خاكے
عوض سعيد
اُردو اكيڈمي جده
﴿سعودي عرب﴾
جمله حقوق بحق ناشر محفوظ
دوسرا ايڈيشن
جون
÷٢٠٠٦٦÷ £ئ£
سرِورق: مغني تبسم
اشاعت: اُردو اكيڈمي جده
كتابت: سيدعبد الشكور قادري عمر
مصحح: سيد جمال الله قادري
ناشر: ڈاكٹر اوصاف سعيد
قوي مرحوم كے نا م
عوض سعيد خليل الرحمن اعظمي Õ٥Õ
مخدوم محي الدين Ø٨Ø
ابراهيم جليس Ò٠٠Ò
خورشيد احمد جامي Ò٣٣Ò
عالَم خوندميري Ò٩٩Ò
سليمان اريب Ó٩٩Ó
قاضي سليم Õ٠٠Õ
اقبال متين Õ٧٧Õ
مغني تبسّم Ö٥٥Ö
جيلاني بانو ×٦٦×
عزيز قيسي Ø١١Ø
وحيد اختر Ø٤٤Ø
شهر يار Ù٤٤Ù
راشد آذر Ñ٠٢٢Ñ
نعيم زبيري Ñ١٠٠Ñ
مصحف اقبال توصيفي Ñ١٧٧Ñ
حبيب حيدرآبادي Ñ٢٣٣Ñ
انور رشيد Ñ٣٣٣Ñ
نرمل جي Ñ٤٠٠Ñ
پيشِ لفظ
ميرے والدگرامي عوض سعيد ايك منفرد افسانه نگار شاعر اور خاكه نويس تھے ۔ وه ان
چند افسانه نگاروں ميں سے تھے جنهوں نے اردو ميں مختصر كهاني كي سطح كو بلند كيا ۔
عوض سعيد كا فن جس بات سے سروكار ركھتا هے وه هے انسان كي دنياوي پوزيشن اور اس
كے عمل اور ردّعمل كو اپنے زاويه سے ديكھنا ۔ يهي ان كے تحريري اسلوب اور هيئت كا
جديد انداز هے تجربه هے ۔
والد ماجد مرحوم كي مختلف تصنيفات ميں سے ٫٫ خاكے٬٬ ايك منفرد نوعيت كي كتاب هے
جس ميں اردو شعر و ادب كي چند عظيم شخصيات كے بارے ميں بڑے هي دلچسپ انداز كي تحرير
ملتي هے ۔
مجھے نهايت مسرّت هو رهي هے كه اپنے والد مرحوم كي تصانيف كي دوباره اشاعت عمل
ميں آرهي هے ۔ اس كي اشاعت كا سهرا ميرے ماموں جناب مغني تبسّم كے سر جاتا هے جن كا
شمار اس وقت اردو كے قديم اور عظيم ناقدين اور شعرائ ميں كيا جاتا هے ۔ جناب مغني
تبسّم ميرے والد كے برادر نسبتي سے زياده ان كے سچّے دوست او ر ديرينه همدم ورفيق
كار رهے هيں ۔ پيشِِ نظر كتاب ميں خود جناب مغني تبسّم پر لكھا هوا والد صاحب كا
خاكه ان دونوں كے درميان گهرے دوستانه مراسم كا غمّّازهے ۔
ميں اردو اكيڈمي جده كا ممنون و مشكور هوں كه اس كتاب كي تزئين وترتيب اور
كمپيوٹر كے ذريعه كتابت و طباعت ميں معاونت كي ۔ اس كتاب كي دوباره اشاعت كا مقصد
صرف والد مرحوم كي تصنيفات كو زنده ركھنا اور انهيں خراج عقيدت پيش كرنا هے ۔ لهذا
اس كتاب كے ذريعه هونے والي آمدني كو ميں اردو اكيڈمي جده كي جانب سے سركاري مدارس
كے غريب و نادار طلبه ميں
٫٫ تقسيمِ يونيفارم ٬٬ كي اسكيم كے لئے وقف كرتا هوں ۔
مجھے اميد هے كه قارئين كے لئے يه كتاب نهايت دلچسپ ثابت هوگي ۔ اوصاف سعيد
خليل الرحمن اعظمي
عوض سعيد
عوض سعيد نه تو ميرا بچپن كا لنگوٹيا يار هے اور نه آغاز شباب كي سرمستيوں كا
ساتھي ليكن آج سے كئي سال پهلے جب ميں نے ٫٫ادب لطيف ميں٬٬ اس كا افسانه ٫٫بيدل
صاحب٬٬ پڑھا تو ايسا معلوم هوا كه يه شخص اپنے هي قبيله كا هے۔ مجھے اپني اس كمزوري
كا هميشه سے اعتراف رها هے كه ميں اچھے سے اچھا افسانه پڑھ كر عام طور پر بھول جاتا
هوں۔ پھر اگر كوئي اس كا پلاٹ بتانے لگے اس كے واقعات كو دوهرائے اور اسكے آغاز اور
نقطه عروج پر روشني ڈالے تو مجھے ايسا محسوس هوتا كه ميں يه كهاني پهلي بار سن رها
هوں۔ ليكن ميري اس كمزوري پر بعض ايسي كهانياں قابو حاصل كرليتي هيں۔ جن ميں لكھنے
والے نے كسي ايسے كردار كي تخليق كي هو جس سے بے اختيار ملنے كو جي چاهنے لگے۔ نه
جانے كيوں مجھے ايسا محسوس هونے لگتا هے جيسے يه كردار ميرے آس پاس هي كهيں موجود
هے اور كسي نه كسي دن اس سے اچانك ملاقات هوجائے گي اور يه ملاقات دوستي ميں تبديل
هوجائے گي۔ نئي پود كے افسانه نگاروں ميں عوض كي اس خصوصيت نے مجھے اس كي طرف
كھينچا اور ميں اس كے تخليق كئے هوئے كرداروں كے ساتھ خود اس كي شخصيت كے تصوّر ميں
مگن رهنے لگا۔ ايك دن اچانك مجھے معلوم هوا كه وه حيدرآباد چھوڑ كر دهلي آگيا هے
اور اب مستقل يهيں قيام كرے گاليكن اس عجيب و غريب شخص نے مجھ سے ملنے كا موقع
نكالا بھي تو كب يعني جب وه دهلي ميں كچھ عرصه گزار كر اور وهاں كي زندگي سے اكتا
كر هميشه كے ليے دكن كي طرف لوٹ رها تھا۔ پهلي نظر ميں اسے ديكھ كر مجھے كچھ دھچكا
سا لگا۔ يوں تو اس كے خدوخال كافي تيكھے اور جاذب نظر هيں اور اسے ديكھ كر تھوڑي
دير كے ليے عظمت الله خان كي دلاديز نظم ٫٫آندھرا ديش كي سندرپتري٬٬ كے بعض مصرعے
ياد آنے لگتے هيں ليكن وه كچھ ايسا گم سم اور خاموش سا آدمي هے كه بالكل مٹي كا
مادھو معلوم هوتا هے يا ايك ايسے سيّاح كي مانند جو كسي اجنبي ديس ميں پهنچ گيا هو
جهاں قدم قدم پر زبانِ يار من تركي كا احساس اسے ستا تا هو۔ بهر حال اس سوئے هوے
آدمي كو جگانے ميں مجھے خاصي دير لگي۔ ليكن جب چوبيس گھنٹے گزرجانے كے بعد وه كچھ
مانوس سا هوگيا تو اب اس كي خاموشي بھي خوبصورت معلوم هونے لگي۔
عوض كو قريب سے ديكھنے كے بعد ميرا كچھ ايسا اندازه هے كه اس كے افسانے عام
افسانه نگاروں كي طرح اس كے تجربات و مشاهدات كا عكس هي نهيں هيں بلكه اس كي شخصيت
كي تكميل بھي كرتے هيں۔ عوض سعيد نام كا جو آدمي هے وه ايك ٫٫ادھوري شخصيت٬٬ هے۔ اس
سے پورے طور پر ملنے كے ليے اس كے تخليق كئے هوئے كرداروں كے ساتھ بسر كرنا هوگا۔
چنانچه اس كے افسانه ٫٫خون صدهزار انجم٬٬ كا بهاري ٫٫پهلي تنخواه كا عبدالصمد
كمپونڈر٫٫نيكي كا بھوت٬٬ كا وه كردار جس كانام اس نے حرامي ركھا هے ٫٫ريت كے محل٬٬
كا بدصورت كارٹونسٹ، ٫٫كوئله جلبھٹي و راكھ٬٬ كا ٹيوٹر اور ٫٫كفاره٬٬ كاٹرومين يه
سب خود اپني جگه پر ايك مستقل كردار اور كسي نه كسي سماجي قدر كے نمائنده هيں۔ ليكن
اس كے باوجود عوض سعيد نام كے افسانه نگار كي شخصيت كا پس منظر بھي هيں۔
اُردو كے پرانے اور نئي نسل كے بهت سے افسانه نگاروں كي كهانياں ميرے زيرِ مطالعه
رهي هيں۔ مجھے كچھ ايسا لگتا هے كهه همارے بعض فنكار افسانه نگار سے زياده ٫٫منشي٬٬
اور مضمون نگار٬٬ هيں۔ كهانيوں سے كاٹ كر كهاني بنانا، واقعات كي كھتولي تيار كرنا،
اهم سياسي اور سماجي مسائل پر واعظانه قسم كے مكالمے يا تقريريں اپنے افسانوي اشخاص
كي زبان سے ادا كرنا، جنسي زندگي كے بارے ميں ممنوعه لٹريچر سے حاصل كي هوئي
معلومات پيش كر كے اس پر كچے ذهن كے نوجوانوں كي طرح للچانا يه سب ايسي باتيں هيں
جن كي وجه سے رسالوں ميں چھپنے والے افسانوں كا مطالعه ميرے ليے هميشه ايك آزمائش
كا مرحله رها هے۔ كم هي ايسي كهانياں ملتي هيں جنھيں شروع كردينے كے بعد ختم كرنے
كو جي چاهے اور جب ختم هوجائيں تو اس افسانه نگار كي دوسري كهاني كا انتظار شروع
هوجائے۔ ايسے افسانه نگاروں كي ٫٫ذات٬٬ ممكن هے قريب سے ديكھنے پر دل چسپ نظر آئے
ليكن ان كي تحريريں پڑھ كر هميں كسي بھي ٫٫شخصيت٬٬ كا سراغ نهيں ملتا اور نه هي
انھيں ڈھونڈنے كو جي چاهتا هے۔ عوض ايك ايسا افسانه نگار هے جس كي كهانياں پڑھنے
والوں كو اسے ڈھونڈنے پر اكساتي هيں اور جب ملنے پر بھي اس سے ملاقات نا مكمل ره
جاتي هے تو پھر اس كي تحريروں ميں اسے دوباره تلاش كرنے كو جي چاهتاهے۔
مخدوم محي الدّين
يه غالباً ٥٢٢ ئ يا ٥٣٣ ئ كے آس پاس كي بات هوگي ميں اور شاذ روز كي طرح گپيں
هانكتے هوئے رائل هوٹل سے اپنے گھر لوٹ رهے تھے كه اچانك هماري نگاهيں ايك دُبلے
پتلے لمبے لمبے بالوں والے آدمي كے چهرے پر آكر جم سي گئيں ó۔ó
اس كے اردگردو چار آدمي اور بھي تھے۔ پته نهيں هميں يه احساس كيوں هوا كه ان چار
آدميوں ميں سے كوئي ايك مخدوم ضرور هے۔ اس وقت تك هم نے مخدوم كي تصوير ضرور ديكھي
تھي ليكن ان كي ذات همارے ليے بهر حال ايك ناياب سي تھي پھر ايك بار ذهن كي سليٹ پر
يهي ااحساس اُجاگر هوا كه اس ٹولي ميں سب سے اچھا ناك نقشه ركھنے والا آدمي هي ضرور
مخدوم هے۔
شاذ نے كها چهره ديكھ كر خوش هونے سے زياده بهتر يهي هے كه آگے بڑھ كر اُن سے
هاتھ ملاليں اور كهيں كه آپ كے هزاروں مداحوں ميں هم بھي ايك هيں۔ هم نے آگے بڑھ كر
فرط احترام سے جس آدمي سے هاتھ ملايا وه هاتھ مخدوم كے نه تھے سردار سليم كے تھے
جسے غلط فهمي ميں هم دونوں نے مخدوم سمجھ ليا تھا پھر راسته بھر شاذ مجھ پر كڑھتا
هي رها كه تم نے كس آدمي سے مجھے ملواديايه علحده بات هے كه آگے چل كر يهي سردار
سليم همارا قريبي يار بن گيا ليكن مخدوم سے ملنے كا كوئي موقع هاتھ نه آيا۔ جب اريب
اور سري نواس لاهوٹي سے جان پهچان بڑھي تو ميں نے لاهوٹي سے كها كبھي همارا مخدوم
سے تعارف كروادو۔ ايك دن يه تمنا بھي لاهوٹي نے پوري كردي۔
٫٫اِن سے ملو نوجوان افسانه نگار عوض سعيد، ايك نرم اور ملائم هاتھ آگے بڑھا۔
مجھے لگا جيسے تازه هوا كا ايك خوشگوار جھونكا ميرے اردگرد كهيں لهرارها هو۔
ميں پهلي هي ملاقات ميں ان كي شخصيت كے طلسم كا اسير هوكر ره گيا۔ پھر ميں گھر
آنے كي بجائے اريب كي تلاش ميں نكل پڑا تا كه ان كو يه خوشخبري سناسكوں كه ميں نے
بھي مخدوم كے درشن كيئے هيں۔
پھر جب اريب ملے تو ميں نے كچھ ڈرامائي رنگ ديتے هوئے مخدوم سے ملنے كي ساري
روداد سنادي۔ اور چلتے چلتے يه بھي كها كه جو كام آپ سے نه هوسكا وه لاهوٹي نے كر
دكھايا۔ ٫٫بھئي تم چاهو تو هم تمهيں بنّے بھائي سے بھي ملواديں۔ لوئي آرگاں پبلو
نروداتو اپنے يار هي هيں۔ اسي طرح ملتے رهو تو شايد ان سے بھي ملاديں۔٬٬ ميں نے
اريب كي شرارت كو بھانپتے هوے بڑي سادگي سے كها۔ ذرا ديكھ ليجيے، كهيں يه لوگ آس
پاس هي نه هوں۔٬٬
اريب هنس پڑے اور آگے نكل گئے۔ ميں نے گھر پهنچ كر مخدوم سے ملاقات كا ايك اور
خاكه ذهن ميں بناليا ليكن مدتوں يه بات سلام دعا سے آگے نه بڑھي اور ميں دلي
چلاگيا۔
يه غالباً ÷١٩٥٧٧÷ئ كي بات هوگي۔ دلي ميں فيض كے ساتھ مخدوم كي آمد كے بھي بڑے
چرچے تھے۔ ان دنوں دهلي ميں ايشين كانفرنس كي تيارياں بڑے زوروں پر تھيں۔ ڈسمبر كا
مهينه پھر دلي كي بے پناه سردي ليكن اس كے باوجود هر باذوق كے قدم وگيان بھون هي كي
طرف بڑھ رهے تھے ó۔ó
ميرے ساتھ جامعه ملّيه كے چند طالب علم تھے جن كي خواهش تھي كه وه اپنے محبوب
شاعر كي بارگاه ميں حاضري ديں اور موقع ملے تو اپنے گھرلے اڑيں۔ اِن دنوں مخدوم سے
خود ميري واجبي واجبي سي ملاقات تھي چنانچه وهي هوا جس كا مجھے خدشه تھا۔ مشاعرے كي
ريل پيل ميں اس رات ميري ملاقات اُن سے كچھ اتني سرسري رهي كه ميں ان كے مدّاحوں كے
ليے صرف آٹو گراف هي لے سكا۔ فيض جب ڈائس پر آئے تو اپنے وقت كے ايك مشهور ترقي
پسند شاعر نياز حيدر نے عقيدت مندي كے جذبے سے سرشار آگے بڑھ كر ان كے پير
چُھوليئے۔ فيض كے شگفته چهرے پر اچانك سنجيدگي هويداهوگئي اور سامعين نے پر جوش
انداز ميں تالياں بجانا شروع كرديں اور فيض صاحب كي بيگم ايليس نے چھوٹے بچے كي طرح
هنسنا شروع كرديا۔
جب مشاعره شروع هوا تو سامعين كي زبان پر دو هي نام تھے۔ فيض اور مخدوم فرمائش كے
طومار ميں كهيں سے آوازا بھري۔ ٫٫وه٬٬
اور وه كے ساتھ هي بعض منچلوں نے به اشتياق كھڑكيوں اور دروازے كي طرف ديكھا مگر
دور دور تك وهاں كوئي نه تھا۔ پھر جب مخدوم نے اپنے سحر آگيں ترنم ميں اپني نظم
٫وه٬٬ سنائي تو كھڑكيوں كي طرف اٹھنے والي للچائي هوي نگاهيں شرم و جھينپ كے بوجھ
تلے جُھك كر ره گئيں۔
پھر مختلف گوشوں سے بيك وقت كئي آوازيں اُٹھيں۔ چاره گر، چاندتاروں كابن، انتظار،
اور جب وه فرمائشوں كا احترام كرتے كرتے تھك سے گئے اور رات بھيگنے لگي تو انهوں نے
معذرت چاهي مگر دور سے كسي باذوق منچلے نے پھر هانك لگائي۔
٫٫آج كي رات نه جا۔٬٬
بعض لوگ سوسوجتن سے شهرت كے پيچھے بھاگتے هيں اور شهرت اتني هي ان سے پناه مانگتي
هے ليكن يه شهرت سے جتنا جي چراتے رهے شهرت كي اپسرا اتني هي ان سے هم آغوش هوتي
رهي۔ چنانچه اپني زندگي هي ميں انھوں نے كچھ اتني شهرت بٹورلي كه اگر وه چپ بھي
هوجاتے تو كوئي فرق نه پڑتا۔
وه بورژدا طبقے ميں جتنے مقبول اور هردل عزيز تھے اتنے هي نچلے اور متوسط طبقے
ميں چاهے اور پوجے جاتے تھے۔ طبعاً بڑے ساده مزاج آدمي تھے۔ چنانچه جب كبھي ان كي
چيزيں رسائل كي زينت بنتي تھيں تو وه بغير پرچے كا انتظار كيئے بلا جھجك بك اسٹال
جاكر سارے پرچے خريدليتے۔ ايسے وقت وه بڑے معصوم لگتے۔ يه معصوميت هي در اصل ان كي
شخصيت كي سب سے بڑي پهچان تھي۔
جب تك كوئي خاص واقعه انھيں Haunt نه كرتا اس وقت تك وه اپنے قلم كو جنبش نه
ديتے۔ ايسے وقت كوئي اُن سے نئي نظم كي فرمائش كر بھي لے تو وه مسكراتے هوے كهتے۔
٫٫ميرا حال اس كسان كا سا هے جس كي فصل بارانِ رحمت پر آس لگائے بيٹھي رهتي هے مگر
كچھ لوگ هيں جن كے دماغوں ميں نل لگے هوئے هيں ٹوٹي كھولي اور شعر نكلنے لگے۔
جب تك ميں دهلي ميں رها حيدرآباد كي ادبي فضا سے كٹاكٹاسارها۔ اور جب دِلّي كي
تيز رفتار زندگي سے اكتا كردوباره ميں حيدرآباد آيا تو مخدوم كو زياده قريب سے
ديكھنے كا موقع ملا۔ ان كے مزاج ميں زنده دلي كوٹ كوٹ كر بھري تھي۔ جب كبھي وه كسي
محفل ميں كوئي دلچسپ بات يا لطيفه سناتے تو محفل زعفران زاربن جاتي تھي۔ ميں نے
انهيں كبھي اداس نهيں ديكھا۔ هر وقت هونٹوں پر ايك دل فريب مسكراهٹ رقصاں، لگتا تھا
جيسے زندگي كے سارے زهر كو انھوں نے چاٹ ليا هو۔
ايك دن عابد روڈ پر اچانك ملے تو كهنے لگے، ٫٫تم تو چھپے رستم نكلے۔ ميں نے
تمهاري دو ايك چيزيں خاصے اچھے پرچوں ميں ديكھي هيں۔٬٬
٫٫كون سے پرچے؟٬٬
انھوں نے دو ايك ادبي پرچوں كے نام ضرور ليئے ليكن اُن پرچوں ميں ميري كهانياں
نهيں تھيں۔ شايد حافظه نے انھيں چكمه دے دياهو۔
پھر كسي نے مجھے بتايا كه مخدوم افسانے نهيں پڑھتے۔ كبھي٫٫ نيا ادب٬٬ ميں ايك
افسانه پڑھا تھا اُسي كو آج تك سناتے رهتے هيں۔
ايك دن ميں اورينٹ ميں شاذ كے ساتھ بيٹھا تھا كه اچانك مخدوم داخل هوے، اور الٹے
پاو ں جانے بھي لگے، تو شاذ نے آگے بڑھ كر كها۔ ٫٫كم از كم چائے هي نوش فرمائيے۔٬٬
يهاں نهيں كهيں اور نوش فرمائيں گے۔ در اصل ميں يهاں شاهد كو ديكھنے آيا تھا كهه
كر وه تيزي سے آگے بڑھ گئے۔ شاذ نے ميرے قريب آكر سرگوشي كے انداز ميں كها ٫٫معامله
اپني اپني صليبيں اٹھانے كا هے٬٬۔
مخدوم صاحب كے ساتھ بيٹھنے كا جو مزه هے وه يهاں كهاں۔ هم سيدھے جانسن ò١١ò پهنچے
اور محبت كے اس خوب صورت پيكر كے ساتھ بيٹھنے كا يه ميرا پهلا موقع تھا۔ وه آج
سُنانے سے زياده سُننے كے موڈ ميں تھے۔ وه بڑي دير تك شاذ كي نظميں سنتے رهے۔ همارے
اصرار كے باوجود انھوں نے كچھ نهيں سنايا۔ رخصت هونے سے قبل ميں نے لبرٹي ليتے هوئے
اُن سے پوچھا۔ ٫٫يهاں يه بات عام هے كه آپ افسانوي ادب نهيں پڑھتے۔٬ ý٬ý
٫٫يه تم سے كس نے كها۔ بھئي هم افسانے بھي پڑھتے هيں۔ ٫٫نياادب٬٬ ميں، ميں نے ايك
كهاني پڑھي تھي جو ابھي تك ميرے ذهن ميں محفوظ هے۔٬٬
ياروں نے جو كها تھاوه كچھ غلط نه تھا وه آخر وقت تك اس انداز ميں مسكراتے رهے
جيسے كهه رهے هوں تم نے جو كچھ سناهے وه سب كچھ سچ هے۔
ان كي روپوشي اور جيل سے رهائي كے بعد لاهوٹي نے جو مجھے ان سے متعارف كروايا تھا
شاذنے اس سلسله كو اور آگے بڑھايا۔ يوں بھي مخدوم كي محبتيں كچھ اس طرح بٹي هوئي
تھيں كه كچھ پته هي نه چلتا تھا كه وه كسے زياده عزيز ركھتے هيں ليكن يه ايك حقيقت
تھي كه وه حيدرآباد كے نوجوان شاعروں ميں شاذهي كو زياده پسند كرتے تھے۔ ويسے ميں
نے كسي شاعر يا اديب كي برائي كرتے انھيں كبھي نهيں ديكھا۔هنسنے هنسانے كے موڈ ميں
هوں تو وه علٰحده بات هے۔
ايك دن اُردو هال ميں تقرير كرتے هوے شاذ كا نام ليئے بغير ايك شعر پڑھا اور كها
ذرا شاعر موصوف كي حالت ديكھيئے اپني قبر كے آپ هي مجاور بھي هيں اور روز صبح اُٹھ
كر پابندي سے اسے جھاڑو بھي ديتے هيں۔٬٬ جھاڑو دينے كے منظر كو انھوں نے هاتھ نچاكر
اس طرح بيان كيا كه هال ميں بيٹھنے والے سب هي لوگ بے ساخته هنس پڑے۔ شايد اس محفل
ميں شاذ بھي هوتا تو اپني بے بسي پر هنس پڑتا۔
ò١١ò حيدرآباد كا ايك بار اور رستوران ó۔ó
دراصل مخدوم كي شخصيت كے بانكپن كے سب هي اسير تھے۔ يه نا ممكن تھا كه كوئي ايك
بار ان سے ملے اور دوسري بار ملنے كي تمنا نه كرے۔
ايسي پركشش شخصيت ميں نے صرف مخدوم اور اخترالايمان هي كي ديكھي هے ويسے شخصيتوں
كا موازنه كوئي ايسي ڈھنگ كي بات بھي نهيں هے مگر مخدوم سے مل كر ايسا لگتا تھا
جيسے هم آسمان سے اتري هوئي محبّت كي انجيل سے بغل گير هورهے هوں۔ محبت كي يه طهارت
ان كي شخصيت هي ميں نهيں ان كي بے شمار نظموں ميں بھي جابجا ملتي هے۔
مخدوم محض انقلاب كے داعي هي نه تھے، محبت كاسرچشمه بھي تھے انھيں سمجھنے كے ليے
ان كي نظم ٫٫چاره گر٬٬ هي كافي هے۔
مخدوم عرب نژاد تھے۔ان كا خانداني نام ٫٫ابو سعيد محمد مخدوم محي الدين حذري٬٬
تھا۔ عربوں كي بے پناه خوبيوں كے ساتھ ان كي ذات ميں چند كمزورياں بھي درآئي تھيں۔
ذهانت، خودداري، حلم، بردباري، ايثار اور قرباني كے جذبے كے ساتھ وه قدرے غصيلے اور
جذباتي بھي تھے۔ ان كے جذباتي هونے كا عكس جابجا ان كي پُر جوش تقريروں ميں كهيںنه
كهيں عياں هوجاتا تھا۔ تنقيد سننے يا سهنے كا حوصله ان كي ذات ميں ذرا كم كم هي
پايا جاتا تھا۔
وه پارٹي سے كچھ اتنے جڑے هوے تھے كه ذرا بھي كسي نے ايك چبھتا هوا جمله كسا وه
آپے سے باهر هوگئے۔ پھر انھيں لاكھ سمجھائيں وه اكھڑ سے جاتے تھے۔
مجھے اورينٹ كي وه سلگتي شام آج بھي ياد هے جب انھوں نے غصّه كے عالم ميں اپنے هي
ايك ساتھي كے گال پرطمانچه جڑديا تھا۔
اس واقعه سے محفل ميں جو بدمزگي پيدا هوي تھي اس كي تفصيل يهاں غير ضروري هے ليكن
مخدوم بهر حال مخدوم تھے۔ انهيں سر آنكھوں پر بٹھانا جيسے سب كا مقدّر بن چكا تھا۔
مخدوم كي شخصيت كے كئي گوشے هيں۔ كچھ روشن اور كچھ نيم تاريك۔ ان گوشوں كي تهه تك
پهنچنے كاميں اگر بيڑه بھي اٹھاو ں تو شايد ميرے هاتھ كچھ نه لگے۔ بزم سے لے كر رزم
تك كي منزلوں ميں اگر كسي نے ان كا ساتھ ديا هو تو ان ميں سب سے نماياں نام راج
بهادر گوڑهي كا هے۔ مخدوم پر لكھنے كا صحيح حق تو كچھ وهي اداكرسكتے هيں۔ اس حق كا
استعمال زينت ساجده نے ٫٫من تراحاجي بگوئم٬٬ ميں بڑي خوبصورتي سے كيا هے۔ ويسے
مخدوم كے قريبي ياروںميں كبھي ظفرالحسن بھي تھے مگر پته نهيں مخدوم پر لكھے هوے ان
كے خاكه نے مجھے متاثر كيوں نهيں كيا۔
شايد آپ كو يقين نه هو مخدوم نے كبھي كوئي غير مطبوعه چيز نهيں لكھي، خواه وه نظم
هو يا غزل۔ وه كب اور كس طرح لوگوں كے دلوں كو چھوتي هوئي هند و پاك كي سرحدوں كو
پار كرجاتي تھي يه كوئي نهيں بتا سكتا۔
مخدوم نے پهلے سامع كي قدر كي اور بعد ميں قاري كي۔ خواه وه سنٹرل جيل كا چوكيدار
عمرخاں هو يا عزيزيه هوٹل كا كراري آواز والا يعقوب۔ اورينٹ كا متّو سوامي هو يا
جانسن كا كوئي بيره۔ گو مخدوم نے اپني ان كمزوريوں كو خوب صورت لطيفوں كا روپ دے
ديا تھا۔ ليكن لطيفوں كي اس تهه ميں چھپے هوئے مخدوم يهي نهيں كچھ اور بھي تھے۔ ميں
نے انهيں لطيفے سناتے هوے بھي كبھي كبھي سوچ كي گهري واديوں ميں گم هوتے ديكھا هے۔
مجھے ياد هے جب ان كا لاڈلا بيٹا نصرت ان سے اجازت ليئے بغير كچھ مدت كے ليے كهيں
غائب هوگيا تھا، تو وه بڑے آزرده خاطر تھے۔ اُسے ڈانٹا ڈپٹا نهيں بلكه پيار سے لپٹا
ليا۔ ميں سمجھتا هوںكمزور لمحوں ميں كبھي مخدوم نے كسي كو ڈانٹا بھي هو تو اسي طرح
گلے بھي لگايا هوگا۔ مگر كون جانے
مخدوم كي پهلودار شخصيت كا عكس ان كي ذات سے قطع نظر ان كي شاعري ميں بھي ملتا
هے۔ ميں سرور صاحب كے اس جُملے سے پوري طرح متفق هوں كه ٫٫ايك سرگرم سياسي كاركن
هونے اور ايك خاص سياسي فلسفے ميں ايمان ركھنے كے ساتھ ساتھ مخدوم نے شاعري اور
سياست كے علٰحده علٰحده رول كو ملحوظ ركھاهے يهي وجه هے كه ان كي شاعري ميں حسن بھي
هے اور اثر بھي۔٬٬
يه بات تو رهي سرور صاحب كي مگر يهاں تو مجھے ان يادوں كوسميٹنا هے جو مخدوم كے
گزرجانے كے بعد ميرے ليے هي نهيں ان كے هزاروں چاهنے والوں كے ليے ايك قيمتي اثاثه
بن چكي هيں۔
مخدوم كے بارے ميں، ميں نے يه بات سُن ركھي تھي كه وه كسي كي سفارش نهيں كرتے۔
اور كبھي مجبوراً كرتے بھي هيں تو اس طرح كه سفارش كروانے والا اپنا سرپيٹ كر ره
جائے۔ يا پھر زندگي بھر سفارش كا نام نه لے۔
اريب سنايا كرتے تھے كه ايك صاحب سفارش كے سلسله ميں جب ان سے رجوع هوے تو انھوں
نے ٹالنے كي مقدوربھر كوشش كي جب بات بنتي نظر نه آئي تو ان كے ساتھ اچانك هوليئے
اور كها۔ ٫٫چلو آج تمهاري سفارش هي سے نمٹ ليں۔٬٬ ايك آفس ميں داخل هوے تو آفيسر نے
معذرت كے لهجے ميں كها۔ ٫٫مخدوم صاحب آپ تو جانتے هي هيں يهاں كوئي پوسٹ خالي نهيں
هے۔٬٬
مخدوم نے جواباً كها۔ ٫٫ميں نے بھي ان سے يهي كها تھا كه يهاں كوئي پوسٹ خالي
نهيں هے۔ مگر يه مانتے هي نهيں ٬٬
اس دل چسپ واقعه كو سننے كے بعد ميرے دل ميں مخدوم سے جو سفارش كروانے كي خواهش
تھي وه دب كر ره گئي۔ دراصل مجھے ذاتي مكان كي ضرورت تھي۔ ميں نے اريب جيسے لاابالي
آدمي كو مخدوم كے ذريعه وجئے نگر كالوني ميں مكان حاصل كرتے ديكھا تو يه خواهش پھر
سے ابھرنے لگي۔ پھر جيلاني صاحب نے ايك دن سرگوشي ميں كها ٫٫ميرا يه مكان بھي مخدوم
صاحب هي نے دلوايا تھا۔٬٬
ان دنوں مكانوں كي قيمتيں گري هوئي تھيں تھوڑا بهت اثاثه ركھنے والا آدمي بھي
اقساط پر كالوني ميں مكان خريد سكتا تھا۔
مخدوم سے ملنے سے پهلے ميں نے اُن سے وقت لے ركھا تھا۔ مجھے ياد هے انھوں نے كها
تھا ميں بڑا سحر خيز هوں۔ زياده سے زياده تمهيں ñ٢٢ñ ٧١١ تك ايم ايلز كوارٹرس آنا
هوگا۔٬٬ ليكن ميں نے آنے كي غايت نهيں بتائي كچھ اس ڈر سے بھي كه كهيں يه سڑك هي پر
ميرا كام چلتا نه كرديں ó۔ó
پروگرام كے مطابق صبح هي صبح مين نے اور فاطمه نے جب ان كے گھر دستك دي تو وه
اخبار بيني ميں غرق تھے۔ جوں هي هميں آتے ديكھا۔ مُسكراتے هوے كها۔
٫٫آو آو مجھ سے كوئي خاص كام معلوم هوتا هے، تب هي تو مياں بيوي ايك ساتھ آئے
هيں۔٬٬ قبل اس كے كه ميں اپني بات چھيڑتا درميان ميں چائے آگئي۔
چائے پيتے پيتے انھوں نے فاطمه سے مخاطب هوكر كها۔ ٫٫اِن دنوں تمهاري صحت كيسي
هے؟
٫٫ٹھيك هے۔٬٬
٫٫كيا ٹھيك هے تم مجھے اينيمك سي لگ رهي هو۔كسي اچھے ڈاكٹر كو فوري بتاو ۔ يه
مولانا آخر كيا كرتے هيں۔٬٬
٫٫موجوده ڈاكٹر نے تو يه بات نهيں كهي۔٬٬ ميں نے دبے لهجے ميں كها۔
٫٫پھر تو وه سرے سے ڈاكٹر هي نه هوگا۔٬٬ مخدوم نے بڑے اعتماد سے كها۔
اصل موضوع درميان هي ميں كهيں پھنس كر ره گيا تو ميں نے مكان كي بات چھيڑ دي۔
فاطمه نے بھي درميان ميں ايك لقمه ديا، ٫٫سنا هے كه آپ نے اريب صاحب كو بھي مكان
دلوايا تھا۔٬٬
٫٫مگر تم لوگوں نے بهت دير كردي، اريب هي كيا ميں نے بهت سے قريبي لوگوں سے كها
تھا كه قسطوں هي پر سهي كسي نه كسي طرح مكان خريدلو مگر ان لوگوں كے كان پر جوں تك
نه رينگي۔ اب تو كچھ هونے سے رها۔ بهر حال ان حضرت نے بڑي دير كردي۔ تم گھر جاكر ان
كي گوش مالي ضرور كرنا۔٬٬
ع اس سے ملنے اس كے گھر بے كار گئے
كا احساس ليے ميں گھرلوٹ آيا۔
ان هي دنوں كسي مشاعرے كے سلسله ميں اپنا يار زبير بھي آيا هوا تھا۔ ميں نے اُسے
رات كے كھانے پر بلوايا تھا كه اسي بهانے كچھ گپ شپ هوسكے۔ زبير كو اپنے ساتھ لانے
كي ذمه داري ميں نے شاذ كو سونپ ركھي تھي۔ آٹھ بجے يه لوگ ميرے مكان پر آنے والے
تھے، جب ١٢٢ بج گئے تو ميں نے دل هي دل ميں زبير اور شاذ كو گالياں ديں۔ ٹيبل پر
ركھي هوئي چيزيں ٹھنڈي هوچكي تھيں۔ پھر اچانك هي كسي نے دروازه كھٹكٹايا۔ ميں سمجھ
گيا كه يه شاذ هوگا يا پھر زبير۔ ميرا خيال ٹھيك هي نكلا۔ ليكن اچانك مخدوم، شاهد
صديقي، اريب، لاهوٹي اور راهي معصوم رضا كو ايك ساتھ ديكھ كر وه ساري كوفت جاتي رهي
ó۔ó
وه سب كھاپي كر آئے تھے۔ تكلفاً انھوں نے دو ايك چيزيں چكھيں پھر گھرهي پر شعري
محفل اس طرح سجي كه اس كي مهك آج تك ميرے ذهن ميں محفوظ هے۔
مخدوم كي شخصيت هي كچھ ايسي تھي كه حيدرآباد كے سارے شاعران كے آگے پيچھے رها
كرتے تھے۔ يهاں تك كه مشاعرے كے منتظمين بھي انهيں بلوانے سے پهلے پڑھنے والوں كي
فهرست ان كے سامنے ركھ ديا كرتے تھے۔ كانٹ چھانٹ كا حق صرف مخدوم هي كوتھا۔ ايسے
ميں كوئي نوجوان شاعر آدھمكتا تو وه بڑي شوخي سے اسے چھيڑتے هوے كهتے۔ ٫٫ديكھوں اس
لمبي فهرست ميں تمهارا نام بھي كهيں هے كه نهيں۔٬٬ تلاش بسيار كے بعد جب وه مايوسي
سے اپنا سر هلاتا تو وه كهتے۔ كوئي بات نهيں آئنده ضرور رهے گا۔٬٬
جب لمبي فهرست كا قدبونوں جيسا هوكر ره جاتا تو وه مسكراتے هوے كهتے۔
٫٫مختصر مفيد٬٬
دوسري طرف مختصر فهرست كو اس طرح لمبي كرديتے كه سننے والوں كوايك طويل مسافت طئے
كرنے كا احساس هوتا۔ اس لمبي فهرست كي تياري كے اسباب كا پته اس وقت چلتا جب وه
اريب سے كهتے۔ ٫٫پته نهيں تم نے كن كن شاعروں كي سفارش كردي تھي كه بے چارے سب هي
هُوٹ هو كر ره گئے۔٬٬ شاهد صديقي كهيں قريب هي سے جواب ديتے۔ ٫٫كسي شاعر كے ليے
خواه مخواه هُوٹ هوجانا بھي بڑے ظرف كي بات هے۔ پته نهيں اس ظرف كے مظاهرے ميں آج
سارے نوجوان كيوں پيش پيش رهے۔٬٬ ليكن شاذ تو كامياب رها۔
مخدوم كا شروع هي سے يه وطيره رها هے كه وه اپنے آنے جانے كا حساب ذهن كي ڈائري
ميں محفوظ كرليا كرتے تھے۔ كب كهاں اور كتني دير انھيں ٹھهرنا هوگا وه وهاں اتني هي
دير ٹھهرتے، پته نهيں اس ميں ان كے مزاج كي سيما بيت كا دخل تھا يا كچھ اور۔ كبھي
كبھي ايسا لگتا جيسے وه هوا كے دوش پر اُڑے جارهے هوں اور مزے كي بات تو يه تھي كه
وه هر روپ ميں بڑے تيكھے اور انوكھے سے آدمي لگتے تھے۔
بهت پراني بات هے۔ مخدوم باهر كے ايك طويل سفر سے تازه تازه لوٹے تھے۔ اُردو هال
ميں ايك شان دار مشاعره تھا۔ ان هي دنوں مغني كي بهن صديقه شبنم بھي لندن سے يهاں
آئي هوي تھيں۔ وه اس سنهري موقع كو گنوانا نهيں چاهتي تھيں جس ميں مخدوم بھي شامل
هوں۔
مغني نے صديقه كے اشتياق كو بھانپتے هوے جب اُن سے تعارف كروايا تو ساتھ ساتھ يه
بھي كها كه يه شعر بھي كهتي هيں بس اتنا كهنا تھا كه مخدوم نے شاعروں كي فهرسٹ ميں
صديقه كا نام بھي جڑواديا۔
تعارف كے بعد جب صديقه نے ڈرتے ڈرتے اپني نئي غزل سُنائي تو كئي باذوق حضرات نے
اسے سراها اور بھرپورداددي۔
مخدوم اس بات پر خوش تھے كه صديقه نے اچھي غزل سنا كر ان كے انتخاب كي لاج ركھ
لي۔
پھر وه جب بھي ملتے تو كهتے۔ ٫٫صديقه سے كهو وه اسي طرح شعر كهتي رهے۔ وه شعري
رموز سے بھي واقف هے اور خوش لحن بھي۔٬٬
مخدوم كي برسوں پهلے كهي هوي وه بات كچھ غلط بھي ثابت نهيں هوي۔ صديقه شبنم كا
شعري مجموعه اب نكلنے هي كو هے۔
مخدوم زياده تر اريب هي كے گھر آيا جايا كرتے تھے۔ بشرطيكه انهيں فرصت هي فرصت
هو۔ ويسے وه بڑے مصروف آدمي تھے۔ ايك دن ميں اريب كے گھر گيا تو ميں نے انهيں گھر
سے بهت دُور ايك بڑے پتھر پر بيٹھا ديكھا، مجھے گمان گزرا كه يه اريب نهيں كوئي اور
هوگا ليكن صفيه نے مجھے بتايا كه وه اريب هي هے جس سے ملنے تم آئے هو۔ ميرے چهرے كي
حيراني كو صفيه نے بھانپتے هوے كها۔ ٫٫كوئي خاص بات نهيں يه بھي موصوف كي ايك ادا
هے۔ تم جاكر انهيں يهاں لے آو ٬٬۔
ميں نے قريب پهنچ كر انھيں اپنے گھر نهيں خود ان كے گھر آنے كي دعوت دي تو وه شُش
شش كهه كر چپ هوگئے۔ لگتا تھا جيسے دن هي سے چڑھا ركھي هو۔
ليكن جب مخدوم صفيه كے گھر پهنچے تو صفيه نے هنستے هنستے ساري روداد سنادي۔
٫٫عوض بے چاره تو مُنه لٹكائے ابھي ابھي واپس آيا هے۔٬٬۔ ذرا آپ هي جاكر اريب كو
منالائيے۔
٫٫اچھا تو پھر هم هي ان كي گوشمالي كرتے هيں۔٬٬ يه كهه كر وه تيزي سے اريب كے
قريب پهنچے۔ چند لمحوں بعد ميں نے ديكھا مخدوم آگے آگے چل رهے تھے۔ اور پيچھے پيچھے
اريب۔
اور جب انھوں نے آخري بار اپني دھرتي كو خدا حافظ كها تو اب بھي آگے آگے وهي تھے
اور ان كے پيچھے هزاروں سوگواروں كاايك لمبا قافله۔
ll
ابراهيم جليس
بعض شخصيتيں ايسي هوتي هيں جن كے پيچھے ايك تاريخ هوتي هے۔ ابراهيم جليس ان هي
ميں سے ايك تھے۔ اس تاريخ ساز شخصيت كے هر بُنِ مو كا احاطه دهي لوگ كر سكتے هيں
جنهيں ان كے قرب كي دولت ميسر هوئي هو۔ ميرے ليے تو ابراهيم جليس كي صرف دو
ملاقاتيں هي سرمايه هيں۔ مجھے سنه اور تاريخ ٹھيك طرح ياد نهيں۔ غالباً ٤٨٨ ئ اور
٥٠٠ ئ كے درميان شاذ كے ساتھ پهلي بار جليس سے ملنے كا اتفاق هوا تھا۔ يه اس وقت كي
بات هے جب هم هائي اسكول كے طالب علم تھے۔ فصيح الدين اكثر ان كے سر پر سوار رهتے
اور كسي نا كسي طرح ٫٫پرچم٬٬ كے ليے جليس سے مضمون لكھواليتے ó۔ó
دوسري طرف نقوش، ساقي، همايوں، ادبي دنيا، نيا دور اور ادب لطيف ميں ابراهيم جليس
چھائے هوے رهتے۔ دراصل جليس ٫٫زرد چهرے٬٬ كي اشاعت هي سے شهرت پاچكے تھے۔ اور
مقبوليت ميں كسي طرح كرشن چندر سے كم نه تھے۔ پھر چوربازار، تكونه ديس دو ملك ايك
كهاني نے انهيں لازوال شهرت بخشي، جليس كے هزاروں مداحوں ميں هم بھي تھے۔ اس ليے
هماري عين خواهش تھي كه كسي نه كسي طرح اس قد آور اديب سے ملاجائے۔
اس زمانے ميں همارے ايك ساتھي فضل الله هوا كرتے تھے۔ وه بھي جليس كے بڑے مداحوں
ميں سے تھے۔ هم نے جب ان سے رجوع كيا تو انهوں نے هم سے وه كاپياں طلب كين جن ميں
همارے چند مزاحيه مضامين بكھرے پڑے تھے تاكه وه جليس كو دكھا سكيں كه هم لوگوں كو
آگے لكھنا بھي چاهيے يا
شاذ اس وقت اپنے احباب كے ليے مزاح نگار مصلح الدين تھے۔ شاعر نهيں تھے۔ ميرا كل
اثاثه ايك كهاني دو مزاحيه مضامين تھے جس كے بل بوتے پر ميں پكي روشنائي سے اپنا
نام لكھوانا چاهتا تھا۔ فضل صاحب نے ايك دن يه كهه كر هم سے كاپياں لے ليں كه
ملاقات تو بعد ميں بھي هوسكتي هے ليكن جليس كي رائے هم نوداردانِ بساطِ ادب كے ليے
ضروري هے۔ كاپياں ان كے حوالے كردي گئيں۔ ليكن عرصه دراز تك همارے كانوںميں ذرا سے
ردّو بدل كے ساتھ يهي بات سنائي ديتي رهي كه امروز فرداميں كاپياں رائے كے ساتھ
واپس كردي جائيں گي۔ اور آخر ايك دن كاپياں واپس آگئيں۔ اس ميں جليس كي رائے درج نه
تھي۔ جو چيزيں انھيں پسند آئي تھيں اس پر انھوں نے رائٹ كا نشان لگاديا تھا۔ زياده
نشانات شاذ كے حصّے ميں آئے تھے۔ ميرے حصّے ميں ايك نشان آيا تھا جو ميري كهاني كے
سرپر منڈلارها تھا۔
هميں يه بھي شك تھا كه كهيں فضل صاحب نے يه حركت نه كي هو۔ اس ليے هم نے جليس سے
ملنے كي ٹھان لي۔ ايك دن ٫٫نظاميه رستوران٬٬ پهنچے تو جليس اپنے مداحوں ميں گھرے
هوے چهك رهے تھے۔ مجھے ياد هے شاذ نے بيرے كے هاتھ ميں ايك چٹّھي تھمادي اور اشاره
سے بيرے كو سمجھاديا تھا كه جليس تك يه چٹّھي پهنچادے۔
تاجدار قلم ابراهيم جليس۔
٫٫هم لوگ آپ سے ملنے كے مشتاق هيں۔ پانچ منٹ كے ليے زحمت كيجيے۔٬٬
شاذ نے غالباً كچھ اس طرح كي عبارت لكھي تھي۔ چٹّھي ملتے هي وه فوري هماري طرف
آئے۔ اور مسكراتے هوكها۔ ٫٫بھئي آپ لوگوں نے يه تاجدار قلم كيا لكھ ديا۔٬٬
جب هم لوگوں نے كاپيوں پر لگائے هوے نشانات كي تشريح چاهي تو انھوں نے قدرے ركتے
هوے مجھ سے كها كه ٫٫آپ افسانے لكھيئے اور شاذ سے كها كه وه مزاح ميں اپنا زور
آزمائيں۔
شاذ مزاح نگار بنتے بنتے ره گئے اور آگے چل كر شاعر بن گئے۔ اور ميں نے افسانه
نگاري شروع كردي جو اب تك جاري هے۔ جليس كي نظاميه والي وه ملاقات آج تك ميرے ذهن
ميں محفوظ هے۔
غالباً ÷١٩٦٢٢÷ئ ميں وه پاكستان سے حيدرآباد آئے تھے۔ معين فاروقي نے ان كے اعزاز
ميں ايك دعوت كي تھي۔ فاروقي نے ميرا تعارف كراتے هوے كها ó۔ó
٫٫يه ميرے دوست عوض سعيد هيں____٬٬
٫٫افسانه نگار عوض سعيد٬٬ جليس نے اس طرح كها جيسے ميرا نام اب ان كے ليے نيا
نهيں رها۔
ميں خوش هوگيا كه جليس كو كم از كم ميرا نام ياد هے۔
آج ابراهيم جليس هم ميں نهيں رهے ليكن مجھے احساس هورها هے كه ميرے هاتھ ميں ايك
كاپي آج بھي هے جس پر خلوص سے نشان لگانے والا كوئي نهيں۔
l
l
خورشيد احمد جامي
كچھ برس ادھر كي بات هے۔ هوٹل كے ايك گوشه ميں بھانت بھانت كے لوگوں كے درميان
چھريرے بدن كا ايك سانولا سا آدمي هاتھوں كو نچاتا هوا كسي ادبي شخصيت كو مذاق كا
هدف بنارها تھا۔ اس كے چهرے پر زمانے كے نشيب و فراز كي ايك كهنه تاريخ درج تھي۔
وه عجيب و غريب انداز ميں هنس رها تھا اور اس كے تتّبع ميں سامنے بيٹھے هوے اس كے
شاگرد بھي بے پناه انداز ميں قهقهے لگا رهے تھے۔ جب كھنكتے هوے قهقهے آهسته آهسته
كھوكھلے هونے لگے تو اس نے شيرواني كي نچلي جيب ميں بڑے هي پُر اسرار انداز ميں
هاتھ ڈالا۔ پھر فاتحانه انداز ميں ادھر ادھر نظريں دوڑائيں اور ديكھتے هي ديكھتے
ٹيبل پر كاغذوں كا ايك پلنده آگيا۔ پهلے تو ميں سمجھا كه يه شخص كچھ كرتب دكھائے
گا۔ يا پھر غزليں سنائے گا مگر اس نے نه كوئي كرتب هي دكھا يا اور نه غزليں هي
سنائيں۔ اس نے پلنده ميں سے ايك پرچي بڑي هي احتياط سے نكالي اور سامنے بيٹھے هوے
٫٫چهيتوں٬٬ كے هاتھ ميں تھمادي۔
جب يه تماشه ختم هوا تو ميں نے آگے بڑھ كر اسے اپنے وجود كا احساس دلايا۔
٫٫ميں اگر بھول نهيں رها هوں تو آپ هي كو ٬٬
ميرے ادھورے جملے كو اس نے ايك Adjective لگا كر اس انداز سے پورا كيا كه ميں اُس
كي زنده دلي كا قائل هو كر ره گيا۔
پھر اس نے بيرے كو اشارے سے دو چائے كا آرڈر ديا۔ بيرے نے خلافِ توقع كمزور آواز
ميں هانك لگائي اور اپني ميلي بوسيده دائري ميں ٢٥٥ كا بڑا هندسه نوٹ كر كے نيچے
ايك لمبي لكير كھينچ دي ó۔ó
اس نے اپنے احباب سميت صبح سے دو پهر تك كچھ اتني چائے پي لي تھي كه بيرے نے اپنے
حافظه پر بھروسه نه كرتے هوے احتياطاً چائے كي پياليوں كي تعداد اور قيمت غالباً
درج كرلي تھي۔
وه چائے كي چسكياں ليتا هوا باتوںميں مشغول هوگيا۔ ميں نے ايك غزل گو شاعر كي
تعريف كرتے هوے اس كي رائے بھي دريافت كي۔
اب اس كا go سر چڑھ كر بول رها تھا۔ ٫٫كيا كهه رهے هيں آپ، غزل ان كے باپ نے بھي
نه كهي هوگي۔ وه كيا كهيں گے ó۔ó
غزل ________ هيں هيں ﴿منھ سے نكلتي هوي سرسراهٹ﴾ غزل تو اب دربدر كي ٹھوكريں
كھاكر ايك ايسي هتھني بن گئي هے جو بغير آنكس كے دو قدم چل بھي نهيں سكتي۔٬٬ يه كهه
كر اس نے غصّے كے عالم ميں مجھے اپني چند غزليں سنائيں جو اتني خوب صورت اور بھر
پور تھيں كه جي چاهتا تھا كه اس سے غزليں هي سنتے رهيں۔ ليكن وه داد و تحسين سے بے
نياز ابھي تك اس شاعر كے پيچھے پڑا هوا تھا جس كا ذكر تھوڑي دير پهلے ميں نے اس سے
كيا تھا۔
ميں نے جب اپنے سر پر ڈولتے هوے Fan كو اچانك بند هوتے هوے ديكھا تو ميں نے بيرے
كو آواز دينے كي كوشش كي ليكن اس نے هاتھ كے اشارے سے مجھے روك ديا۔
٫٫يه سالے سب بدتميز هيں۔ يه شاعر كا احترام كيا جانيں۔ چلو كسي دوسرے رستوران
ميں جگه ديكھيں۔٬٬
مختلف هوٹلوں كا چكّر كاٹتے كاٹتے جب ميں گھر پهنچا تو آدھي رات گزرچكي تھي اس
پهلي ٫٫هوش ربا٬٬ ملاقات كے بعد پته نهيں ميں كيوں اُن سے مُنه چھپاتا رها۔ جب تك
ميري رهائش پرانے شهر ميں رهي كهيں نه كهيں ان سے مڈبھيڑ هوجايا كرتي تھي۔ آفس آتے
جاتے كهيں ان پر نظر پڑجاتي اور ميرا هاتھ اچانك سلام كے ليے اُٹھ جاتا۔ وه بڑے خاص
انداز ميں سلام كا جواب ديتے۔ جيسے پوچھ رهے هوں۔ ٫٫شام كو تو ملاقات هوگي نا۔٬٬
پھر ايك دن راستے ميں انھيں آتا ديكھ كر ميں كني كاٹ هي رها تھا كه هجوم ميں سے
كسي نے هاتھ لهرايا۔ ميں نے دل ميں سوچا۔ اپني هي انا كي بھٹّي ميں جلے بھنے رهنے
كے باوجود اس آدمي كي ذات مين ابھي اگلي شرافتيں باقي هيں۔
جامي صاحب كو چائے سے كهيں زياده چائے خانه كي عادت تھي۔ مالكانِ هوٹل انھيں كس
نگاه سے ديكھتے تھے وه تو وهي جانيں۔ ليكن بيرے ان كي بڑھياٹِپ كو پاكر بڑے خوش
دكھائي ديتے تھے۔ پرانے شهر كي هوٹلوں ميں بيروں كو ٹپ دينے كي ابتدائ شايد جامي
صاحب هي نے كي هو۔
وه بڑے كُھلے هاتھ والے آدمي تھے۔ ان كي شاه خرچي كي ذمه داري كس نے لے ركھي تھي۔
اس پر ابھي تك راز كے پردے پڑے هوے هيں۔ يه ناممكن تھا كه كوئي ان كي موجودگي ميں
بلِ pay كرے۔ ايك دفعه ميں نے بل ادا كرنے كي كوشش كي تو بيرے نے پيسے لينے سے اس
طرح انكار كيا جيسے كهه رها هو۔ ٫٫كيا آپ مجھے شاعر صاحب سے پٹوائيں گے۔٬٬
ايك دن ميں نے مدينه هوٹل ميں انھيں پهلي بار تنها ديكھا تو مجھے خوشي بھي هوئي
اور حيراني بھي۔ ميں نے موقع كو غنيمت جان كر پوچھا۔ ٫٫جامي صاحب حيرت هے كه آج آپ
تنها دكھائي دے رهے هيں۔٬٬
٫٫تنها كون نهيں هے عوض صاحب۔ آپ بھي هيں اور ميں بھي ۔ بلكه سب هي۔٬٬ پھر مير كي
تنهائي سے لے كر آج كي تنهائي تك كا فاصله انھوں نے منٹوں ميں اس طرح طے كيا كه
مجھے اُنھيں خدا حافظ كهنے ميں دير نهيں لگي۔
جامي صاحب سے ملنا ميرے معمولات ميں كبھي نهيں رها۔ ليكن جب بھي ان سے ملاقات
هوتي تو ان كي تني هوي گردن تني سي رهتي۔ جيسے گردن كو كسي نے رسّي سے باندھ ديا
هو۔
ميں نے كبھي ان كي شيرواني كے بٹن كُھلے نهيں ديكھے كالر كے بند هُكوں ميں ان كے
چهرے سے زياده نماياں مجھے ان كي گردن دكھائي ديتي۔ يه اَكڑي سي گردن اسي وقت جھكتي
جب كسي شاعر كي كوئي خوب صورت غزل انھيں قائل كردے۔ مگر ايسا بهت كم ديكھنے ميں
آتا۔
غزل ان كي ميراث هو يا نه هو مگر وه غزل هي كو اپني ميراث سمجھتے تھے۔ غزل كے
ميدان ميں وه جتنے قدآور دكھائي ديتے ان كي نظميں انھيں اتناهي جھكاديتيں۔
شاعر كي حيثيت سے انھوں نے اپني زندگي كا بڑاحصه جس گم نامي اور گوشه نشيني ميں
گزارا اس كا انهيں شديد احساس تھا، مشاعروں سے انهيں بڑي نفرت تھي۔ شهرت كے اس سستے
زينے كو انھوں نے اپني زندگي هي ميں ٹھكرا ديا تھا۔ ليكن دوسري طرف معياري رسائل كي
طرف بھي ايك لمبي مدّت تك انھوں نے پلٹ كر نهيں ديكھا۔ نتيجه نقصان كي صورت ميں يه
هوا كه ايك خوب صورت شاعر حيدرآباد كي چهار ديواري هي ميں بند هوكر ره گيا۔ پته
نهيں گھاٹے كے اس سودے كو انھوں نے كس دل سے قبول كيا هو۔
شاذ نے باتوں باتوں ميں ايك دن اچانك مجھ سے كها۔ ٫٫يار عوض يه هماري كتني ٹريجڈي
هے كه جامي جيسے شاعر كو بھي باهر كي دنيا قطعي نهيں جانتي ماننے كي بات تو الگ
رهي۔٬٬
٫٫دراصل انهيں كسي جوهري كا انتظار هے، جو گھور ميں پڑے هوے هيرے كو اپنے گلے
لگالے۔
وه انهيں تلاش بسيار كے باوجود مل نهيں رها هے۔ جب مل جائے گا تو يه ساري گم نامي
آناًفاناً جاتي رهے گي۔
٫٫يار بدمعاشي كي باتيں مت كرو۔ ميں نے ايك راسته ڈھونڈا هے۔ ميں ان كي چند منتخب
غزليں ٫فنون٬ كو بھجوارها هوں۔ احمد نديم قاسمي بهت اچھے شاعر هي نهيں شعر كے بڑے
پاركھ بھي هيں۔ تمهارا كيا خيال هے۔ قاسمي صاحب چھاپيں گے نا۔٬٬
٫٫يقينا چھاپيں گے بشرطيكه تم لفافے پر صحيح ٹكٹ لگا سكو۔٬٬
مُدّتوں بعد احمد نديم قاسمي كا جو خط شاذ كو ملا، وه كچھ يوں تھا۔
٫٫آپ نے حيدرآباد كے جن بزرگ شاعر كا كلام بھجوايا تھا وه غزلوں كے انبار ميں
كهيں دب ساگيا هے۔ ميں اسے تلاش كررها هوں، مطمئن رهيے۔٬٬
جب فنون كا شاندار غزل نمبر چھپ كر آگيا تو شاعروں كے هجوم ميں بھي خورشيد احمد
جامي الگ سے پهچانے جارهے تھے۔
اس طرح سے احمد نديم قاسمي هي وه پهلے جوهري تھے جنھوں نے جامي صاحب كو فنون كے
ذريعه اهلِ ذوق سے متعارف كروايا۔
جامي صاحب اپني ساري قلندري كے باوجود شهرت كے هميشه متمنّي رهے ٫٫رخسارِ سحر٬٬
كي اشاعت كے بعد هي دراصل ادبي دنيا نے انھيں صحيح طور پر پهچانا۔ اور وه ديكھتے هي
ديكھتے نئي غزل كے ايك نمائنده شاعر تسليم كرلئے گئے۔ بعد كو مغني تبسّم، گوپي چند
نارنگ، كمارپاشي، اخترحسن، وحيداختر، خليل الرحمن اعظمي، شمس الرحمن فاروقي اور
عالم خوندميري جيسے معتبر لكھنے والوں نے ان كے فن كو سراها۔
وه خوش تھے كه عمر كے آخري حصّے هي ميں سهي، لوگوں نے انھيں تسليم تو كيا۔ ليكن
اندر سے انھيں يه يقين هي نه آتا تھا كه كبھي اونٹ اس كروٹ بھي بيٹھ سكتا هے۔
جب بھي ملاقات هوتي تو يه ضرور پوچھ ليا كرتے كه فلاں پرچے ميں ميري غزل آرهي هے۔
وه كيسا پرچه هے۔
ميرے ٫٫يوں هي ساهے٬٬ كهنے پر وه بُرا سا مُنه بناليتے، مگر فرمائش پر اپنا كلام
ضرور بھجواتے، دراصل مدّتوں گمنامي كے خول ميں بند رهنے كے بعد ان كے هاں اتنا وقت
هي نه تھا كه وه مزيد اپني صلاحيتوں كو ضائع كريں۔ وه ايك خاص موڑ پر پهنچ كر دوسرے
احمد فراز بن گئے۔
يوں كهنے كو تو اورينٹ هي ان كا اڈّه تھا ليكن شاميں ان كي كهيں اور گزرتي تھيں۔
مين نے عالمِ سرمستي ميں بھي انهيں كوئي ايسي نازيبا حركت كرتے نهيں ديكھا جو ملنے
والے پر گراں گزرے۔ وه زندگي بھر مجرّد هي رهے، پته نهيں اس ميں محبت كي ناكامي كا
دخل تھا يا ان كي حد سے بڑھي هوي انانيت كا۔
گرانڈ هوٹل كے پيچھے اُردو گلي ميں انھوں نے اپنے ليے جو ايك كمره لے ركھا تھا اس
كي دو چابياں تھيں، ايك چابي هميشه محمود كاردار كے يهاں رهتي جو ان كا ايك عزيز
شاگرد تھا۔ دوسري چابي ان كي جيب هي ميں پڑي رهتي۔
دراصل ان كے پاو ں ميں ايك چكر سا تھا وه گھر پر شاذ هي رهتے تھے اس ليے اپنے
ملنے والوں كو كبھي انھوں نے گھر آنے كي دعوت نهيں دي، ان كے اس وصف كے باجود ان كے
چاهنے والے كسي نه كسي طرح ان سے مل هي ليتے۔ ويسے وه بڑے وضع دار آدمي تھے۔ احباب
كي خاطر تواضع ميں اس طرح آگے رهتے تھے جيسے قدرت نے انھيں اسي كام كے لئے پيدا كيا
هو۔ بعض زنده دل اورينٹ آتے هي اس غرض سے تھے كه انھيں وهاں كسي طرح مفت كي چائے مل
جائے۔ ان ٫٫مفت خوروں٬٬ كے ليے جامي صاحب هي ايك موزوں شخص تھے۔
پھر ايك دن اورينٹ ميں كسي نے بيهودگي كي تو ان كي خلقي شرافت آڑے آگئي وه اورينٹ
سے چپ چاپ اُٹھ كر اپنے كمرے ميں آگئے۔ پھر زندگي بھر انھوں نے اورينٹ كي دهليز پر
قدم نه ركھا۔
جامي صاحب كي شخصيت اس كتاب كي مانند تھي جس كے اوراق كسي نے درميان هي سے اڑالئے
هوں۔ اب لوگوں كو كيا پڑي تھي كه وه بظاهر اس بند كتاب كا مطالعه اپني كھلي آنكھوں
سے كرتے، شائد اسي ليے بعض مخصوص حلقوں ميں وه معتوب بھي رهے۔
انھوں نے مانگي هوي ادھار زندگي كا كوئي حساب چكايا هو يا نه هو ليكن قيمت عروجِ
هُنر كا سارا حساب وه اپني زندگي هي ميں شايد چُكا چكے تھے
رات چپ چاپ هے راتوں كے مسافر هيں اداس
كوئي دل چسپ كهاني بھي نهيں وقت كے پاس
ll
عالَم صاحب
عالم صاحب كي شخصيت كے هر بُنِ مُو كا احاطه وهي شخص زياده بهتر طور پر كرسكتاهے
جو اُن كا هم پياله اور هم نواله رهاهو۔ يوں كهنے كو تو هم پياله هم بھي رهے هيں
اور هم نواله هونے كے باب ميں كوئي بات قطعيت كے ساتھ اس ليے نهيں كهي جاسكتي كه
عالم صاحب نے ايسا موقع كبھي آنے هي نه ديا۔
ان كي شخصيت كچھ اتني دل چسپ اور Controversial رهي هے كه پته نهيں چلتا كه وه
كهاں سے شروع هوتے اور كهاں جاكر ختم هوتے هيں۔
ان كي شخصيت كا آغاز كبھي انجام سے شروع هوتا هے اور كبھي انجام هي آغاز بن جاتا
هے۔ دراصل شخصيت كے اسي خالي خانے ميں بيٹھ كر وه زندگي اور كائنات كا مطالعه كرتے
هيں۔
عالم صاحب دوستي كے باب ميں بڑے فراخ دل واقع هوے هيں۔ ايك چار ساله بچه بھي ان
كا دوست هے اور ايك اسي ساله بوڑھا بھي۔
بوڑھے پر مجھے ايك بات ياد آئي۔ ايك دن عالم صاحب سے مجھے ملنا ضروري تھا۔
اپائنٹمنٹ كے ليے جب ميں نے فون كيا تو اُن كا فون خراب تھا۔ مايوسي كے عالم ميں جب
ميں ان كے گھر كے قريب پهنچا تو ميں نے ديكھا كه ايك بوڑھا آدمي ان كے گھر كے سامنے
ايك چبوترے پر بيٹھا رورها هے۔
٫٫ميں نے سوچا۔ كوئي خاص بات ضرور هے۔٬٬
٫٫كيا بات هے حضرت آپ رو كيوں رهے هيں۔٬٬
٫٫عالم صاحب مجھ سے ملنا نهيں چاهتے۔٬٬
٫٫نه ملنے كي كوئي وجه۔؟٬٬
٫٫ميں نے اقبال كي نظم ٫٫مسجد قرطبه٬٬ نهيں پڑھي هے۔ ان كا خيال هے كه جس آدمي نے
٫٫مسجد قرطبه٬٬ نه پڑھي هو اس سے ملنا نهيں چاهيے۔٬٬
٫٫تو پھر پڑھ ليجئے٬٬
٫٫وه تو پڑھ ليتا ليكن اس كے ساتھ اُنھوں نے ايك شرط بھي ركھي هے كه ميں سار تر
٫كامو٬ ايليٹ٬ كافكا اور جان دين كو بھي پڑھوں۔
يه كهه كر وه آدمي زاروقطار رونے لگا۔ ميں نے همّت بندھائي اور مشوره ديا كه عالم
صاحب سے ملنے كا خيال اب چھوڑ ديجيے اور مغني تبسّم سے ملئے۔
مغني كے نام كے ساتھ هي انهوں نے جھرجھري لے كر كها۔ ٫٫مغني هي وه پهلے آدمي هيں
جنهوں نے مجھے عالم صاحب كے پاس بھجواديا تھا۔٬٬ يه كهه كر وه آدمي پھر ايك بار
زاروقطار رونے لگا اور ميں عالم سے ملے بغير گھر چلا آيا۔
ٹيلي فون پر عالم صاحب كي گفتگو كچھ اتني مختصر هوتي هے كه ان كي كفايتِ لفظي كا
قائل هونا پڑتا هے۔
٫٫عالم صاحب مجھے آپ سے كچھ كام هے۔٬٬
٫٫بولو بولو٬٬
٫٫بات يه هے عالم صاحب كه ٬٬
٫٫هاں هاں ميں سمجھ گيا۔٬٬
عالم صاحب كچھ سمجھے هوں يا نه سمجھے هوں ليكن ان كا مخاطب يه ضرور سمجھ جاتا هے
كه عالم صاحب فلسفه كي گتّھيوں كو سلجھانے اور الجھانے ميں مصروف هيں۔ ايسے وقت ان
كو چھيڑنا كچھ مناسب نهيں هے پھر يوں بھي خاموش ٹيلي فون پر كس نے كس سے بات كي هے۔
ان تمام باتوں كے باوصف بعض ايسے زنده دل بھي هيں جو عالمِ سرگوشي ميں عالم صاحب
كے ڈيڈ فون پر بھي ان سے تبادله خيال كرتے هيں۔
عالم صاحب كے ادبي مقام اور مرتبه كو ديكھتے هوے بهت سے اديب اور شاعر دُور دراز
سے اپني كتابيں رائے اور تبصرے كے ليے ان كے هاں بھجواتے هيں اور رائے اور تبصره
ديكھنے هي كي خواهش هي ميں دوچار برس هي كے بعد الله كو پيارے هوجاتے هيں۔ ايسے
موقعوں پر جب بھي ميں عالم صاحب كو كھويا كھويا سا پاتا هوں تو احساس هوتا هے كه
شايد مرنے والا عالم گزيده هي هو۔
ليكن آج كل عالم صاحب نے ايسے لوگوں كے ليے اپنے دل ميں ايك نرم گوشه بناليا هے۔
چناں چه جب بھي كوئي كتاب انهيں بھيجي جاتي هے تو وه اس پر رائے دينے كے ساتھ ساتھ
پيش لفظ بھي لكھ كر كسي دوسري كتاب كا انتظار كرنے لگتے هيں۔ اور يه چكّر چلتا رهتا
هے۔ ليكن دوسري طرف ان سے مضمون لكھوانا بھي جوئے شير لانے سے كم نهيں۔ اس بات كي
گواهي مغني سے لي جاسكتي هے كه انھيں
عميق حنفي كي ايك طويل نظم ٫٫سلسلۃالجرس٬٬ پر مضمون لكھوانے كے ليے كتنے نه
پاپڑبيلنے پڑے۔
مغني كي مسلسل ياد دهاني كے باوجود جب وه ٫٫شعر و حكمت٬٬ كے ليے عميق والا مضمون
لكھ نه سكے تو مغني نے كسي بهانے سے ان ك گھر پر بلواليا۔ غالباً وه چُھٹّي كا دن
تھا۔ عالم صاحب نے صاف محسوس كرليا كه اب وه بري طرح پھنس گئے هيں۔
جب مغني نے ميز پر كچھ كاغذات بكھيرديئے تو عالم نے مايوسي سے كها۔ ٫٫مغني يه كيا
كررهے هو۔ ميں لكھوں گا ضرور۔ عميق مجھے پسند بھي هے۔ ليكن ميں رواروي ميں اس پر
كچھ لكھنا نهيں چاهتا۔٬٬ ليكن مغني كے اصرار كے آگے وه بالكل هي بے بس هوكرره گئے۔
اور مضمون لكھ ڈالا۔ ابھي شاذ اور مغني كا قرض ان پر باقي هے۔
عالم صاحب كي شخصيت كا ايك دل چسپ پهلو ان كے وه وعدے هيں جو كبھي پورے نهيں
هوتے۔
كوئي ايرا غيرا اديب يا شاعر بھي جب ان كے گھر پهنچ كر يه كهے۔ عالم صاحب مجھے آپ
سے اپني كتاب كا ديباچه لكھوانا هے تو وه بڑي خنده پيشاني كے ساتھ كهيں گے۔ ٫ضرور٬٬
دراصل وه كچھ اتنے بامروّت هيں كه انكار نهيں كرپاتے۔ اور ايك منزل ايسي بھي
آجاتي هے كه لوگ تھك هار كر ان كا پيچھا چھوڑديتے هيں اور بعض اتنے باهمت هوتے هيں
كه ان سے پيش لفظ لكھوانے ميں كامياب هوجاتے هيں۔ جس كي شاعري كو وه پسند نهيں كرتے
اس پر بھي ايسا پيش لفظ لكھتے هيں كه وه اپني جگه مطمئين هوجائے۔ اور ايسے هي
موقعوں پر اكثر سنجيده ادبي ذوق ركھنے والوں كو يه شكايت هوجاتي هے كه عالم صاحب هر
ايرے غيرے كي كيوں تعريف كرتے هيں۔ ليكن تاڑنے والوں كي نظر يں عالم صاحب كے توصيفي
جملوں كے پيچھے چُھپے هوے ذم اور طنز تك پهنچ هي جاتي هيں۔
مجھے وه لوگ زياده پسند آتے هيں جن كي كمزورياں خوبيوں سے زياده دل كش هوں۔ عالم
بھي ان هي ميںسے ايك هيں۔ جن لوگوں كو صرف ان كي خوبيوں سے سابقه رها هے وه ان كے
زياده قريب نهيں هونے پائے۔
يه بڑي عجيب بات هے كه ملنے والے پر جوں جوں ان كي كمزوريوں كا انكشاف هوتا هے وه
ان سے زياده قريب هونے لگتا هے۔ يهاں تك كه اس كي كمزورياں اس كے ليے زلفِ گره گير
بن جاتي هيں اور وه اس كے دام سے كبھي نكلنے نهيں پاتا۔ جو لوگ ان كي خوبيوں كے
زياده معترف هيں وه ان كے دوست نهيں اور ان كے چاهنے والے جو دوست هيں وه ان كي
خوبيوں كو كچھ زياده اهميت نهيں ديتے۔
ٹي۔ايس۔ايليٹ كے بارے ميں مشهور هے كه وه ادب اور فن كے بارے ميں كوئي نيا نظريه
پيش كرتا تو ساري ادبي دنيا ميں هل چل مچ جاتي۔ اور نئے اديب اور نقاد اس كے خيال
كولے اڑتے۔ ليكن كچھ هي دن بعد وه خود اپنے نظريه كي تنسيخ كرديتا۔ اور اپنے مقلدين
كو عجيب و غريب شش و پنج ميں مبتلا كرديتا۔ يهي حال ايك زمانه تك عالم صاحب كا بھي
رها هے۔
وه مخالفين سے بھي اپني علميت كا لوها منواليتے هيں۔ كميونسٹ پارٹي كي بعض
پاليسيوں پر انھوں نے سخت تنقيديں كيں اور اب بھي كرتے رهتے هيں۔ اس كے باوجود بهت
سے كميونسٹ رهنما آج بھي ان كے دوست هيں۔ يهي نهيں جب بھي ماركسزم پر كوئي سمينار
يا سمپوزيم هو تو اس ميں عالم صاحب كو تقرير كرنے كے ليے اصرار سے بلواتے بھي هيں
اور يهي حال اسلامي اداروں اور تنظيموں كا هے كه عالم صاحب كے مذهبي خيالات سے شديد
اختلاف كے باوجود عالم صاحب سے ان كو مفر ممكن نهيں۔
عام طور پر احباب ميں يه بات مشهور هے كه عالم صاحب روپے پيسے كے معاملے ميں
محتاط واقع هوے هيں۔ ليكن حقيقتِ حال يه هے كه اگر عالم صاحب كے هاتھ ميں پيسه دے
دياجاے اور حساب پوچھنے والا كوئي نه هوتو وه اسے نهايت بے دردي كے ساتھ خرچ كرديتے
هيں ان كے محتاط هونے كا اصل راز شايد يه هے كه پهلي تاريخ كو پوري تنخواه مسز عالم
كے قبضے ميں چلي جاتي هے اور هر روز وه انھيں اتنا جيب خرچ ديتي هيں كه وه بس كا
ٹكٹ اور سگريٹ خريد سكيں۔
سُنا هے كه اب مسز عالم نے انهيں كچھ چُھوٹ دے دي هے جس كے نتيجے ميں اب عالم
صاحب كے بينك اكاو نٹ ميں ڈپازٹ كے علاوه بھي كچھ رقم رهنے لگي هے۔
ثبوت كے ليے اگر آپ اُن كے پاس چنده مانگنے جائيں تو وه فوري دس بيس روپے كا چيك
لكھ كر آپ كے حواله كرديں گے اور بينك ميں پيش كرنے پر وه چيك واپس نهيں هوگا۔
عالم صاحب كو ان كي قابليت اور علميت كے اعتبار سے كسي يونيورسٹي كا وائس چانسلر
هوناچاهيے تھا ليكن وه آئے دن اپني ترقي كي راه ميں خود هي حائل هوتے رهے۔
جب جب بھي انهيں پروفيسر شپ كے يا هيڈ بننے كے مواقع آئے انھوں نے بڑي خوب صورتي
كے ساتھ اپنے آپ كو بچاليا۔ آخر مجبور هو كر يونيورسٹي كو روٹيشن سسٹم لانا پڑا اور
اس سسٹم كے تحت ان كو جب مجبور هوكر شعبه فلسفه كا صدر بننا پڑا تو انھوں نے راه
فرار يه نكالي كه كشمير ميں وزيٹنگ پرفيسر بن كر چلے گئے۔
عالم صاحب هميشه دوسروں كو بڑے صائب مشورے ديا كرتے هيں۔ ليكن جب خود كا معامله
آتا هے تو ان كي حكمتِ عملي كچھ ايسي رهتي هے كه بنا بنايا كام منٹوں ميں خراب هوكر
ره جاتا هے۔ اور تواور وه اپنے خاندان، بيوي بچوں كو بھي غلط مشورے ديتے رهے هيں۔
چنانچه خديجه عالم اگر عالم صاحب كے مشوروں پر كاربند نه هوتيں تو يقينا آج مركزي
حكومت يا رياستي حكومت ميں وزير هوتيں يا كهيں كي گورنر هوتيں۔ نتيجه يه هوا كه
انهيں سياست سے كناره كش هونا پڑا۔ ليكن ان كے بچوں نے بهت جلد جان ليا كه عالم
صاحب كے مشوروں پر عمل كرنے كا كيا انجام هوتا هے۔ چنانچه جاويد عالم كسي يونيورسٹي
ميں اب ريڈر هيں۔ معلوم هوا هے كه بهت جلد پروفيسر بننے والے هيں۔
عالم صاحب ايك عمده استاد هي نهيں ايك اچھے مقرر بھي هيں۔ عام رائے سے انحراف كا
جذبه عالم صاحب كي ذات ميں شروع هي سے رها هے جو آج بھي قائم هے۔ مخالف اينگل پر
بات كرنا ان كا ايك خاص وصف هے۔ مثلاً موضوع اگر يه هو كه اُردو كو ذريعه تعليم
بنانا چاهيے تو ظاهر هے عام مقرّرين كي تقريريں موضوع كي حمايت هي ميں هوں گي ليكن
عالم صاحب اس انداز ميں تقرير كريں گے جيسے اُردو كو ذريعه تعليم بنانا نهايت مهلك
هے۔
هر پڑھا لكھا آدمي يه جانتا هے كه عالم صاحب ايك سلجھا هوا تجزياتي ذهن ركھتے
هيں۔ بات اگر غالب كي چل رهي هو تو وه مومن كا ذكر چھيڑديں گے اور مير كو درميان
ميں اس طرح لاتے رهيں گے كه آپ كے پلے يه بات مشكل هي سے پڑے گي كه عالم صاحب نے
مومن كو غالب پر فوقيت دي هے يا غالب كو مير پر۔ يا وه تينوں هي كو ايك هي رُتبے
اور مرتبے كا شاعر سمجھتے هيں۔
عالم صاحب ايك خالص علمي آدمي هيں انھيں نه موسيقي سے كوئي لگاو هے اور نه وه ان
ڈورآوٹ ڈورگيمس ميں كوئي دل چسپي ركھتے هيں۔ رمي سے تو انهيں ايك چڑسي هے اگر كوئي
زبردستي ان كے هاتھ ميں پتّے تھمابھي دے تو بازي ختم هونے تك وه كوئي چال هي
نهيںچليں گے تاوقتيكه ان كا كوئي ساتھي ان كے هاتھ سے نه چھين لے۔
عالم صاحب سگريٹ بھي زياده پيتے هيں خاص طور پر اس وقت جب موضوع ترسيل كي ناكامي
كا الميه هو۔
كبھي كبھي كسي ادبي محفل ميں ايسي تقرير بھي كرجاتے هيں كه لوگ عالم صاحب كے چهرے
كو تكتے هي ره جاتے هيں۔ ايك جانے پهچانے شاعر كے شعري مجموعه پر عالم صاحب كو ايك
مضمون پڑھنا تھا اور حسب عادت وه بغير مضمون هي كے جلسه گاه پهنچ گئے اور تقرير كچھ
اس طرح شروع كردي۔
اقبال كے بعد جديد عهد كا سب سے بڑا شاعر يهي هے۔ عالم صاحب كي اس توصيف سے شاعر
صاحب بهت خوش هوے۔ اور كئي دنوں تك عالم صاحب سے اصرار كرتے رهے كه وه اپنے ظاهر
كرده خيالات كو ضبط تحرير ميں لے آئيں ليكن عالم صاحب وعدوں پر هي ٹالتے رهے يهاں
تك كه بات آئي گئي هوگئي۔
پچھلے دنوں مجھے ايك صاحب سے ملنے كا اتفاق هوا جو بمبئي سے آئے هوے تھے۔ اور
بطورِخاص عالم سے ملنا چاهتے تھے۔
انھوں نے عالم كا پته پوچھا تو ميں نے كها۔ وه تو كافي دُور رهتے هيں۔ شايد آپ ان
كے گھر صحيح خطوط پر پهنچ نه پائيں۔ يه گمان مجھے اس ليے بھي گزرا كه وه بار بار
عالم كو عالمِ هي كهه رهے تھے يه علحده بات هے كه وه عالمِ بھي هيں اور عالم بھي۔
اُردو ادب كے ساتھ ساتھ سارے عالمي ادب كے اتار چڑھاو اور اس كي منفي اور مثبت
قدروں كي شناسائي جتني عالم صاحب كو هے وه بهت كم لوگوں كے حصّے ميں آئي هے۔ عالم
جب بات كرتے هيں تو ايسا لگتا هے جيسے كسي گهرے سمندر كي تهه سے كئي صدف به يك وقت
باهر نكل كر ساحل پر آگئے هوں۔
اور يه اپني اپني توفيق كي بات هے كه كوئي ان قيمتي موتيوں كو هاتھ بڑھا كر
اٹھالے يا ايك نظر ڈالے بغير آگے بڑھ جائے۔
عالم صاحب اپنے پرانے ياروں كا بھي بڑا خيال ركھتے هيں۔ ان كے ايك ايسے هي يارنے
اپنے قرض كے ايك كاغذ پر بطورِ ضامن ان سے دستخط لے ليئے اور هميشه كي طرح اپنے
كاموں ميں مصروف هوگئے۔
دو ايك برس بعد هي عالم صاحب نے اپنے گھر كے سامنے ايك مشكوك آدمي كو ديكھا جو
صورت شكل سے ٫٫بيلف٬٬ سالگ رها تھا۔ اس كے ساتھ دوتين اور بھي آدمي تھے جو عالم
صاحب كے چهرے كي بجاے ان كے مكان كا جائزه لے رهے تھے۔ عالم صاحب نے معاملے كي
نزاكت كو بھانپ ليا اور ايك لمحه ضائع كيے بغير ايك خطير رقم اس آدمي كے هاتھ ميں
تھمادي اور اپنے پرانے يار سے ملاقات هونے پر كبھي يه نه پوچھا كه بھلے آدمي تم نے
ايسا كيوں كيا۔
سليمان اريب سے عالم كے بڑے گهرے مراسم تھے يهاں تك كه صفيه اور اريب كي شادي ميں
بھي ان كا زبردست هاتھ رها هے۔ اس ضمن ميں ايك واقعه بھي سن ليجے۔
جب صفيه اور اريب كي شادي كا معامله كھٹائي ميں پڑ گيا تو اريب نے عالم كو سمجھا
بجھا كر اپنے هونے والے خسر كے پاس بھجواديا كه وه انھيں اپنا داماد قبول كرليں
جبكه لڑكي شادي كے ليے هر طرح راضي هے۔ يوں بھي صفيه كے والد عالم صاحب سے اچھي طرح
واقف تھے۔ صفيه بھي پر اميد تھيں كه يه معامله عالم صاحب هي كے هاتھوں طے پاسكے گا۔
عالم صاحب گئے تو تھے اريب كي سفارش كرنے ليكن هر دو كے درميان مكالمے كچھ اتنے
دل چسپ اور طولاني هوگئے كه كهاني كهيں درميان هي ميں دب كر ره گئي۔
وه مكالمے كچھ يوں تھے۔
٫٫كيا اريب واقعي بهت شراب پيتا هے۔؟٬٬
٫٫جي هاں صحيح سنا هے، آپ نے۔٬٬
٫٫كيا وه شراب چھوڑ نهيں سكتا۔؟٬٬
٫٫بهت پراني عادت هے بے چارے كي۔٬٬
٫٫كيا يه سچ هے كه وه بے روزگار بھي هے۔٬٬
جي هاں بے روزگار تو هے هي اس پر طرفه يه كه ايك ادبي پرچه بھي نكالتا هے جس كا
نام ٫٫صبا٬٬ هے۔٬٬
٫٫اچھا يه بھي كرتا هے۔٬٬
٫٫جي هاں۔ جي هاں۔٬٬
غرض كه جب عالم صاحب باهر آئے تو صفيه نے سر پيٹتے هوے كها۔ عالم صاحب آپ نے تو
سارا معامله چوپٹ كرديا۔ اب تو بات بالكل بگڑگئي هے۔ جواباً عالم نے صفيه سے كها
ذرا سوچو ميں يه كس طرح جھوٹ كهه سكتا تھا كه اريب بے روزگار نهيں هے اريب شرابي
نهيں هے اريب ايك ادبي پرچے كا ايڈيٹر بھي نهيں هے۔
عالم كے بارے ميں بعض لوگوں كا خيال هے كه وه اُردو ميں لكھنے كي بجائے صرف
انگريزي هي ميں لكھتے هوتے تو آج هندوستان ميں ان كے كيلي بر كے دو ايك هي دانشور
هوتے ۔
جهاں بات علمي سطح كي هو وهاں هم عالم صاحب كا ذكر كيئے بغير دو قدم بھي آگے نهيں
چل سكتے۔
ايك صاحب جو عالم كے سخت مخالف تھے ايك تقريب ميں اچانك اُن سے ميري ملاقات
هوگئي۔ اِدھر اُدھر كي دو ايك باتوں كے بعد انھوں نے عالم كے بارے ميں كچھ اتنا زهر
اُگلا كه طبيعت مُكدّر هوكر ره گئي۔ وه غصّے ميں ڈوبے هوے تو تھے هي دولها سے گلے
ملے بغير جاتے جاتے مجھ سے كها۔ ٫٫آدمي كچھ نه هو عالم ضرور هو۔٬٬
اس وقت وه آدمي مجھے منٹو كي كسي كهاني كے كردار كي طرح لگا۔ ميں نے سوچا يه آدمي
تھوڑي دير اور ٹهر گيا هوتا تو شايد ايك آدھ اچھي كهاني هاتھ آهي جاتي۔
عرصے پهلے كي بات هے۔ عالم صاحب كے ايك مداح نے مجھے ايك خط لكھا تھا۔
٫٫كيا يه ممكن نهيں كه حيدرآباد كے لوگ هميں عالم كو ديديں اور معاوضے ميں يهاں
كے سارے اديبوں اور شاعروں كو لے ليں۔٬٬
چونكه يه سراسر گھاٹے هي كا سودا تھا۔ اس ليے ازراهِ مذاق ميں نے بھي ٫٫ايك
جنّاتي نام يهاں سے لكھ بھيجا۔ اس كے بعد يوں هوا كه انھوں نے خط و كتابت هي بند
كردي۔
آج عالم صاحب جب بھي مجھ سے ملتے هيں تو وه خط مجھے ياد آتا هے اور ميں ايك گهري
سوچ ميں ڈوب جاتا هوں كه عالم صاحب نے تو تنقيد كي ايك بھي كتاب نهيں لكھي۔
l
l
سليمان اريب
اَريب سے ميري پهلي ملاقات ÷١٩٥٣٣÷ئ ميں هوي۔ وه هندي پر چار سبھا كے آفس كے قريب
لاهوٹي سے باتيں كرتا هوا پته نهيں كهاں جارها تھا۔ جب اسے اس بات كا علم هوا كه
ميں بھي افسانه نگار هوں تو اس نے بڑي محبت سے عوامي مصنفين ميں مجھے كهاني سنانے
كي دعوت دي اور ساتھ ساتھ يه بھي كها كه اگر كهاني زياده پسند كي گئي تو وه اسے
٫٫شاهراه٬٬ كو بھجوا دے گا ó۔ó
اس زمانے ميں، حيدرآباد ميں عوامي مصنفين كا بڑا زدر تھا جو ترقي پسند مصنّفين كا
بدلا هوا نام تھا جس كا سكريٹري بھي غالباً وهي تھا۔ ماهناموں ميں ٫٫شاهراه٬٬ كي
بڑي دھوم تھي اور دوماهي رسالوںميں پركاش پنڈت كے پرچے ٫٫فنكار٬٬ نے اپنے ليے ايك
خاص جگه بنالي تھي۔
اس نے رخصت هونے سے قبل پھر ايك بار ٫٫شاهراه٬٬ كے ناتے سے كهاني كي فرمائش كي تو
مجھے اس كا يه سرپرستانه انداز يك لخت پسند نه آيا۔ ميں نے قدرے ناگواري سے كها اب
اس قصّے كو رهنے ديجئے، كوئي اور بات كيجئے اريب صاحب۔ بهر حال بات آئي گئي هوگئي،
نه اس نے ميري صاف گوئي كا برا مانا نه ميں نے اس كي محبت بھري سفارش كا سهارا ليا
ليكن جب بھي وه مجھ سے ملتا اس سلسله ميں مجھے ضرور چھيڑتا۔
پھر ايك دن ميں ٫٫صبا٬٬ كے آفس ميں بيٹھا تھا كه ڈاكيه نے كئي ايك پرچوں اور كئي
خطوں كے ساتھ ايك لمبا لفافه بھي اس كے هاتھ ميں تھماديا۔ ان خطوں ميں كسي نے اس كي
تازه غزل كي تعريف كي تھي تو كسي نے اسے مشاعرے كي قبل از قبل اطلاع دي تھي۔ جب اس
نے بڑي دير تك اس لمبے لفافے كو هاتھ نهيں لگايا تو مجھے تشويش هوي پھر اچانك شائد
اسے ياد آگيا كه وه لفافه چاك كرنا بھول گيا هے۔ اس لفافے ميں اقبال متين كا افسانه
تھا جسے پركاش پنڈت نے معذرت كے ساتھ واپس كرديا تھا۔ جب ميں نے اس كي طرف معني خيز
نظروں سے ديكھا تو اس نے قدرے مسكراتے هوے كها۔ ٫٫ميں لكھ چكا هوں۔٬٬ اس نے اس
سلسله ميں ايك خط لكھا اور وه كهاني بالآخر چھپ گئي۔ يهاں يه سب كچھ لكھنے كا يه
مطلب نهيں كه اقبال متين جيسے افسانه نگار كو كسي سهارے كي ضرورت تھي۔ يه تو اريب
كي محبت تھي خلوص تھا جو اسے چپ بيٹھنے نه ديتا تھا۔ وه تو ياروں كا يار تھا۔
اقبال متين كے علاوه سردار سليم بھي اس كا قريبي يار تھا جو خير سے ميرا بھي دوست
تھا۔ ان دنوں كمره نمبر ٫٫ ý١٧٧ý٬ پر روزانه حاضري دينا اس كا معمول تھا۔ سردار ايك
ذهين مگر نرا جذباتي آدمي تھا۔ ميں اسے اكثر چھيڑا كرتا تھا كه تم اريب كي شخصيت سے
مرعوب هو بلكه اس سے ڈرتے بھي هو۔ دبلا پتلا سردار جو پينے كے بعد اكثر پهلوان بن
جايا كرتا تھا كافي بھڑك اُٹھتا۔ پھر اس كا كھردرا هاتھ ميري ٹھوڑي پر هوتا۔ ٫٫جي
كيا فرمايا عوض سعيد صاحب آپ نے۔ سردار اريب سے ڈرتا هے سردار كسي كے باپ سے نهيں
ڈرتا۔٬ ý٬ý
پھر اس كي زبان قينچي كي طرح چلنے لگتي۔ جب تك وه اريب كي شان ميں كچھ نه كهتا
همارا جي نه بھرتا۔
قدرے بدلي هوي صورت ميں يهي حال اقبال متين كا بھي تھا ليكن يه آدمي كچھ اتنا
هوشيار تھا كه اريب سے لے كر محله كا بيكري والاتك اس كا دوست تھا۔ يه گنجا صليب بر
دوش آدمي نه ناراض هي هوتا اور نه كبھي برهم۔ مگر ميں نے يه ٹھان ركھي تھي كه كسي
بهانے اُسے غصّه دلاياجائے۔ آسان صورت يهي تھي كه اريب كي شخصيت كو درميان ميں لايا
جائے۔
پھر ايك دن وه سردار كے ساتھ سڑك سے جاتا هوا دكھائي ديا تو ميں نے اِدھر اُدھر
كي باتوں كے بعد اپنے تركش سے ايك تير نكالا اور چلاديا۔ ٫٫ميرا خيال هے تمهارا
مجموعه اريب كي رائے كے بغير بھي مجموعه هي رهتا۔ ليكن پھر بھي ديباچه كے ليے تمهيں
اريب كے گھر كے كئي چكر كاٹنے پڑے۔٬٬
اس بار وه خلافِ توقع غصّه سے بھڑك اُٹھا اور بات نے تلخي اختيار كرلي۔ اس كے بعد
ميں نے اسے كبھي نه چھيڑا۔
ميں نے ايك دن اس سے پوچھا۔ ٫٫اريب ميں آخر كيا كشش هے جو لوگ اس سے ملنے كے ليے
مچلتے هيں۔٬٬
جواباً اس نے سرگوشي كے انداز ميں كها۔ ٫٫پيارے وه بڑا نفيس آدمي هے۔ ايك دم
نفيس۔٬٬ مگر مجھے اس كي شرافت قائل كرتي هي نه تھي۔ شائد اس كي وجه يه هو كه ميں نے
اپني كوتاه بيني كے سبب اسے سمجھنے كي كوشش نه كي هو۔ مگر ان ساري باتوں كے بعد جب
اريب مسكراتا هوا هم سے ملتا تو لگتا جيسے واقعي وه ايك اونچا آدمي هے۔ قدآور۔
اسے اپنے احباب كے ساتھ چنده كر كے چائے اور شراب پينے ميں زياده مسرت هوتي تھي۔
ليكن اس كے مزاج كا اُكھڑپن اور حد سے بڑھي هوي انا كے سبب اكثر پينے پلانے كي
محفلوں ميں بدمزگي پيدا هوجاتي تھي۔ چوتھے اور پانچويں پيگ كے بعد وه عموماً بهك
جاتا تھا۔ اور مينڈك كي طرح ٹرانے لگتا تھا۔ ايسے وقت ميں اس كي زد سے بچ نكلنا
مشكل هوتا۔ وه حالت نشه ميں كچھ ايسا پاگل هوجاتا تھا كه اسے يه خبر تك نه هوتي تھي
كه مخالف اس كے مسلسل تھوك اڑانے پر احتجاج كررها هے۔ اتفاقاً كبھي بار ميں اس كا
كوئي عزيز ساتھي ﴿ايسے ساتھيوں ميں سردار سليم، اقبال متين اور عزيز قيسي كے نام
ليے جاسكتے هيں﴾۔ اس كي كسي دُكھتي رگ پر هاتھ ركھ ديتا تو وه بپھرجاتا تھا۔ ليكن
كهي هوي بات اگر اس كے ذهن ميں جونك كي طرح چمٹ جاتي تو وه اسے فوراً جھٹك كر بچوں
كي طرح رونے لگتا۔ اور بار سے يك لخت اُٹھ كر كهيں اور چلا جاتا۔ اس كے سارے احباب
چيخ اُٹھتے۔٫٫ اريب ٹھيرو۔ رك جاو٬٬ ميري جان اريب۔ آخر چلاگيا مردود۔٬٬
وه بڑا نفاست پسند اور خوش پوشاك واقع هوا تھا۔ لباس خواه وه كسي قسم كا كيوں نه
هو اس كے جسم پر خوب سجتا تھا ليكن وجے نگر كالوني ميں منتقل هونے سے پهلے اس كے
هاتھ ميں ايك زنگ خورده سي چيز چمٹي رهتي تھي جسے وه سيكل كهتا۔ اور اس احتياط سے
اس پر سوار هوتا تھا جيسے هندوستان كا كوئي باشنده صحرائے عرب كے كسي ناقے پر پهلي
مرتبه بيٹھ رها هو۔
وه به يك وقت ٫٫صبا٬٬ كا ايڈيٹر بھي تھا۔ مينجر بھي تھا اور منشي بھي ليكن خطوط
نويسي كے معاملے ميں بڑا هي غير ذمه دار اور كاهل واقع هوا تھا۔ اس كي كوتاه قلمي
كا يه عالم تھا كه وه شاعروں ، اديبوں اور ساتھيوں كو جواب ديتا بھي تھا تو صرف چند
سطور ميں۔ چهرے پر بال بكھرائے اور منه ميں چار مينار سگريٹ دبائے دو تين گھنٹوں كي
غوطه زني كے بعد بھي وه مشكل سے چند خطوط كے جوابات دے سكتا تھا۔ ايسے وقت كمره
نمبر ١٧٧ پر دوست احباب اچانك هلّه بول ديتے تو وه ان خطوط كو پوسٹ بھي نه كر پاتا
تھا۔ اس كے اس فن كا رانه لا ابالي پن نے بهت سے لكھنے والوں كو اس سے دور كرديا
تھا۔ مگر مزے كي بات يه تھي كه كسي خاتون كي كوئي چيز٫٫ صبا٬٬ ميں چھپنے كے ليے
آجاتي تو اس كي كوتاه قلمي زود نويسي ميں بدل جاتي اور اس كا سست روقلم بجلي كي طرح
چلنے لگتا ó۔ó
دراصل عورت اور شراب اس كي دو ايسي كمزورياں تھيں جس كے هالے ميں اس كا چهره صاف
دكھائي ديتا تھا۔اگر كسي نے اسے ٫٫بزمِ خيام٬٬ ميں مدعو كيا هو تو وه صبا كو پريس
ميں پھينك آنے كا خيال كيئے بغير اچانك غائب هوجايا كرتا تھا۔
مجھے ياد هے اس نے مجھے اور شاذ كو ايك بنگلے كے نيچے كھڑا كر كے كسي كو تاه قامت
خاتون سے ايك طولاني گفتگو شروع كردي تھي۔ ٫٫صبا٬٬ كي وه مهم جس كا هلكا سا خاكه
لئے هم چل پڑے تھے وه اسے شايد بھلاچكا تھا۔ جب كافي دير هوگئي تو شاذ نے كاغذ كے
ايك پُرزے پر مخدوم كا يه مصرعه لكھ بھيجا۔
٫٫مورِ بے جان سے سليمان بهت كھيل چكا۔٬٬ اور وه مارے خفّت كے نيچے اُترآيا تھا۔
دوسرے دن بھي صبا كي خريداري اوراشتهارات كي مهم كسي وجه سے سرد پڑجاتي تو وه خود
پرهنس پڑتا اور پھر جب سر پر كام كا بھوت سوار هوجاتا تو وه صبا كے ليے اپني زنگ
خورده سيكل پر مارا مارا حيدرآباد كي سڑكوں پر گھوما كرتا اورجب كافي تھك جاتا تو
كهه اٹھتا۔
سيكل سوار بن كے گنهگار هم هوئے
اريب كو كمره نمبر ١٧٧ سے بڑي محبت تھي۔ ٫٫ ý١٧٧ý٬ جهاں اديب، شاعر موسيقار كاتب
سب هي يك جا هوتے تھے اور ايك طويل عرصے تك كرايه ادا نه كرسكنے كے سبب اسے قرقي كا
نوٹس ملتا تھا، تو ٫٫ ý١٧٧ý٬ سے چند دنوں كے ليے اديب، شاعر، صحافي سب هي ايك ايك
كر كے غائب هوجايا كرتے تھے اور تنها اريب ره جاتا تھا ó۔ó
اريب پر كبھي كبھار خوش فهمي كا بھوت بھي سوار هوجايا كرتا تھا۔ ايك واقعه جو ايك
لطيفه سے كم نهيں هے يه هے كه اس نے يه سوچے بغير كه سياست ميں اس كا كيا مقام هے
بلديه كا الكشن لڑنے كي ٹھان لي۔ يه غالباً í٥٣٣í ٥٤٤ ئ كي بات هے وه بنجاره هلز كے
حلقے سے كونسلر كي سيٹ كے ليئے ايك اميدوار كي حيثيت سے كھڑا هوگيا۔ وحيد اختر، شاذ
اور دوسرے احباب اس كي كينوسينگ (Canvassing) كے ليے مقرر كيے گئے تھے جو يا تو
اپني تازه نظميں ايك دوسرے كو سناتے تھے يا اريب كے بھولپن پر هنستے تھے۔ لطف كي
بات يه تھي كه خود اريب بھي اس مسخره پن ميں شامل رهتاتھا۔ اپني ضمانت ضبط كروانے
كے بعد بجاے شرمنده هونے كے اس طرح خوش هوا جيسے اس نے ايك بهت بڑاتير مارليا هو
ó۔ó
اريب كي حسِ ظرافت بھي كافي تيز تھي۔ وه اپني ذات كو مذاق كا هدف بناكر خود بھي
هنستا تھا اور دوسروں كو بھي هنساتا تھا۔
جن دنوں وه اے۔ سي گارڈز كے چھوٹے سے خسته مكان ميں رهتا تھا اكثر ميں اور شاذ
كمره نمبر ١٧٧ سے بازار گھاٹ كے چوراهے تك اس كے ساتھ پيدل چل كر آتے اور باتوںميں
منهمك هوجاتے ó۔ó
باتوں باتوں ميں فلمي اداكاروں اور شاعروں كے معاوضے كي بات چل نكلي تو شاذ نے
كها۔ ٫٫كيوں نه هم تينوں فلمي دنيا ميں چلے جائيں تاكه اس كرب سے نجات ملے۔ ٫٫اريب
صاحب آپ فلمي شاعر نه سهي اپنے لمبے قد كے سبب هيرو توبن سكتے هيں ليكن هماري
ٹريجڈي تو يه هے كه همارا قد چھوٹا هے۔٬٬ اريب نے بے ساخته كها۔ ٫٫تو پھر كير كٹر
ايكٹر٬٬ يه كهه كر وه قهقهے لگانے لگا اور هم بھي اس كے قهقهوں ميں شامل هوگئے۔
اريب كے گھر چوري كي خبر جب اخباروں ميں چھپي تو بيشتر احباب بجائے افسوس كرنے كے
هنستے هي رهے كيوں كه انھيں اس بات كا پورا اطمينان تھا كه اريب كے هاں چور كے منصب
اور مقام كي كوئي چيز هي نهيں هے۔
وضع داري، شرافت محبت اور خلوص كے باب ميں وه ان لوگوں سے كهيں بهتر تھا جو محض
دوستي اور محبت كا ڈھونگ رچاتے هيں۔ وه جتنا اونچا پورا تھا اتنا هي كم خوراك بھي
تھا۔ دعوتوں ميں جهاں اكثر اديب شاعر حضرات اچھے كھانے پر ٹوٹ پڑتے تھے وهاں وه بڑے
سليقے اور تهذيب كا مظاهره كرتا تھا۔ ليكن بنتِ عنب سے هم آغوش هونے كے بعد اس كي
يه ساري خوبياں دھر ي كي دھري ره جاتي تھيں۔ ايسے وقت كسي كي زبان سے ايك كلمه بھي
اس كے مزاج كے ناموافق نكل جاے تو وه بپھرجاتا تھا۔ كبھي كبھار جب اس كے غصّے كا
پاره چڑھ جاتا تو وه اپنے مخالف كے سر پر گلاس پھينك مارنے ميں بھي دريغ نه كرتا۔
مگر صبح جب اس سے ملاقات هوتي تو سب سے پهلا آدمي وهي هوتا جو اپنے رُوٹھے هوے
ساتھي كو پيار سے گلے لگاتا چاهے اس كا ادبي قد صفر كے برابر كيوں نه هوتا۔ اس ليے
اگر هم رات كے سليمان اريب اور دن كے اريب كا محاسبه كريں تو اس كي تهه در تهه
شخصيت كے ساتھ بهت دور تك جانا هوگا۔ جذباتي اور يك طرفه نگاه ركھنے والوں كو بھلا
كيا پڑي تھي كه وه يه درد سرمول ليتے۔ اس ليے وه اسے به آساني نامعقول آدمي كهنے سے
بھي جھجكتے نه تھے۔
اريب نے شاعري سے پهلے مجاز اور اختر شيراني كي طرح بڑي بوهميين زندگي گزاري تھي
ايسے وقت اس نے اخلاق كے سارے سكه بند پيمانے توڑ بھي ديئے هوں تو كوئي تعجب كي بات
نهيں۔
وه اپني بے شمار خاميوں اور خوبيوں سميت اپني ذات ميں بڑي كشش ركھتا تھا۔ كوئي
بڑا شاعر يا اديب ايسا نه تھا جو حيدرآباد آئے اور اس سے نه ملے۔ كوئي شعري محفل
ايسي نه هوتي جس ميں اس كي شركت ناگزير نه سمجھي گئي هو۔
وه اعلي سوسائيٹي سے لے كر ادني سوسائيٹي تك كا منظورِ نظر تھا۔ شادي سے پهلے
لڑكياں اس كي كمزوري تھي اور شادي كے بعد صفيه اس كي كمزوري بن گئي تھي۔ وه صفيه كے
بغير شائد سانس بھي نه لے سكتا تھا۔ محبت كي شادي كي اس سے اچھي مثال شايد هي ملے۔
وه سماج كے مروّجه اخلاقي پيمانے پر كبھي پورا نه اُترا اور اسے اس بات كا غم بھي
نه تھا كه وه ايك شاعر بدمست كي حيثيت سے شهرت حاصل كررها هے۔ همارے ليے مقدم اس كي
وه خوب صورت شاعري تھي جس كے بل بوتے پر وه سر اُونچا كيے پھرا كرتا تھا۔ ارد گرد
پھيلي هوي خود غرضي، منافقت اور جھوٹ سے اسے الله واسطے كابير تھا۔ كيوں كه وه اپني
ذات سے ايك سچا، خوددار اور كھرا آدمي تھا۔ اس بگڑے هوے معاشرے ميں جهاں سانس ليتے
هوے بھي احتياط برتني پڑتي هے وه اسے پے درپے ٹھوكر لگاتارها۔ اگر وه مجلسي آدمي
هوتا تو كسي بگڑے نواب زادے كا شريكِ بزم بن جاتا مگر وه خود اپني انا كے بل بوتے
پر اپنا هي لهو زندگي بھر پيتا رها۔ اريب مرنے سے چند دن پهلے دلّي ريڈيو كے مشاعرے
سے جب حيدرآباد لوٹا تو گمان نهيں گزرتا تھا كه يه آدمي چند ماه بعد هميں دھوكه دے
جائے گا۔
انور معظم كے گھر اريب سے ملاقات هوي تو اس نے باتوں ميں كها۔ ٫٫تمهيں ايك بات
سناتا هوں تم يقين نهيں كرو گے اور ميرا بھي يقين كرنے كو جي نهيں چاهتا۔ مگر دلّي
ميں بهت سے لوگوں نے مجھے بتايا كه شاذ نے ميري شركت كے خلاف ريڈيو والوں كو ايك
شكايتي خط لكا تھا۔٬٬ ميں اور انور معظم نے اسے سمجھايا كه وه تو باهر كے مشاعروں
ميں آئے دن جاتا رهتا هے وه بھلا ايسي گھٹيا حركت كيوں كرنے چلا۔
دوسرے دن ميں نے شاذ سے اس باب ميں پوچھا۔ تو اس نے كها۔ ٫٫يهه سراسر بهتان هے۔
هوسكتا هے يه چند مسخروں كي شرارت هو اگر ميري كوئي تحرير ريڈيو والے بتاديں تو ميں
مان لوں كيوں كه شكايتي تحرير پر نام اور پته لكھا نه هو تو اسے فائل كرديا جاتا
هے۔٬٬
اسي شام عابد روڈ كي ايك دكان سے شاذ نے فون ملا كر ريسيور ميرے هاتھ ميں تھماديا
كه تم اريب سے بات كرو اور كهه دو كه يه سب بكواس هے وه اپنے ذهن كو صاف كرليں۔ ميں
نے شاذ كے حوالے سے صرف اتنا كها كه شاذ كے نام سے كسي نے آپ سے شرارت كي هے وه كهه
رها هے آپ اپنے دل سے اس بدگماني كو نكال ديں يا اس كا ٹھوس ثبوت فراهم كريں۔
اريب نے اپني بيٹھي هوئي آواز ميں كها۔ مجھے كسي ثبوت كے فراهم كرنے كي ضرورت
نهيں۔ شاذ جب كهه رها هے توميرے ليے يهي كافي هے اس سے كهه دو ميرا دل صاف هے۔٬٬
اس بات سے اريب كے مزاج كا اندازه هوتا تھا كه دوستوں كے ليے اس كے دل ميں كتني
جگه تھي حالانكه شاذ سے اس كے تعلقات ايك مدّت سے استوار نه تھے۔ اريب كي بيماري كے
زمانے ميں مغني تبسّم اور انور بالا لتزام كينسر هاسپٹل جايا كرتے تھے۔ كبھي كبھار
ميں بھي چلاجاتا تھا كيوںكه اريب كو جاكر ديكھنے كے ليے بڑے دل گُردے كي ضرورت تھي۔
اسے ديكھ كر دم گھٹ جاتا تھا اور هر لمحه يه خيال ذهن كو كچو كے لگاتا تھا كه يه
آدمي اب هم ميں نهيں رهے گا اور اس الميه سے دوچار هونے كو كسي طرح جي نه چاهتا
تھا۔ اريب جوكھانا كھانے كے بعد كم از كم دوگلاس پاني پينے كا عادي تھا آخري زمانے
ميں پاني كے ليے ترس گيا۔ كيوں كه وه نه پاني پي سكتا تھا اور نه اسے پچاسكتا تھا۔
اس كرب اور بے چارگي كے عالم ميں بھي كسي ساتھي كے آنے پر اس كا هاتھ مصافحه كے ليے
ضرور آگے بڑھتا اور وه هر دواخانه آنے والے ساتھي كا مسكراهٹ كے ساتھ استقبال كرتا۔
ايك دن ميں اور مغني اس كے پاس بهت دير تك بيٹھے رهے۔ وه كسي سوچ ميں گم تھا پھر
ڈريسنگ كے ليے ايك نوجوان نرس بوڑھے وار ڈبوائے كے ساتھ اريب كے كمرے ميں داخل هوي
تو هم لوگ اُٹھ كر باهر آگئے۔ بهت دير تك هم دونوں كمرے كے باهر هي ٹهلتے رهے۔ نرس
اور وارڈ بوائے كے جانے كے بعد هم اس كے بيڈ كے قريب كرسي كھِسكا كر بيٹھ گئے۔ اس
نے به مشكل اپنے زخم آلود حلق سے آواز نكالي۔ ٫٫تم لوگ خواه مخواه ميرے ليے اتني
تكليف اٹھارهے هو۔ مجھے بڑا دُكھ هوتا هے كه ميرے دوستوں كو تكليف اٹھاني پڑ رهي
هے۔٬٬ يه كهه كر وه كچھ آبديده سا هوگيا۔
٫٫ايسا نه سوچيے۔ اس ميں تكليف كي كيا بات هے۔٬٬ هم لوگ كهتے رهے۔
ه تھوڑي دير يوں هيك كھڑكي كي طرف ديكھتا رها پھر اس پر اچانك غنودگي طاري هوگئي۔
اس وقت جھماجھم بارش هورهي تھي بادل گرج گرج كر برس رهے تھے۔ هوائيں جيسے نوحه كناں
تھيں۔ مغني نے دھيرے سے كها۔ آو سامنے هوٹل ميں چائے پيئيں۔ مغني كے چهرے سے كبيدگي
ٹپك رهے تھي۔ هوٹل ميں داخل هونے تك هم بھيگ چكے تھے۔ چاے پيتے پيتے مغني نے كها۔
ايك نظم سينے۔
پھر انهوں نے وه نظم سُنائي جو اريب كي بيماري كے آخري دنوں كي ياد گار تھي۔
يه بادل برستے رهيں
يه بادل برستے رهيں
ميں نے سوچا تھا ايسا
كه بادل برستے رهيں
مجھے خوف تھا آنه جائے كهيں
وه ٫٫موعود٬٬ جوراستے ميں كسي پيڑ كے نيچے شايد كھڑا هے
تبھي ميں نے سوچا تھا
بادل برستے رهيں
نه جانے وه كس سوچ ميں گم تھے۔
يكلخت رونے لگے
بجلياں چيخنے اور تڑپنے لگيں
ميں بهت خوش هوا
كه بادل برسنے لگے
ميں اُٹھا
اپنے بستر پر پهنچا
لحاف اوڑھ كر سورها
يك بيك فون۔
سمجھا وهي هوگا۔
﴿جواب نه جانے كهاں هے﴾
مگر اآج تك ميرے كانوں ميں بجتي هيں وه گھنٹياں
جو بهت دير تك مجھے سے فرياد كرتي رهيں
موت كي
يكبارگي مجھے لگا جيسے موت كا عقاب كينسر هاسپٹل كي عمارت كے اردگرد كهيں منڈلا
رهاهے۔ هوا كے هر زخمي جھونكے اور بارش كے هر اداس قطرے پر اريب كي آخري سانس كا
گمان هورها تھا۔ وه خوف كے بطن سے جنم لينے والے وسوسوں كي آخري گمبھير رات تھي جس
ميں ڈوبا هوا ميں گھر لوٹا تھا۔
پھر،۔ سپٹمبر كي وه صبح بھي آئي جب عالم خوند ميري اور مغني نے ميرے گھردستك دي۔
ميں سمجھ گيا كه آج حيدرآباد كا اميج كرچي كوچي هو كر هوا ميں تحليل هوچكا هے۔
ديكھنا
درد كے نواح ميں
اُفق كي سمت
لاش جارهي هے
كون لوگ جارهے هيں شام كي طرف؟
قاضي سليم
قاضي سليم كے ساتھ سب سے بڑي مشكل يهي هے كه وه جتنے بھلے آدمي هيں اتنے هي بھلے
شاعر بھي هيں سادگي، شرافت، وضع داري، دوست نوازي، نيك نفسي هير پھير كر ان هي كي
شخصيت پر آكر ختم هوجاتي هے بلكه دم توڑديتي هے اور پھر ان كي ذات كے كشكول ميں كچھ
باقي نهيں رهتا۔ نه قاضي نه سليم۔ بس ايك قلندر۔ ميں نے قاضي سليم كو هميشه لٹتے
هوے ديكھا هے۔ كسي كو لُوٹتے هوے نهيں۔ اس كا اندازه آپ به آساني ان كي صحت سے بھي
لگا سكتے هيں۔ اُن كے قريبي دوست انور معظم انھيں صرف قاضي كهتے هيں۔ پته نهيں لفظ
سليم ان كے حلق كے نيچے كيوں نهيں اترتا۔ ايك دفعه انھوں نے بڑي مسرّت كے ساتھ كها۔
سنو۔ قاضي آرهے هيں۔ ميں نے هڑبڑاكر كها تو ميں پھر چلتا هوں۔
٫٫عجيب آدمي هو بلكه بد ذوق بھي هو۔ قاضي يهاں نهيں رائل هوٹل ميں هم سے مليں
گے۔٬٬ ميں نے جواباً كها۔٬٬ ميں قاضي سے صرف ايك بار مل چكا هوں۔ اب دوسري بار ملنے
كي حسرت نهيں هے۔
انھوں نے ميري شرارت كو بھانپتے هوے كها۔٫٫ براتيوں مين همارے علاوه صرف مغني هي
رهيں گے٬٬
عقد كي محفل ميں قاضي كي آمد كے ساتھ هي جس طرح براتيوں كي آنكھوںميں اچانك چمك
پيدا هوجاتي هے اسي طرح جب قاضي سليم كسي ادبي محفل ميں براجمان هوتے هيں تو ان كے
مداح فرطِ احترام سے اٹھ كھڑے هوتے هيں ايسے ميں اچانك اُن كا كوئي لنگوٹيا يار مل
جائے تو وه اسے اس طرح ٹكر ٹكر ديكھتے هيں جيسے كهه رهے هوں اس ميں بھلا ميرا كيا
قصور هے۔
ميں نے جديد شاعروں ميں صرف قاضي سليم هي كو ايك ايسا شخص پايا هے جس نے نام و
نمود، سستي شهرت اور تشهير سے اپنے آپ كو بچائے ركھا بلكه وه مدّتوں اپني هي ذات كو
مذاق كا هدف بناتے رهے۔
٫٫شاعري جتني نكھر رهي هے گمنامي اتني هي بڑھتي جارهي هے٬٬ بے تكلّف محفلوں ميں
ان كاكها هوا يه دل چسپ جمله آج بھي گونجتا هے۔
قاضي سليم نے جب بھي بنت عنب كو چھوا تو اس طرح كه اس كے احترام ميں اضافه هي
هوا۔ ايسے لوگوں ميں ايك نام راشد آذر كا بھي هوسكتا هے۔ مجھے تو يهاں اس قاضي سليم
كے بارے ميں كچھ كهنا هے جس نے نجات سے پهلے بھي شعر كي پوجا كي هے اور نجات كے بعد
بھي۔ تاهم يه موضوع ميرا نهيں مغني تبسم اور انور معظم كا هے۔ جو بيك وقت ان كے
دوست بھي هيں اور ان كے نقّاد بھي۔
ميرے نزديك خاكه نگاري سے بڑا جھوٹ اور كوئي نهيں هے اندر كے آدمي كو بھلا كب اور
كس نے جانا هے۔ يه الگ بات هے كه قاضي سليم كي شخصيت مختلف نقابوں ميں لپٹي هوئي
نهيں هے كه ايك چهرے پر سو چهروں كا گمان هو يا ڈھونڈنے پر ايك پرزه كهيں مل جاے تو
دوسرا كهيں اور هو۔ اور شخصيت كي ڈور بظاهر هم تھامے هوے هوں اور سرا كسي اور كا
هاتھ ميں هو۔
ويسے نرے شريف اور سيدھے آدمي پرٹيڑھا خاكه لكھنا ايسا هي هے جيسے جھوٹ اور سچ كي
كڑياں جوڑے هوے آدمي اچانك ٫٫بولورام٬٬ هوجائے۔
ميري سمجھ ميں نهيں آرها هے كه ميں قاضي سليم پر كيا لكھوں ويسے ميں ان سے اتني
بار مل چكا هوں كه ذرا سي محنت پر ايك خيالي ليكن سچي موودي تيار هوسكتي هے۔ اورنگ
آباد كي كچھ هموار اور كچھ نا هموار سڑكوں پر ايك تيكھے نقوش والا اهم آدمي دوسروں
كي سكوٹر پر بيٹھا كهيں جارها هے۔ راستے ميں وه كسي بھي آدمي كا ذرا سا اشاره پاتے
هي جگه جگه ركتا هے، ان كي خيريت پوچھتا هے اور آگے بڑھ جاتا هے۔ مزيد آگے جانے پر
ايك اور گروه بھي ملتا هے جو سكوٹر كے پيچھے بيٹھنے والے اسي اهم آدمي كو يه مژده
سناتا هے كه ان كے سارے كاموں كي تكميل هوچكي هے، اور اس بھلے مانس كو يه تك ياد
نهيں رهتا كه اس نے كب اور كس كي مدد كي هے۔
قاضي سليم نے هميشه آدھے سر كے درد كي اذيتيں جھيلي هيں گو اب وه اس هولناك درد
سے چھٹكارا پاچكے هيں ليكن بام كي شيشي آج بھي ان كي جيب ميں ضرور رهتي هے كه كل
كهاں كهيں اچانك كسي ساتھي كو يه درد لاحق هوجائے تو وه اس كي پيشاني پر بام مل
سكيں۔
يه ناممكن هے كه قاضي سليم نے اپنے ليے كسي كو آواز دي هو يا كسي كا دروازه
كھٹكھٹايا هو۔ وه هميشه دوسروں كے كام آتے رهے هيں۔ ايك ايسا آدمي جس نے اوروں كے
ليے اپنے دل كے سارے دروازے داكر ديئے هوں۔ ايسے آدمي كو آپ قلمندر نهيں تو اور كيا
كهيں گے۔ وه اپني سيدھي سادي محبت ميں ڈوبي هوي شخصيت كے لحاظ سے مزاجاً مجھے كهيں
كهيں اخترالايمان كي طرح لگتے هيں۔
كنكرياں تلاش كرنے بيٹھيں تو موتي هاتھ لگے۔ يه بھي كوئي بات هوي۔ خاكه نگار كے
ليے تو بات اُس وقت بنتي هے، جب موتي تلاش كرنے نكل پڑيں تو ڈھير ساري كنكرياں هاتھ
لگے۔ بھلا هو قاضي سليم كي شخصيت كا جن كي بنياد ميں جيسے كوئي ٹيڑھي اينٹ ركھي هي
نه گئي هو ويسے اچھي بھلي خوب صورت عمارت كو بھي سرنگ لگا كر ڈھايا بھي جاسكتا هے
مگر يه كام تو تانترك نقّادوں كا هے ميرا نهيں۔
قاضي سليم كے بارے ميں، ميں اتنا هي جانتا هوں جتنا ايك دوست اور مدّاح جان سكتا
هے۔ مجھے سنه يادنهيں شايد ٥٠٠ يا ٥٢٢ كے آس پاس كي بات هو، بھوپال سے كوثر چاند
پوري كي ادارت ميں ٫٫جاده٬٬ نامي ايك پرچه نكلا كرتا تھا جسميں قاضي سليم به التزام
چھپا كرتے تھے۔ اس وقت ان كي چند نظميں ميرے علاوه شاذكو بھي بڑي اچھي لگي تھيں۔هم
ايسے نوواردانِ بساطِ ادب كے ليے يه وه دور تھا جب كوئي هميں گھاس بھي نه ڈالتا
تھا۔ ايسے ميں اچانك ايك دن ملّے پلّي روڈ پر قاضي سليم سے ملاقات هوگئي، بلكه
زبردستي هم لوگوں نے اپنا نام انھيں ذهن نشينںكروانے كي كوشش شروع كردي جب انھيں يه
معلوم هوا كه دسويں جماعت كے طالب علم بھي ان كے مداح هيں تو وه خوش هوگئے۔ اور
چلتے چلتے مطالعه كے سلسله ميں كچھ نصيحتيں داغ ديں آج بھي قاضي سليم سے ملاقات
هوتي هے تو مجھے ان كي وه عجيب و غريب نصيحتيں بے اختيار ياد آجاتي هيں ó۔ó
قاضي سليم بڑے مخلص آدمي هيں۔ ميرا خيال هے اگر انھيں چڑھتے هوے دريا ميں بھي
پھينك دياجائے تو خشكي پر كھڑے هوئے اپنے ياروں سے يه ضرور پوچھيں گے كه تم لوگ
كيسے هو؟
ايك ايسا آمي جس نے ايك خوش حال گھرانے ميں جنم ليا هو جسے آسودگي كي ساري نعمتيں
ميسر هوں۔ ايسے آدمي كے برتاو ميں تفاخر كي جھلكياں ضرور مليں گي ليكن قاضي سليم اس
كے بالكل برعكس هيں اور بڑے آدمي هونے كي صحيح پهچان بھي شايد يهي هے۔
زندگي نے هميشه ان سے ايسے كام ليے جو ان كے شاعرانه مزاج سے ميل نهيں كھاتے تھے
مثلاً بيڑي كے پتّوں كا كاروبار اور وكالت۔
جس زمانے ميں وه اورنگ آباد ميں وكالت كيا كرتے تھے ان هي دنوں اتفاقاً انور سے
ان كي مڈبھيڑ هوگئي۔ اِدھر اُدھر كي باتوں كے بعد جب انور نے ان سے پوچھا كه وكالت
كيسي چل رهي هے۔ تو انھوں نے مُسكراتے هوے كها خوب چل رهي هے۔ آج هي ايك آدمي كو ٤٤
سال كي سزا كروادي هے پھر انور نے پوچھا وكيل كون تھا تو انھوں نے كها ميں تھا تو
پھر انور نے حيرت سے پوچھا كه ٤٤ سال كي سزا كيسے هوگئي اس پر انھوں نے جواب ديا كه
٤٤ سال سے زياده هو هي نهيں سكتي تھي ó۔ó
وكالت سے انھوں نے كچھ كمايا بھي هے يا نهيں يه اب بھي ايك راز هے ليكن كهاجاتا
هے كه بيڑي كے پتوں كے كاروبار نے ان كي معاشيات پر اچھا اثر ڈالا تھا۔
دروغ برگردنِ رادي كسي زمانے ميں وه گھنے جنگل ميں كھڑے بيڑي كے پتّے تڑوايا كرتے
تھے۔ ايك دن اچانك كهيں سے ايك ناگ اپنا پھن پھيلائے ان كے قريب آكر جھومنے لگا
مزدوروں نے اپنے مالك كو بچانے كے ليے جب اپني لاٹھياں سنبھال ليں تو قاضي سليم نے
انھيں يه كهتے هوے منع كرديا كه ڈرو نهيں يه مجھے نهيں ڈسے گا اس كا نسخه بھي ميرے
پاس هے۔ سارے مزدور حيران تھے كه مالك كے پاس آخر كيا دوائي هے كه وه ناگ سے بھي
نهيں ڈر رهے هيں۔ان كي حيراني اور بڑھ گئي جب قاضي سليم نے بڑي شتابي كے ساتھ اپني
جيب سے كاغذ نكالا اور سانپ كو مخاطب كر كے اپني تازه نظم سناني شروع كردي سانپ
تھوڑي دير يونهي جھومتا رها پھر ترسيل كي ناكامي كا الميه بن كر اچانك كهيں جنگلوں
ميں غائب هوگيا۔
پته نهيں مجھے اس واقعه پر كيوں شك هے ليكن يه ايك حقيقت هے كه قاضي سليم نے كلام
سنانے كے سلسله ميں كبھي بخل سے كام نهيں ليا۔ جب بھي موقع هاتھ آيا اسے ضائع هونے
نهيں ديا۔ ان كي اس فياضي سے بهره ور هونے والوں كي فهرست بڑي طويل هے، قاضي سليم
كے كلام سنانے كا انداز بے حد تيكھا اور نرالا هے۔ كبھي كبھي ايسا لگتا هے جيسے وه
دھيرے دھيرے اپنے سننے والوں كو Hypnotizeكر رهے هوں۔
ادب ميں جب بھي جمود كا نعره بلند هوا، قاضي سليم نے اپني دل موه لينے والي نظموں
كے ذريعه اس كي ترديد كردي۔
جس زمانے ميں وه ممبئي اسمبلي كے ممبر تھے كهتے هيں وه دور ان كي شاعري كے ليے
بڑا پُر بهار تھا۔ ام ال ايز هاسٹل ميں كبھي كبھي شرارتوں كا ماحول بھي بن جاتا تھا
ان كے روز ملنے والے ياروں ميں باقر مهدي بھي تھے۔ پهلے يه بيڑي كا پتّه كٹواتے تھے
يارلوگوں نے ان كا پتّه كاٹنے سے بھي دريغ نه كيا، اس كا قصّه كچھ يوں هے كه باقر
مهدي كوظ انصاري كے تهنيتي جلسه ميں مضمون سنانا تھا تو ايك رات پهلے يه مضمون
اجتماعي طور پر لكھا گيا جن ميں قاضي سليم نه صرف شامل تھے بلكه اس مضمون كو وهي
اپنے قلم سے لكھ رهے تھے اور اس مشتركه مضمون نے اپنے مزے دار فقروں سے كافي غير
سنجيده صورت اختيار كرلي تھي دوسرے دن جب باقر مهدي نے يهي مضمون جلسه ميں سنايا تو
ظ انصاري كي ناراضگي كا كوئي ٹھكانه نه تھا۔
جب جلسه ختم هوا تو باقر مهدي نے ظ انصاري كے گھر پهنچ كر اپني صفائي ميں قاضي
سليم كے هاتھ كا تحرير كرده مضمون ان كے سامنے ركھ ديا۔ ٫٫دراصل يه مضمون قاضي سليم
نے كها تھا۔ ميں صرف سنانے كا گنهگار هوں٬٬۔ يه كام ختم كركے باقر مهدي قاضي سليم
كے هاںپهنچے اور ان كو اطلاع دي كه تمهارا پتّه كٹوادياهے۔ قاضي سليم نے پوچھا،
كهاں سے تو باقر مهدي نے كها۔ ظ انصاري كے هاں سے چندهي دنوں بعد انهي باقر مهدي نے
ان كا پتّه ايك اور جگه كٹواديا۔
قاضي سليم كي ايك عجيب و غريب عادت هے كه ان كے هاں آئے هوے شعري مجموعوں كو وه
بغور پڑھتے هيں نه صرف پڑھتے هيں بلكه اس پر اصلاح بھي ديتے هيں۔ پته نهيں اس ميں
مير و غالب شامل هيں يا نهيں ليكن ان كے معاصر شعرا كے ساتھ يه سلوك اكثر و بيشتر
هوتا رهتا هے۔
ايك دفعه باقر مهدي كو بلراج كومل كے مجموعه كي ضرورت آن پڑي تو قاضي سليم سے
انهوں نے مجموعه مانگا۔ قاضي سليم نے وه مجموعه انهيں دے ديا۔ باقر مهدي دلي جارهے
تھے وه يه مجموعه اپنے ساتھ لے گئے اور كومل كو مجموعه دكھايا اور كها۔ ٫٫آپ قاضي
سليم كے بڑے معترف هيں۔ وه آپ كي شاعري كے ساتھ جو سلوك كرتے هيں وه ملاحظه كيجيئے۔
ممبئي واپس آكر باقر نے پھر قاضي سليم كو اطلاع دي كه تمهارا پتّه كٹواديا هے۔
قاضي سليم نے پوچھا اس بار كهاں سے باقر مهدي نے كها بلراج كومل كے يهاں سے۔ اس
ايكٹي ديٹي سے قاضي سليم كي جو حالت هوئي هوگي وه محتاج بيان نهيں ۔ ليكن اب بھي
باقر مهدي كے ليے قاضي سليم كے دل ميں وهي جگه هے جو پهلے كبھي تھي اور باقر مهدي
كا بھي كچھ يهي حال هے۔
جيسا كه ميں نے آگے كهيں كها هے كه قاضي سليم كلام سنانے كے باب ميں بڑے فراخ دل
واقع هوئے هيں ان كي اس فراخدلي كي داستان بھي ذراسُن ليجيئے۔
ايك دن ميں مغني كے گھر بيٹھا گپيں هانك رها تھا كه اچانك قاضي سليم گھر ميں داخل
هوئے۔ وه بخار ميں پُھنك رهے تھے اور طبيعت كچھ اتني نڈھال تھي كه آتے هي مغني كے
بستر پر ليٹ گئے۔ دھيمے لهجے ميں ميري خيريت دريافت كي۔ پھر مغني نے بلانكٹ لاكر
انهيں اُوڑھادي۔ وه سردي سے كپكپارهے تھے جو دوائيں انهوں نے اپنے