني كا تعاقب كر رهي تھيں جس كا جسم صحت مند تھا۔ اگر اس كي شخصيت ميں يه عيب نه هوتا تو وه ڈھير ساري اچھي كهانياں كبھي لكھ نه پاتا۔

 اقبال متين كي آنكھيں بهت كمزور هيں۔ اس ليے هميشه عينك سے اپني آنكھوں كو ڈھانكے ركھتا هے ليكن جب كهانياں لكھنے بيٹھتا هے تو شيو كي آنكھ والي شخصيت بن جاتا هے اور آدمي اس سے ڈرنے لگتا هے كه كهيں كهاني ميں وه اس كي چھپي هوي شخصيت كا سرِبازار بھانڈانه پھوڑدے۔ اور اكثر ايسا هوا بھي هے وه اپني كهانيوں ميں هي شخصيتوں اور كرداروں كو اجاگر كرتے هوے بڑا بے رحم هوجاتا هے ليكن سليقه مندي كو اپنے هاتھ سے جانے نهيں ديتا۔ جب كهاني كا كردار روتا هے تو وه هنستا هے اور جب وه خود شاهراهوں پر هنستا هوا گزرتا هے تو اس كے كهانيوں كے كردار منه چھپاے سسكياں بھرتے هيں۔

 ميں اور ميرے ايك دوست خالد ريس كے رسيا هيں۔ ريس كھيلنے سے زياده هميں ريس ديكھنے ميں مزه آتا هے۔ اقبال متين جب ريس كھيلتا هے تو اس كے هاتھ ايك كهاني لگتي هے۔ هم جب ريس كھيلتے هيں تو پيسه ضائع هوتا هے۔ مگر اقبال متين نے دو ايك بارهي ريس كا مزه چكھا۔ ڈربي كے دن وه همارے ساتھ تھا وه هجوم ميں بري طرح پھنس گيا تھا۔ اس ريل پيل ميں جانے كس موٹے نے اُسے دھكه لگايا كه اس كا اكلوتا ريشمي شرٹ پيچھے سے اچھا خاصا پھٹ گيا اس پر طرفه يه كه وه تيس روپے بھي ريس ميں هارچكا تھا۔

 وه خفّت كے مارے ٹكر ٹكر هميں ديكھ رها تھا۔ خالد كا هنسي سے برا حال تھا اور ميں هنستا هوا سوچ رها تھا۔ اب اقبال متين كو هارے هوے تيس روپے كون دے گا جو خود اس كے ليے اس دن كا آخري اثاثه تھا۔ پھر اس كے بعد كسي نے اسے ريس كورس پر نهيں ديكھا۔ نه اسے ريس سے دلچسپي هے نه رهي سے۔ هاں وه بنت عنب كا ديوانه هے۔ بڑي محبت سے پيتا هے اور پينے كے دوران بڑي اچھي اور دل چسپ باتيں بھي كرتا هے۔ موقع ملے تو جديديت پر اپنا غبار بھي اُتارتا هے۔ خاس طور پر جب محفل ميں شاذبھي اور مغني اگر موجود هوں تو گويا انھوں نے جام نه چھلكا نے كي شايد قسم كھاركھي هے﴾ اس طرح مغني سے بات كرے گا جيسے مغني هي اس رويه كے خالق هوں۔

 جهاں تك ميں نے اقبال متين كو سمجھا هے۔ ميں يه بات دوٹوك كهه سكتا هوں كه اقبال متين كا ذهن نئے تجربوں، ابهام كي نزاكتوں اور باريكيوں كا متحمل نهيں هے يا يه بھي هوسكتا هے كه ميں نے اسے سمجھنے ميں غلطي كي هو۔

 جديديت كے آئينے ميں اگر اقبال متين كے چهرے كو بغور ديكھا جائے تو شايد وه آپ كو حقيرسا لگے۔ وه ادب ميں فيشن كا قائل نهيں هے اور جب فيشن خود ايك راسته پر پهنچ كر ادب بن گيا هو۔ وهاں بھي آپ كو اقبال متين نهيں ملے گا زندگي كي بے معنويت كا وه سرے سے قائل هي نهيں۔ وه بے مايه اور بے ڈھب زندگي ميں بھي ايك معنويت ڈھونڈے گا۔ اس منزل پر پهنچ كر وه سب ساتھيوں سے بچھڑجاتا هے۔ كبھي كبھي وه اجنبي نه هوتے هوئے بھي اجنبي سا لگتا هے اور يه اجنبيت هي اس كي شخصيت كي سب سے بڑي پهچان هے۔

 وه قرض ميں سر سے پاو ں تك ڈوبا هوا هے ليكن خود كو چهرے سے مطمئن ظاهر كرنے كي سعي لاحاصل كرتا هے۔

 كبھي كبھي تو ۔۔۔۔۔ يه كبھي كبھي تو ميں نے مروتاً لكھاهے۔ اكثر واپس جانے كے ليے اس كے هاں ركشه اور بس كا كرايه تك نهيں هوتا۔ ان چھوٹي چھوٹي باتوں كے ليے بھي اسے اپنے آفس كے ساتھيوں كے آگے هاتھ پھيلانا پڑتا هے۔ پانچ روپے قرض لے كر وه سات روپے ادا كرتا هے۔ ايسے نازك موقعوں پر اگر كوئي يار اس سے بغل گير هوجائے تو وه ان روپوں كو اس انداز سے خرچ كرتا هے جيسے قرض كي رقم اسي پر خرچ كرنے كے ليے لي گئي هو۔

 هوٹل سے نكلتے هوے اس كا كوئي دوست كھاپي كر سگريٹ كا دُھواں اُڑاتاهوا يه كهے ٫٫متين بھائي اب ميںچلتا هوں۔ آپ مغل پوره كا ركشه لے ليجئے۔٬٬ تو وه كھسيانه هوكر كهے گا هاں پيارے ركشه تو لينا هي پڑے گا۔ مگر پسينے ميں شرابور مغل پوره تك پيدل هي چلاجائے گا۔ اپنے دوست كو گالي نهيں دے گا كيوں كه اس نے پيدا هوتے هي سب كو پيارے كهنے كا عذاب اپني گردن پر سنبھال ليا هے۔ركشه لينے هي پر مجھے ايك بات ياد آئي۔ ايك محفل سے اُٹھ كر هم عابد روڈ آئے۔ مجھے ملے پلّي جانا تھا اور متين كي رهائش گا مغل پوه كا آخري كونا تھي۔

 ٫٫ متين يار ركشه لے لو۔٬٬

 ٫٫هاں پيارے ميں ليتا هوں۔ تُو تو اطمينان سے گھر چلا جا ميري جان۔٬٬

 كهنے كو تو ميں نے ركشه لے لي، مگر جب پلٹ كر اقبال متين كو ديكھا تو وه گم صم ابھي تك سڑك پر كھڑا تھا۔ مجھے حيراني هوي كه اقبال متين گھر جاتا كيوں نهيں۔ ليكن جب ركشه والے نے تيزي سے پيڈل گھمانا شروع كرديا تو اقبال متين مجھ سے دور هوگيا۔ دوسرے دن اقبال متين نے مجھے بتايا كه وه رات بهت دير سے گھر پهنچا۔ اسے مغل پوره پيدل هي جانا پڑا۔

 اس دن كے بعد سے ميں جب كبھي اس كے كان كے قريب جاكر اس سے كچھ پوچھتا هوں تو وه مسكراديتا هے۔ جيسے كهه رها هو۔ تو كيا مجھے هميشه يهي سمجھتا هے كه ميں سدا كا ننگا هوں۔ اس سدا ننگے انسان نے بارهاٹيكسيوں كے كرائے بھي خود هي ادا كيئے هيں۔

 ميں اكثر محبت اور كبيدگي كے جذبات كے ساتھ اقبال متين كا استقبال كرتا هوں۔ كبھي كبھار جب وه لمبي مدّت تك مجھ سے نهيں ملتا هے تو ميں اداس سا هوجاتا هوں۔ بے محالا اس سے ملنے كو جي چاهتا هے۔ اس سے مل كر اكثر خوش بھي هوتا رها هوں اور كبھي كبھار اُداس اور گمبھير بھي۔ دوسري صورت ميں مجھے اپني كمينگي سے زياده اپني بے بسي پر افسوس هوتا هے۔

 تنخواه كا دن اقبال متين كے ليے روز محشر سے كم نهيں هوتا۔ يهي وه دن هے جهاں آپ اسے اس كے اصلي روپ ميں ديكھ سكتے هيں۔ جهاں وه ديوتا اور ملنگ فقير كي جگه ايك عام انسان سا لگتا هے جسے اپني بيوي كے ساتھ اپنے بچوں كي ابھي فكر هو اور ساتھ ساتھ تنخواه كي بھي۔

 وه تنخواه جو اس كے زينے كا ايك زينه هے۔ ايك ذريعه هے۔ وه اسے بڑے جتن كے ساتھ بچاكر لے جانا چاهتا هے مگر اكثر ناكام رهتا هے اور جب اس مهم ميں كامياب هوجاتا هے تو اس كے گورے چٹّے چهرے پر ظفر مندي كي ايك جھلك هويدا هوجاتي هے۔

 اقبال متين سے ميري باري اس وقت هوي جب وه سب كچھ لٹاكر چراغ علي لين كے ايك مكان ميں رها كرتا تھا۔ وهاں سے اُكتا كر وه پھر ايك بار مغل پوره كي بستي ميں جابسا هے۔ فرق صرف يهي هے كه آج سے چند برس پهلے مغل پوره هي ميں اس كا ايك اچھا خاصه ذاتي مكان تھا۔ اب وه كرايه كے ايك بے ڈھنگے سے بد شكل مكان ميں رهتا هے۔ كل وه مكان چھوڑ كر كسي posh لوكيليٹي ميں ايك خوب صورت بنگله بھي خريد لے تو آپ كو تعجب نهيں كرنا چاهيے۔ كيونكه وه آج كل لاٹريوں كے ٹكٹ هي ميں اپني قسمت كا حل تلاش كررها هے۔

 اقبال متين كي خوبصورت رفيقه حيات منير كا جب انتقال هوا تو سب لوگ يهي سمجھتے رهے كه اب وه اس غم كے بعد دوسري شادي نهيں كرے گا ليكن اس نے دوسري شادي كرنے ميں كچھ ايسي پھرتي دكھائي كه سب لوگ انگشت بدنداں ره گئے۔ جب اس كے دس ساله بچے پپن كا اچانك انتقال هوا تو سب لوگوں نے يهي سمجھا كه اب اقبال متين كي صحت كا خداهي حافظ هے۔ پهلے هي سے هاتھوں ميں رعشه هے چائے پيتا هے تو پيالي اُٹھاتے هوئے اس كا هاتھ كانپتا هے ليكن پپن اور نشو كے مرنے كے بعد بھي متين جي رها هے كون جانے وه جي بھي رها هے يا هميں دھوكه دے رها هے۔

ll










مُغني تبسّم


 مجھے ياد نهيں كه ميري مغني سے پهلي ملاقات كب اور كهاں هوي تھي هاں يهه احساس ضرور هے كه ميں انهيں آج بھي رگِ جاں كے قريب پاتا هوں۔ اس قرب كے باوجود اگر ميں يه كهوں كه مغني كي شخصيت كي نقاب كشائي كا اهل ميں هي هوں تو يه ميري خوش فهمي هوگي كيونكه مغني كي شخصيت كي گهرائي تك پهنچنا كم از كم ميرے بس كي بات نهيں۔ اس ليے مغني كي شخصيت كا تجزيه كرنا ميرے ليے واقعي مشكل كام هے۔ مشكل ان معني ميں كه وه ٢٢ + =٢٢= ٤٤ والي شخصيت نهيں بلكه +٢٢+ =٢٢= ٥٥ والي شخصيت هے ó۔ó

 ممكن هے قدير الزماں مغني كي تهه دار شخصيت كے اس چيلنج كو قبول كرليں۔ ويسے كسي بھي چيلنج كو قبول كرنا اور پھر حواس باخته هوجانا قدير زماں كے ليے معمولي سي بات هے۔ يه تو جمله معترضه تھا مجھے تو يهاں مغني تبسّم كي شخصيت كے بارے ميں كچھ كهنا هے۔

 مغني سے جب صرف جان پهچان تھي تو ان كا بيشتر وقت ٫٫پارٹي٬٬ كے كاموں ميں گزرتا تھا۔ ايك طرف والدِ بزرگ وار حاجي۔ دوسري طرف فرزندِ ارجمند كا مريڈ اور ٥٠٠ يا ٥٢٢ كا سنه ۔ عجيب زمانه تھا وه بھي ó۔ó

 پھر جب آگے بڑھے تو پيچھے مڑكر يه بھي نه ديكھا كه صبح كا انتظار كرنے والے ساتھيوں پر رات كيسے گزرتي هے۔

 مغني كي شخصيت كا ايك جُزان كي اپني ٫٫نرگيسيت٬٬ بھي هے اور وه اس آئينے كو بڑي مضبوطي سے تھامے رهتے هيں جس ميں ان كے چهرے كا عكس مٹتا اور اُبھرتا رهتا هے۔ وه باهر نكلنے سے پهلے اپنے آپ كو سنوار نے ميں كافي وقت صرف كرتے هيں وه اس وقت تك آئينے كے سامنے سے نهيں هٹتے جب تك كه ان كا كوئي ساتھي انتطار سے تنگ آكر يه نه كهے۔

 ٫٫مغني صاحب اگر آپ مصروف هوں تو ميں پھر كبھي آجاو ںگا۔٬٬

 جواباً وه صرف يهي كهتے۔ ٫٫معاف كيجيئے گا كچھ دير هوگئي ميں آرها هوں۔٬٬

 ادبي اور علمي بحثوں ميں اچانك كوئي چونكانے والي بات كهه كر اپنے ساتھيوں كو بحث ميں الجھادينا اور پھر دور كھڑے هوكر تماشه ديكھنا مغني كا وصف خاص هے۔ ايسے موقعوں پر انهيں اس شرارت سے كوئي بھي باز نهيں ركھ سكتا۔ ويسے مغني فطرتاً ايك شريف اور وضع دار آدمي بھي هيں۔ باهر سے آنے والے ساتھيوں كا خير مقدم كرنا، اور انهيں ايرپورٹ يا اسٹيشن تك پهنچا كر خدا حافظ كهنا مغني كے معمولات ميں سے ايك هے۔

 مغني سے سوبار مل كر بھي يهي احساس هوتا هے۔

 اصغر سے ملے ليكن اصغر كو نهيں جانا۔

 مغني كي شخصيت اس بند كمرے كي مانند هے جس پر تالا پڑا هوا هے اور چابي كسي اور كے پاس نهيں خود ان هي كي جيب ميں هے اس ليے يهاں جو بھي باتيں ميں ان كے بارے ميں كهوں گا ضروري نهين كه آپ بھي اس سے متفق هوں۔

 انور معظم كي طرح مغني بھي اپنے دوستوں كے گھر شاذهي جاتے هيں۔ اكثر صورتوں ميں تو ان كے ساتھيوں هي كو ان كے گھر كا طواف كرنا پڑتا هے۔

 ايك دفع وه صبح هي صبح ميرے گھر آئے دروازے كو كھٹكھٹانے كے بعد اوصاف كو آوازدي ﴿اوصاف ميرے بچے كانام هے﴾

 ميں نے فاطمه سے كها۔ يه مغني كي آواز معلوم هورهي هے ضرور كوئي مرا هوگا۔

 فاطمه نے ناگواري سے ميري طرف ديكھا اور كها۔ ٫٫چپ بھي هوجائيے بھائي اگر سُن ليں گے تو كيا كهيں گے۔٬٬

 پھر مغني نے اندر آكر جب چُپ كي چادر ادڑھ لي تو ميں سمجھ گيا كه كوئي خاس بات ضرور هے۔ پھر وهي بات انهوں نے كهي جو ميرے دل ميں تھي۔ اپنے ايك عزت كي موت۔

 حلقه احباب ذوق اور ميراجي مغني كي سب سے بڑي كمزوري هے اور ان كي يهي كمزوري انهيں ادب كے بعض مخصوص حلقوں ميں معتوب بھي كرتي هے۔ اس كے باوصف ميراجي اور راشد كے ادبي سرمايه كي شيرازه بندي ميں وه برسوں سے جٹے هوے هيں۔ اس كٹھن مهم ميں انھوں نے اپنے دو ايك شاگردوں كو بھي شامل كرليا هے۔

 مغني كے ورغلانے هي پر ايك نے اپنے تھيسيس كے ليے راشد كا انتخاب كيا هے دوسرے نے ان كے زير اثر ميراجي كا۔

 مغني نے احتياط كو ملحوظ ركھتے هوے اپنے دونوں شاگردوں پر كڑي نظر ركھي هے كه كهيں وه هتّھے سے نه نكل جائيں۔ چنانچه ان كے پهلے شاگردنے اس بھاري پتّھر كو چومنے سے پهتر يهي سمجھا كه چند برس كے ليے كهيں فرار هوجائيں اور اس طرح ايك دن وه لاپته هوگئے سنا هے كه انھوں نے اپني نجات كا راسته رحمت آباد كي درگاه ميں ڈھونڈليا هے۔ كوئي عجب نهيں كه وه وهاں يه دعا بھي كرتے رهے هوں كه معبود مجھے مغني اور راشد سے بچائے ركھ۔

 دوسرے شاگرد كے بارے ميں ايك اطلاع مجھے يه ملي كه وه ميراجي كي بھٹكي هوي روح كے تعاقب ميں دور نكل پڑے هيں۔ اور هنوز انھيں لو هے كے ان تين گولوں كے حصول ميں كاميابي نصيب نهيں هوي هے جو ميراجي كے هاتھ ميں گھوما كرتے تھے۔

 مغني كي نگراني ميں ريسرچ كرنا گويا پُل صراط پرسے گذرنا هے اس پل صراط سے وهي سركش گزر سكتے هيں جن كے دل ميں خالص لگن اور سودا هو۔

 دوستي اور ياري كے باب ميں مغني كي محبت كا انداز هي كچھ نرالا هے۔ وه جي جان سے هر ايك كو چاهيں گے مگر اس طرح كه اسے كانوں كان خبر نه هو ليكن جب جذبه محبت غالب آهي جائے تو زبان ان كے اظهار كا ذريعه بن جاتي هے۔

 وه رات مجھے اچھي طرح ياد هے جب انھوں نے شاذ كو خلوص سے گلے لگاتے هوے كها تھا۔ شاذ تم فيض سے اچھے شاعر هو ميں تم پر ضرور مضمون لكھوںگا۔

 يه بات مغني نے يوں هي نهيں پوري سنجيدگي كے ساتھ كهي تھي۔

 ٫٫مغني صاحب يه تو آپ كي محبت اور عنايت هے ورنه يه بنده خاك۔٬٬

 ٫٫تم نهيں جانتے شاذ كه تم فيض سے بهر حال اچھے شاعر هو۔٬٬

 ٫٫يه خاكسار بهر حال اپنے آپ كو فيض سے كچھ كم هي سمجھتا هے ليكن خدا جھوٹ نه بلوائے مغني صاحب ميں بڑا بول نهيں بولتا۔ خدا نے مجھے كچھ اتني عزّت دي هے كه ميري شهرت هندوستان اور پاكستان هي ميںنهيں بلكه افغانستان ميں بھي هے۔ اب تو مڈل ايسٹ اور اسٹيٹس ميں بھي شاذ هي كي باتيں هوتي هيں۔ يار عوض تم چپ كيوں هو كيا ميں يه باتيں غلط كهه رها هوں۔٬٬

 ٫٫نهيں شاذ تم ٹھيك هي كهه رهے هو تمهاري شهرت آج كل فلم اسٹاروں سے كچھ كم نهيں هے۔٬٬

 ٫٫اب آئے هو راستے پر۔٬٬

 منظر بدلا تو كچھ پرانے چهرے پھر مجھے دكھائي دئيے ان چهروں ميں قاضي سليم كا بھي چهره تھا اور انور معظم كا بھي مصحف اقبال كا بھي اور مغني كا بھي۔

 رائل هوٹل كے كمرے ميں داخل هوكر ميں نے اپني نشست سنبھالي هي تھي كه مجھے ايك آواز آئي واه كيا بات كهه دي هے اقبال پھر سے يه شعر سناو سناتے رهو



جس سے لي تھيں اسي كو لوٹاديں

يه رهيں صبحيں، يه تري شاميں

 يه مغني تھے جن پر اس شعرنے ايك وجداني سي كيفيت طاري كردي تھي اور جب ايك اور منظر بدلا تو اقبال نے انور معظم سے كها۔ ٫٫مغني صاحب كي محبت اور ان كي شعر فهمي پر هميں فخر هے وه كبھي جھوٹي تعريف نهيں كرتے۔٬٬ انور نے مسكراكر ميري طرف ديكھا اور كها۔ ٫٫اس ميں كيا كلام هے۔٬٬

 مغني كي كم آميزي بھي ان كے ليے ايك هتھيار كا كام ديتي هے اور انھيں ناگهاني جملوں سے بچاتي هے۔ كبھي كبھي تو اهم سے اهم مسئله بھي ان كي كم گوئي اور خاموشي كي نذر هوجاتا هے۔ مغني نه كسي كو مشوره ديتے هيں اور نه كسي كا مشوره سنتے هيں۔

 ايك دن مجھے ان سے مل كر ايك مشكل دور كرني تھي يعني ميں مشوره كا طلب گار تھا۔ وه ميري باتيں بڑي دير تك سنتے رهے پھر ايك گهري سوچ ميں ڈوب گئے۔ ميں ان كے استغراق كو ديكھ كر يه سمجھ بيٹھا كه وه ميري مشكل كا كوئي نه كوئي حل ضرور نكاليں گے۔

 كافي غور و خوص كے بعد انھوں نے جو جمله مجھ سے كها۔ وه يه تھا۔

 ٫٫كل ايوانِ اردو ميں٬٬ ايك ادبي نشست هے فرصت هو تو آجائيے۔٬٬

 پھر اس كے بعد ميں نے يه عهد كرليا كه كبھي مغني سے مشوره نه طلب كيا جائے۔

 ڈريسنگ كے باب ميں مغني بڑے اپٹوڈيٹ اور موڈرن بھي هيں۔ وه اپنے قيمتي كپڑوں كي آئرننگ خودهي كرتے هيں۔ دھوبي كي آئرننگ پر انھيں بھروسه نهيں۔ كپڑوں پر جو كريز مغني پيدا كرتے هيں اگر دھوبي بھي اسے ديكھ لے تو شايدشرمنده هوجائے۔

 ايك دن ميں جب ان كے گھر پهنچا تو وه سوٹ ميں ملبوس تھے۔ ميں نے مغني سے پوچھا۔ كيا آپ باهر جارهے هيں۔٬٬ مغني نے كها ٫٫ نهيں٬٬۔

 پھر ميں نے پوچھا۔ ٫٫كيا مغني صاحب آپ باهر سے آرهے هيں؟٬٬

 انھوں نے كها۔٫٫ نهيں٬٬۔

 ميں گھر چلا آيا اور شعر و حكمت كے بند هوجانے كے اسباب پر غور كرنے لگا۔

 مغني تبسّم جن كے هونٹوں پر تبسّم كي كلياں ذرا كم هي چٹكتي هيں ميرے ان دوڈھائي دوستوں ميں سے هيں جن سے مل كر هميشه خوشي هوتي هے خواه وه كسي موڑ يارنگ ميں كيوں نه هوں۔هاں مغني ان هي لوگوں كے ليے بوجھ بن سكتے هيں جن كے كان ذهانت كي خوشبو سے نا آشنا هوں۔

 مغني كے مزاج ميں فنكاروں كي سي قلندري بھي هے۔ تشهير اور نام و نمود كے امام ضامن كو كبھي انھوں نے اپنے هاتھ پر نهيں باندھا۔ ملك كے بڑے بڑے ادبي سميناروں ميں شركت كي ليكن كسي بھي اخبار كو آپ نے آنے جانے كي اطلاع نهيں دي۔ خوب تعريفيں بٹوريں ليكن اس كا ذكر كسي كے سامنے نهيں كيا۔

 چپ چاپ گئے اور خاموشي سے لوٹ آئے۔ ايسي باتيں بڑا ظرف مانگتي هيں۔

 شايد يه جان كر آپ كو حيرت هو كه كبھي بھٹكي هوي روحوں سے بھي مغني كا تعلق خاطر رها هے۔ وه رات كے كسي بھي حصّے ميں كبھي تنها اور كبھي اپنے مخصوص احباب كے ساتھ جس روح كو بھي بلوانا هوتا ۔ اسے بلواتے اور اس سے كچھ سوالات كرتے اور يه سلسله رات دير گئے تك چلتا رهتا۔

 ان كے اصرار پر ايك دن ميں نے بھي اس تماشه ميں شامل هونے كي كوشش كي۔ بات چيت كے ليے ميں نے اپنے ايك مرحوم ساتھي كا انتخاب كيا جو ميرے بلاوے پر آتاهي نه تھا۔

 ميں نے تھك هار كر مغني كي طرف ديكھا تو انھوں نے آنكھوں هي آنكھوں ميںميري همت بندھائي ليكن كنكشن كي غلطي سے ايك عجيب و غريب روح نے اچانك مجھے آدبوچا اور بات شروع هوگئي۔ ميں ايك دم بوكھلاساگيا۔

 ميرے چهرے پر آئي هوئي گھبراهٹ كي لكيروں كو پڑھتے هوئے مغني نے كها۔

 ٫٫كبھي كبھي غلطي سے خبيث روحوں سے بھي همارا سابقه پڑجاتاهے۔٬٬۔

 ٫٫هاں معامله هي كچھ ايسا هے ميں نے گھبراهٹ بھرے لهجے ميں كها۔

 ٫٫كون تھا وه۔۔۔۔؟مغني نے تفصيل جاننا چاهي۔

 ليكن ميں گريز سے كام ليتا رها جب ان كا اصرار كافي بڑھ گيا تو ميں نے بڑي مايوسي سے كها ٫٫ وه ميراجي تھے اور آپ هي كو پوچھ رهے تھے۔٬٬

 مغني كي شخصيت اكهري نهيں بلكه دوهري هے اور دوهري بھي اس طرح كه شخصيت كا ايك سرا كهيں اور هے تو دوسرا كهيں اور ۔۔۔جيسے زمين و آسمان آپس ميں گلے مل رهے هوں۔

 اس خاموش اور شانت سمندر ميں كب طوفان آجائے كوئي بتانهيں سكتا۔

 ميں نے انهيں كئي روپ ميں ديكھا هے، محبت كي آخري سيڑھي چڑھے هوئے بھي اور دُور كھڑے هو كر اُسے الوداع كرے هوے بھي۔ ياروں كي محفل ميں جان ڈالے هوے بھي آنا فاناً اسے برباد كرتے هوے بھي۔

 انھوں نے اپنے ليے ايك شيڈول بناليا هے جو هر سال تبديل هوتا رها هے۔ كبھي شاذ كو فيض پر فوقيت دے دي تو كبھي دبلے پتلے مصحف اقبال كو اچانك پهلوانوں كے اكھاڑے ميں كھڑا كرديا كبھي ايك كا هاتھ تھاما تو كبھي دوسرے كا گريباں چاك كيا كبھي كھائي ميں گرے هوے كسي اَدھ موے شاعر كو آوازدي تو دوسري طرف خاصے بھلے شاعر كو كنويں ميں ڈھكيل ديا۔

 ان كا يه كھيل تماشه نجي محفلوں ميں مدت سے جاري هے ليكن جب لكھنے كا معامله آتا هے تو ان كا و طيره كچھ اور هي هوتا هے۔ جب كبھي وه سنجيدگي سے موضوع كو چھوتے هيں تو اس ميں جان ڈال كرهي رهتے هيں۔

جديد كهانيوں اور نظموں كا تجزيه وه كچھ اس خوب صورتي سے كرتے هيں كه معني و مفاهيم كے كئي گوشے دھيرے دھيرے لكھنے والے كے ذهن ميں روشن هونے لگتے هيں اور بالآخر وه اپني عجيب وغريب باتوں اور تجزيه كے سهارے اديب كي شخصيت كو پوري طرح جكڑليتے هيں پھر فنكار كے ليے ان كے اس سحر سے نكلنا مشكل هوجاتا هے۔ كبھي كبھي تو وه كسي تخلي كو سونگھ كر بھي اس كے اچھے يا برے هونے كا فيصله كرديتے هيں اس منزل پر بھي وه متاثر كيے بغير نهيں ره سكتے۔ مجھے ياد نهيں انھوں نے سنجيدگي كا لحاف اوڑھے ميرے كتنے افسانوں كے پر اخچے اڑائے اور كتني كهانيوں كو بانس پر چڑھايا ليكن وه مجھے هر عالم اور هر روپ ميں بڑے پيارے لگے۔

 مغني مزاجاً قلندر بھي هيں اور قدرے دنيا دار بھي۔ كبھي وه اپنے وجود كو سمندر ميں پھينكے هوئے اس لكڑي كے ٹكڑے كي طرح سمجھتے هيں جسے لهراتي هوئي موجيں اِدھر اُدھر بے سمت بھٹكاتي رهتي هيں۔ اس موڑ پر پهنچ كر وه زندگي كي بے معنويت كے قائل هوجاتے هيں اور زندگي كے اس عذاب سے نجات پانے كے ليے اپنے آپ كو Swift كرتے رهتے هيں اور اس Swifting هي كو انسان كا اصلي مقدر سمجھتے هيں ليكن دير هي سے سهي اس خول سے نكل بھي آتے هيں۔

 مغني كي ڈاك هميشه بھاري بھر كم هوتي هے۔ ان كے گھر آئے هوے رسالے اور كتابيں مطالعه كے انتظار ميں جيسے اُدننگھتے رهتے هيں۔ ليكن وه صرف انھيں سونگھ كر ركھ ديتے هيں۔ انهيں هاتھ نهيں لگاتے ليكن جب ان پر پڑھنے كا دوره پڑتا هے تو انھيں كسي بات كا دھيان نهيں هوتا ايسے وقت وه اس صوفي كي طرح دكھائي ديتے هيں جس پر اچانك وجداني كيفيت طاري هوگئي هو اور جبر و د كا مسئله حلق ميں پھنس كر ره گيا هو۔

 مغني كو بھولے سے بھي اپني كتابيں يا رسائل نهديجئے وه انھيں اپني ٹيڑھي ميڑھي لائبريري ميں اس طرح محفوظ كرديتے هيں كه انھيں ڈھونڈتے ڈھونڈتے آنكھيں پتھراجاتي هيں مگر ان كي صحت پر ذرا بھي اثر نهيں پڑتا۔ وه مخصوص انداز ميں كچھ اس طرح مُسكراتے هيں كه كبھي كبھي جي جل اٹھتا هے۔ دوسري طرف ان كي مروتوں كا يه عالم هے كه گھر آنے جانے والا كوئي بھي دوست يا عزيز اپني پسند كي كوئي بھي كتاب اس طرح اُٹھالے جاتا هے جيسے يه اس كي اپني ملكيت هو۔ ايسے وقت بھي ان كے هونٹوں پر وهي مخصوص مسكراهٹ رينگتي رهتي هے۔

 ايك دن وه بڑے ٫٫موڈ٬٬ ميں تھے۔ گھر آتے هي بستر پر ليٹ گئے، ميرے ساتھ شاذ اور راشد آذر بھي تھے۔ راشد اور شاذ كي بھوكي نگاهيں بك شلف ميں پھنسي هوي كتابوں كا طواف كررهي تھيں جيسے اب كوئي ناگهاني حادثه هونے والاهو۔ مغني نے ليٹے ليٹے اس صورتِ حال كا جائزه ليا اور دھيمے لهجے ميں كها۔ ٫٫يه سب كتابيں لے لو ميري پوري لائبريري تم هي لوگوں كے ليئے هے۔٬٬

 مغني كا يه كهنا هي تھا كه راشد اور شاذ كتابوں پر ٹوٹ پڑے جو بھي كتابيں هاتھ لگيں، كار ميں اسے ٹھونسنا شروع كرديا جيسے يهاں كوئي مال غنيمت تقسيم هورها هو۔ ميرے حصّے ميں صرف ساقي فاروقي كا مجموعه ٫٫پياس كا صحرا٬٬ هي آيا جو ميري تسكين كا باعث بنا۔ ادھر راشد اور شاذ ميري ناداني پر هنس رهے تھے۔ اور ميں انھيں جواب بھي كيا ديتا يه تو اپني اپني پسند كا معامله تھا۔

 دوسرے دن ملاقات هوي تو ميں نے سارا حال كهه سنايا ليكن وه حسبِ عادت زيرِ لب مسكرارهے تھے جيسے كوئي اهم واقعه هوانه هو۔ انھيں ذرابھي اس بات كا ملال نهيں تھا كه ياروں نے ان كي ڈھير سار كتابيں هڑپ كرلي هيں۔ ان كي شخصيت كا يه تضاد انوكھا بھي هے اور دل چسپ بھي۔

 ميں نے مُغني كو هميشه اپنے ياروں سے كهيں زياده اپنے مخالفين كي مدد كرتے ديكھا هے۔ ان كي اس حكمت عملي سے كبھي كبھي انهيں فائده كي جگه نقصان بھي پهنچا هے۔

 بعض لوگ اپني خوبيوں سے كهيں زياده اپني شخصي كمزوريوں سے پهچانے جاتے هيں ليكن مغني اپني خوبيوں هي كے سبب جانے جاتے هيں۔ ان كي اپني شخصي كمزورياں كبھي ان كي خوبيوں پر حاوي هونے نهيں پاتيں۔

 مغني جيسا شاه خرچ آدمي ميں نے ذرا كم هي ديكھا هے۔ وقت بے وقت اپني جيب سے سوكا نوٹ وه اس طرح نكالتے هيں جيسے وه سو كا نوٹ نه هو كاغذ كا كوئي بے كار پرزه هو۔ پته نهيں ان كي شاه خرچي كب انهيں لے ڈوبے۔ به ظاهر اس طرح ڈوبنے كے دُور دُور تك كوئي آثار نهيں هيں۔ ويسے آنے والے كل كے بارے ميں كون كيا كهه سكتا هے۔

 مغني كا مزاج جواريوں جيسا هے۔ وه زندگي هي كو ايك جوا سمجھتے هيں اسلئے ان كے هاں هار جيت كا كوئي علٰحده خانه نهيں هے۔ ايك هي خانه هے جس ميں ان كے سب و روز كا حساب بڑھتا اور گھٹتا رهتا هے۔

 مغني شروع هي سے بڑے Active اور مصروف آدمي رهے هيں۔ كوئي ادبي اور تهذيبي سرگرمياں ايسي نهيں جهاں ان كا عمل دخل نه هو۔ دوسروں كے ليے كوئي مسئله بننے سے پهلے ، ايك ايك كر كے وه سارے اهم كام اپنے ذمه لے ليتے اور انھيں اس سليقے سے منزل تك پهنچاتے كه آدمي حيرت سے ان كا مُنه تكتا ره جاتا۔ اس صورت حال كے پيشِ نظر اگر كوئي ان سے يه كهے كه مغني صاحب آپ نے يه كيا بكھيڑے پال ركھے هيں۔ طالب علموں كوڈھنگ سے پڑھاديا وقت پر كلاس لے لي۔ كيا آپ كيلئے يه كافي نهيں هے۔

 ٫٫نهيں۔۔۔۔ يهي سب كچھ نهيں هے كچھ اور بھي هے۔٬٬

 كچھ اور بھي هے سننے كے بعد جي تو يهي چاهتا كه انهيں آگے كي منزل پر تنها چھوڑكر كسي چور دروازے كے ذريعه فرار هوجائيں مگر مصروفيتوں كے دلدل ميں پھنسے رهنے كامزا تن آسان لوگ كيا جانيں۔

 مے نوشي خيام كي ذات پر ختم هوي هو يا نه هومگر چائے نوشي كے سارے راستے مغني كي ذات پر آكر ختم هوجاتے هيں۔ وه اس كثرت سے چائے پيتے هيں كه كبھي كبھي گمان گزرتا كه كھانا برابر نه كھاتے هوں۔ ويسے كم خوراكي كے سبب وه ٓج بھي اسي طرح جوان هيں جيسے پچيس تيس برس پهلے كبھي تھے۔ ماه و سال كي كالي گھٹائيں ان كے سر سے چمٹتي نهيں بلكه گزرجاتي هيں كوئي عجب نهيں كه وه آئنده بيس برس تك اسي طرح جوان رهيں۔

 عالمِ مستي ميں كبھي كبھي وه يه بھي بھول جاتے هيں كه كون سي بات كهاں كهني هے لاشعور ميں پھنسے هوے سارے كوڑا كركٹ كو وه مخاطب كے مُنھ پر اس طرح دے مارتے هيں جيسے مخاطب دوست نه هو محض ايك دشمن هو۔ كتھارسس كي يه شئے بھي عجيب شئے هے مگر گنهگاروں كي اس دنيا ميں مغني مجھے كبھي كبھي اس فرشتے كي طرح لگتے هيں جس كے پر اچانك كسي نے كاٹ ليے هوں۔

 ميں نے مغني جيسے يار باش ٓدمي ذرا كم هي ديكھے هيں۔ دوستوں كے آڑے وقت كام آنے كو وه ايك عبادت سمجھتے هيں اور اس عبادت ميں خلل اسي وقت پڑتا هے جب ان كي جيب خالي هو۔ ويسے شاه خرچي كے معامله ميں وه كچھ اتنے آگے نكل چكے هيں كه كبھي احساس هوتا هے جيسے وه دستِ غيب كا علم بھي جانتے هوں۔

 ميرا خيال هے مغني كي يهي كچھ خامياں هيں اور اِن هي خاميوں كے بل بوتے پر اُن كي شخصيت كي عمارت كھڑي هے۔

ll
















جيلاني بانو


 مختلف ادبي شخصيتوں كا احاطه كرنا بهت سوں كے ليے محبوب مشغله هوسكتا هے ليكن ميرے نزديك خاكه نگاري تو دودھاري تلوار هے ذرا پينترا ٹيڑھا هوا اور كهنے والا دھم سے نيچے آرها ليكن يهاں معامله اس ليے بھي ديگر هے كه جيلاني بانو كي شخصيت ميں نه كوئي ايسي پيچيدگي هے اور نه نفسيات كي كوكھ سے جنم لينے والا ايسا تضاد جس كا سرا ڈھونڈنے پر بھي نه ملے۔

 جيلاني بانو سے مل كر قدم قدم پر يهي احساس هوتا هے جيسے هم جيلاني بانو سے نه ملے هوں غلطي سے كسي اور خاتون سے ملے هوں جسے اچھے كپڑے پهننے اچھے كھانے پكانے اور ساتھ ساتھ سلائي كي مشين چلانے كا ايك خبط هو۔ ايسا هي احساس مجھے واجده تبسّم سے پهلي بار مل كر هوا تھا ليكن يهاں مجھے بانو كي شخصيت كا احاطه كرنا هے۔

 مجھے سنه تو ياد نهيں ٥٣٣ يا ٥٥٥ كي شايد بات هو۔ ايك پوسٹ مين هوا كرتا تھا جس كا نام رزاق تھا۔ ملّے پلّي كا علاقه اسي كے سپرد تھا۔ 108/A كے گھر حاضري دينا اس كا معمول تھا۔ وه خطوط كے علاوه رسائل كا ايك بنڈل روز پھينك جاتا تھا اور بڑي دير تك ٹھهرا بھي رهتا تھا جيسے وه گھر نه هو پوسٹ آفس كا سارٹنگ آفس هو۔ كبھي كبھار حبيب نگر كے چوراهے پرمڈبھيڑ هوجاتي تو ميں پوچھتا۔ ٫٫كوئي خط۔۔۔؟٬٬ تو كهتا۔ ٫٫آج تو نهيں هے مياں۔٬ ý٬ý

 جواباً ميں اُسے چھيڑتے هوے كهتا۔ ٫٫كل كب تھا۔٬٬ تو وه هنستا هوا 108/A پر پهنچ كر اپني سيكل كو يوں روكتا جيسے وه تھوڑي دير آرام كرنا چاهتا هو۔

 كبھي كبھار دو ايك خط همارے هاتھ تھماتا هوا وه 108/A كي طرف اشاره كرتا هوا كهتا۔ ٫٫آدھا بوجھ تو ميرا يهيں ختم هوجاتا هے۔٬٬

 پھر بعد ميں مجھے معلوم هوا كه يه سارٹنگ آفس نهيں افسانه نگارجيلاني بانو كا گھر هے جو علامه حيرت بدايوني كي صاحبزادي هيں۔

 اس وقت تك ميرے ذهن ميں حيدرآباد كے اديبوں اور شاعروں ميں مخدوم ، شاهد صديقي، سليمان اريب ، كنول پرشاد كنول ، اقبال متين، عزيز قيسي ، زينت ساجده اور عاتق شاه هي كے نام تھے ليكن جيلاني بانو كے نام اور كام سے ميں واقف نه تھا اور نه هي دل كے كسي كو نے ميں ايسي خواهش تھي كه بانو كو پڑھاجائے۔ گو ماه نامه٫٫ چراغ٬٬ ميں پكّي روشنائي سے جيلاني بانو كا نام بھي آيا كرتا تھا پھر سليمان اريب سے ملاقات هوئي۔٫٫سب رس٬٬ كے جب وه مدير هوے تو ان سے ملاقاتيں بڑھنے لگيں۔ ان كے پهيچھے جوان اديبوں كا ايك قافله هوا كرتا تھا ان ميں چند سكه بند اديب بھي تھے جو لكھتے كم تھے اور اپنا ڈھنڈوره زياده پيٹتے تھے۔ ليكن مزاجاً اريب ايك معقول انسان تھے۔

 اس وقت تك شاذ اور وحيد اختر نے باقاعده لكھنا شروع نهيں كيا تھا۔ پوسٹ مين رزاق كي تبديلي هوچكي تھي اور اس كي جگه ايك نئے پوسٹ مين نے لے لي تھي۔

 پوسٹ مين كي آواز اب همارے ليے نامانوس نه تھي اور آج تو كچھ نهيں هے كهنے والے ڈاكيه كي جگه، آج بھي بهت كچھ هے۔ كهنے والا ڈاكيه همارے درميان آچكا تھا۔ عجيب طفلانه دور تھا وه بھي۔ آج ان باتوں كو سوچ كر هنسي آتي هے۔

 ادبي محفلوں ميں اور خانگي نشستوں ميں جيلاني بانو كا ذكر خير بھي اكثر آتا رهتا هے۔ ٫٫عوامي مصنفين٬٬ سے تعلق ركھنے والا كوئي شاعر يا اديب كهتا۔ ٫٫بھلا جيلاني بانو سے افسانے كا كيا تعلق؟ افسانه تو مشاهده كي دين هے وه تو ايك پرده نشيں لڑكي هے كوئي كهتا۔ ٫٫وه حيدرآباد ميں پيداهوكر بھي اپنے آپ كو ابھي تك بدايوني هي سمجھتي هيں وه تو نان ملكي هيں۔ كوئي دل جلاكهتا۔ يوروپين غير ملكي۔ ميرے ذهن ميں آتا كيا واقعي بدايون هندوستان ميں نهيں هے يا پھر هم لوگ خود جلا وطن هيں۔

 پھر كچھ عرصه بعد كسي نے يه خبر دي كه پاكستان كے ايك معتبر رساله٫٫ ادبِ لطيف٬٬ ميں جيلاني بانو كي ايك كهاني چھپي هے جس ميں مخدوم كو غلط رنگ ميں پيش كيا گيا هے جب مخدوم كے كانوں تك يه بات پهنچي تو انهيں يقين نهيں آيا كه ايسا هو بھي سكتا هے ليكن بهت سارے لوگوں نے جب اس كي تصديق كي تو مخدوم نے يهي بهتر سمجھا كه علامه حيرت بدايوني سے اس كي تصديق كي جائے۔

 ايك دن مخدوم علامه كے گھر گئے ان سے كچھ چھيڑچھاڑكي اور كها آپ كے گھر تو ايك شيطان جنم لے رها هے۔ پھر انهوں نے علامه سے كها۔ بانو كو بلواياجائے ميں اس سے ملنا چاهتا هوں۔ بانو كے ليے كسي اهم شاعر اور اديب سے ملنے كا شايد يه پهلا موقع تھا۔ مخدوم نے جب بانو سے اس كهاني كي بات كي تو بانو نے وه رساله ان كے هاتھ تھماديا۔

 دوسرے دن مخدوم نے رساله لوٹاتے هوے كها۔ ٫٫اس ميں ميرے تعلق سے كوئي بات هي نهيں هے۔٬٬ چنانچه جيلاني بانو كي كهانيوں كے مجموعه ٫٫روشني كے مينار٬٬ پر احمد نديم قاسمي كے ساتھ مخدوم كي بھي توصيفي رائے درج هے۔

 ان هي دنوں يه بات مشهور تھي كه جيلاني بانو پهلے تو كسي اديب اور مشاعر سے ملتي هي نهيں اور اگر ملتي بھي هيں تو گفتگو كي تان نديم بھائي كا كهاني كے ليے خط آيا هے يا طفيل صاحب نے نقوش كے افسانه نمبر كے ليے ٹيليگرام بھيجوايا هے يا مرزا اديب نے ان كي گفتگو كا محور يهي كچھ هوتا۔ وه اپني ذات كے علاوه كوئي اور بات كرتي هي نهيں۔ ظاهر هے ان باتوں كو سننے كے ليے كس كے هاں اتنا وقت هے۔ جيلاني بانو سے ملنے اور افسانے پر بات كرنے كي ذهن كے كسي گوشے ميں جو خواهش تھي وه ان باتوں كو سننے كے بعد دب سي گئي۔

 پھر جب وه شاعر اور ڈرامه نگار دوست انور معظم سے بياهي گئيں تو گاهے گاهے ان سے ملاقاتيں هوتي رهيں۔ گفتگو كے دوران نه نقوش هي درميان ميں آٹپكا۔ اور نه فنون۔ اور بانو نے كبھي اپني اچھي كهانيوں كي نشاندهي كي۔ يه تو كوئي دوسري جيلاني بانو نكليں۔ پھر ايك بار مجھے حيرت هوي اور يه حيرت آج تك بھي باقي هے اس وقت بھي جبكه ميں ان پر خاكه لكھنے بيٹھا هوں۔

 احمد نديم قاسمي كي شرافتوں كے سب هي قائل هيں۔ انهيں ايك بهت هي اچھا افسانه نگار اور شاعر ماننے پر مجبور هيں۔ اگر ذكر احمد نديم قاسمي كا هو يا محمد طفيل كا ، جميل جالبي كا هويا مرزااديب كا فيض كا هويا سجاد ظهير كا مخدوم كا هو يا كسي اور محبوب شاعر اور اديب كا۔ جيلاني بانو اسي صورت مين ان كا ذكر اور تعريف كريں گي جب آپ نے خود ان كا ذكر چھيڑا هو يا بات هي كچھ ايسي نكل آئے كه ان كا ذكر ناگزير هو مگر وه اپني كهانيوں اور كتابوں كے ذكر سے اپنے آپ كو يوں محفوظ ركھيں گي جيسے وه افسانه نگار نهيں كوئي اور مخلوق هوں۔

 اُردو ادب كا وه قاري جو افسانه نگار اور شاعر سے كهانياں اور نظميں سننے كا برسوں سے عادي رها هو اسے جيلاني بانو سے مل كر يقيني مايوسي هوگي۔ كيوں كه وه گھر آئے هوے مهمان كي تواضع موسم كے مطابق چائے آئسكريم يا كسي ٹھندے مشروب سے كريںگي اور كهاني كهيں درميان هي ميں لٹكتي ره جائے گي هاں اگر كوئي خاص ادبي محفل هو تو وه افسانه ضرور سنائيںگي۔

 جيلاني بانو كي طرح انور معظم كے احباب كا دائره بھي كچھ سكڑا هوا هے گھر هي ان دونوں كي كائنات هے اس ليے اور شاعروں اور اديبوں كي طرح ان كي زندگي اور گھر ميں كوئي بے ترتيبي نهيں ملے گي۔

 جيلاني بانو موسيقي اور پينٹنگ كا بھي ايك خاص ذوق ركھتي هيں۔ فائن آرٹس كي طرف ان كا يه جھكاو ان كے ايك فطري آرٹسٹ هونے كي ايك دليل بھي هے حد تو يه هے كه وه كلاسيكل ميوزك ، پكّے گانوں راگ اور راگنيوں كي بھي نبض شناس هيں ان كي خوب صورت كهاني ٫٫ديوداسي٬٬ در اصل راگ جيے جيونتي هي كا ايك روپ هے۔

 بانو كهاني كے پهلے جملے كو بڑي اهميت ديتي هيں۔ كهاني كا پهلا جمله اگر خوب صورت اور بھر پور نه هو تو وه كهاني لكھنے كے بعد كهيں چھپنے كے ليے نهيں بھيجتيں ليكن اچھي كهاني كے ليے يه كوئي بندھا ٹكافارموله نهيںهے۔

 جيلاني بانو كو ادب ميں زنده ركھنے كے ليے ان كي ايك كهاني ٫٫پراياگھر٬٬هي كافي هے پراياگھر كي شانِ نزول كے بارے ميں جب ميں نے پوچھا تو انهوں نے كها يه كهاني ايك جملے كو سُن كر لكھي گئي هے۔ هوايوں كه بانو كهيں ركشه ميں جارهي تھيں انھوں نے ايك آدمي كو ديكھا جو اپنے ساتھي سے كهه رها تھا۔

 ٫٫جاو جاو خدا حافظ، اپنے گھر جانا نه بھولنا۔٬٬

 اب خاكه اختتام كو پهنچ رها هے تو مجھے دھيرے دھيرے اس ان ديكھے آدمي كي ياد آرهي هے۔ ميں اس كي گمبھير آوز سن رها هوں۔ ٫٫جاو جاو خدا حافظ اپنے گھر جانا نه بھولنا۔٬٬

 مجھے ايسا لگ رها هے جيسے هم سب لكھنے والے آج اپنے هي گھر ميں بے گھر هوچكے هيں بالكل بانو كي كهاني٫٫ پرايا گھر٬٬ كے عنوان كي طرح۔

ll












عزيز قيسي


 برسوں پُراني بات هے ايك كالا كلوٹا نوجوان جسے ديكھ كر پال رابسن كي ياد تازه هوجاتي تھي ڈائس پر كھڑا اپني ايك جوشيلي نظم سُنانے كے بعد داد نه ملنے پر سامعين سے الجھ رها تھا اور لوگ خواه مخواه كي ماركُٹائي سے بچنے كے ليے عالمِ بے بسي ميں كبھي آه اور كبھي واه كے نعرے بلند كر رهے تھے۔ ايسے عجيب و غريب ماحول ميں يه آدمي مجھے بڑا پيارا لگا۔ ميري زبان سے بے ساخته نكل گيا اچھا شاعر هے۔ ميري بغل ميں بيٹھے هوے صاحب نے چونك كر مجھے نيچے سے اُوپر تك اس طرح ديكھا جيسے وه ميري قابل رحم حالت كا اندازه لگا رهے هوں۔ ٫٫گھبراو نهيں عدالت ميں كوئي كام هوتو بتادينا ميں اس سے كهه دوںگا٬٬۔

 ٫٫سول كورٹ ميں جج كے بعد آج كل سب سے اهم آدمي يهي هے۔٬٬

 اس اهم آدمي سے ميري پهلي مڈبھيڑ معظم جاهي ماركٹ كے چوراهے پر اس طرح هوئي كه برسوں گزرجانے پر بھي ايسا لگتا هے كه يه حادثه ابھي ابھي هوا هے۔

 يه وه زمانه تھا جب قيسي كے نام اور كام سے سب هي كے كان آشنا تھے اور هماري حيثيت ادب ميں نووارد كي سي تھي۔

 ٫٫قيسي يه نوجوان اپنا عوض سعيد هے ميں نے ٫٫سب رس٬٬ كے ليے اس سے ايك كهاني لي هے۔٬٬

 يه اريب تھے۔

 ٫٫تومولانا آپ هي وه ذاتِ شريف هيں جنهوں نے احسن علي مرزا كے پرچے ميں بكواس كي تھي۔ قيسي شاعر هي نهيں افسانه نگار بھي هے۔ قيسي افسانه نگار نهيں هے تو سالے تم كيا هو؟٬٬

 اسي دوران شاهد صديقي آدھمكے تو اريب نے كها۔ ٫٫تو هوجائے دودو هاتھ۔٬٬ شايدان كا روئے سخن رمي كي طرف تھا۔

 شاهد نے كها۔ ٫٫تو پھر انهيں بھي ساتھ ركھ لو۔٬٬

 ٫٫يه تو بالكل بدّھوهے۔ نرا افسانه نگار۔ يه رمي كيا كھيلے گا۔ چلو رمي نه سهي ججاك هي سهي۔٬٬

 ٫٫ارے ممتازذراٹھهرنا۔ مين اوپر آرها هوں۔٬٬ كهه كر شاهد مجردگاه كي سيڑھياں پھلانگتے هوے اُوپر چڑھگئے۔ اور ميں اريب كے چنگل سے بچ بچا كر گھر لوٹ آيا۔

 ان دنوں مجرد گاه اديبوں كا ايك مركز تھا اور اريب اس كے سرپرست۔ هوٹل هويا بارجب عزيز قيسي موجود هو تو بِل Pay كرنے كا سوال هي پيدا نه هوتا۔ يه لامتناهي سلسله اس وقت ختم هوا جب عزيز قيسي نے حيدرآباد سے تنگ آكر ممبئي ميں رهائش اختيار كرلي۔

 اپني برجسته گوئي، بزله سنجي اور لطيفے بازي ميں وه شاهد صديقي سے كسي طرح پيچھے نه تھا۔

 مزاجاً اُكھڑمگر دل كا بڑا نرم اور اگر غصے سے مغلوب هوجائے تو اپنے ساتھي كا بھي حليه بگاڑ كر ركھ ديتا هے خاص طور پر اس وقت جب پينے كے دوران كوئي اسے ماں كي گالي ديدے يه الگ بات هے كه ابھي تك اس نے جوڈو اور كراٹے كا صحيح مظاهره نهيں كيا هے۔

 ايك دن ميں نے اپنے ايك دوست كے سوجھے هوئے چهرے كو ديكھ كر جب ان كي خيريت دريافت كي تو انھوں نے مسكراتے هوے كها۔ ٫٫يه قيسي صاحب كي عنايت هے۔٬٬

 جب تك وه حيدرآباد ميں رها بيسيوں بار اس سے ملاقاتيں رهيں ليكن ÷١٩٥٨٨÷ئ ميں جب ميري بمبئي ميں اچانك اس سے ملاقات هوئي تو وه فلم انڈسٹري كي خاك چھان رها تھا اور حفيظ قيصران دنوں ايك فلمي پرچے سے وابسته تھا۔ وهاں رنجيت اسٹوڈيو ميں ميں نے پهلي بار منوج اور دھرميندر كو ديكھا جو فلمي دنيا سے اكتا كر اپنے وطن لوٹنے كي تياري كررهے تھے۔ اور قيصر بڑي تندهي سے منوج كي پبلسٹي ميں لگا هوا تھا ó۔ó

 نعيم زبيري كو ميرے ساتھ ديكھ كر اس نے كها تم اس بور آدمي كے ساتھ يهاں كدھر آگئے جس نے دن ميں تمهيں ميرين ڈرائيو كي سير كروادي۔ هم نے ايك پرسُكون هوٹل ميں كافي كے دوپيالے پيئے اور باتوں اور لطيفوں كا ايك دل چسپ سلسله شروع هوگيا۔

 جب كافي دير هوگئي تو ميں نے كپڑے جھاڑتے هوے كها۔ ٫٫قيسي يار كبھي هم كو بھي يهاں كھپادو۔٬٬

 ٫٫مرنا اگر هے تو يهاں مستقلاًآجاو اور ساتھ ميں نواب كو بھي لے آو مزه آجائے گا۔٬٬

 قيسي كوئي بائيس برس سے ممبئي هي ميں مقيم هے۔ فلم ميں اس نے بهت كچھ كمايا بھي هے اور ساتھ ساتھ گنوايا بھي٬٬

 وه ايك شاه خرچ آدمي هے۔ آج اس كے هاں هزاروں روپے بھي هوں تو وه آنے والے كل كے بارے ميں كبھي نهيں سوچے گا۔ اس كے هاتھوں كي مضبوط گرفت هميشه آج پر رهتي هے كل پر نهيں۔ اور آنے والے كل پر تكيه كرتے هوئے شايدهي كسي نے اُسے ديكھا هو۔

 اريب نے كسي وقت اُسے لكھا تھا كه تم كارخريدنے كے بعد هي حيدرآبادلوٹ آنا۔ ايك اچھا فليٹ تو اس نے خريد ليا هے ليكن ايك خوب صورت اور قيمتي كار ابھي تك حسرتوں كي منزل هي ميں كهيںپھنسي هوي هے۔

 قيسي ايك اچھا شاعر هي نهيں ايك اچھا سكرپٹ رائٹر بھي هے۔ مگر اس كي تند مزاجي اور اس كے زهريلے سچ نے اسے ابھي تك اس مقام پر نهيں پهنچايا جهاں اسے بهت پهلے پهنچ جانا چاهيے تھا۔

 هماري رنجشيں، هماري تنهائياں ناقابل تقسيم هيں ليكن قيسي سے هر بار مل كر ايسا لگتا هے جيسے هم اپني تنهائيوں كے تابوت كو دور كهيں چھوڑ آئے هوں اور جيسے قيسي زندگي كے هر زهر كا مزه چكھ چكا هو۔

ll




وحيد اختر


 كسي كي ڈھكي چُھپي شخصيت كے هربُنِ موكوچھيڑنا ايسا هي هے جيسے كوئي خواه مخواه بھڑكے چھتّے ميں هاتھ ڈال دے۔

 پھر وحيد اختر جيسي پيچيده اور گنجلك شخصيت كا احاطه كرنا گويا پل صراط پر سے گزرنا هے۔ اس پل صراط سے ممكن هے انور معظم، قاضي سليم، شاذ تمكنت گزرسكتے هوں جن كا وحيد كے ساتھ رات دن كا ساتھ رهاهے۔

 وحيد اختر سے مل كر آپ كو ذرا بھي خوشي نهيں هوگي كيوں كه شديد دل آزاري اور اپنے مقابل كسي بھي آدمي كو كمتر اور حقير سمجھنا اس كا وصفِ خاص هے۔ go كا يه عالم هے كه وه اپنے عهد كے كسي بھي اديب اور شاعر كو تسليم كرنے كے ليے تيار نهيں ó۔ó

 مين نے آج تك وحيد اختر كي زبان سے كسي شاعر يا اديب كي تعريف نهيں سُني۔ هاں مذمّت ضرور سُني هے۔ مذاق اُڑاتے هوئے ضرور ديكھا هے مگر اس كے باوجود وه اپنے مضامين ميں ان تمام اديبوں، شاعروں كا ضرور احاطه كرے گا جن كا وه نجي محفلوں ميں بارها مذاق اُڑاتا رها هے۔ يه اور بات هے كه اس كي تنقيدي ترازو كے دونوںپلڑے برابر نه هوں۔ اكثر صورتوں ميں تو وه آنكھوں ميں دھول جھونك كر كچھ اس سليقے سے ڈنڈي مارتا هے كه كچھ پته هي نهيں چلتا۔ ان دھاندليوں كے باوجود وه كئي اچھے نقّادوں سے اچھا نقّاد هے۔ اچھا شاعر تو وه هے هي۔

 جيسا كه ميں نے آپ سے كها هے اپنے آگے دوسروں كو هيچ اور حقير سمجھنے كا جذبه وحيد كے خمير ميں كوٹ كوٹ كر بھرا هے۔ اس كے ثبوت كے ليے كبھي آپ اس سے مل كر ديكھئے۔ وه مصافحه كے دو منٹ بعد هي فقره بازي پر اُتر آئے گا۔ پهلے آپ كو خاص انداز سے ديكھے گا پھر مسكرائے گا۔ اس كے هونٹوں كي چُبھتي هوئي مسكراهٹ صاف چغلي كھائے گي كه وه آپ كو بخشے گا نهيں۔

 ٫٫هم نے آپ كا شعري مجموعه بادلِ ناخواسته پڑھاهے۔ همارا خيال هے بعض كتابوں كي عدم اشاعت هي ميں ادب كي خدمت كا پهلو نماياں هوتا هے۔ آپ كي كتاب بھي اسي زمرے ميں آسكتي هے۔ آپ نے اپني اوقات سے كهيں زياه پيسه فضول اس مجموعه پر لگاديا بهتر هوتا كه آپ اپنے لئے كچھ نئے كپڑے سلواليتے۔٬٬

 اس ريمارك كے بعد وه اسے زندگي بھر كے ليئے اپنا دشمن بناليتا۔ اگر كوئي اس سے كهے وحيد اختر هم نے آپ كا شعري مجموعه خريدا هے آج كل وهي زير مطالعه هے۔ اس پر وه خوش نهيں هوگا كه ايك كتاب فروخت هوگئي اور نه اس بھلے مانس سے وه اپني نظموں اور غزلوں كے تعلق سے كچھ پوچھے گا۔ اس كا جواب تو يهي هوگا كه آپ نے خواه مخواه همارا مجموعه خريدنے كي حماقت كي۔ هماري شاعري آپ كے پلّے پڑنے سے تو رهي۔

 اس طرزِ عمل نے وحيد كے كئي دشمن پيدا كردئيے۔ آپ اسے اسكاچ پلائيں يا فرسٹ كلاس ڈنر كھلائيں وه اس سے قطعي مرعوب نهيں هوگا۔ ميں نے بڑے بڑے جغادريوں كو ايسي محفلوں ميں جُھكتے هوئے ديكھا هے ليكن وحيد اختر واحد آدمي هے جو ايسي محفلوں ميں بھي اكڑا رهتا هے اور فقره بازي سے باز نهيں آتا ۔

 اگر اس كا كوئي يار اسے گھر پر كھانے پر بلائے تو وه ضرور جائے گا۔ دسترخوان يا ٹيبل پر كچھ زياده بھري هوئي پليٹيں نظر آجائيں تو وه كهے گا۔٫٫ خواه مخواه آپ نے اتنا سارا اهتمام كرديا۔ اپنے بال بچوں كا تو خيال كيا هوتا۔٬٬ اس كا ساتھي خفيف ساهوكر كچھ اس انداز سے مسكرائے گا جيسے كهه رها هو۔ ظالم تو يه نه كهه كر بھي تو چپ ره سكتا تھا۔ جو آدمي دس برس كي عمر سے مرثيه لكھتا هو اس كے مزاج كي يه شقاوت عجيب بات هے۔

 وحيد اختر كي زندگي ميں هميں جگه جگه بڑے تضادات بھي ملتے هيں وه اپنے خطوط ميں ايك الگ هي وحيد اختر كے روپ ميں جلوه گر هوتا هے۔ ايك پيارے اور مخلص ساتھي كا لباده اوڑھے۔

 اور جب اس سے آپ كا سامنا هوگا تو وه دوسرا روپ دھارلے گا به ايں همه وحيد ايك وضع دار آدمي بھي هے۔ وه تعلقات اور دوستي كي قدر كرنا بھي جانتا هے۔ جهاں وه عالم صاحب، مغني تبسم، انور معظم كو خط لكھے گا وهيں علي گڑھ سے وه مظهر كاتب كو بھي ضرور خط لكھے گا اور حيدرآباد آئے گا تو مظهر سے ضرور ملے گا۔ خواه مظهر كے حالات اس دوران كتنے هي ناگفته به كيوں نه هوگئے هوں۔ يه وحيد كي ياري هي كا نهيں اس كي بڑائي اور ظرف كا بھي ثبوت هے۔

 وه چھوٹي چھوٹي باتوں كا بھي بڑا خيال ركھتا هے۔ مثلاً حيدرآباد سے علي گڑھ جاتے هوے اس كي خواهش هوگي كه دوست احباب اسے see off كرنے اسٹيشن ضرور آئيں۔ جو لوگ اسے اسٹيشن پهنچ كر خدا حافظ كهتے ان كي ياد او خلوص كو وه برسوں بھلا نهيں پاتا بر خلاف اس كے جو لوگ ان تكلفات ميں نهيں پڑتے وه انهيں بے ٹوك خبيث، مردود اور ملعون كهتے هوے بھي نهيں جھجكے گا۔

 تعلقات اچھے هوں تو اپنے ساتھيوں كا ذكر اپنے كسي مضمون ميں ضرور كرے گا اور اگر تعلقات كشيده هوں ﴿جس كا هر وقت احتمال رهتا هے﴾ اسے بڑے سليقے سے نيچا دكھانے كي كوشش كرے گا۔

 ٫٫جاهل٬٬ اس كا تكيه كلام هے۔ اس كے مخصوص احباب ميں يه تكيه كلام كچھ اتنا مشهور هوچكا هے كه اگر مغني يا انور تكيه كلام جاهل كهه كر چُپ هوجائيں تو پلٹ كر آپ ضرور ديكھئے آس پاس هي كهيں وحيد اختر ضرور ملے گا۔

 وحيد اختر كا كوئي دوست نهيں مگر وحيد كے سب دوست هيں۔ وحيد سب كا دوست هے۔ مگر وحيد كا كوئي دوست نهيں۔ كوئي بيس بائيس برس پهلے وحيد اور شاذ ايك دوسرے كو ٹوٹ كر چاهتے تھے۔ بڑي ياري تھي ان دونوں ميں۔

 پھر ايك زمانه آيا كه وحيد نے كهنا شروع كرديا۔ يه هماري بدبختي هے كه لوگ همارا نام شاذ كے نام كے ساتھ ليتے هيں جواباً شاذ نے بھي يهي كهنا شروع كرديا۔ حيرت هے كه شاذ كا نام وحيد اختر جيسے بے روح شاعر كے ساتھ كس طرح آسكتا هے جبكه وه احمد نديم قاسمي كے فنون، محمد طفيل كے نقوش، نذير چودھري كے سويرا اور مرزا اديب كے ادبِ لطيف ميں وحيد سے آگے چھپتا رها هے۔

 ٥٤٤ اور ٥٥٥ كے آس پاس جب شاذ وحيد اور شحنه نے مل كر سه ماهي ٫٫گجر٬٬ كي داغ بيل ڈالي تھي۔ ان دنوں گجر كا كوئي باقاعده آفس نه تھا۔ عارضي طور پر صبا ١٠٠ مجردگاه كے پتے پر ڈاك آيا كرتي تھي۔ ڈاك كے معاملے ميں وحيد سے زياده شاذ بے صبرا رها كرتا تھا۔ صبح نو بجے سے پهلے هي يه دونوں ١٧٧ پر آدھمكتے تھے۔ اريب اپني عادت كے مطابق دس گياره بجے آفس آتے تو وه شاذ اور وحيد كوصبح هي صبح ديكھ كر حيران هوجاتے كيوں كه اريب كي صبح عموماً ١١١ بجے شروع هوتي تھي ó۔ó

 ٫٫نوجوان بهت جلد آگئے هو۔٬٬ جواباً وه يك زبان هوكر اريب سے كهتے گجركي ڈاك اريب بے ساخته هنس پڑتے پھر اس كے بعد يوں هوا كه جب كبھي يه لوگ ١٧٧ پر آتے تو اريب مسكرتے هوے كهتے۔ ڈاك ó۔ó

 اور تينوں به يك وقت هنس پڑتے اور ڈاك كا يه سلسله اس اس وقت ختم هوا جب شحنه نے تنگ آكر اپنے هي هاتھوں اپنے پرچے كا گلا گھونٹ ديا۔

 ان دنوں شاذ، انور، بشر نواز، وحيد اختر اور بے شمار احباب سروس سے لگے نهيں تھے۔ كبھي كبھار كوئي بھلا مانس صبا كي وي پي چھڑا ليتا تو اريب آگے پيچھے كا خيال كے بغير پيسے خرچ كرديا كرتے تھے۔

 ان دنوں گراني نام كو نه تھي۔ انور اپنے ساتھ ايك چونّي ركھ كر ١٧٧ پر آيا كرتے تھے۔ كبھي كبھار انور معظّم كي يهي چونّي اريب كے ركشا كے كام آجايا كرتي تھي۔ شاذ كي جيب هميشه خالي رها كرتي تھي۔ وحيد تنگ دستي كي معراج سے گزر رهے تھے ó۔ó

 شاذ اور وحيد اپني طويل نظميں لكھ لكھ كر اپني تهي جيبي كا انتقام ليا كرتے۔ چائے جيسي چيز بھي چنده كر كے پي جاتي تھي۔ ٫٫آج چائے كون پلائے گا۔٬٬ كمره نمبر ١٧٧ ميں اريب كي آواز گونجتي ó۔ó

 هم نهيں پلاسكتے همارا اسكالرشپ بند هوچكا هے۔ وحيد ممياتا۔ اريب كهتے ٫٫چلو معاف كيا۔ كيوں كه يه نوجوان پيسے آنے پر سخي حاتم بن جاتاهے۔٬٬

 اجي حاتم طائي كے قصّے كو چھوڑيئے جناب۔ چائے كا بندوبست كيجئے۔ كسي كونے سے شاذ كي آواز آتي ۔ چائے جيسي پھٹيچر چيز كے ليے اتنا انتظار چائے كيا هوئي محبوبه دلنواز هوئي۔ هم تو چل ديئے بھئي۔٬٬

 ان كمزور لمحات ميں كبھي س۔ الف عشرت ١٧٧ پر آجاتے تو وحيد كا طنز اور بھي شدت اختيار كرليتا۔ ٫٫ليجئے يه بھي آگئے۔٬ ý٬ý

 ايك آدمي بھي بڑھ جا تا تو چائے كے لالے پڑجاتے۔ ان دنوں ميں سروس ميں نيا نيا لگا تھا۔ حالت اتني بُري نه تھي۔ چائے سے نكل كر ٫٫اين جي٬٬ تك پهنچ جاتے تو يه سمجھتے كه بهت بڑا تير مارليا۔

 كبھي كبھار جب انور، وحيد كے ساتھ لطيف رسٹورنٹ ميں لقمي كباب كھا كر باهر نكلتے تو وحيد كو سگريٹ كي طلب هوتي۔ دونوں بركلے كي سگريٹ خريد كر دھواں اُڑاتے هوے جب ١٧٧ ميں داخل هوتے تو اريب مسكراتے هوے كهتے ó۔ó

 ٫٫آج تو نوجوان كي حالت بهتر معلوم هورهي هے۔٬٬

 حالات بدل چكے هيں۔ زمانه بدل چكا هے۔ آج وحيد اختر علي گڑھ يونيورسٹي ميں فلاسفي كاريڈر هے ١٨٨ سو كے قريب پاتا هے۔ شاذ بھي لكچرر هے اور خوش هے۔ انور معظم تو هيڈ هونے كے علاوه اعزازي ڈپٹي ڈائركٹر بھي بن چكے هيں ليكن اريب هم ميں نهيں۔ اريب جو هم سب كا غمگسار تھا۔

 مخدوم، شاهد صديقي، شرماجي، لاهوٹي، سردار سليم، قيصر، حميد الماس قيسي، مغني، پروفيسر قادري، عالم صاحب، وحيد، شاذ، اقبال متين ١٧٧ پر اكثر اكٹھا هوتے۔ سردار سليم سب هي كا پيارا دوست تھا۔اقبال متين كا گھر تو ايك طرح سے دوستوں كي آماجگاه تھا۔ نتيجه يه هوا كه ان كا ديواليه نكل گيا ó۔ó

 اريب اپني وضع داري سے مدّتوں صبا كو گھسيٹتے رهے۔ وحيد اختر نے بے كاري سے مجبور هوكر عذرا ميں نوكري كرلي۔ اور شاذ غالباً آثار قديمه ميں عارضي كلرك بن گئے۔

 اريب كي كاهلي كے پيش نظر كبھي كبھار صبا كي فولڈنگ سے لے كر پتے تك هم سب مل كر لكھا كرتے تھے۔ شاذ كا انگريزي اور اردو كا خط بهت خوب صورت تھا۔ اريب شاذ كے خط كو ديكھ كر اس طرح خوش هوتے تھے جيسے وه ان كا اپنا خط هو وه وحيد اختر كي طرف پرچه بڑھاتے هوے كهتے۔

 ٫٫ديكھو نوجوان كا خط۔٬٬ اور وحيد اختر كے هونٹوں پر طنزيه مسكراهٹ پھيل جاتي۔ ٫٫هاں انھوں نے بڑي محنت سے كتابت سيكھي هے٫٫ مردود تم سات جنم ميں بھي ايسا نه لكھ سكوگے٬٬۔ جواباً شاذوحيد سے كهتا۔

 صبا كے خريداروں ميں غير اديبوں ميں دو ايك وكيل حضرات بھي تھے۔ ايك دن بشر نواز بھي همارے ساتھ پتے لكھ رهے تھے۔ وحيد نے لكھتے لكھتے اچانك اپنا قلم تھام كر بے تحاشه هنستے هوے اريب سے مخاطب هوكر كها۔ ذرا بشر نواز كو ديكھيے انھوں نے Advocate كا املا سے لكھا هے۔ ليكن بشر نواز هنستا هوا برابر يهي كهتا رها كه Aاور سے كوئي خاص فرق نهيں پڑتا۔ هم نے پرچه بروقت پهنچنے كے خيال سے املا ميں ذراسي تبديلي كردي هے كيونكه گزشته بار جب هم نے صحيح املا لكھا تھا تو صبا واپس آگيا تھا ó۔ó

 وحيد اختر كي دوهري شخصيت كو سمجھنے كے ليے اس كے ساتھ آپ كو بهت دور تك جانا هوگا۔ وه خود ستائي كے ساتھ ساتھ سچ بولنے كا عذاب بھي سه ليتا هے اور ڈينگيں مارنا تو اس كي عادت هي هے۔ فطرت كي اس دُھوپ چھاو ں ميں كهيں نه كهيں وه گڈمڈهوتا هوا ضرور ملے گا۔

 ايك دن ميں وحيد اختر، قاضي سليم اور اقبال متين اسٹار ميں بيٹھے تھے وحيد كي زبان هميشه كي طرح چل رهي تھي كه درميان ميں ايك پروفيسر كا ذكر آگيا۔ قاضي سليم كهنے لگے وه تو همارے استاد ره چكے هيں۔٬٬

 آپ كے اُستاد تو اب همارے شاگرد بن چكے هيں وه آج كل همارے مضامين اپنے نام سے ادبي محفلوں ميں دھڑلے سے سناتے هيں اس طرح هم نے آپ كے اُستاد كو اپناشاگرد بناليا هے۔

 پھر بات افسانے اور ناول پر چل نكلي تو وحيد نے كها بعض نا سمجھ حضرات كو خواه مخواه يه گمان هے كه هم افسانے اور ناول نهيں پڑھتے اب ان بيوقوفوں كو بھلا كون بتائے كه هندوستان كے بڑے سے بڑے ادبي سمينار ميں هماري شركت ضروري سمجھي گئي هے چنانچه ايك ادبي سمينار ميں تو هم نے قرۃ العين حيدر كے سامنے عبدالله حسين كے ناول ٫٫اُداس نسليں٬٬ كو تكنيكي لحاظ سے آگ كا دريا سے بهتر ثابت كيا هے اس پر قرّۃالعين حيدر هم سے ناراض هوگئي هيں۔ وه ناراض هواكرے اس سے كيا فرق پڑتا هے۔ هم تو سچ كهه كر هي رهيں گے اور تو اور ان كي انگريزي بھي كوئي ايسي خاص نهيں هے۔ خود هماري انگريزي بھي قرۃالعين حيدر سے كسي طرح كم نهيں۔ ٬٬ هم تو وحيد اختر كي باتوں سے مزے ليتے رهے ليكن قاضي سليم سے رها نه گيا وه قرۃالعين حيدر كي تائيد ميں ڈٹ گئے۔

 ميں نے موضوع بدلتے هوے وحيد سے پوچھا تم تو شاعر بھي هو اور نقاد بھي۔ ميرا خيال هے كه قاضي سليم جتنے پيارے شاعر هيں انھيں وه مناسب مرتبه نهيں مل سكا جس كے وه صحيح معنوںميں مستحق تھے۔ مگر يه تمهارا خيال غلط هے لوگ تو انهيں آج بھي هم سے بهتر شاعر سمجھتے هيں۔ كيا سمجھ ميں آيا هم سے بهتر شاعر۔

 قاضي سليم خوش تھے كه وحيد اختر نے اس بات كا اعتراف تو كرليا ليكن دوسرے هي لمحے اس نے يه كهه كر ساري خوش فهميوں پر پاني پھيرديا كه وحيد اختر كے مقابل قاضي سليم كو بهتر شاعر سمجھنے والے سب هي لوگ اول درجے كے بيوقوف هيں۔٬٬

 وحيد اختر سنجيده هونے كے ساتھ ساتھ بڑا witty بھي هے۔ اس كا Sense of Humour بھي بڑا sharpهے۔

 اس كي فقره بازي، برجسته گوئي كے آگے كسي كا چراغ نهيں جلتا۔ دروغ برگردنِ رادي جب وه حيدرآباد سے اورنگ آباد گيا تو اس كے دوست محمد نواب نے اسے اپنا مهمان بنايا۔ اورنگ آباد پهنچنے كے بعد جب اس كي ملاقات شفيق فاطمه صغرٰي سے هوي تو انھوںنے ازراهِ خلوص وحيد اختر كو كھانے پر مدعو كرتے هوے انكساري سے كها۔ دال روٹي حاضرهے۔

 وحيد اختر كے ساتھ محمد نواب بھي تھے۔ نواب كي طرف اشاره كرتے هوے وحيد نے برجسته كها۔٫٫دال روٹي تو هم ان كے هاں كھاهي رهے هيں اگر آپ كچھ اور كھِلا سكتي هيں تو كھلائيے۔٬٬

 ايك دن وحيد اختر كے ايك بزرگ دوست نے اسے صبح كے وقت گھر پر بُلوايا ناشتے كے ليے۔ جب وه گھر پهنچا تو اس كے ميزبان دوست نے پهلے پاني اور لوٹا لاكر ركھا۔ پھر آهسته سے چائے بھي بھجوائي۔ ناشتے سے پهلے يه چائے ديكھ كر اسے تشويش هوئي پھر دسترخوان بھي بچھاديا۔ چائے پينے كے بعد اس نے پيالياں بھي اٹھاديں اور خالي دسترخوان كو جھٹكنا شروع كرديا۔

 پچھلے دنوں ميں، مغني، شاذراشد كے گھر بيٹھے پي رهے تھے۔ راشد نے تالاب كا منظر ديكھنے كے ليے هلكے سے بلب لگاركھے تھے روشني نهيں تھي۔ هم سب كو اندھيرا بھلالگ رها تھا۔ شاذ روشني كے ليے مچل رها تھا۔ جب راشد نے بلب جلايا تو چھك سے سارے چهروں پر روشني پھيل گئي۔ وحيد اختر نے تيز روشني ميں باري باري ايك ايك چهرے كو ديكھتے هوے كها۔ ٫٫لاحول ولا كتنے مكروه چهرے ديكھنے كو مل رهے هيں اس سے تو اندھيرا هي بهتر تھا۔٬٬

 كسي وقت وحيد كے ايك دوست نے حيدرآباد سے اسے اطلاع دي كه وه اپني بيوي كے ساتھ چند دن علي گڑھ ميں اس كے مهمان رهيں گے اور ايك دن وحيد نے ديكھا كه ان كے وهي دوست چھ سات بچوں سميت اس كے گھر آدھمكے هيں اور ايك بدهيئت سا آدمي سر پر بڑاسا هولڈال اور ٹرنك اُٹھائے وحيد كے مختصر مكان كا جائزه لے رها هے۔

 وحيد نے اپنے دوست كي طرف قهر آلود نگاهيں ڈالتے هوے كها۔ ٫٫پهلے آپ اس ٹانگے والے كو تو يهاں سے بڑھائيے۔٬٬ مهمان دوست نے خفيف هوتے هوے كها۔ ٫٫ارے بھي يه تو ميرے چچا هيں۔٬٬

 مگر كس خوشي ميں انھوں نے يه خسته حالت بناركھي هے كه هم انهيں ٹانگے والا سمجھنے پر مجبور هوگئے هيں۔ مزے كي بات يه تھي كه وحيد نے اپنے كهے هوے ريمارك پر ذرا بھي ندامت محسوس نهيں كي۔

 وحيداختر كے دل ميں شروع هي سے بڑا آدمي بننے كي حسرت اور تمنا رهي هے۔ اس كا احساس قدم قدم پر هوتا هے۔ ثبوت كے ليے كرسي نامه، اور اسي قبيل كي كئي نظميں پيش كي جاسكتي هيں۔

 وه لكھے گا تو كرسي نامه، ليكن اندر سے اس كي خواهش هوگي كه كاش اُسے بھي وه جادوئي كرسي مل گئي هوتي جس كے بل بوتے پر وه كسي كو بھي بھي تگني كا ناچ نچاسكتا يه اس كي چُھپي هوي شخصيت كا ايك اور تضاد هے۔

 وحيداختر به حيثيت شاعر اور نقّاد كسي تعارف كا محتاج نهيں۔ هندوپاك كے لگ بھگ سب هي معتبر نقادوں نے اس كي شعري اور تنقيدي صلاحيتوں كا كُھلے دل سے اعتراف كيا هے۔ خاص طور پر سردار جعفري نے اس كي طويل نامكمل نظم جو ايپك كهي جاسكتي هے تعريف كرتے هوے كها تھا۔٫٫ شهر هوس٬٬ كو پڑھنے كے بعد ايسا لگتا هے كه اردو شاعري عظمتوں كي سرحدوں ميں داخل هوچكي هے۔ سردار جعفري كے اس Tributeٹري بيوٹ كے بعد بھي وحيداختر ميں ذرا بھي تبديلي نهيں آئي۔

 وه آج بھي وهي وحيداختر هے جنھيں آپ نے ديكھا هے پڑھاهے۔ حال هي ميں ايك بے تكلف محفل ميں وحيداختر نے عظمتوں كي سرحدوں كا ذكركرتے هوے خود هي هنسنا شروع كرديا۔انور معظم نے اسے چھيڑتے هوے كها۔ ٫٫آخر تم هنس كيوں رهے هو۔٬٬

 مگر اس نے انور كے سوال كا كوئي جواب نهيں ديا۔

 وه بدستور هنستا رها۔ يهاں تك كه اس كي هنسي هونٹوں كے كنارے پر آكر جم سي گئي۔ وه اپني هنسي ميں كچھ نه كهتے هوے بھي سب كچھ كهه چكا تھا۔

 وحيد اختر اس منزل پر پهنچ كر ايك بڑا شاعر هي نهيں ايك بڑا آدمي بھي بن جاتا هے۔

ll




















شهر يار


 پهلي سيڑھي پر كھڑاهوا آدمي جب دوسري منزل پر نظر ڈالتا هے تو لگتا هے جيسے وه اُوپر هے۔ اگر گرپڑنا احساس هي نهيں سچائي بھي هے تو خاكه سے بڑا جھوٹ اور كيا هوسكتا هے۔؟

 كسي شخصيت كا محاكمه ايسا هي هے جيسے كوئي آسمان كي پهنائيوں ميں تيرتے هوے كسي پرندے كو هاتھ بڑھا كر پكڑلے۔ اندر كے آدمي كو بھلا كب اور كس نے جاناهے۔

 شهريار پر خاكه لكھنے بيٹھا هوں تو يه ساري سچائياں مُنھ پھاڑے مجھے تك رهي هيں۔ شهر يار سے ميري دوستي كي عمر اس كي شاعري كي عمر سے كهيں زياده كهنه هے۔ اس كے باوصف اس كي شخصيت كے هر بُن موكو قلم كي گرفت ميں لانا ميرے بس كي بات نهيں، ممكن هے جسے ميں شهر يار سمجھ رها هوں وه كوئي اور هو۔ اور ميں جسے كنور سمجھ رها هوں وه سرے سے شهريار هي نه هو۔ ليكن شهر يار كسي بھي روپ ميں سهي ذهن و دل پر كچھ اس طرح رنگ جماتا هے كه اس سے ايك بار ملنے كے بعد جي يهي چاهتا هے كه وه بار بار ملے۔ حالانكه بار بار اس سے ملنے ميں ايك خطره يه بھي هے كه اگر وه كسي بات پر كنكوے كي طرح اكڑا هوا هو تو بحث سے قطع نظر لڑائي كي صورت بھي پيدا هوسكتي هے۔ اس كے غصے سے لدے هوے چهرے كو ديكھ كر لگتا هے جيسے ٫٫بھيمڑي كانفرنس٬٬ پھر ايك بار منعقد هورهي هو۔

 ميں نے اس عالم ميں بارها ديكھا هے۔ ليكن دوسرے دن وه كچھ اس طرح ملتا هے كه پچھلي شب كي ساري بدمزگي ديكھتے هي ديكھتے دُھل سي جاتي هے۔

 شهريار ياروں كا يار بھي هے اور دشمنوں كے ليے اپي هوئي تلوار بھي۔ وه آپ كو تباهي كے آخري دهانے پر پهنچا كر خداحافظ بھي كهه سكتا هے اور آپ كو سمندر ميں ڈوبتا هوا ديكھ كر چھلانگ بھي لگاسكتا هے۔ اپني شخصيت كے ان گڈمڈهوتے هوئے سايوں ميں وه كبھي درخت كي اس لچكتي شاخ كي طرح دكھائي دے گا جس پر اچانك ايك بڑا پھل نكل آيا هو۔ اور كبھي اتنا اكيلا كه اس كا سايه بھي اس سے پناه مانگے۔

 رشيد احمد صديقي كي طرح علي گڑھ بھي اس كي كمزوري هے۔ ليكن اس كي يه كمزوري اس كا بڑا هتھيار بھي هے۔ شايد اس كي ادھوري شخصيت كي تھوڑي بهت تكميل علي گڑھ هي كي مرهون منّت هو۔ بلند شهر نے اسے كچھ بھي نه ديا هو جهاں اس نے پهلي سانس لي۔

 ميں نے ايسے شاعر ذرا كم هي ديكھے هيں جو سردار جعفري كے ليے بھي اتنے هي قابل قبول هوں جتنے شمس الرحمن فاروقي كے ليئے هوسكتے هيں۔ شهر يار بھي ايسے هي دو ايك شاعروںميں سے هے۔ ليكن شعروادب كو شهريار نے جو كچھ بھي ديا هو اس كا حساب همارے پاس هويا نه هو۔ مغني تبسم كے هاں ضرور هے جو خير سے اس كے دوست بھي هيں اور اس كے نقاد بھي۔

 دوست تو هم بھي هيں۔ ليكن نقاد نهيں۔ يه علحده بات هے كه شهر يار اپني شاعري كا ايك طرح سے خودهي نقاد هے۔ اس ليے تو ابھي تك زنده هے۔

 يه ميري ٹريجڈي يا خوش بختي هے كه ميرے احباب كا دائره محدود هے ياروں كے اس سكڑے سمٹے دائره ميں ايك نماياں نام شهر يار كا بھي هے۔

 اس كي شخصيت كو جو چيز اسے اور ساتھيوں سے اُونچا كرتي هے وه اس كا اپنا اعتماد هے۔ آپ اس سے گھنٹوں باتيں كيجئے وه اپناذكر كهيں نهيں لائے گا۔ صرف آپ كے بارے ميں پوچھتا رهے گا۔ گفتگو كے دوران اپني ذات كوكچھ اس خوبصورتي سے بچالے گا كه آپ حيران هوجائيں گے كيا يه اسم اعظم، ساتواں دروالا شهريار هے يا كوئي اور۔

 گمن اور امراو جان كي كهيں بات چھڑ بھي جائے تو بات كو طول اس ليے نهيں دے گا كه كهيں اس كي بڑائي كا پهلو نه نكل آئے۔

 بنتِ عنب اس پر مفتون هو يا نه هو ليكن وه اس كا بڑا عاشق هے اس عاشقي ميں عزتِ سادات كو كچھ اس طرح سنبھالے رهتا هے جيسے كسي چاك گريباں كو اچانك پاسِ گريباں كا خيال آجائے۔

 ويسے وه سر شاري كا تو قائل هے ليكن بے خبري كا نهيں۔

 مغني كا خيال هے جب سے فلم امرو جان ميں اس كے گانے هٹ هوئے هيں۔ اس سے اس كي ذات كو فايده پهنچا هو يا نه هو ليكن اس كے ساتھ كسي ادبي وركشاپ يا هوٹل ميں قيام كرتے هوئے ايك فائده يه بھي رهتا هے كه وهاں كي سست روسروس اچانك تيز هوجاتي هے بشرطيكه هوٹل كے مالك كو يه پته چل جائے كه يهاں امراو جان كا شاعر ٹھهرا هوا هے ليكن ميرا تجربه ديگر هے۔ پچھلے برس جب وه حيدرآباد آيا تھا تو مُغني نے اپنے گھر كے قريب لكڑي كے پل سے لگے هوے ايك هوٹل ميں اسے ٹھهراياتھا۔ هوٹل ميں سوائے سروس كے هر چيز ٹھيك ٹھاك تھي۔

 ٫٫يار عجيب هوٹل ميں ٹھهرے هو۔ بيل بجانے پر بھي كوئي پرسانِ حال نهيں۔٬٬

 ٫٫سب چلتا هے يار، يهي كيا غنيمت هے كه ميں مغني كے گھر كے بالكل قريب هوں۔٬٬

 دراصل وه يه نهيں چاهتاتھا كه مغني نے جس هوٹل ميں اسے ٹھهراياهے اس كي اس طرح مذمت كي جائے۔ ليكن مجھ سے رها نه گيا۔ ميں نے نيچے اُتر كرمينيجر سے جب سروس كي شكايت كي تو مينيجر نے جو جواب مجھے ديا وه حيران كن تھا۔ ارے اس فلمي كوي كي بات كر رهے هو ايك دن بل پے كرنے كي بجائے نيچے آكر مجھ سے پوچھنے لگا۔

اس شهر ميں هر شخص پريشان سا كيوں هے

 ميں نے سوچا۔ بے چاره خود پريشان هے۔ اس ليے سارے شهر كے لوگوںكو پريشان سمجھ رها هے۔

 ميں مينجر كے اس جواب سے لاجواب هوكر جب گھر پهنچا تو اس كے چند مداح ميرے منتظر تھے كه ميں انهيں اس هوٹل كا پته بتا سكوں جهاں وه ٹھهرا هوا هے۔

 دراصل اس كے چاهنے والوں كي تعداد كچھ اتني زياده هے كه كبھي كبھي رشك كرنے كو جي چاهتا هے۔

 مجھے ٹھيك طرح ياد نهيں هے۔ غالباً پهلي بار ماه نامه صبا ميں كنور اخلاق محمد خاں كے نام سے اس كي ايك غزل شائع هوي تھي۔ جتنا نام غير ادبي تھا۔ غزل بھي كچھ اسي طرح كي تھي جيسے هي كنور اخلاق كے لباده كو اتاركر اس نے شهريار كا روپ دھار ليا اس كي شاعري اچانك چمك اٹھي۔ اور وه گمنامي كے ڈربے سے باهر نكل آيا۔ ليكن يهاں مجھے سرسري طورپر بھي شهريار كي شاعري كے بارے ميں كچھ كهنا نهيں هے كه يه معامله نقادوں كے مُنه سے نواله چھين لينے كے برابر هے۔

 مجھے تو اس شهريار سے غرض هے، جو اپني چند خاميوں اور بے شمار خوبيوں كي وجه سے مجھے هميشه عزيز رها هے۔

 شهريار كي خامياں ڈھونڈنے ميں مجھے كنكريوں كي جگه هميشه موتي هي ملے۔ ٥٦٦ ئ ميں وه بي اے كا طالب علم تھا۔ خليل الرحمن اعظمي كے ساتھ رها كرتا تھا حالانكه اس كا گھر علي گڑھ هي ميں تھا۔ خليل صاحب سے اسے كچھ اتني محبت و عقيدت تھي كه وه اپنے گھر كو ايك طرح سے بھلاهي چكا تھا ó۔ó

 دوسري طرف خليل صاحب كي زبان كنور صاحب كهتے هوتے تھكتي نه تھي۔ حالانكه كنور عمر اور مرتبه ميں ان سے كافي چھوٹا تھا۔

 بسم الله محل اور آنندبھون ميں اكٹھا هونے والے قلندروںميں سب سے چھوٹا اور بانكا قلندر كنور هي تھا۔ خليل صاحب كا سب سے زياده لاڈلا اور چهيتا۔ اُس كي تربيت سے لے كر اسے ادبي دنيا ميں متعارف كرانے كا سهرا خليل صاحب هي كے سر جاتا هے۔ ليكن كبھي كبھار ادبي سطح پر وه ان سے اختلاف بھي كرتا تھا۔

 علي گڑھ ميں اسے بڑي محبتيں مليں۔ خواه وه خليل الرحمن اعظمي هوں كه سرور صاحب جذبي خودهوں كه منيب الرحمن۔ رشيدالاسلام هوں كه مجنوں گوركھپوري۔ ليكن علي گڑھ كے باهر بھي اس كے چاهنے والوں كي تعداد كچھ كم نهيں هے۔ كبھي كبھي ميں ڈرنے لگتا هوں كه كهيں اس كي يه مقبوليت اسے لے نه ڈوبے۔

 شهريار كي خوبي يا خامي ايك يه بھي هے كه وه ناپسنديدگي كے اظهار كي ضرورت كو فضول شئے سمجھتا هے۔اور محتاط رهتا هے ليكن الجھنا نهيں چاهتا۔ بجائے لڑنے جھگڑنے كے چپ هوجاتا هے مگر جب وه ايك بار كسي كو پسند كرلے تو هميشه اس كي Supportكرے گا۔

 اس بھلے مانس سے ميں پهلي بار زبير رضوي كے ساتھ دلي ميں ملا تھا۔ í٥٦٦í £٥٧٧£ كے آس پاس۔ پهلي ملاقات هي ميں اس نے محبت اور رفاقت كا كچھ ايساثبوت ديا كه ميں اسي كا هو كر ره گيا۔ اس وقت وه صرف كنور تھا اور شاعري كو تخته مشق بنائے هوے تھا ó۔ó

 اس نے بڑي محبت سے هميں علي گڑھ آنے كي دعوت دي اور اس محبت بھري دعوت كے جواب ميں جب هم اور زبير علي گڑھ پهنچے تو اسٹيشن پر خليل الرحمن اعظمي همارے منتظر تھے۔

 جب هميں ٹرين سے اترتے ديكھا تو آگے بڑھ كر پيار سے گلے لگايا خيريت پوچھي اور اس طرح هم شهاب شهريار اور خليل صاحب آنند بھون پهنچ گئے۔ جو كبھي خليل صاحب كا گھر تھا۔

 كچھ دير ادھر اُدھر كي باتوں كے بعد جب شهاب جعفري سے غزل سنانے كي فرمائش كي گئي تو اس نے پے درپے كوئي دس غزليں سناڈاليں۔ شهر يار نے اسے ٹوكا۔ ٫٫حد كرتے هويار، كيا اپناپورا قلمي ديوان سناڈالوگے۔٬٬ زبير رضوي اتفاقاً اپني بياض گھر هي پر بھول آئے تھے۔ اس ليے انهيں اپني چند غزلوں اور گيتوں هي پر اكتفا كرنا پڑا۔ اور جب خليل صاحب نے غزل شروع كي تو محفل ميں ايك سناٹا سا چھاگيا۔


يه بھي هم بھول گئے نام همارا كيا تھا

پوچھ كر گردشِ دوراں سے بتادے هم كو

 جب شعر خواني ختم هوي تو شهاب نے موقع كو غنيمت جان كر پنكج ملك كے كئي گيت سناڈالے۔

كون ديس هے جانا بابو سے لے كر

 يه كون آج آيا سويرے سويرے

 دودن كس طرح علي گڑھ ميں گزر گئے۔ كچھ پته هي نه چلا۔ جب دلي پهنچے تو ميري غنودگي كو ديكھتے هوے زبير نے كها كچھ خبر بھي هے هم دلي پهنچ چكے هيں۔

 تمهيں جامعه نگر جانا هے اور مجھے اپنے گھر محله قبرستان۔٬٬

 پھر دلّي ميں ايك لمبا عرصه گزارنے كے بعد جب ميں حيدرآباد پهنچا تو مجھے كنور كا ايك خط ملا۔ ٫٫ذرا كان قريب لاو ، ميں نے اپنا نام شهر يار ركھ ليا هے۔ اس نام سے خليل صاحب اور انور خوش هيں۔٬٬

 ميں نے سوچا۔ نام بدل كر وه كون ساتير مارے گا۔ نه شخصيت هي بدلے گي اور نه شاعري۔ ليكن معامله اس كے برعكس هوا۔ ٫٫سويرا٬٬ ميں جب اس كي نظميں چھپنے لگيں تو لوگ شهريار كے توسط سے كنور كو جاننے لگے۔ اس نے اپنے اصلي نام كو قلمي نام ميں اس طرح چھپا ليا كه مجھے كنور كو بھولنے اور شهريار كو ياد كرنے ميں كئي برس لگ گئے۔ ليكن وه اپني نظموں اور تحرير كے ذريعه برابر اپني ياد دلاتا رها۔

 وه كبھي بيڈمنٹن بھي كھيلتا رها هے۔ ليكن بال سے نهيں شيٹل كاك سے شايد وه بال كي تيزي كي بجائے شٹل كي نرم رفتاري كا زياده قائل هو۔ اس طرح اس كا رشته شاعري سے جوڑنا ممكن هو تو صاف نظر آتا هے كه وه اپنے احساس كو قاري پر پھينك مارنے كي بجائے نرم رفتار شٹل كي طرح اپنے قاري تك پهنچانا چاهتا هے۔

 حيرت كي بات هے كه اس نے پي ايچ ڈي كي ڈگري كيسے حاصل كي۔ ميرے خيال ميں پي ايچ ڈي هي ايك ايسا در هے جو اسم ِاعظم سے بھي نهيں كھل سكتا۔ اس كے شعري رويه كو ديكھتے هوے اس كے تھيسيس كا تحقيقاتي كردار بھي مجھے كچھ مشكوك سا نظر آتا هے۔ خواه اس كي تحقيق كا موضوع اردو تنقيد پر مغربي تنقيد كے اثرات هويا انيسويںصدي ميں اُردو۔

 مجھے اب بھي يقين نهيں هے كه شاعر شهريار كا مزاج تحقيقي بوجھ بھي سهار سكے۔ چاهے وه اپني نظموں پر نظر ثاني كا قائل نه هو ليكن اس كا نثري اظهار اس كا انداز گفتگو سماعتِ ثاني كا مطالبه كرتا هے۔ خاس طور پر اس وقت جبكه وه عالمِ سرشاري ميں هو۔

 شهريار بڑايار باش آدمي هے۔ اپنے دوست كے ليے وه سب كچھ كرے گا جو اس كے بس ميں هوگا۔ كبھي كبھي تو اس كي گرم جوشي كا يه عالم هوتا هے كه دوست كهيں پيچھے ره جاتا هے۔ اور وه آگے نكل جاتا هے۔ شايد وه اپنے آپ كو مكمل طور پر حوالے كرنے كا قائل نهيں هے۔

 اسم اعظم كا علم جسے هوگيا وه بن گيا فاتح عالم كي بات تو ميں نے سني تھي۔ اب يه راز بھي سمجھ ميں آنے لگا هے كه هندوستان كے هر بڑے مشاعرے ميں اسے كيوں بلايا جاتا هے جبكه وه يكسر مشاعروں كا شاعر نهيں هے۔ يه اور بات هے كه مشاعرے اس كے ليے كبھي آمدني كا ذريعه نهيں رهے۔ تاش كے مشغلے كي طرح مشاعره بھي اس كے ليے مالي نقصان كا ذريعه هے۔

 آرام پسندي، شهزادگي، شاه خرچي، بے نيازي، محبت، خلوص رفاقت، لڑائي جھگڑادشمني اور انتقام كا اگر كوئي نام هوسكتا هے تو شهريار اور صرف شهريار هي هے۔

 دراصل اپنے لئے اس نے ايك one pointپروگرام بناركھاهے دوست كو كوئي كام كرنا هو يا دوست كے كسي دشمن سے بدله لينا هو اسے تكميل تك پهنچائے بغير دم نهيں ليتا۔ اپني ذات كے ليے كبھي اس نے لڑائي نهيں كي۔ اس كي زياده ترلڑائياں اور نفرتيں دوستوں هي كے ليے هوئي هيں۔ به ايں همه اس كے پاس اخلاقي معيارات بھي هيں۔ وه ايسے هي لوگوں كو اپنا يار بناتا هے جو اپنا ايك كردار ركھتے هوں۔

 ايسے ويسے ملاقاتيوں اور دوستوں كے ليے اس كا رويه بالكل برعكس رهتاهے۔

 وه خير سے اُردو كا استاد بھي هے۔ اُردو كے استاد اور بھي هوں گے ليكن شهريار كا معامله ديگر هے۔ يونيورسٹي هويا اس كا گھر وه هميشه اپنے شاگردوں ميں گھرا رهتا هے۔ وه اس پر جان چھڑكتے هيں اور يه ان پر مراجاتا هے۔

 مرتا تو وه رمي پر بھي هے۔ رات رات بھر كلب ميں رمي كھيلنے كے بعد پته نهيں وه شاعري كے ليے كب وقت نكالتا هے۔

 ميں نے رمي كے ايسے ديوانوں كو ذرا كم هي ديكھا هے۔

 بنيادي طور پر اس كا temperment جواريوں كا سا هے۔ اس ليے اسے يه غرض نهيں هوتي كه وه رمي ميں جيت رها هے يا هار رها هے۔ جس آدمي كي شخصيت ميں سرے سے هارجيت كا كوئي خانه هي نه هو بھلا ايسے قلندر كے بارے ميں كياكها جاسكتا هے؟

 مگر كون جانے كب اور كس وقت وه پھر شهر يار سے اچانك كنور بن جائے اور هم اس كا مُنه تكتے هي ره جائيں۔

ll














راشد آذر


 مجھے يه دعويٰ نهيں هے كه ميں نے راشد آذر كو قريب سے ديكھا هے ليكن اس كا يهه مطلب تو نهيں كه اس سے ميري ياري نهيں هے يارفاقت كي خوشبو سے اس كي شخصيت عاري هے۔

 وه شاعر اچھا هے يا آدمي اس سلسله ميں كوئي حتمي رائے دينا مشكل بھي هے اور آسان بھي۔ پھر ايك خاكه نگار كو كيا پڑي كه وه تنقيد نگار كے مُنه كا نواله خواه مخواه جھپٹ لے۔ اپني شخصيت كو مذاق كا هدف بنانا بڑے جي گردے اور ظرف كا كام هے۔ يه ظرف ميں نے صرف راشدآذر كي تيكھي شخصيت هي ميں ديكھا هے۔ سياست ميں ٫٫Committed٬٬ هونا ايك اچھي علامت هے۔ ليكن وه ادب ميں بھي ايك Committed شاعر كي حيثيت سے جانا پهچانا جاتاهے۔ وه اقبال متين كي طرح هر ملنے جلنے والے كو پيارے يا ميري جان كهه كر مخاطب نهيں كرتا۔ اقبال متين كے ذكر پر ايك واقعه ياد آگيا۔ پروانه هال ميں اس كي كتاب كي رسمِ اجرائ كي تقريب منائي جانے والي تھي۔ اس نے پهلے هي طے كر ركھا تھا كه صدراقبال متين هي رهيں گے۔

 اقبال متين بھي ايك طرح سے خوش هي تھے۔ جلسه كوئي ٧٧ بجے شروع هونے والا تھا۔ ميں ٹھيك سوا سات بجے جب پروانه هال پهنچا تو لوگ آهسته آهسته آتے جاتے دكھائي دے رهے تھے۔ جوں هي اس كي نگاهيں مجھ سے ٹكرائيں وه لپك كر ميرے قريب آيا۔ كهاں هے بھئي آپ كے اقبال متين، سات بج چكے هيں ó۔ó

 ميں نے جواباً اس سے كها۔ ٫٫ابھي تو صرف سات بج كر پندره منٹ هي هوئے هيں۔٬٬

 ٫٫كيا مطلب۔؟٬٬

 ٫٫مطلب يه كه كچھ دير انتظار كرلو۔ صدر تو مرتا جيتا كسي طرح آهي جاتا هے۔٬٬

 پھر اس نے شاذ سے مخاطب هوكر قدرے ناراضگي سے كها۔ ٫٫مجھے وقت كي پابندي نه كرنے والے لوگ ايك آنكھ نهيں بھاتے۔٬٬

 ٫٫ميري جان وقت كے معامله ميں تم انگريزوں سے بھي دو هاتھ آگے هو۔ وه وقت پر آتا هے۔ تم وقت سے آدھ گھنٹه پهلے آجاتے هو۔ تھوڑا سا انتظار كرلو۔ اس كے بعد تم چاهو تو كسي كو بھي صدارت سونپ سكتے هو۔٬٬

 ٫٫اب ان كا انتظار فضول هے۔ تم ان كي جگه صدر بننے كے لے بالكل تيار هوجاو ۔

 ٫٫بلكه ابھي كرسي صدارت پر جاكر بيٹھ جاو ۔٬٬

 شاذ نے كها۔ ٫٫ميں ايك شرط پر صدارت قبول كرتا هوں۔ ميں صدر بننے كے بعد اس جگه سے نهيں هٹوںگا۔٬٬

 ٫٫كوئي سوال هي نهيں هے۔ دير سے آنے والے كو كچھ سزا بھي تو ملني چاهئے۔٬٬ راشد نے اطمينان كے لهجے ميں كها۔

 كچھ دير سوچنے كے بعد شاذ نے مجھ سے پوچھا۔ تمهارا كيا خيال هے عوض۔؟ وهاں تو گاڑي چھوٹ جانے والا منظر تھا۔ پته نهين ميں نے رواردي ميں كيا كها۔ شايد حامي هي بھري هو۔ ليكن جب ميں نے اپني نشست سنبھالي تو مائيك كے ذريعه شاذ كو ڈائس پر آكر صدارت كرنے كي دعوت دي جارهي تھي۔ مغني تبسم نے اپني كرسي سنبھال لي تھي اور دوسرے ساتھي بھي تھے جو راشد كي شاعري پر پيپر پڑھنے كے ليے آبيٹھے تھے۔ جس جگه اقبال متين كو بيٹھنا تھا اب اس جگه شاذبراجمان تھے اور اقبال متين كا دور دور تك پته نه تھا۔

 لوگوں نے كافي دير بعد جب اقبال متين كو جلسه گاه ميں داخل هوتے هوے ديكھا تو اُن كي نگاهيں صاف چغلي كھارهي تھيں كه ديكھيں اب كياهوتا هے۔ شايد اقبال متين نے بھي شديد انداز ميں يهي محسوس كياهو كه يهاں تو پانسه هي پلٹ گياهے۔ ايك طرف شاذ هے جس سے ان كي ياري هے۔ دوسري طرف صدارت اور انگريز راشد۔

 متين نے اپني عافيت اسي ميں سمجھي كه كيوں نه اپني شخصيت كو بھول بھال كر سامع بن جائيں۔ اور عام لوگوں كے ساتھ بيٹھ كر اپنے عوامي اديب هونے كا ثبوت ديں۔ ليكن شاذ نے اشارۃً انھيں ڈائس پر آنے كي دعوت دے هي دي۔ ڈائس پر پهنچنے پر بھي وه ايك معصوم سامع كي طرح چپ چاپ بيٹھے رهے۔ كبھي كبھي شاذ اور راشد كي طرف مُڑ كر اس طرح ديكھتے جيسے كهه رهے هوں۔ يه سب كيا هورها هے پيارے۔ دير سے آنے كي اتني بڑي سزا آج تك كسي نے كسي كو دي هے مگر راشد وقت كي پابندي كے معامله ميں بڑا سفاك اور ظالم هے۔ وه پلك جھپكتے هي وه سب كچھ كرجاتا هے جس كي توقع بھي نهيں كي جاسكتي۔

 اقبال متين يوں بھي ديگر تو تھے هي۔ جاتے جاتے اپنے تركش سے تير نكالا اور راشد پر چلاديا۔

 ٫٫جناب كياآپ فلاں صاحب كے ذريعه اپني كتاب كي رونمائي كرواتے اور اگر وه وقت پر نه آئے هوتے تو كيا آپ ايسا كرسكتے تھے۔ هر گز نهيں آپ گھنٹوں ان كا انتظار كرتے۔٬٬

 اقبال متين كا كها هوا وه سخت جمله آج تك راشد كے حلق ميں مچھلي كے كانٹے كي طرح پھنساهوا هے۔

 راشد كو اگر كوئي بات ناگوار گزرے تو وه مخاطب كے سامنے هي سب كچھ كھري كھري سناڈالتا هے۔ تاكه غيبت كي نوبت هي نه آئے۔ ميں نے بارهاشاذ سے اس كو اس طرح الجھتا ديكھا هے۔

 ايك بار اكبرحيدرآبادي۔ لندن سے حيدرآباد آئے هوئے تھے۔ راشد نے انهيں بوٹ كلب سكندرآباد ميں دعوت دے ركھي تھي۔ شاذ اور راشد كے ساتھ ميں بھي تھا۔ ابھي محفل كارنگ جمنے بھي نه پايا تھا كه راشد نے كها۔

 ٫٫شاذ تم ميں ايك قباحت يه هے كه تم اپني غزليں گوانے كے ليے موسيقاروں كے پاس وقت بے وقت پهنچ جاتے هو۔ يه تمهارے مرتبے كے خلاف هے۔ شاعر كو ان باتوں سے بے نياز هونا چاهيے۔٬٬

 ٫٫چونكه تمهاري غزليں كوئي نهيں گاتا۔ اس ليے تمهيں اس بات كا دكھ هے۔٬٬

 ٫٫اس سے كوئي فرق نهيں پڑتا۔٬٬

 ٫٫بهت فرق پڑتا هے۔ جس شاعر كي غزل بيگم اختر گائے۔ جسے راسته چلتے چلتے لوگ٫٫كب تك ميرے مولا٬٬ كهه كر پكارے۔ جو هندوپاك كے هر بڑے اور اهم پرچے ميں اهتمام سے چھپتا هو جسے بڑے بڑے مشاعروں ميں مدعو كيا جاتا هو اس محفل ميں ۔ خداجھوٹ نه بلوائے كوئي بھي نهيں هے۔ ميں يه بات ڈنكے كي چوٹ پر كهه رها هوں۔٬٬ شاذ كا پاره چڑھ گيا تھا۔ اكبر ٹكر ٹكر شاذ كو اس طرح ديكھ رهے تھے جيسے وه كهه رهے هوں۔ يه كس جگه آكر پھنس گئے۔

 ميري طبيعت بھي كچھ مكدّرسي هوكر ره گئي تھي۔ شاذ پر جب اپني بڑائي كا بھوت سوار هوجاتا هے تو دنيا كا بڑے سے بڑا عامل بھي اس بھوت كو اپني گرفت ميں لے نهيں سكتا۔ جب تك خود شاذ اسے اجازت نه دے۔ پھر وهاں تو كسي بھي عامل يا جادوگر كا دور دور تك پته نه تھا۔ چند قريبي ساتھي تھے جو وقت كاٹنے كے ليے كلب آگئے تھے۔ ليكن مقام اور مرتبے كي خودساخته چكّي ميں پس كر ره گئے۔

 راشد اور شاذ كي دوستي آج بھي اسي طرح برقرار هے۔ جيسے پهلے تھي۔ شاذ كي سالگره كي تاريخ راشد كے ذهن ميں كچھ اس طرح چپكي هوئي هے كه وه كهيں بھي هو اس دن بطورخاص اسے بارلے جاتا هے۔ اسي طرح شاذ بھي اس كي سالگره پر اپني جيب هلكي كرتا هے۔

 راشد اپني بے شمار خوبيوں اور چند بھيانك خاميوں كے باوجود مجھے ايك بھلاسا آدمي لگتاهے۔

 ليكن برسوں گزرجانے كے باوجود ميري اس كي ياري ميں ايك فاصله سا هے۔

 راج بھون روڈ كے جس خوب صورت بنگلے ميں وه رهتا هے اس كا نام ٫٫تمنا٬٬ هے اور هر آدمي اپنے دل ميں ايك تمنا لئے رهتا هے۔ تمناو ں اور آرزو ں سے گھرے هوئے لوگوں ميں بھي وه به آساني پهچانا جاسكتا هے اس كي شخصيت كي يهي ايك پهچان نهيں هے۔ اسے جاننے اور سمجھنے كے ليے كبھي كبھي پاتال ميں بھي جانا پڑتا هے۔ ليكن پاتال ميں جانے كے بعد واپس صحيح و سلامت پهنچنے كي بھي كوئي ضمانت نهيں هے۔

 اب يهي ديكھئے ناكه اس كے دل ميں كئي خانے هيں۔ هر ايك خانے ميں اس نے اپني پسند كي چيز ركھ چھوڑي هے۔ ايك خانے ميں اس كا اپنا السيشين هے۔ دوسرے خانے ميں دو ايك دوست هيں۔ تيسرے خانے ميں اس كي اپني كار هے۔ جس ميں اس كے علاوه به مشكل تين آدمي بيٹھ سكتے هيں۔ چو تھا آدمي خواه اس كا قريبي دوست هي كيوں نه هو۔ اس ميں بهر حال وه بيٹھ نهيں سكتا جب تك كه وه خود اجازت نه دے۔ اگر وه همت كر كے خود سے بيٹھ بھي جائے تو وه بلا تكلف كهه دے گا۔

 ٫٫مولانا۔ ذرابس، يا سكوٹر سے آجائيے۔٬٬

 ليكن كبھي كبھي اس كي ذات ميں چھپاهوا راشد علي خاں جب سرنكالتا هے تو وه ايك دوسرا هي آدمي لگتا هے۔ ايسے وقت ميں وه اپنے كسي بھي شناسا كو پيدل جاتے هوے ديكھ كر اپني كار ميں گھسيٹ لے تو آپ كو تعجب نهيں كرنا چاهيے۔

 دراصل راشد آزر كي شخصيت تضاد سے كچھ اس طرح بھري هوي هے كه اس كے بارے ميں كوئي حتمي رائے نهيں دي جاسكتي۔ كبھي كبھي يه بھي احساس هونے لگتا هے كه يه شخص دانسته طور پر اپني شخصيت كو پُراسرار بنانے پر تلاهوا هے۔ علم، عقل اور سائنس كے چوكھے هر شے كو پركھنے والاجب واهموں كا شكار هوجاتا هے تو اس كا سائنٹيفك نقطه نگاه تو ايك طرف دھرا ره جاتا هے اور وه اچانك سفيد ٹوپي اوڑھے شهر كے هنگاموں سے دُور اپنے مرشد كي تلاش ميں نكل پڑتا هے۔

 جب وه تيزي سے كار چلاتا هوا ميڑچل روڈ پر نظر آجائے تو سمجھ جائيے كه وه ذهني تناو كا شكار هے۔ مگر جب وه وهاں سے لوٹتا هے تو ايك اور هي راشد آذر دكھائي ديتا هے۔ اور يهي وه منزل هے جهاں وه چپكے سے اپنے اندر كے راشد علي خان كو ٹٹولتا هے، اُسے پكارتا هے مگر جب سوال هي اچانك جواب بن جائے تو وه بظاهر مسكراتا هوا كهيں اور نكل پڑتا هے، ايك بے نام سمت كي اور ايك انجانے راستے كي طرف۔

 اس نے كبھي كلر كي بھي كي اور وكالت بھي۔ اهم عهدوں پر بھي فائز رها ليكن دوسري طرف اس نے وقفے وقفے سے ايك ايك كر كے ساري ملازمتيں بھي چھوڑديں۔ هٹ دھرمي اكھڑپن اور سچ كے زهر نے اُسے كهيں بھي قدم جمانے نهيں ديا۔

 آج بھي اس كا كچھ يهي عالم هے۔ آج يهاں تو كل وهاں اس نے اپني آدھي عمر اسي طرح نوكرياں ڈھونڈنے، پانے اور گنوانے ميں گزاردي۔ اس معامله ميں وه بڑا Adventurousهے۔

 راشد هميشه هي سے سيلف ميڈ آدمي رها هے۔ اس نے جوبھي كام كئے اپنے بل بوتے پر كئے۔ كبھي دوسروں پر تكيه نهيں كيا۔ جب ماں منسٹر تھيں تو وه ٹاپئسٹ تھا۔ اس نے كبھي اپني والده محترمه سے يه نهيں پوچھا كه آپ كار سے اتركر جب اسمبلي هال ميں داخل هوتي هيں تو وهيںآفس كے كسي كونے ميں بيٹھا وه كون ا ٓدمي هے جوٹائپ رائٹر پر جھكا اپني انگلياں چلايا كرتا هے، مگر منسٹرماں كو پته تھا كه اس كا لاڈلا اپنے پاو ں پر كھڑے هونے كا فن خوب جانتا هے اور جوخودداري اُسے ورثه ميں ملي هے وهي اس كا صحيح معني ميں پاسپاں بھي هے۔

 ميں نے راشد كے كردار كے سب هي گهرے رنگ ديكھے هيں۔ ليكن هر رنگ ميں كهيں نه كهيں اس نے اپني شخصيت كي چھاپ ضرور چھوڑي هے۔

 اُسے لاابالي زندگي گزارنے والوں سے بڑي كدرهي هے، زندگي ميں وه سليقے اور قرينے كا قائل هے۔ اور اپنے هر دوست كو اسي انداز ميں ديكھنا چاهتا هے آپ شديد گرمي كے عالم ميں اپني بشرٹ كے دو ايك بٹن كھلے بھي ركھ ديں تو وه آپ كے پاس پهنچ كر اسے ٹھيك كردے گا۔ كالر مڑاتڑا هو تو اس پر اس طرح هاتھ ركھے گا جيسے وه كالرنه هو دكھتي رگ هو۔ آپ لاكھ برا مانيں وه ٫٫سليقه٬٬ كهه كر آپ كو چپ كرادے گا۔

 كبھي كبھي اس سے مل كر ايسا بھي لگتاهے جيسے هم آدمي كي بجاے كسي بڑھيا لانڈري ميں دُھلے هوئے صاف ستھرے مُكلف كپڑے سے مل رهے هوں۔ اس كے باوصف اس كے كئي دوست اور آشنا هيں۔ حبيب حيدرآبادي سے بھي اس كي ياري هے وه حبيب كو ٹوٹ كرچاهتا هے اور حبيب بھي اسے بے حد عزيز ركھتے هيں۔ اس كا اندازه مجھے اس وقت هوا جب حبيب اچانك كچھ عرصے كے ليے حيدرآباد آئے تھے۔ ان كے آنے كي كسي كو اطلاع نه تھي۔ اس باغ وبهار آدمي كو ميں نے حددرجه اداس پايا تو مجھے حيراني سي هوئي۔ ميں نے جب ان سے خيريت پوچھي تو انھوں نے مجھ سے كها۔ ٫٫دراصل عوض۔ لندن سے اچانك آنے كي وجه صرف يه هے كه ان دنوںميري والده عثمانيه هاسپٹل ميں هيں اور وه بھي كوماكنڈيشن ميں۔ ان كے بچنے كي اميد ذراكم هي هے۔ ليكن پته نهيں اس وقت مجھے راشد كيوں يا ا ٓرها هے۔ كيا تم اس سے ملنے كي كوئي سبيل نكال سكتے هو۔؟

 راشد ابھي اور اسي وقت مل سكتا هے ليكن۔۔۔۔۔ ميرے ليكن پر انھوں نے اس طرح حيراني سے مجھے ديكھا كه يك بيك ميرا هاتھ ٹيليفون كي طرف بڑھ گيا۔ ٫٫بات صرف اتني هے كه وه شاذ كے گھر كھانے پر مدعو هے۔ اور۔٬٬

 پھر مزيد وقت ضائع كيے بغير ميں نے نمبر ڈائيل كيا اور راشد كو بلواكر مختصر الفاظ ميں حبيب كي پريشاني كي ساري روداد سُنادي۔

 ٫٫عوض يه ميرے ليے فخر كي بات هے كه انھوں نے ايسے وقت مجھے ياد كيا۔ تم فوراً انھيں يهاں لے آو۔ ميں باهر كھڑا اُن كا انتظار كروںگا۔٬٬

 جب هم آٹوركشا ميں شاذ كے گھر پهنچے تو وه دعوت كو ادھورا چھوڑكر واقعي سڑك پر كھڑا حبيب صاحب كا انتظار كررهاتھا۔

 يه ميرے ليے فخر كي بات هے حبيب صاحب كه آپ نے مجھے ايسے وقت ياد كيا۔ آپ نے مجھے وه باربار يهي جمله دهراتارها۔

 يكبارگي مجھے لگا جيسے راشد لانڈري ميں دُھلاهوا اُمكلف كپڑا هي نهيں ايك اچھا اور درد مند دوست بھي هے۔

ll



















نعيم زُبيري


 ميري زندگي ميں حادثوں كا هميشه بڑا دخل رها هے۔ نعيم زبيري كي دوستي بھي ان هي حادثوں ميں سے ايك هے۔ پهلي ملاقات پر جب ميں نے اسے چائے پيش كي تو وه طشتري پھوڑبيٹھا۔ دوسري دفعه كپ اس كے هاتھ سے چھوٹ گيا۔ ميں نے سوچا۔ عجيب هونق آدمي سے سابقه پڑا هے۔ بعد ميں معلوم هوا كه يه حضرت مراسله نگارهونے كے ساتھ ساتھ افسانه نگار بھي هيں اور آئے دن كپ اور ساسر پھوڑنا ان كا محبوب مشغله هے۔

 اب مجھے موصوف كے حدود اربعه كو سمجھنے ميں آساني هوگئي۔ ايك دن وه عجيب و غريب انداز ميں ميرے پاس آيا۔ اس وقت وه سرتاپا ايك پراسرار آدمي لگ رهاتھا۔

 ٫٫ميں نے ايك ادبي انجمن قائم كي هے۔٬٬ ارتقائے ادب۔٬٬

 ٫٫اچھا تو پھر۔٬٬

 ٫٫پھر كيا۔ چغد تمهيں بھي آنا هوگا۔٬٬ وه يه (Adjective) اس بے تكلفي سے كهه گيا كه ميں اس كے چهرے كو حيرت سے تكتاهي ره گيا۔ پھر اس نے بڑي ڈھٹائي كے ساتھ ان شاعروں اور اديبوں كے نام گنوائے جو ميرے حافظه ميں دور دور تك نه تھے۔

 ٫٫يه كون لوگ هيں۔؟٬ ميں نے اپني معلومات ميں اضافه كرنے كي نيت سے پوچھا۔

 ٫٫يهي اپنے سميع الله قريشي، محمود الحسن اور مرزا طغرل بيگ اور كون؟٬٬

 ٫٫تب تو تمهاري انجمن ميں شريك هونا هي پڑے گا۔٬٬

 ميرے اس جواب پر اس نے بڑے اعتماد سے كها۔ ٫٫ظاهر هے۔٬٬

 اور ميں بڑي دير تك اس ٫٫ظاهر هے٬٬ كے مزے لوٹتا رها۔

 ارتقائے ادب كے دوچار جلسے ميں نے بھي اٹنڈ كيے۔ كچھ نهيں تو ميں نے وهاں ايك خاص بات يه ديكھي كه ايك صاحب كونے ميں بيٹھے هميشه ٫٫نے٬٬ كي غلطي نكالا كرتے تھے جن كا تعلق يوپي سے تھا۔ اور وه شايد غلطي سے دكن ميں پيدا هوگئے تھے۔

 ان كي پيدائش كے اس گھپلے سے فائده اٹھا كر وقتاً فوقتاً هم نے بھي اپني گرامر كچھ درست كرلي۔ ليكن يه علٰحده بات هے كه وه هميں قواعد سيكھاتے سيكھاتے خود اپني زبان بھول بيٹھے۔ اور اس طرح ثواب جاريه كا سلسله اچانك ٹوٹ گيا۔

 اپني انجمن كا ديواليه نكالنے كے بعد وه مدتوں خوش خوش اس طرح پھرتا رها جيسے دوجهاں كي نعمتيں اسے اچانك ميسر آگئي هوں۔ ان دنوں نعيم اپني ساري حماقتوں كے باوجود مجھے عزيز تھا اور آج بھي اپني خوبيوں اور كاميوں سميت وه ميرا سب سے قريبي يار هے۔

 شروع شروع ميں، ميں نے اسے ايك يوں هي سا افسانه نگار سمجھ ركھا تھا۔ ليكن ايك دن اچانك كسي نے كها۔ كه وه عوامي مصنفين كے جلسے ميں اپني تازه كهاني سُنارهاهے۔ ميں نے سوچا۔ وه بھي اور افسانه نگاروں اور شاعروں كي طرح ريل كا پهيه ضرور جام كرے گا۔ كيوں كه ٥٣٣ ۔ £٥٤٤£ تك ادب كا كچھ يهي حال تھا۔ ليكن جب اس نے هانپتے كانپتے اپني كهاني ٫٫بيڈ نمبر 26٬٬ ختم كي تو مجھے احساس هوا كه يه كم بخت تو آگے چل كر بهت سوں كا بيڑه غرق كردے گا۔ ليكن نعيم كي يه شرافت تھي كه اس نے اپنا هي بيڑه غرق كرليا۔ اور رفته رفته لوگ بھول گئے كه نعيم زبيري نام كا كوئي افسانه نگار بھي كبھي حيدرآباد ميں هوا كرتا تھا ó۔ó

 وه كهاني جس كاميں نے اُوپر ذكر كيا هے وه ٫٫پريت لڑي٬٬ ميں شائع هوي تھي۔ وه مدّتوں پريت لڑي كا پرچه هاتھ ميں تھامے حيدرآباد كي سڑكوں پر گھومتارها۔ ليكن پھر بھي لوگ يه ماننے كے ليے تيار نهين هوے كه وه كهاني نام كي كوئي چيز بھي هے۔ پھر ايسا هوا كه اس نے پے درپے هلكي پھلكي فارمولاٹائپ كهانياں بھي لكھ ديں جو مقامي روزناموں اورگمنام پرچوں ميں چھپتي رهيں۔

 نعيم كا خيال هے كه كوئي پرچه خراب نهيں هوتا۔ لكھنے والا خراب يا اچھا هوسكتا هے۔ چنانچه اس كے لكھنے اور چھپنے كا ايك طويل سلسله اسي استدلال كو صحيح ثابت كرنے هي ميں گذر گيا۔ نعيم پھر ايك بار گم نامي كے غار ميں جاچھپا۔ اور صرف مقامي اديب بن كر ره گيا۔ اس جملے سے خواه مخواه يه احساس ابھرتا هے كه وه كبھي شهرت كا حامل بھي رها هو۔ شهرت سے تو وه هميشه كوسوں دور رها هے۔ نعيم نے شروع هي سے اگر معياري پرچوں كي طرف توجه كي هوتي تو اس نے آج گمنامي كي بركتوں كو يوں دو دو هاتھوں لوٹا نه هوتا۔

 ايك دن ميرے اصرار پر اس نے اپني كهاني ٫٫شكست٬٬ ادب لطيف كو بھيجوائي۔ مرزا اديب نے لكھا كه شكست ايك اعليٰ درجے كي تخليق هے۔ ليكن يه لكھ كر انھوں نے ادب لطيف كي ادارت هي چھوڑدي۔ اور ادب لطيف دوسروں كے قبضے ميں چلاگيا۔ اور اس طرح نعيم پھر ايك بار ماراگيا۔ اور شكست كي اشاعت كسي معياري پرچے كي بجائے ايك معمولي سے پرچے ميں هوگئي۔

 شكست كي اشاعت كے بعد اس كے ايك قاري نے باغ عامه سے گزرتے هوے نعيم كو ديكھ كر ايك هانك لگائي۔ ٫٫نعيم بھائي كهاني پسند آئي۔٬٬

 پته نهيں اپنے اس اكلوتے قاري كي تعريف سے وه آج تك كيوں شرمنده هے۔ كبھي كبھي وه پر لطف انداز ميں يه بھي كهتاهے۔ ٫٫كيا زمانه آگيا هے۔ نعيم بھائي كهاني پسند آئي كهه كر سيكل سے اُلٹے منه گرجانے والا قاري بھي اب ڈھونڈو نهيں ملتا۔

 پھر كافي عرصه گزرجانے كے بعد مين نے اسے ورغلايا كه ٫٫اوراق٬٬ كے ليے وه ڈاكٹر وزير آغا كے نام ايك كهاني داغ دے۔ پهلے تو وه ٹال مٹول كرتا رها۔پھر جب ميرا اصرار بڑھا تو اس نے كهاني بھيجوادي۔ اور جب وزير آغا نے مهينوں گزرجانے كے بعد بھي كوئي جواب نهيں ديا تو وه نه مايوس هي هوا اور نه اداس۔

 ليكن ايك دن اچانك ميرے پاس ٫٫اوراق٬٬ كا افسانه نمبر آيا تو اس ميں اس كي كهاني بھي شامل تھي۔ ايك دن ملاقات هونے پر ميں نے اس سے پوچھا۔ ٫٫نعيم كيا تمهارے پاس بھي اوراق آيا هے؟٬٬ اس نے طنزيه انداز ميں كها۔ ٫٫اوراق تو نهيں معين فاروقي كا انگارے ضرور آيا هے۔٬٬

 ٫٫كيا اس ميں بھي تمهاري كهاني شامل هے؟٬٬ ميں نے شرارت سے پوچھا۔

 ميري شرارت كو اس نے بھانپتے هوئے كها۔ ٫٫مذاق چھوڑو۔ پهلے يه بتاو اوراق ميں ميري كهاني شامل بھي هے يا نهيں۔٬٬

 پھر جب ميں نے گھر پهنچ كر اسے اوراق كا افسانه نمبر دكھايا تو وه كچھ بوكھلاسا گيا۔ مين نے پهلي بار نعيم كي آنكھوں ميں ايك خاص قسم كي چمك ديكھي۔

 ٫٫مردود، وه پرچه مجھے دے دو۔٬٬

 كافي ستانے كے بعد ميں نے اس كے هاتھ ميں اوراق تھماديا۔ جس ميں ميري بھي كهاني شامل تھي۔ ليكن شايد بعد ميں نعيم بھائي كهاني پسند آئي كهنے والے قاري نے اسے هتھياليا اور كسي كباڑيئے كے هاں اسے فروخت كرديا۔

 مجھے حبيب نگروالا وه تنگ اور تاريك كمره آج بھي ياد هے۔ جهاں اسے ميں نے كئي بار خُون اُگلتے ديكھا تھا۔ اُسے دق تھي اور وه دق كے تيسرے اسٹيج پر بھي اس طرح مطمئن تھا جيسے اسے كچھ هو اهي نه هو۔ اب تو وه كچھ اتنا بھلا چنگا هوگيا هے كه آپ اس سے به آساني هاتھا پائي كرسكتے هيں۔

 دوستي كے باب ميں اس كے سوچنے كا انداز اور رويه عام شرفا سے بالكل جدا هے۔ مهينوں بعد بھي آپ اس سے مليں تو آپ سے يه نهيں پوچھے گا كه تم اب تك كهاں روپوش تھے۔ اس كي اس سرد مهري سے اُكتا كر اگر اس كا كوئي ساتھي خدا حافظ كهنے كے ليے هاتھ بڑھادے تو وه فوراً اسے خدا حافظ كهه دے گا۔ خواه وه شخص اس كا محسن هي كيوں نه هو۔

 اس كے قريبي دوست پدماراو كو بھي اس سے يهي شكايت هے كه خدا حافظ كهنے پر وه مُروتا بھي كبھي يه نهيں كهے گا۔ ابھي تو آپ آئے هيں، كچھ دير رُك جائيے۔ ايسے وقت اس كا لمبا هاتھ اور لمبا هوجاتا هے۔ كبھي كبھي تو وه اپنے ساتھي كو رخصت كرتے هوے انگليوں كي بجائے كهني سے بھي كام ليتا هے۔ اور اپنے اس عمل كو اس نے ٫٫اضطراري كيفيت٬٬ كا نام دے ركھا هے۔

 اس كے دوستوں كا حلقه كافي وسيع هے۔ ان ميں تعليم يافته بھي هيں اور اُن پڑھ بھي۔ شريف بھي هيں اورحددرجه بدمعاش بھي۔ نعيم دوستي كے معامله ميں كچھ اتنا چالاك هے كه پته نهيں چلتا كه وه كس قماش كے ساتھي كو زياده عزيز ركھتا هے۔

 وه ريس نهيں كھيلتا۔ شراب نهيں پيتا۔ عشق نهيں كرتا۔ حتي كه پان تك نهيں كھاتا۔ هاں سپاري ضرور كھاتا هے۔ بلكه پھانكتا هے۔ اگر آپ پليٹ بھر سپاري بھي اس كے سامنے ركھ ديں تو اسے ٫٫گرين پيس٬٬ سمجھ كر كھاجاے گا۔ وه ايسے هي گھر ميں زياده دير بيٹھ سكتا هے جهاں اچھي چائے كے ساتھ سپاري بھي اسے كھانے كوملے۔

 چائے بھي اس كي كمزوري هے۔ كھانے سے اُسے كوئي خاص رغبت نهيں۔ اچھي پتي كي بني هوي چائے كا وه ديوانه هے۔ اس سلسله ميں اس كي ديوانگي كا يه عالم هے كه اگر اسے يه علم هوجائے كه ناگپور ميں چائے كے ڈيلر كے پاس ايك نئي اور قيمتي پتي آئي هے تو وه بے اختيار وهاں بھي پهنچ جائے گا خواه اسے قرض هي كيوں نه لينا پڑے۔

 وه لائف انشورنس كي افاديت كا بھي قائل هے۔ اپني پاليسي كو ٫٫Mature٬٬ هونے كي منزل تك پهنچانے سے پهلے هي ايك گمبھير سانس كے ساتھ چپكے سے چٹ فنڈ ميں شامل هوجاتاهے۔ اور هراج كے موقع پربولي دينے والوں ميں سب سے اونچي اسي كي آواز هوتي هے۔ ان تمام الجھنوں كے باوجود اس كے هاں اسكوٹر بھي هے وه ايسے ساتھيوں كو ضرور رلفٹ ديتا هے جن كے هال كنويينس نه هو۔ وه تو اس معامله ميں اتنا شريف هے كه راستے ميں اپنے دھوبي كو پيدل جاتا ديكھ كر بھي لفٹ دينے ميں كوئي عار محسوس نهيں كرتا خواه اس كے سر پر كپڑوں كا انبار هي كيوں نه هو۔

 بے كاري كے دنوں ميں كبھي وه صحافت سے بھي وابسته رها۔ ايك هفته دار پرچے كي ادارت بھي كي۔ پبلشر كا بيڑه غرق كرنے كے بعد صحافت سے اچانك ناطه توڑ ليا۔ نئي كتابيں خريدنا اور٫٫عالمِ كڑكي٬٬ ميں انھيں پڑھ كر فٹ پاتھ پر بيٹھنے والے كسي بھي كباڑئيے كو اونے پونے داموں بيچ دينا اس كا ايك خاص مشغله هے۔ اس ليے اس كے بك شلف ميں آئے دن كتابيں گھٹري رهتي هيں۔ نعيم كتابوں كے سلسله ميں حددرجه غير ذمه دار هے۔ اس ليے اگر وه كبھي آپ سے كوئي كتاب مانگے اسے هر گز نه ديجيئے۔ اگر مانگي هوئي كتاب پرڈسٹ كورنه هو تو اس كي بدصورتي كو ڈھانكنے كے ليے وه كوئي خوب صورت سا كور چڑھا دے گا تو آپ خوش هوجائيں گے كه نعيم كتنا معقول آدمي هے۔ ايك ماه بعد اس كے بُك شلف ميں وه كتاب نه هوگي پوچھنے پر وه اطمينان سے كهے گا۔ تمهاري كتاب مرزا صاحب لے گئے هيں۔ واضح رهے كه وه كبھي جھوٹ نهيں بولتا۔ بيشتر صورتوں ميں تو اسے يه بھي ياد نهيں رهتا كه اس كے شلف سے كون كتاب اٹھالے گيا۔ ورنه ذاتي طور پر وه بڑا ايمان دار واقع هوا هے۔ وه آپ سے اپني كسي بھي كتاب كا مطالبه نهيں كرے گا۔ خواه آپ اس كتاب كو ردّي هي ميں كيوں نه بيچ ديں۔ بهر حال نعيم ايك ٹيپكل آدمي هے۔

 ڈريسنگ كے باب ميں نعيم بڑا قدامت پسند واقع هوا هے۔ جيسے فيشن كي دنيا نے اسے چھوكر تك نه ديكھا هو۔ ليكن صفائي كا بڑا خيال ركھتا هے۔ خواه بشرٹ كي جگه وه كوئي چغه هي پهنا هوا كيوں نه هو۔

 كسي وقت ٹينو پال كا اشتهار معلوم هوتا تھا۔ اب اس نے ايجنسي بدل دي هے۔ جب وه بھانت بھانت كے عجيب وغريب كپڑے اپنے جسم سے لپٹائے سڑكوں پر نظر آتا هے تو لوگ اُسے ٹورسٹ سمجھ كر آگے بڑھ جاتے هيں۔

 ادب كے سلسله ميں وه بڑا كوميٹيڈ هے اس ليے شديد مايوسي كے عالم ميں بھي وه گرتے پڑتے اندھيرے كو بھي اُجالا سمجھنے پر مجبور هوجاتا هے۔ شايد اسي لئے ميں نے كبھي اسے گهري سوچ ميں ڈوبا هوا نهيں پايا۔ مشوره دئيے بغير وه ايك منٹ بھي زنده نهيں ره سكتا۔ اس كے ملنے والوں ميں بعض بھلے مانس ايسے بھي هيں كه اگر وه مخالف سمت سے سڑك پار كر بھي رها هو تو چيختے هوے كهيں گے۔ نعيم بھائي آپ سے كنسلٹ كرنا هے۔ ايسے وقت وه اپنے اسكوٹر كي رفتار كو تيز كرنے كي بجائے بريك لگاديتا هے۔ اور اس كا چهره پھول كي طرح كھل اٹھتا هے۔

 وه دواو ں اور پرهيز كے باوجود اكثر بيمار رهتا هے۔ ايسے وقت اس كا كوئي قريبي سالا اس سے مشوره كے ليے اچانك گھر آجائے تو اس كي بيماري آناًفاناً جاتي رهتي هے۔

 به حيثيت افسانه نگاروه ابھي حلقوں ميں كم جاناپهچاناجاتا هے۔ جس كا اظهار اس نے اپني كتاب كے پيش لفظ ميں بڑے تيكھے انداز ميں كيا هے۔ كهيں كهيں بعض سخن گسترانه باتيں بھي ايك خاص تناظر ميں آگئي هيں۔ جو نعيم كي جديد ادب سے بے خبري كي غماز هيں۔ اس كے باوجود وه كئي مشهور افسانه نگاروں پر بھاري پڑتاهے۔

 نعيم به يك وقت ايك اچھا افسانه نگار بھي هے اور ايك ٹريڈيونين ليڈر بھي۔ به حيثيت ٹريڈيونين ليڈر وه آئے دن هوا ميں اڑتا رهتا هے۔ وه آج مدراس ميں رهتا هے تو كل دلّي ميں۔ يونين اس سے چمٹي هوي هے يا وه اس كا اسير هے۔ اس راز تك پهنچنے كي كبھي كسي نے كوشش نهيں كي۔

 نعيم كي شخصيت كي سب سے بڑي اور هولناك خرابي يهي هے كه وه سچ كے پل صراط پر بھي بغير ڈگمگائے گزرجاتا هے۔ وه اپنے اس وصف كے باعث اپنے ساتھيوں ميں معتوب بھي هے اور عزيز بھي۔

 اپني بے شمار خاميوں اور خوبيوں سميت مجھے نعيم بهت عزيز هے اور نعيم كوئي آج كا دوست بھي نهيں هے ربع صدي سے وه ميرا تعاقب كررها هے۔ زياده صحيح تو يه بات هے كه ميں هي اس كي دل فريب، عجيب و غريب شخصيت كا اسير هوں۔ نعيم سے ملنے اور اسے خواه مخواه گالياں دينے ميں مجھے بڑا مزه آتا هے اور كبھي كبھي جب وه آپ جناب پر آجاتا هے تو مجھے كوئي دوسراهي نعيم زبيري لگتا هے اور اس سے ملنے اور بات كرنے ميں وه لطف محسوس نهيں هوتا۔ ليكن وه جلدهي اپنے اس خول سے باهر آجاتا هے۔ دراصل يهي وه نعيم زبيري هے جو ميرا برسوں كا يار هے۔

ll




مُصحف اقبال توصيفي


 خالد نے جب مجھ سے آكر كها كه مجھے مصحف اقبال توصيفي پر خاكه لكھنا هوگا تو ميں بظاهر خوش هوتے هوئے بھي اداس هوكر ره گيا تھا، يه اداسي يوں هي نه تھي۔ ميري جگه كوئي اور بھي هوتا تو وه نه صرف اداس هوجاتا بلكه پريشان بھي۔

 ذرا سوچئے تو ايك نرے شريف آدمي پر بھلا كيا خاك اسكيچ لكھاجاسكتا هے يهي ناكه اقبال بے حد شريف اور مخلص انسان هے۔ اس كے ا ٓگے كچھ لكھنا كم از كم ميرے بس كي بات نهيں۔ ميري نظر ميں اقبال پر خاكه يهيں ختم هوجاتا هے۔ اس سے آگے ميں جو كچھ بھي لكھوں گا يا كهوں گا وه سراسر مبالغه هي هوگا۔ مگر جب لكھنا هي ٹھيرا تو مجھے كچھ نه كچھ كهنا هي هوگا۔

 آپ نے فاني مرحوم كي وه تصوير شايد ديكھي هو جن كي گود ميں ايك ننھا منا بچه بيٹھا هوا دكھائي ديتا هے۔ دراصل يه بچه مصحف اقبال هي هے۔ ثبوت كے ليے مغني صاحب سے پوچھيئے جنهوں نے فاني پر ريسرچ كي هے۔

 اقبال توصيفي كچھ اتنا دبلا پتلا واقع هوا هے كه مزيد كمي و بيشي كا سوال هي پيدا نهيں هوتا۔ ايك بار اقبال كو آتے هوے ديكھ كر احمد جليس نے كها تھا۔ ايسا لگتا هے كه آج هوا كارخ اس طرف هے۔ مطلب يه كه وه خود سے چل نهيں سكتا جب تك كه هوا اُسے اڑانه لے جائے۔ جليس كے اس دلچسپ كومنٹ كے بعد اس كا خلوص ميري نظر ميں مشتبه هوجاتا هے۔

 وه اب تك مجھے سے بيسيوں بار مل چكا هے۔ ميں سمجھتا هوں اس كا كريڈيٹ بھي ان هواو ں هي كو جاتا هے جس كي بدولت وه مجھ سے آج تك ملتا رهتا هے۔ اور يه بھي ايك حقيقت هے كه اقبال سے ملاقات كا موقع هميں اسي وقت ميسرآتا هے جب هوائيں تيز چل رهي هوں۔ وه ايسے موقعوں پر يهي كهے گا۔ موسم اچھا تھا اس ليے چلا آيا۔ حالانكه بات كچھ اور هوگي۔ بهر حال مصحف اقبال كچھ اتنا مخلص هے كه اس كي بات كا يقين كرنا هي پڑتا هے۔ يه الگ بات هے كه طويل مدت تك اس سے ملاقات نه هونے پر هم نے جو پهلي دعا مانگي اس كا مخاطب شور مچاتي هوئي هوائيں هي تھيں۔

 وه جس محكمه سے وابسته هے وهاں اكثر و بيشتر اُسے كيمپ پر رهنا پڑتا هے۔ آج آندھرا توكل كيرالا۔ كبھي اُتّر پرديش تو كبھي مدھيه پرديش پهاڑ كي بڑي بڑي چٹانوں، نهروں كے سينے پر لگائے هوے بڑے بڑے پلوں پر سے گزرتے هوے اس پر كيا بيتتي هوگي اس كا اندازه شايد هم نه كرسكيں۔ ايك دفعه تو ايسا بھي هواكه جب وه جيپ كار ميں اپنے ساتھيوں كے ساتھ گھنے جنگل سے گزررها تھا۔ عين جيپ كے سامنے ايك خونخوار شير آكر كھڑا هوگيا۔ ڈرائيور نے حاضر دماغي سے كام ليتے هوے جيپ روك دي۔ شير نے اقبال كے دبلے پتلے جسم پر ايك نظر ڈالي اور بڑي مايوسي سے آگے بڑھ گيا۔ شير كے منه سے نكل آنا شايد ايسے هي موقعوں پر كهاجاتا هے۔ جب آدمي شير كے مُنه سے بچ نكل آتا هے تو كوئي بھي مهم سركرسكتا هے۔ مثلا اپنا مجموعه چھپواسكتا هے، جلسے منعقد كرواسكتا هے اپني تعريفيں سن كر جھينپ بھي سكتا هے۔ خوش بھي هوسكتا هے۔ ليكن حقيقيت حال كچھ اور هے۔ دراصل هندوپاك كے كونے كونے ميں مصحف اقبال كے مداح بكھرے هوے هيں جو اس كے شعري مجموعه كے منتظر هيں۔

 اگر اقبال نے ان كے خاموش مطالبه كي پابجائي كتابي صورت ميں كي هے تو وه اس طرح اپنے ديرينه قرض سے سبكدوش هورهاهے۔

 اقبال ايك سيدھا ساده مخلص مگر ذهين لڑكا هے۔ ميں لڑكا اسے اس ليے كهه رها هوں كه وه چھيتس برس كا هونے كے باوجود اب بھي هائي اسكول كا طالب علم دكھائي ديتا هے۔ خوش نصيب هيں وه لوگ جو اپني عمروں سے پندره برس كم دكھائي ديتے هيں۔ اقبال كو اس سے ايك فايده يه بھي هے كه دعوتوں ميں اسے آج بھي بچوں كے دسترخوان پر بٹھاديا جاتا هے۔

 وه جب نامپلي هائي اسكول ميں آٹھويں جماعت كا طالب علم تھا۔ اسے كتابوں كے ساتھ ساتھ اسپورٹس سے بھي دل چسپي تھي۔ وه فٹ بال كا اچھا كھلاڑي بھي تھا۔ وه بچے جن كا قد انڈر 5فٹ هواكرتاتھا۔ ان كے ليے كسي زمانے ميں خاص ٹورنمنٹ هوا كرتے تھے۔ اقبال كي شركت ايسے مياچس ميں ناگزير تھي۔ وه بال كے ساتھ هوا كي طرح اڑتا تھا۔ كبھي كبھي تو وه بال سے پهلے هي گول ميں داخل هوجاتا تھا۔ دروغ برگردن راوي ايك دفعه تو وه بھاگتے هوئے فٹبال گراونڈ سے هاكي گراونڈ ميں داخل هوگيا تھا۔

 شاذ كي طرح اقبال موسيقي پر جان چھڑكنے والوں ميں سے نهيں هے۔ مهدي حسن كي خوب صورت آواز كے زير و بم سے اس كے كان آشنا هيں۔ فرق صرف اتنا هے كه مهدي حسن كا ذكر كيے بغير همارا پيٹ نهيں بھرتا۔ وه ذكر كيے بغير شكم سيررهتاهے۔

 بهت سوں كا خيال هے كه اقبال كي شخصيت شاعرانه مزاج سے عاري هے شاعرانه مزاج پر ايك واقعه ياد آيا۔ ايك دن معظم جاهي ماركٹ كے قريب خالد شاعروں سے زياده ان كے مزاج اور ذات كي تهه داري كا احاطه كر رهے تھے۔ ميرے ساتھ وه بھي تھا۔ مزاجاً اقبال شاعر معلوم نهيں هوتے، بلكه ان سے مل كر ايسا لگتاهے كه هم ايسے آدمي سے مل رهے هيں جو حساب كتاب كا پكا هو۔ وقت كا اسير هو۔ اتنے بجے گھر پهنچنا هوگا۔ گھر پهنچ كر ان rawingsكو ديكھنا هوگا۔ جو ڈرافٹس مين گھر چھوڑ گيا هے۔ خالد يه شوشه چھوڑ كرمزے ليتے رهے۔ ليكن وه شاعري هي كو شاعر كا مزاج قرار دينے كي سعي لا حاصل ميں لگا رها ó۔ó

 ٫٫جس جگه بيٹھ گئے آگ لگا كر اُٹھے٬٬ كے بمصداق دلچسپي اور تفريح تو كسي طرح هماري هو هي جاتي هے۔ ليكن اقبال ايسے موقعوں پر خواه مخواه پسپا هوجاتا هے۔

 مان ليجيے كه اقبال نے خالد سے يه بات كهي هو۔ ٫٫بھئي خالد صاحب هم نے اپني وه دونوں غزليں وزير آغاصاحب كو بھجواديں۔٬٬

 اچانك خالد كهه اٹھيں گے۔ ٫٫يار حد هوگئي شاذ اور عوض سعيد كا تو انتظار كيا هوتا۔ وه بھي اوراق كے ليے اپني چيزيں بھجوانے والے تھے۔ كيوں عوض صاحب كيا خيال هے آپ كا۔٬٬

 ميں قدرے هنستے هوے كهوں گا۔ ٫٫هاں اقبال آپ نے بڑي جلد بازي سے كام ليا۔ شاذ نے غالباً آپ سے كها بھي تھا كه اس سلسله ميں اسے ياد دلائيں۔ يه بات آپ نے اتني دير ميں كهي هے كه اوراق كا خاص شماره نكل بھي چكا هوگا۔ ٫٫وه جھينپ كر كهے گا۔ واقعي هم سے غلطي هوگئي۔ پته نهيں شاذ صاحب ميرے متعلق كيا سونچيں گے۔ شاذ كچھ سوچے يا نه سوچے۔ مگر وه گهري سوچ ميں متلا هوجائے گا۔ اقبال كو سوچ كے گهرے سمندر ميں ڈوبتا ديكھ كر هم لوگ Webster اور Sexton كے بارے ميں گفتگو شروع كرديں گے۔ اور وه نڈھال لهجے ميں خدا حافظ كهتا هوا رنجيده لوٹ جاے گا۔

 شاذ سے اس كي بڑي ياري هے۔ وه اسے كچھ اتنا چاهتا هے كه اس كي بچي كچي محبت بھي همارے حصے ميں ذرا كم هي آتي هے۔ چند برس پهلے شاذ اور اقبال توصيفي نے ايك هي زمين اور بحر ميں كئي هم طرح غزليں كهي تھيں جو پونم اور دوسرے جرايد ميں جڑواں بچے كي شكل ميں چھپتي رهيں۔ جب يه دل چسپ سلسله ختم هوا تو خليل الرحمن اعظمي نے خيريت دريافت كرتے هوے كسي سے پوچھا۔

 ٫٫آج كل يه ادب كے شنكر جے كشن كيسے هيں۔٬٬

 ايك دن وه دلا پھندا همارے گھر آيا۔ وه بڑا مسرور دكھائي دے رها تھا۔

 ٫٫كيا بات هے آج بڑے خوش دكھائي دے رهے هو۔؟٬٬

 ٫٫مغني صاحب نے ميري كتاب كے ليے بڑے اچھے ٹائيٹل بنائے هيں۔ انتخاب كے ليے آپ كے علاوه فاطمه بھا بي كو زحمت دوں گا۔٬٬

 ميں نے فاطمه كو آوازدے كر يه خوش خبري سنائي۔

 ٫٫بھابي ركھنے كے ليے ايك سفيد چادر لائيے۔٬٬ يه كهه كر وه چپ هوگيا۔ ميري حيراني كوبھانپتے هوئے اس نے كها۔٬٬ مغني صاحب نے كها هے كه يه ٹائيٹل اگر سفيد اور دُھلي دُھلائي چادر پر ركھ كر ديكھيں تو زياده بھلے لگيں گے۔ اور انتخاب ميں بھي سهولت رهے گي۔ غرض كه سفيد چادر بچھادي گئي جس پر مغني كے بنائے هوے كوئي پچيس ٹائيٹل سليقے سے ركھ ديئے گئے۔ فاطمه نے كها۔ ٫٫بھائي نے كتنے اچھے ٹائيٹل بنائے هيں۔٬٬

 ميں نے كها وه تو ٹھيك هے ليكن اقبال بے چاره كهاں تك سفيد چادر ليئے لوگوں كے گھروں پر پھرتارهے گا۔ ٫٫اقبال نے جواباًمسكراتے هوئے كها۔ دراصل ميں آج گھر سے سفيد چادر لانا هي بھول گيا۔ اقبال سنجيده هونے كے ساتھ ساتھ وٹي wittyبھي هے۔

 ليكن يه ايك حقيقت هے كه٫٫ فائزه٬٬ كا سرورق مغني نے بڑي خوب صورتي سے بنايا هے۔

 ميري پهلي كتاب ٫٫سائے كا سفر٬٬ كي اشاعت ميں مغني هي كا هاتھ رها تھا۔ انھوں نے ميري بعض كهانيوں كي كتابت عجيب و غريب انداز ميں كروائي تھي۔ ايك كهاني كي كتابت سيدھي اور اُلٹي تھي۔ كهاني كے مطالعه كے ليے آدمي كو بيك وقت مشرق اور مغرب كي طرف رخ كر كے كهاني پڑھني هوتي تھي۔ اس تكليف ده مرحلے سے گزرتے هوے پته نهيں قاري پر كيا گزري هوگي۔ ليكن ايك فائده مجھے ضرور هوا كه وه كهاني ان جھٹكوں كي وجه سے پڑھنے والوں كو ياد ره گئي۔ ليكن اقبال اس لحاظ سے خوش قسمت هے كه مغني نے رحم كھاكر اسے بخش ديا ورنه مغني كا بس چلے تو سرِ ورق پر صرف كتاب كا نام لكھ كر سارے صفحات يوں هي خالي چھوڑديں۔

 اقبال پر بهت كچھ لكھنے كے بعد بھي مجھے احساس بھي هورها هے كه ميں نے اقبال كي شخصيت كا بھر پور جائزه نهيں ليا هے۔ مثلاً اس كا حافظه بے حد كمزور هے۔ وه كهيں اور كسي وقت بھي اپني چيز بھول سكتا هے۔ وه سگريٹ كم پيتا هے ليكن اپنا سگريٹ كا پيكٹ بھول كر دوسروں كي ماچس كي ڈبيه بڑے اطمينان سے جيب ميں ركھ ليتا هے۔ ايك دفعه تو ايسا هوا كه اس نے وقفے وقفے سے سگريٹ سلگاتے هوے ماچس كي تين ڈبياں اپنے جيب ميں ركھ ليں۔ اور خود خالي سيگريٹ منھ ميں دبائے ماچس كے ليے تڑپتا رها۔ اور اس كے تمام ساتھي اس كا مُنھ تكتے ره گئے۔

 هندي كے مشهور كوي نرمل جي سے اس كي گاڑھي چھنتي هے۔ نرمل جي كا خيال هے كه جديد شاعروں ميں اقبال سے اچھا كوئي شاعر حيدرآباد ميں ڈھونڈنے پر بھي نه ملے۔ يه نرمل جي كي ذاتي رائے هے۔ اقبال اگر چاهيں تو اس راے كو رد بھي كرسكتے هيں۔

 اقبال كے كئي نام هيں۔ اُسے كوئي اس كے اصلي نام مغني كهه كر پكارتا هے۔ كوئي مصحف كهتا هے۔ كوئي توصيفي۔ فائزه كے خيرمقدمي جلسے كے بعد ان ناموں ميں ايك اور نام كا بھي اضافه هوجائے تو كوئي بعيد نهيں۔ ليكن وه اس نام كو بھي بھول جائے گا۔ كيونكه

ع يه بھي هم بھول گئے نام همارا كيا تھا

كي نازك منزل پر وه كب كا پهنچ چكا هے۔

نه اتني تيز چلے، سرپھري هوا سے كهو

شجر په ايك هي پتّا دكھائي ديتا هے

آكے پتھر تو مرے صحن ميں دوچار گرے

جتنے اس پيڑ كے پتھر تھے پسِ ديوار گرے

 ايسے عجيب و غريب شعر كهنے والا شكيب جلالي بھي بدايون هي كا ايك سپوت تھا سچ كي مٹي سے مصحف اقبال كا خميرا ٹھا هے۔ ميرا خيال هے فائزه اقبال كو بهت آگے ليجائے گا۔ اتنا آگے كه وه خود تھك هار كر پيچھے ره جاے گا۔

 ليكن كيا عجب هے كه ايك دن وه دامن جھٹك كر ننھے بِلّو كا هاتھ تھامے كسي موڑپر هميں اچانك مل جائے۔

ll





حبيب حيدرآبادي


 كسي كتاب كي رونمائي اور شادي كي رسم ميں تميز كرنا ان دنوں قدرے مشكل سا هوگيا هے۔ فرق صرف براتيوں اور مهمانوں كے تناسب كا هے۔ يوں بھي كتاب كي رونمائي كا مقصد يهي هوتا هے كه هم صاحب كتاب كي خدمت ميں هديه عقيدت پيش كريں۔ جاتے جاتے گلے لگا كر انهيں مبارك باد ديں۔ پھر چائے پيئيں اور رخصت هوجائيں۔

 ميرے نزديك صاحبِ اولاد هونے سے بهتر يهي هے كه آدمي كم از كم صاحبِ كتاب هي كهلائے۔ بشرطيكه وه واقعي كتاب هو۔ ليكن گھاٹے كا احتمال دونوں صورتوں ميں برابر هي كا هے۔ يه اور بات هے كه صاحبِ كتاب كهلانے ميں قباحت يهي هے كه مصنف كو هر لمحه ميدان حشر سے گزرنا پڑتا هے۔ كبھي كبھي تو ايسا بھي هوتا هے كه صرف كتاب باقي ره جاتي هے اور صاحب كتاب كو چراغ لے كر ڈھونڈنے كي نوبت آجاتي هے۔

 كتا ب كے ٹائيٹل پر هماري سب سے پهلي ملاقات حبيب صاحب سے هي هوتي هے۔ بعد ميں هميں كچھ دوسرے چهرے ديكھنے كو ملتے هيں جن ميں بيشتر چهروں كا تعلق ان كے خاندان هي سے هے۔ يه اور بات هے كه يه چهرے مجھے بے حد عزيز هيں۔ ليكن ايسي بھي كيا بے بسي كه آدمي اپني پهلي هي كتاب ميں اپنے سارے خاندان والوں كو يوں اكٹھا كرلے۔ ليكن ان تمام باتوں كے باوجود اُردو ميں يه اپني نوعيت كي پهلي كتاب هے۔ يه ميرا نهيں مصنف كا خيال هے۔

 اگر اتفاقاً اُردو ميں يه اپني نوعيت كي دوسري كتاب نكل آئے تو اس كي ذمه داري مجھ پر نهيں مصنف پر هوگي۔ ليكن حبيب صاحب كي شگفته مزاجي اور ذهانت كو ديكھتے هوئے يه قياس كيا جاسكتا هے كه كتاب ان كے خيال كے عين مطابق هي هوگي۔كچھ اس قسم كي خوش فهمي كتاب كے نام اور اس كے عنوان سے بھي پيدا هوجاتي هے۔ يوں بھي ميں نے يه كتاب كچھ اِدھر اُدھر هي سے ديكھي هے۔ اس ليے حتمي رائے دينے ميں معذوري بھي هے اور لاچاري بھي۔ مگر جو كچھ بھي ميں نے پڑھا هے۔ اس كي هر سطر ميں شگفته مزاجي كے ساتھ مزاح كي زيريں لهريں بھي هيں جو اس كا سب سے بڑا حسن هے۔ اور وصف بھي۔

 حبيب صاحب ايك تخليقي فن كا رهيں۔ قياس تو يهي كهتا هے كه وه اس ايك كتاب هي پر اكتفانه كريں گے۔ كيوں كه آدمي كو بگڑتے دير نهيں لگتي۔ اور جب آدمي اپني هي تباهي پر تُل جائے تو اس كا نتيجه كتاب كي رونمائي كي صور ت ميں ظاهر هوهي جاتاهے۔

 حبيب صاحب نے كتاب كي قيمت بھي اپني تروتازه صحت كے حساب سے ركھي هے۔ قيمت كي جگه ايك لكير كھينچ كر كاتب صاحب نے ڈرانے دھمكانے كے ليے روپوں كے علاوه پونڈ، ڈالر، پينيس كا بھي ذكر كيا هے۔ جب صورتِ حال يه هوتو كوئي غيبي طاقت هي حبيب صاحب كے اخراجات كي پابجائي كرواسكتي هے۔ يوں بھي همارے مذهب ميں مايوسي كفر هے اور حبيب صاحب كي ذات ميں مذهب كا lementكچھ زياده هي هے۔ يقين هے وه اپني ساري كتابوں كو فروخت كرواكر هي دم ليں گے ó۔ó

 ويسے مصنف بن كر آدمي خواه مخواه بي پي كا مريض تو بن هي جاتا هے۔ خواه وه حيدرآباد كا مصنف هو يا انگلستان كا۔ كبھي كبھي دواو ں سے زياده دعائيں هي مريض كي صحت يابي كي ضامن بن جاتي هيں۔ يوں بھي آدمي كے هاتھ مجبوري كے عالم هي ميں بے اختيار دعا كے ليے اُٹھ جاتے هيں۔ كتاب چھپنے كے بعد حبيب صاحب كو اس طرح دعا مانگتے ميں نے بھي ديكھا هے۔ وه بار بار يهي كهه رهے تھے۔ معبود تو كسي اور كي لاج ركھ يا نه ركھ۔ مگر انگلستان مين رهنے والے ايك جلاوطن ٫٫justice of peace٬٬ كي لاج ضرور ركھ لے۔

 ويسے تجھے علم هے كه ميں نے بذريعه Ship دنيا كے كونے كونے ميں اپني كتابيں پھيلادي هيں۔ معبود تو ميري لاج ركھ لے۔ مجھے دوسروں كي عزت سے كوئي سروكار نهيں هے۔

 حبيب صاحب كي شخصيت كئي خانوں ميں بٹي هوئي هے۔ وه اپنے بچوں كے ليے ايك شفيق باپ هيں۔ اپني نصف بهتر صديقه شبنم كے ليے ايك تابعدار شوهر هيں۔ اديب بھي هيں اور شاعر بھي۔ برٹش كي كئي بڑي كمپنيوں كے ڈائركٹر بھي هيں اور مجسٹريٹ بھي۔ ياروں كے يار هيں اور دشمنوں كے ليے اُپي هوي تلوار بھي۔ بيك وقت هنستے بھي هيں اور ساتھ ساتھ زاروقطارروتے بھي جاتے هيں۔ مرشد بھي هيں اور مريد بھي۔ بهر حال ان كے مزاج كا كوئي ٹھكانه نهيں۔ كب وه كيا كرگزريں گے۔ يه كوئي نهيں بتاسكتا۔

 جب يه ڈھير ساري خوبياں اور خامياں به يك وقت ايك آدمي كي شخصيت ميں اكٹھا هوجائيں تو شخصيت كا مطالعه ايك خام خاكه نگار كے ليے ايك كڑا امتحان بن جاتا هے۔ اس كارگهِ شيشه گراں سے ممكن هے صديقه شنبم صحيح و سالم گزرجائيں جو اُن كي رفيقه حيات بھي هے اور ايك مثالي دوست بھي۔ ميرا معامله ديگر هے۔ اگر ميں حبيب صاحب كي ملاقاتوں اور دوستي كا حساب لگاو ں اور اسے اپنا ايك سرمايه اور اثاثه سمجھوں تو وه بڑا محدود هے۔ محدود ان معنيٰ ميں كه وه لندن ميں رهتے هيں اور ميں حيدرآباد ميں۔ ليكن جب دوستي اور خلوص كے سرمايه كي ٹھهري تو مجھے حبيب صاحب كي دوستي اور فراقت كاقد اس نيم كے پيڑ كي طرح لگتا هے جس كي ٹھنڈي اور نرم چھاو ں ميں كسي بھي لمحے سستانے كو جي چاهتاهے۔

 شگفته مزاجي اور مزاح كي وه ساري خوبياں جو زنده قوموں كي ذات سے منسوب كي جاتي هيں وه چوردروازے سے حبيب صاحب كي شخصيت ميں درآئي هيں۔ اگر آپ كبھي اتفاقاً لندن جائيں اور احباب كي محفل كو زعفران زاربني ديكھيں تو سمجھ جائيے كه وهاں حبيب صاحب ضرور موجود هيں۔ اگر كوئي خاتون عدالت كے كٹھڑے ميں كھڑي هوكر اپنے شهر سے طلاق كي طلب گار هورهي هو تو وهاں بھي آپ كو حبيب صاحب هي مليں گے۔

 كيونكه وه ٫٫justice of peace٬٬ بھي هيں۔ بنے بنائے هوئے كاموں كو بگاڑنا اور بگڑے كاموں كو بنانا حبيب صاحب كا محبوب مشغله هے۔

 اس ميدان ميں وه آپ اپنے حريف هيں وه قبرستان ميں بھي هنسنے اور رونے سے باز نهيں آتے ۔هندوستان كا كوئي ايسا مزار نهيں هے جهاں جاكر انھوں نے زيارت نه كي هو۔ فرق صرف اتنا هے كه وه مزار كي صورت شكل ديكھ كر هي پھول چڑھاتے هيں۔ كسي مزار پر ڈھير سارے گلاب بكھير دئيے۔ كسي قبر پر ادھوري فاتحه پڑھ دي۔ يهي نهيں جاتے جاتے قبرستان كے چوكيدار كو وه يه ضرور كهيں گے كه مياں ميرے باهر جانے تك ان گلاب كو هاتھ نه لگانا۔ بے چارے نے زندگي بھر سهرے كے پھول نهيں ديكھے تھے۔

 وه جب كبھي حيدرآباد آتے هيں تو ميرے ليے ان كا سب سے پهلا سوال يهي هوتا هے كه عوض تمهاري صحت بهت گر گئي هے۔ كهيں ايسا تو نهيں كه فاطمه تمهيں بهت ستا رهي هے۔ اور جب ميرے غياب ميں فاطمه سے مڈبھيڑهوجائے تو ان كا تخاطب كچھ اس طرح هوجاتا هے۔٫٫ فاطمه تمهارا مغموم چهره صاف چغلي كھارها هے كه يه عوض سعيد تمهيں بهت تنگ كررهاهے٬٬۔ غرض وه اس وقت تك چين سے نهيں بيٹھيں گے جب تك كه مياں اور بيوي ميں تو تو ميں ميں نه هوجائے۔

 دوسري طرف حبيب كي محبت كي يه عالم هے كه اپنے هر عزيزدوست كو وه چوٹي كا لكھنے والا سمجھتے هيں خواه وه تحت الثريٰ هي ميں كيوں نه چھپا بيٹھا هو۔ ايك دن تو ازراهِ عنايت انھوں نے حيدرآباد كے كوئي سودوسو لكھنے والوں كے ساتھ مجھے بھي چوٹي پر چڑھاديا۔ اور مقاماتِ آه و فغاں اور بھي هيں كهه كر آگے نكل گئے۔

 همارے احباب ميں بعض ايسے بھي پر مذاق لوگ هيں جن كي باتوں اور لطيفوں پر اس وقت تك هنسي نهيں آتي جب تك كه انھوں نے هنسي كے مقام كي نشان دهي نه كي هو۔ خود هماري هي مثال لے ليجئے۔ ليكن حبيب صاحب كا معامله اس كے بالكل برعكس هے۔ جب وه جملے بازي كے دوش به دوش لطيفے بازي پر اُتر آتے هيں تو سامع كے ساتھ ساتھ لطيفه كا انگ انگ بھي هنسنے لگتا هے۔

 ميں يه يهاں كهه كر ان كے رتبے اور مرتبے كو كم كرنا نهيں چاهتا كه وه محض ايك لطيفه بازآدمي هيں۔ وه شاعر بھي هيں اور اديب بھي۔ انگلينڈ كے سارے ادبي ماحول كو سنوارنے اور بگاڑنے ميں ان كا زبردست هاتھ رها هے۔ كتنے ايسے انگريز تھے جنھوں نے حبيب صاحب سے اُردو سيكھي اور اپني مادري زبان بھول بيٹھے۔ اُردو كي اس سے بڑي اور كيا خدمت هو سكتي هے۔

 چارمينار كے اطراف و اكناف ميں نے بعض ايسے انگريز سياح بھي ديكھے جو حبيب صاحب كو ياد كركے هابيل هابيل كهه رهے تھے اور زاروقطار روتے بھي جارهے تھے۔ مجھے يه ديكھ كر حيرت سي هوئي كه انگريز روتے بھي هيں۔ دروغ برگردن راوي آج كل وه انگريزوں كو عربي زبان بھي سيكھارهے هيں۔

 حبيب صاحب نے اپني كتاب ميں ايك جگه لكھا هے كه لندن ميں وه رات كو ٹرين ميں سفر كررهے تھے كه ايك انگريز غنڈے نے اچانك ان پر حمله كرديا۔ وه چاهتا تھا كه چلتي ٹرين سے انھيں باهر پھينك دے تاكه ان كا قصه تمام هوجائے۔ آگے چل كر انھوں نے يه بھي لكھا كه ان كي مدافعت سے وه انگريز لهولهان هوچكا تھا اور جب آدمي كے defenceكا يه عالم هو تو ايك نهيں كئي انگريز حبيب صاحب جيسے لوگوں كے طفيل الله كو پيارے هوسكتے هيں ويسے حبيب صاحب كا فنِ سپه گري مكه بازي اور كراٹے سے دور كا بھي تعلق نهيں هے۔ يه اور بات هے كه وه اپني مدافعت ميں حمله آور كي شكل كو كچھ اتني بگاڑديتے هيں كه ايك لمحه كے ليے وه عالمِ بے بسي ميں انگريز كي بجائے خود كو ايك رنگ دار سمجھنے لگتا هے۔ اگر هررنگ دار حبيب صاحب كے نقشِ قدم پر چلنے لگے تو وه دن دُور نهيں كه انگريزوں كو اپنا وطن هي چھوڑنا پڑے۔

 ٧٥٥ ئ ميں جب وه حيدرآباد آے تھے تو ان كے ساتھ صديقه بھي تھيں اور ان كي گڑيا جيسي خوب صورت بچي سلميٰ بھي ۔ سلميٰ كي سالگره كي دعوت ميں چند قريبي عزيز هي شامل تھے۔ ميں فاطمه مغني اور دو ايك اور شته دار ó۔ó

 ميں نے جب مغني سے تحفے كي بات كي تو مغني نے كها كه آج تعطيل كے سبب شهر كي ساري دكانيں بند هيں آپ هم ملكر پيسے هي ركھ ديں گے۔

 ان كے گھر پهنچنے كے بعد هم دونو ں نے ان كے هاتھ ميں اپنے اپنے لفافے تھماديئے۔ يهاں بھي وه اپني چھيڑچھاڑ سے باز نه آئے۔ ٫٫صديقه يه مغني اور عوض كو ديكھو ان دونوں نے اپنے آگے پيچھے كا خيال كيے بغير اپني ساري پونجي ان لفافوںميں ركھ دي هے۔ اب يه بے چارے مهينه بھر كيا كھاكر جئيں گے۔ اب بھي وقت هے اپنے اپنے لفافے واپس لے لو۔ ميں اس واقعه كا كهيں بھي ذكر نه كروںگا۔٬٬

 هنسنے اور رونے پر حبيب صاحب كو ذرابھي اختيار نهيں هے۔ وه كهاں اور كس موڑ پر بے ساخته هنس ديں۔ اس كي كوئي گير نٹي نهيں دے سكتا۔ ان كي اس هنسي نے كتنے بنتے هوئے كام بگاڑے اس كي فهرست بڑي طويل هے۔ صرف دو ايك واقعات هي سُن ليجئے۔

 حبيب صاحب كي ايك خاله زاد بهن كي شادي تقريباً طئے پاچكي تھي۔ دولهے كي والده محترمه ديگر امورطئے كرنے كے ليئے جب ان كے گھر آئيں تو چائے نوشي كے درميان حبيب صاحب نے ان محترمه كے چهرے كا بغائر جائزه ليا۔ ان كے چهره مبارك كو ديكھ كر حبيب صاحب كے مُنه سے بے ساخته هنسي نكل گئي۔ مهمانوں نے تھوڑي دير ضبط كا مظاهره كيا۔ پھر وه خودبھي ان كي هنسي ميں شامل هوگئے۔ اس طرح بنابناياهوا پيام اچانك ٹوٹ گيا۔

 اسي طرح ايك مشاعرے كي صدارت كے ليے وه حلف يارجنگ كے پاس گئے۔ اس خيال كے ماتحت كه صدارت كے ساتھ ساتھ كچھ فنڈ بھي ان سے حاصل كرليں۔ حلف يارجنگ كچھ هكلاتے بھي تھے۔ خاص طور پر ٫٫ر٬٬ كو كھينچ كر ادا كرتے تھے۔ انھوں نے مشاعرے كي صدارت كي رے كوكچھ اس طرح كھينچا كه حبيب صاحب نے حسبِ عادت هنسنا شروع كرديا۔ اس كے بعد كيا هوا اس كے يهاں لكھنے اور كهنے كي ضرورت نهيں هے۔

 حبيب صاحب اس شخص كو آدمي نهيں سمجھتے جس كي ذات ميں حس ظرافت نام كو نه هو۔ انهوں نے اس سلسله ميں حال هي ميں ايك سروے بھي كيا هے۔ جسے طبع كرواتے هوے وه جھجك رهے هيں كه مبادا كهيں اپنے عزيزوں اور دوستوں سے تعلقات نه بگڑجائيں۔ يوں بھي حبيب صاحب تعلقات كو بڑي اهميت ديتے هيں۔ ايك دفعه كسي كے هو گئے سو هوگئے۔ خواه وه آدمي ان كي دھجياںهي بكھير كر كيوں نه ركھ دے۔

 فاني كي ازسر نودريافت مغني تبسم كا ايك ادبي كارنامه هے۔ ليكن حبيب صاحب كے كارنامے كي نوعيت كچھ جُدا هے۔ وه گاهے گاهے فاني سے ملتے بھي رهے هيں۔ كسي وقت ان كے هاں وه ياد گار تصوير بھي تھي جس ميں گنڈي پيٹ كي سير كے دوران فاني كے ساتھ حبيب صاحب كو بھي سينه تانے ديكھا جا سكتا تھا۔ سُنا هے كه وه يادگار تصوير انھوں نے ايك ايسے تهه خانے ميں چھپادي هے كه جهاں وه مغني كي نظر سے محفوظ ره سكے۔ نظاهر يه ايك تحقيق كا مسئله هے كه فاني نے گنڈي پيٹ كي بھي سيركي هے۔


 حبيب صاحب هميشه ليفٹ كو مُڑنے كے بعد رائٹ كو مڑكر پھرليفٹ كي تلاش كرتے هيں ان كي اس چالاكي نے انھيں بڑے دكھ ديئے هيں۔ اس عمل كے دوران وه جانے پهچانے راستے بھي بھول جاتے هيں۔ اس طرح وه راسته بھٹك جاتے هيں يوں بھي راسته بھٹكنا دانش مندي كي علامت هے۔ اس دانش مندي كے بل بوتے پر وه غلطي سے كئي ايسے گھروں ميں جاگھسے جهاں كے دروديوار سے چيخ و پكار كي آوازيں به آساني سني جاسكتي تھيں۔

 اگر كبھي آپ نے حبيب صاحب كو گھر پر دعوت دي هو اور وه وقت پر نه پهنچ سكے هوں تو احتياطاً فوري اپنے پڑوس ميں بھي انھيں تلاش كرليجئے۔ اس وقت كا انتظار مت كيجئے۔ جب ڈگمگاتے قدموں كے ساتھ كوئي پڑوسي آكر يه كهے ۔٫٫ليجئے يه پھر همارے گھر آگئے٬٬۔

 جب هنسي اچانك قهقهه كا درجه اختيار كرجاتي هے تو ان كے نرخرے سے ايك عجيب سي آواز نكلتي هے جس كا سرتال سے كوئي علاقه نهيں هوتا۔ ايسے وقت هنسي اور اپنے قهقهوں كو تھامنا ان كے ليے مشكل هوجاتا هے۔ لطيفے خوشگوار هوتے هيں يا ان كي دل چسپ باتيں ان ميں حدفاصل قائم كرنا مشكل بھي هے اور دشوار بھي۔

 دوسري طرف ان كے رونے كا يه عالم هے كه كيا كوئي صوفي روئے گا۔ بس وه لمحه ان كي گرفت ميں آجائے۔ ايك قوالي كي محفل ميں تو انھوں نے هُوالحق كا ايسا نعره بلندكيا كه قوال هارمونيم چھوڑ كر بھاگ گھڑا هوا۔

 حبيب صاحب كو كبھي اپنے گھر پر قوالياں كروانے كا بھي شوق رهاهے جو شايد اب تك بھي باقي هو۔

 آپ كو يه جان كر شايد حيرت هو كه حبيب صاحب نے آنجهاني مهاراجه كشن پر شاد كي شعري محفلوں مين بھي شركت كي هے۔ انهيں كلام سناتے هوے بھي ديكھا هے۔ جب يه باتيں حبيب صاحب مجھے سُنارهے تھے تو ميں فرطِ حيرت ميں ڈوبا هوا تھا۔

 ٫٫اس وقت آپ كي كيا عمر رهي هوگي۔٬٬ ميرے اس سوال پر حبيب صاحب نے كها۔٬٬

 ٫٫يهي كوئي پانچ برس۔٬٬

 يه بھي عجيب اتفاق هے كه هر وه پراني محفل جس ميں حبيب صاحب نے بطور معزز مهمان كي شركت كي تھي۔ اس وقت بھي ان كي عمر پانچ هي برس كي تھي۔

 اس طرح پانچ برس كي عمر ميں انھوں نے وه ساري ادبي محفليں ديكھ ليں جو اب تاريخ كا ايك سنهري باب بن چكي هيں۔ ليكن ان كي شاداب اور تروتازه صحت كو ديكھتے هوے يه اندازه هي نهيں هوتا كه كبھي حبيب صاحب خواجه حسن نظامي كي صحبتوں ميں بھي رهے هوں۔ ن۔ م۔ راشد كے ساتھ انھوں نے كچھ دن گزارے هي تھے كه وه الله كو پيارے هوگئے۔ فيض نے جب يه صورت حال ديكھي تو انگلينڈ سے بھاگ كھڑے هوئے۔ ايك سخت جان ساقي فاروقي هي هے جو آج بھي حبيب صاحب سے نمٹ رها هے۔

 حبيب صاحب اديب اور شاعر هونے كے ساتھ ساتھ حاجي بھي هيں وه كس حد تك حاجي هيں۔ لگے هاتھوں اس كا ايك دل چسپ واقعه بھي سُن ليجئے۔

 ادائي حج كے اركان كي ترتيب ميں اگر فرق هوجائے تو ايك بكرے كي قرباني لازمي هوجاتي هے۔ مزدلفه سے منٰي واپس آكر شيطان كو كنكرياں مارنے كے بعد هي اپنے بال كٹوانے هوتے هيں۔ ليكن حبيب صاحب نے غلطي يه كي كه شيطان كو كنكرياں مارنے سے پهلے هي اپنے بال ترشواليے۔ اس طرح حج كے اركان كي ترتيب هي بدل كر ركھ دي۔ ان دنوں حبيب صاحب اپنے برادرنسبتي كے ساتھ جده ميں ٹھهرے هوئے تھے۔ جن كي حيثيت ايك گواه كي سي تھي۔ ايك دن وه حبيب صاحب كو لئے ايك مولانا كے پاس گئے اور ساري تفصيل سناڈالي۔

 مولانا نے تفصيل سننے كے بعد تنبيهاً كها۔ اس غلطي كا كفاره يهي هے كه آپ كے بهنوي پر ايك بكرے كي قرباني اب لازمي هوگئي هے۔ ورنه هميشه كے ليے ان پربيوي حرام هوجائيگي۔

 جب مولانانے اپني بات ختم كي تو حبيب صاحب نے اپنے لاڈلے سالے صاحب كي طرف ديكھ كر كها۔ ٫٫يهاں تك تو تم مجھے لے آئے۔ اب اگر اپني بهن كي زندگي چاهتے هو تو فوري ايك بكرے كي قيمت ادا كردو۔٬٬

 گھبراهٹ كے عالم ميں ان كے برادرنسبتي نے جھٹ ان كے حكم كي تعميل كردي بهن كسے عزيز نهيں هوتي۔

 پچھلے دنوں كسي اهم كام كے سلسلے ميں ساوتھ كے ايك بهت بڑے ساليسيٹر (solicitor) كے گھر پهلي بار حبيب صاحب كو جانے كا تفاق هوا۔ لائير (Lawyer) كي بيوي نے جب شربت سے ان كي تواضع كي تو شربت كا گلاس تھامتے هوے حبيب صاحب نے اس سے پوچھا:

٫٫Are you happy with your husband?٬٬

 يه كهه كر وه اپني عادت كے مطابق هنسنے لگے اور ان كے ساتھ ساتھ وه محترمه بھي هنسنے لگيں۔ محترمه كي كھسياني هنسي سے فايده اٹھا كر حبيب صاحب نے بے ساخته كها:

 "I am the justice of peace in ngland if

you need my services I can help you."

 حبيب صاحب كو هردم يهي گمان رهتا هے كه دنيا كا هر شوهر اپني بيوي كوستارها هوگا اور دنيا كي هر بيوي اپنے شوهر سے عاجزا ٓچكي هوگي۔ بهر حال يه ايك نفسياتي نكته هے۔ كبھي كبھي وه مذاق هي مذاق ميں كچھ اتنے پھكڑ هوجاتے هيں كه ان كي پهچان مشكل هوجاتي هے ايك دن مجھ سے ملے تو بے اختيار هوكر كها۔

 ٫٫تمهارے خاندان كے سب لوگ مرجائيں مگر تم زنده رهے يهي بس هے۔٬٬

 آئيے اس زنده دل جلاوطن كا خيرمقدم كريں۔ جو پته نهيں اپنے سينے ميں كتني اُداسيوں كو چھپائے هوے هے۔

ll















انور رشيد


 ڈاكٹر اريك برن " r. ric Berne" نے اپني خوب صورت كتاب "The mind in action" ميں Neurosisكے بارے ميں ايك جگه لكھا هے۔ ٫٫وه آدمي جو هميشه اپني صحت اور اپنے مخالفين سے بدله لينے كے بارے مين سوچتا رهتا هے۔ وه هميشه Neurosis كا شكار رهتا هے۔ اسے يه خواه مخواه وهم يا يقين هوجاتا هے كه لوگ اس كے مخالف هيں۔ كچھ يهي حال انور رشيد كا هے۔ ويسے كسي كا "Nuouatic" هونا كوئي ايسا عارضه نهيں هے۔ ليكن جب بات عارضه هي كي نكل آئي هے تو يوں سمجھ ليجئے كه وه كئي نت نئے نفسياتي عارضوں كا شكار هے۔ شائد سب سے بڑا عارضه اس كا اپنا اديب هونا هے ó۔ó

 عمر كے تفاوت كے باوجود انور رشيد سے ميري جان پهچان بهت پراني هے۔ يه اس كي اعليٰ ظرفي هے كه مجھے وه اپنے دوستوں كي فهرست ميں هميشه شامل ركھتا هے۔ ويسے سچي بات تو يه هے كه ميں اس كا كوئي قريبي يار نهيں هوں جس كے ساتھ شب وروز كا حساب جڑاهو۔ تاهم ايسا بھي نهيں هے كه وه ميرے ليے يك سراجنبي هو۔

 مجھے يه اعتراف كرنے ديجئے كه انور رشيد كي شخصيت كے بارے ميں ميں كچھ زياده نهيں جانتا۔ اس ليے اس كي شخصيت كے تار وپود كي عكاسي ميرے ليے مشكل هے ليكن اس كي خواهش هے كه ميں اس پر كچھ لكھوں۔ اپني هر خواهش كے اظهار كے ليے آدمي يوں بھي آزاد هوتا هے۔ ليكن يهاں مسئله اس كي خواهش كي تكميل كا هے۔ جس كے ليے پته نهيں يه احساس مجھے كيوں هورها هے كه اس كام كے ليے ميں سرے سے نا اهل هوں۔

 وه لوگ جو اپني شخصيت كو منوانے كے ليے همه وقت ماركٹائي پر اترآتے هيں۔ ان لوگوں پر مجھے بڑاترس آتا هے۔ انور رشيد كا تعلق اسي قبيله سے هے۔ يه تو رها باهر كا انور رشيد ۔ اندر كا انور رشيد كچھ اور هے۔ سيدھا ساده، مخلص اور بارباش۔

 اس كي شخصيت كے اُن رنگوں كو پهچاننا مشكل هے جو دور سے تو هلكے پھلكے مدھم اور سُبك لگتے هيں۔ ليكن قريب آنے پر يه رنگ اچانك گهرے اور پيچيده هوجاتے هيں۔

 مجھے اس بات سے سروكار نهيں هے كه وه كس سطح كا افسانه نگار هے اس كے حدود اربعه كيا هيں۔ ميرے ليے يهي غنيمت هے كه وه ميرے ملنے جلنے والوں ميں ايك الگ ڈھنگ كا آدمي هے۔ ايك عجيب وغريب آدمي۔

 وه آدمي جو اپنے اعمال ناموں كا حساب بظاهر تو خود چكاتا هو ليكن دانسته يا غير دانسته انداز مين دوسروں كو بھي اپنے ساتھ شامل كرليتا هو اس كي شخصيت كے چومكھے سائے كے ساتھ دور تك چلناممكن هے۔ عزيز آرٹسٹ كے ليے آسان هو ليكن ميرے ليے مشكل هے۔

 انور رشيد سے مل كر هميشه يهي احساس هوتا هے جيسے كوئي مضطرب اور بے چين روح كسي كا پيچھا كر رهي هو۔

 نوواردانِ بساطِ ادب كے جم غفير ميں شروع شروع اسے پهچاننے ميں ايك ديوار سي حائل رهي۔ ليكن جب اس نے ٫٫مسلخ ميں بھيڑوں كا ماتم٬٬ جيسي كهاني لكھ دي تو وه كئي لوگوں كامنظورِ نظر بن گيا۔ ليكن نقادوں كے بهي كھاتے ميں دور دور تك اس كا نام نه تھا۔ نتيجتاً وه نقادوں كا ازلي دشمن بن كر ره گيا۔ كسي دل جلے نے ايك دن كها۔

 انور رشيد كم علمي كو اپنا زيور لا علمي اور جهالت كو اپنا هتھيار سمجھتا هے۔ شايد اسي ليئے پڑھے لكھے لوگ اسے ايك آنكھ نهيں بھاتے۔ ليكن اس كي بيشتر كهانياں پڑھنے كے بعد يه احساس ضرور هوتا هے كه وه دماغ كے نچلے دريچوں كو كھولنے كے فن سے پوري طرح آشنا هے۔

 اس كے كهاني سُنانے كا انداز بھي بڑا نرالا هے۔ جيسے كوئي بهت بڑا خطيب اكتائے هوے۔ مجمع پر مسلسل تيربرسارهاهو۔

 معمارادب كے ايك جلسے ميں جب اس نے اپني ايك كهاني سنائي تو صدرِ جلسه نريندر لوتھر صاحب نے شاذ سے خواهش كي كه وه كهاني پر كچھ كهيں۔ شاذ نے چپ سادھ لي۔ دو ايك نقادوں نے بھي جب گريز سے كام ليا تو اس كے غصّے كا پاره اچانك چڑھ گيا۔

 ٫٫انور رشيد كو بے ساكھيوں كي ضرورت نهيں هے۔٬٬

 جب وه يه كهه كر ڈائس سے نيچے اُتر رها تھا تو ميں نے ديكھا اس كے پاو ں بُري طرح لڑكھڑا رهے تھے۔

 مجھے بے ساكھيوں كي ضرورت نيهں هے كهنے والے اس خود سر افسانه نگار كو جب ميں نے اپنے هي مجموعه كي رونمائي كے سلسله ميں باقر مهدي كو بمبئي جاكر بلاتے ديكھا تومجھے كوئي حيراني نهيں هوي۔ مجھے حيراني اس وقت بھي نهيں هوي تھي جب انور رشيد نے سرراه مجھ سے مل كر كهاتھا۔ ٫٫عوض بھائي پچھلے دنوں ميں نے باقر مهدي كي عنيك اُتارلي تھي۔٬٬

 ٫٫وجه۔؟٬٬

 ٫٫كيوں كه وه مجھ سے ملنے سے كترا رهاتھا۔ يه ميں اچھا كيا يا برا كيا۔٬٬

 ميں نے مسكراتے هوے كها۔ ٫٫اچھاهي كيا٬٬

 وه ميرے طنز كو بھانپ گيا اور موضوع بدل كر دوسري باتيں كرنے لگا۔

 پھر ايك دن كسي نے ميرے دروازے پر دستك دي۔ اس كے ساتھ قدرے چھدرے بالوں والا ايك دُبلا پتلا آدمي بھي تھا۔ جس كي موٹي موٹي سرخ آنكھيں چشمه كے اندر سے جھانك رهي تھيں۔

 ٫٫هاں اچھي طرح ياد هے۔٬٬

 ٫٫پھر بمبئي ميں اخترالايمان كے گھر۔ ۔۔مگر يه مغني كهاں هے۔ مجھے آج هي اس سے ملنا۔٬٬

 يه باقر مهدي تھے۔ جن كے نام هي سے لوگ بدكتے هيں۔ ليكن يه آدمي پته نهيں كيوں مجھے پسند هے۔ ٫٫زوال كے مقابل٬٬ كي رونمائي كے بعد وه ميرے ساتھ هوليا۔ اس كي خواهش تھي كه مغني بھي اس كے ساتھ رهيں۔ ليكن مغني ٹال گئے اور وه مسلسل كڑھتا رها۔

 هميں كهيں اور نهيں راجه لعل راجه كے هاں جانا تھا۔ ٹيكسي فراٹے بھرتي هوئي پرانے شهر كي طرف دوڑ رهي تھي۔ همارے ساتھ عالم، اختر حسن بھي تھے اور انور رشيد بھي۔

 شعروشاعري كا دور ختم هوا تو ميں نے سرگوشي كے انداز ميں باقر مهدي سے ريس كا ذكر چھيڑديا۔ ريس كے ذكر كے ساتھ هي اس كي آنكھوںميں ايك چمك سي هويداهوگئي۔ اس نے مجھے بتايا كه وه ريس كا رسيا هے اور مشهور جاكي اين روبن تو اس كا قريبي يار هے۔

 ادھر محفل جم چكي تھي۔ لوگوں كے هاتھوں ميں چھوٹے بڑے تاريخي قسم كے جام لهرا رهتے تھے۔ اور كيمره بدستور چل رها تھا۔ راجه كي حويلي كي تاريخي سيڑھياں كچھ اس طرح تھيں كه هر آدمي اپنا پهلا قدم ڈالنے سے پهلے دوسراقدم بے سوچے سمجھے ڈال رها تھا۔

 محترم ميزبان نے باقر مهدي كو نيچے اتارنے كے ليے جس لڑكے كو مقرّر كيا تھا وه لڑكا ديكھتے هي ديكھتے بڑي شتابي كے ساتھ نيچے اترگيا۔ اور باقر مهدي ٹيڑھي ميڑھي سيڑھيوں هي كے آس پاس كهيں ره گئے۔ ليكن تھوڑي هي دير بعد ميں نے ديكھا۔ ايك آدمي سيڑھيوں سے اچانك پھسل كر زمين پر آرها۔ وه هولناك انداز ميں چيخ رها تھا۔

 ٫٫ميں مررها هوں۔ كوئي مجھے فوري دواخانه لے چلے۔٬٬ ايسا لگتا تھا جيسے وه تھوڑي هي دير بعد تڑپتا هوا مرجائے گا۔

 انور رشيد چيخ رها تھا۔ آخر بے چاره كو هم لوگوں نے مارهي ڈالا۔

 باقرمهدي كو اس حال ميں ديكھ كر ميري سٹي گم هوچكي تھي۔اختر حسن، عالم حيران تھے كه يه سب كچھ كيسے هوگيا۔ مگر اسے كيا خبر تھي كه انور رشيد كي دوستي اس كے ليے اتني مهنگي پڑے گي۔

 باقرمهدي اپني هڈي پسلي تڑواكر كسي ناكسي طرح بمبئي پهنچ گئے۔ اور انور رشيد حسبِ معمول اپنے دوسرے كاموں ميں جٹ گيا۔ پته نهيں وه اس بار پھر كس كو لے ڈوبے گا۔ كيوں كه اس كا دوسرا مجموعه ان دنوں پريس كي چكّي ميں پس رها هے۔

 انوررشيد اپني ذات سے انجمن نه سهي ليكن اس كے دوستوں اور ياروں كي تعداد كچھ زياده هي هے۔ ان ميں كچھ شاعر واديب هيں۔ كچھ بيوپاري هيں۔ كچھ آرٹسٹ اور ايك بڑي تعداد ان لوگوں كي هے جن كا علم و ادب كي دنيا سے دُور كا بھي تعلق نهيں اور ايسے هي لوگوں كي صحبت ميں وه اپنے آپ كو زياده مطمئن پاتا هے۔ اور يه كوئي حيران كن بات بھي نهيں هے۔ مگر مسئله اُس وقت ٹيڑھا هوجاتا هے جب وه كسي نرے جاهل، نيم پاگل آدمي كو ليے كسي بھي دوست كے گھر آدھمكتا هے۔ خود بورهويا نه هو دوسروں كو بورضرور كرتا هے۔

 انور رشيد ايك مخلص آدمي بھي هے اور ايك زبردست كرتب باز بھي۔ برسوں براني بات هے۔ آر۔ٹي۔سي والوں كي جانب سے ايك سالانه تقريب تھي۔ ادبي تقريب اور تهذيبي پرگرام كا ايك اهم حصه ٫٫شبِ افسانه٬٬ بھي تھا۔ جهاں ميرے علاوه اقبال متين اور اور انور رشيد كو بھي اپني كهانياں سُناني تھيں۔ شاعروں اور افسانه نگاروں كے ليے آرٹي سي والوں نے فري بس كا انتظام بھي كر ركھا تھا۔ تاكه وه پيدل چل كر آنے كي زحمت سے بچ سكيں۔ اقبال متين بس هي كے ذريعه مهدي پٹنم جانے پر تلے هوے تھے۔ ليكن ميں نے اسكوٹر كو ترجيح دي۔

 جب هم جلسه گاه پهنچے وهيں انوررشيد سے هماري ملاقات هوگئي۔ هزاروں كا مجمع تھا۔ اور زينت ساجده صدارت كر رهي تھيں۔ زينت نے سب سے عمده تعارف اقبال متين هي كا كروايا۔ آج جس جگه ميں بيٹھي هوں۔ وهاں اقبال متين كو بيٹھنا چاهيے تھا۔ اور حيدرآباد كو يه فخر حاصل هے كه يهاں اقبال متين موجود هے۔٬٬ مگر ان توصيفي جملوں كا اُلٹا هي اثر هوا۔ وه اپني طويل اوراُكتا دينے والي كهاني كے سبب جلد هي هُوٹ هو كر ره گئے۔ شاعروں كو مشاعروں ميں هوٹ هوتے هوے ميں نے بارها ديكھا تھا۔ ليكن اچھے اور بارعب افسانه نگار كو هوٹ هوتے هوے ديكھنے كا يه پهلا موقع تھا۔ ميري آپ سے گزارش هے۔ اقبال متين كهے جارهے تھے۔ ليكن اس گزارش كا هجوم پر كچھ بھي اثر نهيں هورها تھا۔

 لگتا تھا جيسے وه ايك تفريح كے موڈ ميں هوں۔ اقبال متين فوري تاڑگئے كه غلطي سننے والوں كي نهيں هے خود ان هي كي هے جب زينت ساجده كي تحكم آميز آواز بھي مجمع كو چپ نه كرا سكي تو اقبال متين نے خود هي مجمع سے مخاطب هو كر پھر ايك بار التجا كي كه وه اس ادھوري كهاني كو مختصر كركے زباني سنائيں گے پس ذرا صبر كي ضرورت هے۔ يه كهه كر انھوں نے اپني كتاب نظروں سے هٹالي۔ اور اچانك افسانه نگار سے داستان گو بن بيٹھے۔ لوگوں نے كچھ تالياں بجائيں اور وه مطمئن اپني جگه پر آكر بيٹھ گئے۔ ميں نے بھي جيسے تيسے اپني كهاني سناهي دي۔ كهاني سُنانے كے دوران لوگ ٹكر ٹكر ميرے چهرے كو يوں ديكھ رهے تھے جيسے كهه رهے هوں۔ آخر يه مردود كيا كهنا چاهتا هے۔

 ليكن جب انور رشيد كي باري آئي تو اس نے ڈائس پر پهنچ كر اپني گرج دار آواز ميں لوگوں كو للكارا۔۔٫٫ميں يهاں آپ سے گزارش كرنے نهيں آيا هوں كه آپ ميري كهاني سنيں۔ نه بھي سنيں تب بھي كوئي فرق نهيں پڑتا۔٬٬

 اس جمله كے بعد هونا تو يه چاهيے تھا كه لوگ اسے بھي هوٹ كرديتے۔ ليكن معامله خلاف توقع ديگر تھا۔ جب اس نے اپني كهاني جو ايك هنگامي موضوع پر مبني تھي ختم كي تو لوگ تعريف كے ڈونگے برسانے لگے۔ اور پھر وه ايك فاتح كي طرح ڈائس پر آكر بيٹھ گيا۔

 اقبال متين اور ميں نے جب اس كي پيٹھ ٹھونكي تو وه اور بھي خوش هوگيا۔ ليكن اقبال متين كو يه كهے بغير نه ره سكا كه ٫٫اقبال بھائي آپ كو گزارش كرنے كي ضرورت هي نه تھي۔ كهاني سنانا اپنا كام هے۔ اور كهاني سننا ان كا فريضه۔ اگر وه سننا نه چاهيں تو هميں گزارش يا التجا كرنے كي كيا ضرورت هے۔ اقبال بھائي كم از كم آپ كو ٬٬ وه بڑي دير تك منه هي مُنه ميں بڑبڑاتارها۔ كچھ چڑھا بھي ركھي تھي اس ليے جب يه تان ٹوٹتي نظر نه آئي تو ميں نے دوسري باتوں ميں اسے الجھا ديا۔ كچھ دير بعد وه ايك دم چپ سا هوكر ره گيا۔ پھر وه رات اپنے گھر پهنچا بھي تھا يا نهيں۔ كون جانے۔

 اس كے پاو ں ميں ايك چكر سا هے۔ جب تك وه حيدرآباد كے گلي كو چوں اور ٹھرے خانوں كا طواف نه كرلے۔ اسے چين نهيں آتا۔ ميں نے شاذهي اسے خوش ديكھا هو۔ هميشه نت نئي الجھنوں ميں گرفتار۔ اور هر الجھن ايسي كه آدمي پناه مانگے۔ ليكن انور رشيد كي خوبي يهي هے كه وه مصائب كو بھي بآساني جھيل جاتا هے۔

 ايك دن يوسف اعظمي كے ساتھ وه بھي ميرے گھر بيٹھا تھا۔ اِدھر اُدھر كي باتوں كے بعد اس نے هانك لگائي۔

 ٫٫عوض بھائي ميں نے ادب كي بڑي خدمت كي هے۔٬٬ ميں نے يوسف اعظمي كي طرف ديكھا تو وه معصوم بچے كي طرح مسكرا رها تھا۔

 ٫٫يه تم بابائے اُردو كب سے بن گئے كچھ پته هي نه چلا۔٬٬

 عوض بھائي ميں نے حقيقتاً اُردو كي خدمت كي هے۔ هوسكتا هے آپ لوگ ميري بات سے متفق نه هوں۔

 همارے متفق يا غير متفق هونے سے پهلے هي وه اچانك اُٹھ كر چلاگيا۔

 انور رشيد آج بھي جب ملتا هے تو اپني ادھوري شخصيت كے ان هي گهرے اور اُجلے رنگوں كے سبب پهچانا جاتا هے۔ مگر كون جانے اس كي شخصيت كے يه سارے گهرے اور اُجلے رنگ سچے بھي هيں يا جھوٹے۔

ll






نرمل جي


 اگر آپ نے ابھي تك كسي ايسے آدمي كو نهيں ديكھا جو هجوم ميں بھي اپني انفراديت قائم ركھتا هو اور جو سچ كے پل صراط سے بھي بغير قدم ڈگمگاے گزرجاتا هو۔ تو آپ نرمل جي سے مل ليجيے۔

 ان سے ميري ياري كي تاريخ كچھ ايسي كهنه بھي نهيں هے كه پرانے كتبوں كي ياد تازه هوجائے۔ ليكن كبھي كبھي يوں بھي هوتا هے كه دوسروں كے گناهوں كا كفّاره خاكه نگار كو خود ادا كرنا پڑتا هے خواه وه اس كا اهل هو يا نه هو۔

 ميں جب كبھي نرمل جي كي تصوير كھينچنا چاهتا هوں تو لگتا هے جيسے يه ميري اپني تصوير هے۔ يه تصوير دوسرے آدمي كي بھي هوسكتي هے اور آنے والے آدمي كي بھي۔ ليكن اس كي گردن پر لٹكا هوا وه رنگين جھولا۔۔۔۔۔۔؟

 كهيں ايسا تو نهيں كه نرمل جي كي شخصيت محض ايك جھولاهي هو۔ اور نرمل جي كچھ بھي نه هوںيا نرمل جي بهت كچھ هوں اور وه جھولا محض ان كي شناخت كا ايك زينه هو۔ آخر كوئي تو وسيله هو جس كے سهارے هم نرمل جي اور ان كي شخصيت كے گڈمڈ هوتے هوے سايوں كے ساتھ كچھ دور هي سهي۔ مگر قدم ملاكر چل تو سكيں۔

 گر اهم گرين كے الفاظ ميں اندر كا آدمي اكثر هماري نگاهوں سے اوجھل هي رهتا هے۔ ايسے ميں هماري عكسي آنكھ كيا ديكھ سكتي هے۔ كيا نرمل جي كو يوں هي لنڈورا چھوڑديا جائے۔ ان پر كچھ نه لكھاجائے۔ مگر ايسا بھي كيا۔ يه تو سراسر ان كے ساتھ بے ايماني هوگي۔ جس شخص نے نوجوان اديبوں اور شاعروں كي ايسي پيٹھي تيار كي هو جو ادبي دنيا ميں كاسه بكف نه هو۔ ايسے آدمي كے ليے نقاد كا تيكھا قلم چاهئے۔ خاكه نگار تو محض اپنے مشاهده كا اسير هو كر ره جاتا هے۔

 هندي ادب ميں وه كس پائے كا شاعر، افسانه نگار اور ناول نويس هے وه جانے يا هندي كے ليكھك۔

 مجھے تو يهاں اس كي شخصيت كے تارو پود كا محاكمه كرنا هے۔ ويسے شخصيت كو ناپنے كا آله آج تك كسي نے ايجا د نهيں كيا۔

 صورت شكل، چال ڈھال اور اپنے مخصوص لباس ميں وه سرتاپا اديب هي اديب دكھائي ديتا هے۔ ويسے كسي كا اپنے حليے بشرے سے اديب دكھائي دينا اور بات هے اور اديب هونا ايك علٰحده بات هے۔ اتفاق سے نرمل جي كي طرحدار اور دل چسپ شخصيت ان دونوں شرطوں كو كچھ اس طرح پوري كرتي هيں كه ايك دفعه ملنے كے بعد آدمي اسي كا هوكرره جاتا هے۔ خواه وه آدمي هندي كا هو يا تلگوكا، اردو كا هو يا كسي اور زبان كا۔

 بڑے بڑے قدرے پكے هوے بال۔ آنكھوں پر موٹے موٹے شيشوں كا چشمه، منه ميں كڑوا ميٹھا پان، كھدّر كا كرته، جيكٹ اور چپل۔ يهي نرمل جي كي شخصيت كے كچھ اجزائے تركيبي هيں۔ كپڑے هميشه اتنے دُھلے دھلائے اور مُكلف كه گمان گزرتا جيسے وه ايك عدد لانڈري كا مالك بھي هو۔

 نرمل جي كو ميں نے اندر سے بڑا اُدكھي پاياهے۔ وه جب بھي قهقهه لگاتا تو لگتا هے جيسے وه اپنے قهقهوں ميں انسان كے ازلي غم كو چُھپانا چاه رها هو۔

 ميں نے نرمل جي كو هر حال ميں ديكھا هے فاقه مستي ميں بھي۔ اور كبھي كبھي خوش حالي ميں بھي۔ روز گار كي تلاش ميں ٹھوكريں كھاتے هوئے بھي۔ اور گلي گلي دكھ كے كنكر چنتے هوے بھي۔ بھري جيب كو خالي كرتے هوے بھي۔ اور خالي جيب كو تيزي سے بھرتے هوے بھي مگر هر حال ميں مست و مگن جيسے وه آدمي نه هو پهنچا هوا فقير هو۔

 زندگي كے عذاب كو هنستے كھيلتے جھيلنے والوں ميں اگر كسي كا نام سرفهرست آسكتا هے تو وه نرمل جي هيں۔ تهي جيب بھي هوں تو وهي مستي۔ جيب بھاري هو تو جلد سے جلد اسے جھٹكنے كي فكر۔ نه رهے بانس نه بجے بانسري۔ كوئي تو ايسي حد هوجهاں نرمل جي بے بس هوئے هوں۔

 انھوں نے اپنے پيچھے نوجوان اديبوں اور شاعروں كي جوپيٹھي تيار كي هے اس پر اُنھيں بڑا فخر هے۔ مذامت كي صورت اس وقت نكل آتي هے جب اُن كا كوئي چيله انھيں گرو تسليم كرنے سے صاف انكار كردے۔ اور اپنے حدود كو نه پهچانے ٫٫دوچار نظميں رسالوںميں كيا چھپيں كه اپنے آپ كو تيس مارخاں سمجھ بيٹھے۔ اور اپنے باپ كو بھي بھول بيٹھے۔٬٬

 ويسے نرمل جي ايك بے ريا آدمي هيں۔ جھوٹ، كپٹ، بناوٹ اور تصنع سے دور جس كا ظاهر بھي وهي باطن بھي وهي۔

 اُدم پر كاش نرمل جسے لوگ پيار اور احترام سے نرمل جي بھي كهتے هيں۔ اس كے ملنے جلنے والوں كا دائره بهت وسيع هے۔ هندي اُردو كے بڑے بڑے شاعروں اور اديبوں سے اس كي ياري رهي هے۔ اور ساتھ ساتھ كنجڑے بھٹياروں كو بھي اس نے اپنے دل ميں جگه دے ركھي هے۔ يه الگ بات هے كه مختلف حالات ميں يه جگه تبديل هوتي رهتي هے۔

 كسي وقت گلزار حوض كے بهت پيچھے اس نے ايك چھوٹا موٹا ڈربه نما مكان كرائے پرلے ركھاتھا۔ اس مكان كي خوبي يا خامي يه تھي كه هر آنے جانے والے كو نرمل جي سے ملنے كے لئے به يك وقت كئي مكانوں كو پھلانگتے هوے اس طرح جانا پڑتا تھا جيسے گلي گلي ٹھوكريں كھانا انسان كا مقدّر هو۔ كتئي دفعه ايسا بھي هوا كه هم گئے تو تھے نرمل جي سے ملنے ليكن كسي اور سے مل آئے اور ملاقات كا قرض باقي هي رها۔ يه مشكل هے كه كوئي نرمل جي كے گھرجائے اور بغير كچھ كھاے پيے لوٹے۔

 ٫٫بوليے مهاراج كچوري چلے گي۔ يا بيگن كا بھرته هي كافي هے۔ ويسے بھوجن تو تيار هوهي رها هے۔ تھوڑي سي بھانگ بھي ركھي هوي هے۔ مگر هاں اپنے اقبال جي كيسے هيں انھوں نے تو همارے هاں آنا جانا هي چھوڑديا هے۔٬٬

 ٫٫ماروگولي يار اقبال كو۔ سناو پنڈت جي كا كيا حال هے۔ آپ نے ريس ميں كچھ مال دال بنايا هے كه نهيں۔٬٬

 خالد كي نظر تو هميشه مال هي پر رهتي هے۔ ويسے پنڈت جي نے انفارميشن تو دي تھي ليكن كچھ لفڑے درميان ميں ايسے آگئے كه هم گھر سے باهر نكل هي نه سكے۔ تھوڑي سي بھانگ پي لي كچھ مستي كي اور سوگئے۔ گرو هم نے اپنا استعفيٰ تيار كرليا هے۔ ويسے يه بات اپني حد تك هي ركھنا۔ لو پوري كچوري آگئي۔ آج اشنان كرنے ميں بري ٹھنڈ لگ رهي تھي ليكن هم مزدور اديبوں كے ليے سردي كيا گرمي كيا۔ مگر اكبال جي سے يه ضرور كهنا كه وه هم سے مليں۔٬٬

 ٫٫مارئيے اكبال جي كو۔ پته نهيں كن بكھيڑوں ميں پڑے هوں۔ اب استعفيٰ تيار كرليا هے تو پكڑليجے پنڈت جي كو۔ آخرده كس كام آئيں گے۔ كچھ بڑے بھاو والے گھوڑے پكڑيئے۔ كچھ آپ كے ساتھ عوض صاحب كا كام بھي بن جائے۔٬٬

 ٫٫كيا كريں گرو كچھ پيسه ٹكا بھي تو هو۔٬٬

 ٫٫ماريئے پيسے ٹكے كو گُھس جائيے ريس كورس ميں اور پكڑليجئے پنڈت جي كو۔٬٬

 ٫٫سعيد جي يه همارے گرو جو هيں۔ بڑ كائياں آدمي هيں۔ كسي كو بھي ريس كے كنويںميں ڈھكيل كر بڑے پريم سے قهقهه لگاتے هيں۔ آدمي جئے يا مرے انھيں اس كي كوئي فكر نهيں هوتي۔٬٬

 ميں نے ديكھا محرابوں ميں دھنسي هوي كتابوں ميں دھرم ويربھارتي كي ناول سورج كا ساتواں گھوڑا بھي شامل هے۔ جگد مباپرشادڈِكشٹ كي مرده گھر بھي۔ مگر رگھوويرسهائے سرويشيورديال سكسينه مكتي بودھ آج نظر نهيں آرهے هيں۔ ٫٫نرمل جي آج طاق ميں بهت كم كتابيں دكھائي دے رهي هيں۔ كوئي ايسي ويسي بات ٬٬

 ٫٫كيا بتائيں مهاراج۔ وه اپنا بال كشن هے نا۔ سالے نے چُوهے كي طرح ساري المارياں كھود ڈاليں۔ مگر وه كتابيں لائے گا ضرور۔ اوم پركاش نرمل جس آدمي كا نام هے وه اسے بخشے گا نهيں۔

 وه گرو هي كيا جواپنے چيلوں كو محبت كے ساتھ پھٹكارنه كرے۔ مگر بال كشن جيسے تيز و طرار آدمي كو بھي ميں نے نرمل جي كا احترام كرتے هوئے بهت ديكھا هے۔ خواه نرمل جي عام بول چال كي سطح سے هٹ كر گالي گلوج هي پر كيوں نه اُترآئيں۔ دوسرے دن اگر وه بال كشن كو محبت سے گلے لگارهے هوں تو كوئي تعجب كي بات نهيں۔

 كبھي وه ريس كا اتنا رسيا رها هے كه ميں نے اس مست رام كو ايك دن ريس كورس پر گھومنے والے گھوڑوں كے آگے پيچھے آتے جاتے اس طرح ديكھا جيسے وه هندي كا مشهور ليكھك نه هو گھوڑوں كا ڈاكٹر هو۔

 ميں نے جب اس كے كندھے پر هاتھ ركھ كر اس كي خيريت دريافت كي تو اس نے پلٹ كر كها ميں نے اپنے آدمي كو پنڈت جي كے پاس بھجواديا هے۔ صحيح انفارميشن مل جائے توآپ بھي چاليس پچاس لگاديجيے۔ ويسے اپني گھوڑي بهت تيار هے ضرور جيت جائے گي۔٬٬

 تھوڑي دير بعد پيڈك ٫٫Paddock٬٬ ميں اور گھوڑوں كے ساتھ جب نرمل جي كي گھوڑي بھي مجھے نظر آئي تو مجھے يه ديكھ كر حيراني هوئي كه اس كے پاو ں ميں سفيد پٹياں بندھي هوي تھيں۔

 شام كو سلطان بازار كے قريب جب ان سے دوباره ميري ملاقات هوي تو وه ايك موچي كي دكان پر كھڑے اپني پھٹي هوي چپل كي مرمت كروارهے تھے۔ مجھے جوں هي ديكھا كهنے لگے۔ ٫٫ميں اگر ٹوپيوں كي دكان بھي كھول لوں تو آنے والي نسل بے سر كي پيدا هوگي اب رها خساره كا سودا وه تو ميري جنم پتري ميں پهلے هي لكھا هے۔٬٬

 هندي ادب اور تهذيبي سرگرميوں كا جهاں ذكر هو۔ وهاں اوم پركاش نرمل كا نام ضرور آئے گا۔ يه ناممكن هے كه هندي كا كوئي بڑا ليكھك يا شاعر حيدرآباد آئے اور نرمل جي سے ملے بغير چلاجائے۔ خواه وه كتنا هي قدآور شاعر اور اديب كيوں نه هو۔

 دراصل لكھنا پڑھنا اس كي زندگي كا ايك اهم حصه هے۔ مگر ساتھ ساتھ وه ايك اچھا گر هست بھي هے۔ يه اور بات هے كه وه وفاداري كے روايتي تصور كا كچھ زياده قائل نهيں۔

 نرمل جي جيسا كھرا ، منھ پھٹ اور مخلص آدمي ميں نے كم هي ديكھا هے۔ اس كے مزاج كي تهه ميں ايك عجيب طرح كي بغاوت دھيمے دھيمے سلگتي رهتي هے اور جب راكھ كے ڈھير كے نيچے چھپي هوي يه ساري چنگارياں اچانك شعلوں كا روپ دھارليتي هيں تو وه يك به يك نرمل جي سے اوم پركاش بن جاتا هے۔

 نرمل جي كي خاميوں كو جب بھي ميں نے قلم كي گرفت ميں لينا چاها تو مجھے لگا جيسے تڑكے روشني اور سائے ايك دوسرے سے مل رهے هوں۔

 زندگي كي دُھوپ چھاو ں ميں كبھي كبھي آدمي كو اپني مرضي كے خلاف جھكنا بھي پڑتا هے۔ اور چوٹ كھا كر سنبھلنا بھي۔ ميں نهيں سمجھتا كه نرمل جي كي شخصيت ان باتوں سے ماورا رهي هو۔ كيوں كه انسان نه مكمل طور پر برا هوتا هے اور نه تمام تر اچھا۔

 بهت زمانه پهلے كي بات هے۔ ڈاكٹر منيب الرحمن حيدرآباد آے هوے تھے۔ ان كي آمد سے فائده اٹھاتے هوئے جب سليمان اريب نے ان كے اعزاز ميں ايك ادبي نشست ركھي تو ميں نے وهاںبے شمار اديبوں كے درميان ايك لمبے لمبے بالوں والے اجنبي كو ديكھا۔ جس كي آنكھيں گهرے چشمے ميں كچھ ڈھكي هوئي سي لگ رهي تھيں۔ ميں نے سرگوشي كے انداز ميں اريب سے پوچھا۔ ٫٫وه بڑے بالوں ولا اجنبي كون هے۔٬٬

 اريب نے جواباً كها۔ ٫٫اپنے هي قبيله كا آدمي هے۔٬٬

 ميں نے شرارتاً كها۔ يعني ايك دم فراڈ۔ اريب هنس پڑے۔

 اور جب اس فراڈ سے ميں پهلي بار ملا تو مجھے لگا جيسے كوئي بند كمرے سے اچانك اُٹھ كر كھلي فضا ميں آگيا هو۔ مجھے اس كي شخصيت كے طلسم نے اپنا اسير كر كے هي چھوڑا۔ ليكن جب اوم پركاش نرمل عالمِ سرمستي ميں هو تواُس سے ملنا خطره سے خالي نهيں۔ بے هنگم گاليوں كے درميان اس كا ايگو go آهسته آهسته اس طرح جاگتا هے جيسے كوئي سويا هوا شير اچانك اُٹھ كر چنگھاڑ رها هو۔ بس كوئي اسے ذرا سا چھيڑدے۔ نه چھيڑيں تب بھي وه ايك آدھ پنجه ضرور مارے گا۔ ميرے ساتھ تو كبھي ايسا واقعه نهيں هوا ليكن بعض گھائل لوگوں كي فرياد تو يهي هے ó۔ó

 جن دنوں وه ٫٫كلپنا٬٬ سے وابسته تھا ايك دوبرس نهيں بلكه چوده برس۔ جب بھي وه مجھ سے ملتا تو سرگوشي كے انداز ميں كهتا۔ ٫٫آئيے نيچے چل كر چائے پاني كرليں۔ بدري وشال جي ابھي آفس نهيں آئے هيں۔ بلاوا آنے تك كم ازكم چاے تو حلق ميں انڈيل ليں۔٬٬

 مگر تھوڑي هي دير بعد وه كپڑے جھاڑكر اُٹھ كھڑاهوتا۔٬٬ مهاراج بلاوا آهي گيا۔٬٬

 ٫٫آپ كو كيسے پته۔؟٬٬

 ٫٫ميں نے كار كي آواز سن لي هے۔ اب هم اتوار هي كومل سكيں گے۔٬٬

 پھر نرمل جي اتوار كو مليں يا سوموار كو۔ اس سے هميں كوئي غرض نه هوتي۔

 سلطان بازارماركٹ سے لگي هوي ايك پراني حويلي كے ايك تنگ اور نيم تاريك كمرے ميں وه كرسي پرپاو ں پھيلائے اس طرح بيٹھاتھا جيسے وه ايڈيٹر نه هو بلكه ايك عام سا آدمي هو۔ روشن دان سے آنے والي مدھم روشني ميں اس كا سرا پا ايسا لگتا جيسے وه هچكاك كي كسي فلم كا كردار هو۔ كب اور كس وقت كيا كردے كچھ پته نهيں۔ نرمل جي كے كمرے كے برابرهي ايك كمره تھا جس ميں ايك بوڑھا آدمي بيٹھا بهي كھاته كھولے حساب جوڑنے ميں لگارهتا۔

 معاوضه كے سلسله ميں جب بھي كوئي تاخير هوتي تو هم بجائے نرمل جي سے رجوع هونے كے بدري و شال جي سے مل ليتے۔ اور هميں منٹوں ميں چيك مل جاتا اور بعد كو هميں يهي افسوس هوتا كه هم نے نرمل جي كے پيچھے اتنا وقت كيوں ضائع كيا۔ دراصل اس قسم كے كاموں كے ليے وه بڑے نا اهل تھے۔

 ايك دفعه بدري وشال جي مجھے فوري معاوضه كا چيك دينا چاهتے تھے ليكن دُور دُور تك نرمل جي كا پته نه تھا۔ ميں نے اپنا بھرم ركھتے هوے بدري وشال جي سے كها۔ ٫٫پھر كسي وقت مني آرڈر يا چيك ميرے نام بھيجواديجے۔ شايد نرمل جي كے آنے ميں كچھ اور دير هوجائے۔٬٬

 ادھر جب وه آفس ميں داخل هوا تو بلاوے كي غرض و غائت كا اسے علم هو چكا تھا۔ وه بڑي شتابي كے ساتھ هندي ميں چيك لكھ كر لايا۔ بدري وشال جي نے دستخط كيے اور ميں سعيد بن محمد كے ساتھ نرمل جي كو خدا حافظ كهتا هوا كلپنا كے آفس سے نيچے اُتر گيا۔

 اس وقت جن نگاهوں سے نرمل جي نے مجھے ديكھا۔ وه نگاهيں آج بھي ميرا پيچھا كرتي هيں۔

 ايك جرنلسٹ سے لے كر ايك ايڈيٹر تك۔ ايك ٹيچر سے لے كر ايك سيلس مين تك بيگاري كي كوئي ايسي شاهراه نهيں جهاں نرمل جي نے قدم نه ركھا هو۔ اب تو وه خير سے هندي اكيڈيمي كا ڈائركٹر بھي بن چكا هے۔ وه كچھ بھي نه هوتا تب بھي كوئي فرق نه پڑتا۔ كيوں كه وه كل بھي نرمل جي هي تھا اور آج بھي نرمل جي هي هے۔

 آج جب ميں نرمل جي پر خاكه لكھنے بيٹھا هوں تو تنقيد كي ترازو كا ايك پلڑا اس كي خوبيوں سے كچھ زياده هي جُھكتا جارهاهے۔ اور اس كي اپني ذاتي كمزورياں ذراكم هي گرفت ميں آرهي هيں۔ پته نهيں يه اس كي شخصيت كااعجاز هے يا ميري بے بضاعتي۔

 هوسكتا هے۔ نرمل جي كهيں كهيں اس كے برعكس بھي هوں۔ راجه دو بے اگر زنده هوتا اور اس خاكه كو اس نے قلمبند كيا هوتا تو نرمل جي كے خاكے كي نوعيت هي شايد كچھ اور هوتي۔ كيوں كه وه اس كے شب و روز كا حساب چكانے والوں ميں ايك نماياں درجه ركھنے والا رفيق تھا۔ اور ايك منفرد شاعر بھي۔

 ادبي سطح پر وه نرمل جي كا دوست بھي تھا اور مخالف بھي۔

 مرتے دم تك اس نے نرمل جي كو شاعر نهيںمانا اسے محض ايك افسانه نگار ناول نويس اور جرنلسٹ هي سمجھتا رها۔ مگر اس فتوي كے باوجود جب كبھي راجه دوبے رُوٹھ جاتا تو نرمل جي اسے كسي نه كسي طرح مناليتے۔ كبھي كبھي تو هاتھا پائي كي نوبت بھي آجاتي۔ ايك دوسرے سے نه ملنے كي قسميں كھائي جاتيں۔ ليكن انجام هميشه بخير هي هوتا۔ كيوںكه هر دو اك دوسرے كوٹوٹ كر چاهتے تھے۔

 كبھي كبھي وه ملتے جلتے اچانك غائب بھي هوجاتے۔ جب وه ايك لمبے عرصے كے ليے غائب هوگئے تو پھر ايك دن كسي نے سُنايا كه نرمل جي نے ادب كا دھندا چھوڑ كر بيوپار شروع كردياهے۔ اس كي تصديق كے ليے جب هم جام باغ روڈ سے لگي هوي آئرن سٹيل كي دكان پر پهنچے تو نرمل جي وهاں اس طرح آرام سے بيٹھے دكھائي ديئے جيسے وه دكان نه هو ڈرائنگ روم هو۔

 ميں نے دل ميں سوچا يار يه آدمي كهاں آكر پھنس گيا۔ اس نے جيسے هي خالد كے ساتھ مجھے آتے ديكھا۔ فوراً چائے والے كوا ٓوازدي۔ اور خالد كي طرف مخاطب هوكر كها۔

 ٫٫گروآج من بڑاداس هے۔ بڑادكھي هے۔ جيب ميں پيسه ٹكا بھي كم هے۔٬٬

 ٫٫پھر چائے نه منگوائي هوتي۔٬٬

 ٫٫چائے كا ان باتوں سے كيا سمبندھ هے گرو۔ يه چكر تو صبح سے لے كر شام تك چلتا هي هے۔٬٬

 باتوں كے دوران جب بھي كوئي گاهك آدھمكتا تو ان كے چهرے پر خوشي كي بجائے جھلاهٹ كي لكيريں نمودار هوجاتيں۔ جيسے ياروں سے گپ شپ هي سب كچھ هو۔ بيوپاركوئي اهم نه هو۔

 ٫٫سيٹھ جي نٹ بولٹ۔٬٬

 ٫٫چھ آنے مندم٬٬

 ٫٫سيٹھ جي ۔ پاني كا ميٹر، سكروڈرائيور٬٬

 ٫٫كهه تو ديا هے نا۔ نهيں هے۔ چل بھاگ يهاں سے۔

 ٫٫هاں تو ميں كهه رها تھا گرو ادم كارجي نے اس بار ٬٬

 اور آج جب بھي ميں كسي دكان پر تالا پڑا ديكھتا هوں تو بے اختيار مجھے نرمل جي كي ياد آتي هے۔ كيوں كه كسي بھي جمي جمائي دكان كا شيرازه بكھيرنے ميں اس كا زبردست هاتھ رها هے۔

 وه پيدا تو هوا راجستھان كے ريگزاروں ميں ليكن دكن كي آب وهوا اسے كچھ ايسي راس آگئي كه وه يهيں كا هو كر ره گيا۔ ليكن اپنے گاو ں امرسر كے سارے گلي كوچے۔ كھيت كھليان۔ خاص طور پر وه بھجن منڈلياں جن ميں وه بڑھ چڑھ كر حصه ليا كرتا تھا۔ آج بھي اس كے ذهن ميں اسي طرح تازه هيں۔

 جب بھي بھولے بھٹكے وه اپنے ديس جاتا هے تو گاو ں اور اس كے آس پاس كے سينكڑوں لوگ اسے ديكھتے هي كهه اٹھتے۔ ٫٫ارے يه تو اپنا وهي اوم پركاش هے جو كبھي نوٹنكيوں ميں بهروپ بھرا كرتا تھا۔ اور منڈليوں ميں بھجن گايا كرتا تھا۔

 منڈلي گارهي هے۔ شام نے بجائي آج مُرليا۔

 اور نرمل جي بندسُروں ميں هوري كے بول گنگتا رهے هيں۔

 مانومانوجي چھيل نندلال۔ كبھي كسي ناٹك ميں لاله لو بھي لال كا رول ادا كررهے هيں۔ بڑھي هوي توند۔ ناك پرسياه چشمه۔ كانوںميں لٹكي هوي لمبي لمبي گھنٹياں۔ گھنٹيوں كا مقصد اگر پيسے كے علاوه كوئي بات هوتو كان هلادينا تاكه گھنٹيوں كے شور ميں آواز دب جائے۔

 آج ميں سوچتا هوں كه جس لاله لو بھي لال كو نرمل جي نے گاو ں كے اسٹيج پر زنده ركھا كهيں وهي لاله لوبھي لال كسي اور روپ ميں اب تك اس كا پيچھا تو نهيں كر رها هے۔

ll